موضوع:اللہ پاک کے ولی کی شان
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو میرا اس کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں فرائض مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں۔ میں اس کا کان ہو جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے،اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے،اس کا ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں ہو جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور عطا کروں گا اور اگر وہ مجھ سے پناہ چاہے تو میں اسے ضرور پناہ دوں گا۔([1])
شرحِ حدیث:
ولی وہ ہے جو ممکنہ حد تک اللہ پاک اور اس کی صفات کو پہچاننے والا،ہمیشہ اس کی عبادت کرنے والا اور تمام گناہوں سے بچنے والا، نیز لذتوں اور خواہشاتِ نفسانی میں حد سے زیادہ مشغول اور منہمک ہونے سے کنارہ کش رہنے والا ہو۔([2])
ایک قول کے مطابق ولی وہ مومن عارف بِاللہ ہے جو طاعات (عبادات)کو پوری پابندی کے ساتھ ادا کرتا رہے اور مُحَرَّمات (حرام و ناجائز کاموں)سے بچتا رہے وہ بھی اللہ پاک کی رضا کے لیے نہ کہ عزت و شہرت حاصل کرنے کے لیے اور دکھاوے کے لیے، اس لیے جو شریعت کا پابند نہیں وہ ولی نہیں ہو سکتا،اگرچہ ہوا میں اڑے۔جوگی جے پال حالتِ کفر میں قادر تھے کہ اپنے حریف پر پتھر برسائیں،آگ برسائیں،خود ہوا میں اڑیں،کیا اس وقت وہ ولی تھے؟(ہرگز نہیں۔اللہ پاک کا) ارشاد ہے:
اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ (پ9،الانفال:34)
ترجمہ:اللہ کے ولی وہ لوگ ہیں جو متقی ہیں۔([3])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یاد رہے!اللہ پاک کا بندے سے جنگ کرنا بندے کے بُرے خاتمے پر دلالت کرتا ہے اور جس سے اللہ پاک اعلانِ جنگ کر دے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔([4]) مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:وَلِیُ اللہ سے اس لیے عداوت و عِناد(دشمنی و بغض رکھنا) کہ وَلِیُ اللہ ہے یہ تو کفر ہے۔اسی کا یہاں ذکر ہے اور ایک ہے کسی ولی سے اختلافِ رائے یہ نہ کفر ہے اور نہ ہی فسق(یعنی گناہ) ۔([5]) جو کوئی ولی سے عداوت(دشمنی) اس لیے کرتا ہے کہ وہ میرا ولی ہے،میں اس سے جنگ کرتا ہوں اور اس کو ہلاک کرتا ہوں اور اس پر ایسے لوگ مسلط کرتا ہوں جو اس کو اذیت (تکلیف) پہنچاتے رہیں۔اس شخص کی یہ رسوائی دنیا میں ہے آخرت کی خرابی اس کے علاوہ ہے۔اللہ پاک مسلمانوں کو ایسی ذلت و رسوائی سے پناہ دے۔([6])
فرائض اور نوافل کی ادائیگی میں فرق:
معلوم ہوا کہ فرائض کی پابندی اور ادائیگی بہ نسبت نوافل کے افضل ہےاور یہ بالکل ظاہر ہے کہ فرائض ادا کرنے میں ثواب کی امید ہے اور ترک میں عذاب کا استحقاق (حق دار بننا)اور نوافل کی ادائیگی میں ثواب کی امید اور ترک پر کوئی گناہ نہیں۔نیز فرائض مَامُوْر بِہٖ ہیں (یعنی ان کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے)ان کا کرنے والا تابعِ فرمان ہے۔اس میں آمر (حکم دینے والے)کی عظمت ظاہر ہے،اس میں عُبودیت (بندگی)کا تَذَلُّل(عاجزی کا اظہار)بھی ہے۔نیز فرائض اصل ہیں اور نوافل فرع۔حتی کہ حدیث میں فرمایا گیا کہ جو فرائض ترک کیے(ہوئے) ہواور نوافل ادا کرے تو اس کے سارے نوافل زمین و آسمان کے درمیان مُعَلَّق (لٹکے) رہیں گے مقبول نہ ہوں گے۔ اسی لیے علما نے فرمایا:جس کے فرائض قضا ہو گئے ہوں وہ بجائے نوافل کے فرائض کی قضا کرے۔([7])
نوافل کے ذریعے قرب حاصل کرنے کی وضاحت:
مراد یہ ہے کہ فرائض کی ادائیگی کے بعد نفل ادا کرتا ہے۔یہ مطلب نہیں کہ فرائض چھوڑ کر نوافل ادا کرے پھر بھی محبوب ہو گا۔اس لیے کہ جو فرائض چھوڑے فاسق ہو گا وہ محبوب کیسے ہو گا؟ نوافل چونکہ بندہ اپنی طرف سے بخوشی ادا کرتا ہے،اس لیے نوافل ادا کرنے والا محبت کا مستحق ہوا۔([8])
