موضوع:بزرگوں کا ادب کیجئے
انسان کی زندگی کا ایک فطری مرحلہ بڑھاپا بھی ہے۔جوانی کی قوت وتوانائی ایک دن ڈھل جاتی ہے،جسم کمزور ہونے لگتا ہے اور پھر انسان دوسروں کے سہارے کا محتاج ہو جاتا ہے۔ اس لیے مہذب اور باکردار معاشرہ وہی ہے جو اپنے بزرگوں کی عزت کرے،ان کا خیال رکھے اور انہیں اللہ پاک کی نعمت سمجھے۔ اگرچہ دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں بزرگوں کے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے،مگر اسلام نے ان کے احترام کو عبادت کا درجہ دیا ہے، خصوصاً اس شخص کے لیے جس نے جوانی اور بڑھاپا اسلام پر گزارا۔ چنانچہ
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس کے بال اسلام میں سفید ہوئے وہ قیامت کے دن اس کے لیے نور ہوں گے۔ ([1]) ایک اور حدیثِ مبارک میں فرمایا:اپنے بڑوں کی تعظیم کرو اور چھوٹوں پر رحم کرو،تم جنت میں میری رفاقت پاؤ گے۔ ([2]) اسی طرح ایک روایت میں ہے: بلاشبہ بوڑھے مسلمان اور صاحبِ قرآن کی عزت کرنا جو اس میں مبالغہ آرائی اور کوتاہی سے بچتا ہو اور(اسی طرح) انصاف پسند حکمران کی عزت کرنا اللہ پاک کی عزت کرنے کا حصہ ہے۔([3])
ادب کا دور:
ایک زمانہ تھا جب ادب و احترام معاشرے کی پہچان تھا۔ والدین، اساتذہ،بڑے بہن بھائی،رشتہ دار،بزرگ یہاں تک کہ دینی کتابوں تک کا ادب کیا جاتا تھا۔لوگ سادہ ضرور تھے مگر با اخلاق، مخلص اور باادب تھے۔بزرگوں کے سامنے آواز بلند کرنا یا بےادبی سے پیش آنا سخت معیوب سمجھا جاتا تھا۔اسی ادب و احترام کی برکت سے گھروں،رشتوں اور روزگار میں سکون اور برکت نظر آتی تھی۔
وقت کے ساتھ یہ خوبصورت روایت کمزور پڑتی گئی۔ خصوصاً سوشل میڈیا اور مغربی طرزِ زندگی کے اثرات نے بہت سے نوجوانوں کو بزرگوں،والدین اور اساتذہ کے احترام سے دور کر دیا۔آج استاد کا مذاق اڑانا،ان کی نقلیں اتارنا، والدین سے اونچی آواز میں بات کرنا اور معمولی بات پر پلٹ کر جواب دینا عام ہوتا جا رہا ہے،حالانکہ ہر نوجوان کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایک دن اسے بھی بڑھاپے کے اس مرحلے سے گزرنا ہے۔جو آج اپنے بزرگوں کی عزت نہیں کرے گا،کل خود بھی اسی احترام سے محروم رہ سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جو اپنے بڑوں کا ادب کرتی ہے،وہ خود بھی لوگوں کی نگاہ میں باعزت ہوتی ہے۔بزرگوں کے ادب کا بہترین طریقہ ہمارے بزرگانِ دین نے اپنے عمل سے سکھایا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے چند ایمان افروز واقعات پیشِ خدمت ہیں:
بزرگوں کا اندازِ ادب:
حضرت بایزید بسطامی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ایک سخت سرد رات میری والدہ نے مجھ سے پانی مانگا،میں گلاس بھر کر واپس آیا تو وہ سو چکی تھیں۔میں نے انہیں جگانا مناسب نہ سمجھا اور گلاس ہاتھ میں لیے ان کے بیدار ہونے کا انتظار کرنے لگا۔کافی دیر گزر گئی،سردی کی شدت سے گلاس کا کچھ پانی میری انگلی پر گرا اور جم کر برف بن گیا۔آخرکار جب والدہ بیدار ہوئیں تو میں نے پانی پیش کیا۔ جوں ہی برف سے چپکی ہوئی انگلی گلاس سے الگ کی،اس کی کھال اُدھڑ گئی اور خون بہنے لگا۔والدہ نے پوچھا:یہ کیا ہوا؟ میں نے سارا واقعہ عرض کیا تو انہوں نے ہاتھ اٹھا کر دعا دی: اے اللہ!میں اس سے راضی ہوں،تو بھی اس سے راضی رہنا۔([4])
