موضوع:اعجازُ القرآن
معجزہ اس خلافِ عادت معاملہ کو کہتے ہیں جسے اللہ پاک اپنے نبی کے ہاتھ پر اس کی نبوت کی صداقت کے ثبوت کے طور پر ظاہر فرماتا ہے۔انبیائے کرام علیہمُ السّلام کو بے شمار معجزات عطا ہوئے،لیکن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا سب سے عظیم اور دائمی معجزہ قرآنِ کریم ہے۔یہ معجزہ اس اعتبار سے بھی بے مثال ہے کہ ایک اُمّی نبی پر نازل ہوا،جنہوں نے نہ کسی استاد سے تعلیم حاصل کی،نہ کسی کتاب کا مطالعہ کیا،پھر بھی ایسا کلام پیش فرمایا جو علوم ومعارف کا خزانہ اور قیامت تک کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔
اسلام سے پہلے عرب اپنی فصاحت وبلاغت،شعر وسخن اور زبان دانی پر بے حد ناز کرتے تھے۔ان کی عربی زبان اپنے بیان،فصاحت اور بلاغت کی خوبصورتی کی وجہ سے ممتاز تھی، یہاں تک کہ وہ خود کو اہلِ زبان اور غیر عربوں کو عجمی کہتے تھے۔ شعر و ادب ان کی زندگی کا اہم حصہ تھا اور بڑے بڑے شعرا اپنے کلام پر فخر کرتے تھے۔ایسے ماحول میں اللہ پاک نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر قرآنِ مجید نازل فرمایا،جو زبان و ادب کا ایسا بے مثال شاہکار تھا کہ عرب کے نامور فُصَحا اور بُلَغا بھی اس کے مقابلے سے عاجز آگئے۔
قرآنِ کریم صرف اپنی فصاحت وبلاغت ہی میں بے نظیر نہیں بلکہ عقائد،عبادات،اخلاق،معاملات اور زندگی کے ہر شعبے میں کامل راہ نمائی فراہم کرتا ہے۔جن لوگوں نے تعصب سے ہٹ کر انصاف کے ساتھ اس میں غور کیا،انہوں نے اسے اللہ پاک کا کلام مان کر ایمان قبول کر لیا،جبکہ ضد،تکبر اور ہٹ دھرمی میں مبتلا لوگوں نے کبھی اسے جادو،کبھی شعر،کبھی اگلوں کی کہانیاں اور کبھی انسانی کلام کہا،مگر اپنے تمام دعووں کے باوجود اس جیسا کلام پیش نہ کر سکے۔
اعجازُ القرآن کی چند نمایاں وجوہات
قرآنِ کریم کے معجزہ ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ان میں ایک نمایاں وجہ یہ ہے کہ جتنی بار بھی اسے پڑھا یا سنا جائے، اس کی تازگی اور تاثیر میں کبھی کمی نہیں آتی۔نہ پڑھنے والے اکتاتے ہیں نہ سننے والے۔دنیا میں کوئی دوسری کتاب ایسی نہیں جس کی تلاوت،تعلیم اور حفظ کا سلسلہ اس قدر وسیع اور مسلسل ہو۔ہر روز کروڑوں مسلمان نمازوں،مدارس،گھروں اور مساجد میں قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے ہیں،جبکہ رمضان المبارک میں لاکھوں حفاظ اسے سناتے اور سنتے ہیں۔
قرآنِ کریم کا ایک عظیم اعجاز یہ بھی ہے کہ اسے یاد کرنا انتہائی آسان ہے۔عرب ہوں یا عجم،بچے ہوں یا بوڑھے،مرد ہوں یا عورتیں،دنیا بھر میں لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد اسے سینوں میں محفوظ کیے ہوئے ہیں۔دوسری آسمانی کتابوں کے ماننے والوں میں یہ امتیاز نظر نہیں آتا،جبکہ امتِ مسلمہ میں کم عمر بچے بھی حافظِ قرآن بن جاتے ہیں۔یہ شرف صرف قرآنِ مجید ہی کو حاصل ہے اور اسی میں اللہ پاک کے اس ارشاد کی عملی شان نمایاں ہوتی ہے:
وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْر (پ 27، القمر: 40)
ترجمہ:اور بیشک ہم نے قرآن کو یاد کرنے/نصیحت لینے کے لیے آسان کر دیا۔
یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں مسلمانوں نے قرآنِ کریم کی تلاوت،حفظ،تعلیم اور اشاعت کو اپنی سعادت سمجھا اور اس مبارک کتاب سے وابستگی کو اپنے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ جانا۔
فصاحت وبلاغت کا بے مثال معجزہ