فرائض و واجبات کے ساتھ نوافل ادا کرنے والے کی مثال:
صرف فرائض و واجبات ادا کرنے والوں اور فرائض کے ساتھ نوافل کا بھی اہتمام کرنے والوں کی مثال ان دو غلاموں کی سی ہے جنہیں ان کا مالک پھل لانے کا حکم دے۔ایک غلام پھلوں کو ٹوکری میں سلیقے سے رکھ کر،پھولوں اور خوشبو سے سجا کر اپنے مالک کی خدمت میں پیش کرے،جبکہ دوسرا انہیں جھولی میں لا کر زمین پر ڈال دے۔اگرچہ دونوں نے حکم کی تعمیل کی،لیکن محبت اور ادب سے خدمت انجام دینے والا غلام اپنے مالک کو زیادہ محبوب ہوگا ۔ اسی طرح جو بندہ فرائض و واجبات کے ساتھ نوافل بھی ادا کرتا ہے،وہ اللہ پاک کا زیادہ محبوب بن جاتا ہے۔جب اللہ پاک اپنے بندے سے محبت فرماتا ہے تو اسے اپنے ذکر،اطاعت اور نیکی کے کاموں میں مشغول کر دیتا ہے،شیطان کے شر سے محفوظ رکھتا ہے اور اس کے اعضاء کو خیر کے کاموں میں لگا دیتا ہے۔پھر قرآنِ پاک کی تلاوت اور ذکرِ الٰہی اس کے محبوب مشاغل بن جاتے ہیں، جبکہ گانے باجے،لغویات اور دیگر بے مقصد کام اسے ناپسند ہونے لگتے ہیں۔اللہ پاک اس کی نگاہ کو حرام چیزوں سے بچاتا ہے، یہاں تک کہ وہ مخلوق میں بھی اپنے خالق کی قدرت کی نشانیاں دیکھ کر اس کی عظمت کو یاد کرتا ہے۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں کسی بھی چیز کو دیکھنے سے پہلے اپنے ربّ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔مخلوق کو دیکھ کر خالق کی قدرت کی طرف متوجہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ مخلوق کو دیکھ کر ان کے خالق کی تسبیح و تقدیس بیان کرتا اور اس کی عظمت کا اقرار کرتا ہے،اپنے ہاتھ، پاؤں صرف اللہ پاک کے حکم کے مطابق استعمال کرتا ہے،کسی فضول کام کی طرف نہیں چلتا،اپنے ہاتھوں سے کوئی بے کار کام نہیں کرتا اور اس کی حرکات و سَکَنَات اللہ پاک کے لیے ہوتی ہیں۔جب بندے کی یہ حالت ہو جائے تو اسے اس کی تمام حرکات و سَکَنَات پر ثواب دیا جاتا ہے۔ ([9])
ربّ کا کان،آنکھ،ہاتھ اور پاؤں ہونے کا مطلب:
اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں:(1)اللہ پاک اس کے کان،آنکھ،ہاتھ اور پاؤں کو شیطان سے محفوظ رکھتا ہے۔(2)بندے کے سننے،دیکھنے اور پکڑنے کے وقت یادِ الٰہی اس کے دل میں بسی ہوتی ہے۔لہٰذا جب وہ ذکرِ الٰہی کرتا ہے تو غیر کے لیے عمل کرنے سے رک جاتا ہے۔ (یعنی اس کے سب کام رضائے الٰہی کے لیے ہوتے ہیں۔) ([10])جبکہ ایک قول کے مطابق یہ حدیث اپنے مجازی معنی پر مشتمل ہے اور مراد یہ ہے کہ اللہ پاک اپنے نیک بندے کی اس طرح حفاظت فرماتا ہے جیسے بندہ اپنے اعضاء کی حفاظت کرتا ہے تاکہ وہ ہلاکت میں نہ پڑ جائے۔امام خطابی فرماتے ہیں:یہ الفاظ بطور مثال ذکر کئے گئےہیں جن کا معنی یہ ہے کہ اللہ پاک اپنے نیک بندے کو اِن چار اعضاءسے ہونے والے نیک کاموں کی پہچان کرا دیتا ہے،پھر اِن نیک اعمال کی محبت اس کے دل میں ڈال کر انہیں اس پرآسان کر دیتا ہے اور ان اعضاء کو اپنی ناراضی والے کاموں،مثلاً:بُری باتیں سننے،ممنوعہ چیزوں کی طرف دیکھنے،حرام چیزوں کو پکڑنے اور نا جائز کاموں کی طرف چلنے وغیرہ سے محفوظ کر دیتا ہے۔یا پھر اس پر اس طرح آسانی فرماتا ہے کہ اس کی دعائیں جلد ی قبول فرماتا ہے۔([11])
[1]بخاری،4/248،حدیث:6502
[2]شرح عقائد نسفیہ،ص317،316
[3]نزہۃ القاری،5/669
[4]مرقاۃ المفاتیح،5 /41،تحت الحدیث:2266
[5]مراۃ المناجیح،3 /308
[6]تفہیم البخاری،9/796
[7]نزہۃ القاری،5/ 669
[8]نزہۃ القاری،5/669
[9]الاربعین النوویۃ،ص130،129
[10]الاربعین النوویۃ،ص130
[11]عمدۃ القاری،15 /577،تحت الحدیث:6502

Comments