مشہور کہاوت ہے:با ادب با نصیب،بے ادب بد نصیب! حضرت بایزید بسطامی رحمۃُ اللہ علیہنے والدہ کے ادب کا حق ادا کیا تو اللہ پاک نے ان کی والدہ کی دعا کی برکت سے انہیں ایسی عظمت عطا فرمائی کہ ان کی ولایت کا شہرہ دور دور تک پھیل گیا ۔ بے شک والدین کا ادب انسان کی سعادت و برکت کا عظیم ذریعہ ہے۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی علمی مجلس کی تعریف کرتے ہوئے ایک قریشی سے فرمایا:جب تم مسجدِ نبوی میں جاؤ اور وہاں ایک حلقے میں لوگ اس طرح بیٹھے ہوں گویا ان کے سروں پر پرندے ہیں تو جان لینا کہ وہی حضرت امام ابو عبدُ اللہ( امام حسین رضی اللہ عنہ)کی مجلس ہے۔([5])
بزرگوں کا ادب صرف عزت ووقار ہی نہیں بڑھاتا بلکہ اللہ پاک کی رحمت اور مغفرت کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔ چنانچہ
ایک شخص دریا کے کنارے وضو کر رہا تھا کہ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہ علیہبھی قریب تشریف لا کر وضو کرنے لگے۔ جب اس شخص نے دیکھا کہ اس کے وضو کا پانی اس طرف جا رہا ہے جہاں اللہ پاک کے ایک مقرب ولی وضو فرما رہے ہیں تو ادباً اپنی جگہ بدل لی اور اس طرف بیٹھ گیا جہاں حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہ علیہکے وضو کا مستعمل پانی اس کی طرف آ رہا تھا۔ اللہ پاک نے اس ادب کی ایسی برکت عطا فرمائی کہ اس کے انتقال کے بعد کسی نے خواب میں اس کا حال پوچھا تو اس نے بتایا:اللہ پاک نے مجھے حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہ علیہکے ادب کی برکت سے بخش دیا۔([6])
یاد رکھیے!جس طرح والدین اور اساتذہ کی تعظیم لازم ہے، اسی طرح پیر ومرشد کا ادب بھی مرید پر ضروری ہے،کیونکہ مرشد کی صحبت دل میں خوفِ خدا،عشقِ مصطفےٰ،باطن کی صفائی، گناہوں سے نفرت اور نیک اعمال کا شوق پیدا کرتی ہے۔اسی لیے مرید کو اپنے مرشد سے فیض پانے کے لیے ہمیشہ پیکرِ ادب بنے رہنا چاہیے۔حضرت ذوالنون مصری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب کوئی مرید ادب کا خیال نہیں رکھتا تو وہ لوٹ کر وہیں پہنچ جاتا ہے جہاں سے چلا تھا۔([7])
آج اگر بزرگوں کے ادب کی عملی مثال دیکھنی ہو تو امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ کا طرزِ عمل ہمارے سامنے ہے۔ آپ علمائے کرام اور ساداتِ کرام سے جس ادب و احترام سے پیش آتے ہیں،وہ ہمارے لیے قابلِ تقلید نمونہ ہے۔
گھر میں ادب کا ماحول قائم کرنے اور بچوں کو باادب بنانے میں ماں کا کردار نہایت اہم ہے۔وہ بچوں کو والدین،دادا دادی، نانا نانی،بڑے بہن بھائیوں اور دیگر بزرگوں کی عزت کرنا سکھائے ۔ اگر کبھی ساس یا کسی بڑے سے اختلاف بھی ہو تو اسے بچوں تک نہ پہنچنے دے،بلکہ اپنے عمل سے ادب کا درس دے۔ والدین یا بزرگ آئیں تو احتراماً کھڑا ہونا،ان کے سامنے بلند آواز سے نہ بولنا اور ان کی بات کاٹنے سے بچنا،یہ آداب بچپن ہی سے سکھائے جائیں۔
یاد رکھیے!بچے نصیحت سے زیادہ عمل سے سیکھتے ہیں،اس لیے اگر ہم چاہتی ہیں کہ ہماری اولاد باادب بنے تو سب سے پہلے ہمیں خود باادب بننا ہوگا۔
محفوظ سدا رکھنا شہا بے ادبوں سے
اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ذمہ دار شعبہ ماہنامہ خواتین (کراچی سطح)،رکن انٹرنیشنل افیئرز ڈیپارٹمنٹ
[1] ابوداود،4/115،حدیث:4202
[2] شعب الایمان،7/458،حدیث:10981
[3] ابوداود،4/344،حدیث:4843
[4] نزہۃ المجالس،1/261
[5] تاریخ ابنِ عساکر،14/179
[6] تذکرۃ الاولیاء،1/196ملخصاً
[7] رسالہ قشیریہ،ص 319

Comments