قرآنِ کریم کا ایک نمایاں اعجاز اس کی بے مثال فصاحت و بلاغت ہے۔اگرچہ یہ عربی زبان میں نازل ہوا،مگر اس کا اسلوب نہ شعر ہے نہ نثر،بلکہ ایسا منفرد کلام ہے جس کی نظیر پیش کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔عرب کے بڑے بڑے فُصَحا و بُلَغا،جو اپنی زبان دانی پر ناز کرتے تھے،قرآنِ کریم کی ہیبت اور عظمت کے سامنے بے بس ہو گئے اور اس کے مقابلے میں ایک لائن بھی پیش نہ کر سکے۔
اللہ پاک نے منکرین کو بار بار چیلنج دیا کہ اگر تم قرآن کو انسانی کلام سمجھتے ہو تو اس جیسا کلام بنا کر دکھاؤ۔پہلے پورے قرآن، پھر دس سورتیں،پھر ایک سورت،بلکہ آخر میں صرف ایک کلام ہی پیش کرنے کا مطالبہ فرمایا،مگر تمام عرب اپنی فصاحت، شاعری اور خطابت کے باوجود اس چیلنج کا جواب نہ دے سکے۔
ارشادِ الٰہی ہے:
قُلْ لَّىٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا(۸۸) (پ15، بنی اسرائیل:88)
ترجمہ:تم فرماؤ:اگر آدمی اور جن سب اس بات پر متفق ہو جائیں کہ اس قرآن کی مانند لے آئیں تو اس کا مثل نہ لا سکیں گے اگرچہ ان میں ایک دوسرے کا مددگار ہو۔
یعنی اگر تمام جن و اِنس اِس پر متفق ہو جائیں کہ فصاحت و بلاغت،حُسن ِترتیب،علومِ غیبیہ اور معارفِ الٰہیہ وغیرہا میں سے کسی کمال میں قرآن کے برابر کوئی چیز لے آئیں تو وہ ایسا نہ کر سکیں گے۔مشرکین نے کہا تھا کہ ہم چاہیں تو اس قرآن کی مثل بنالیں اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور اللہ پاک نے اُن کو جھٹلایا کہ خالق کے کلام کے مثل مخلوق کا کلام ہوہی نہیں سکتا۔اگر وہ سب باہم مل کر کوشش کریں جب بھی ممکن نہیں کہ اِس کلام کے مثل لا سکیں،چنانچہ ایسا ہی ہوا،تمام کفار عاجز ہوئے اور انہیں رسوائی اُٹھانا پڑی اور وہ ایک لائن بھی قرآنِ کریم کے مقابل بنا کر پیش نہ کر سکے۔([1])
اسی طرح ارشاد فرمایا:
وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ۪-وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۲۳)(پ1،البقرۃ:23)
ترجمہ:اور اگر تمہیں اس کتاب کے بارے میں کوئی شک ہو جو ہم نے اپنے خاص بندے پر نازل کی ہے تو تم اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ اور اللہ کے علاوہ اپنے سب مددگاروں کو بلالو اگر تم سچے ہو۔
چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود یہ چیلنج آج بھی اپنی جگہ قائم ہے۔نہ اُس وقت کوئی اس کا جواب دے سکا اور نہ آج تک کوئی اس کی مثل پیش کر سکا۔یہی قرآنِ کریم کے الٰہی کلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سچے رسول ہونے کی روشن دلیل ہے۔اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
تِرے آگے یُوں ہیں دَبے لچے فُصحا عرب کے بڑے بڑے
کوئی جانے منھ میں زباں نہیں،نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیں
الغرض قرآنِ کریم ہر اعتبار سے معجزہ ہے۔اس کے الفاظ، اسلوب،علوم،فصاحت وبلاغت اور بے مثال تاثیر ہر دور کے انسان کو اس کی سچائی کی دعوت دیتے ہیں۔
لہٰذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم قرآنِ کریم کے اعجاز پر کامل ایمان رکھنے کے ساتھ اس کی تلاوت،فہم اور عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔اپنے گھروں کو قرآن کی آواز سے آباد کریں، اپنی اولاد کو اس کی تعلیم،حفظ اور آداب سے آراستہ کریں اور اس کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔ یہی وہ عظیم نعمت ہے جو دنیا میں ہدایت،سکون اور برکت، جبکہ آخرت میں کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔اللہ پاک ہمیں قرآنِ کریم سے سچی محبت،اس کی صحیح سمجھ اور اس کے احکام پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

Comments