موضوع:سمدھن کا کردار
نکاح صرف ایک مرد وعورت کے درمیان ہونے والا معاہدہ نہیں بلکہ دو خاندانوں کو محبت،اعتماد اور احترام کے رشتے میں جوڑ دیتا ہے۔اسی کے نتیجے میں کئی نئے تعلقات قائم ہوتے ہیں،جن میں ایک اہم رشتہ سمدھن کا بھی ہے۔شوہر اور اس کی بیوی کی مائیں آپس میں سمدھن کہلاتی ہیں،جبکہ پاکستان کے بعض علاقوں میں انہیں کُڑمنی بھی کہا جاتا ہے۔بظاہر یہ تعلق دو خواتین کے درمیان ہوتا ہے،مگر درحقیقت دونوں خاندانوں کے سکون اور نئی نسل کے خوشحال مستقبل میں اس کا اہم کردار ہوتا ہے۔
اگر دونوں سمدھنیں خیرخواہی،برداشت اور درگزر کا مظاہرہ کریں تو اختلافات بھی محبت میں بدل جاتے ہیں،لیکن اگر انا،شکوہ،طعنہ زنی اور مقابلہ بازی جگہ بنا لیں تو اس کے اثرات صرف انہی تک محدود نہیں رہتے بلکہ نئی نویلی جوڑی کی ازدواجی زندگی بھی متاثر ہونے لگتی ہے، یہاں تک کہ معمولی باتیں گھروں کی تباہی کا سبب بن جاتی ہیں۔اسی لیے اسلام نے حسنِ اخلاق،باہمی احترام اور خیرخواہی کی تعلیم دی ہے۔چنانچہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:الدِّينُ النَّصِيحَةُ یعنی دین خیرخواہی کا نام ہے۔([1]) لہٰذا ایک سمدھن کو چاہیے کہ وہ اپنی مسلمان بہن کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتی ہے۔یہی جذبہ بہت سے اختلافات کو جنم لینے سے پہلے ہی ختم کر دیتا ہے۔
آج گھریلو اختلافات کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دونوں خاندان اپنی اولاد کی ہر بات کو بلا تحقیق درست سمجھ لیتے ہیں۔اگر بیٹی کہے: امی!ساس نے یہ کہہ دیا یا بیٹا اپنی ماں سے کوئی شکایت کرے تو فوراً دوسری طرف کو قصوروار ٹھہرا لیا جاتا ہے،حالانکہ ہر بات کا دوسرا رخ بھی ہوتا ہے۔دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ ایک ہی بات سن کر فیصلہ نہ کیا جائے بلکہ اولاد کو صبر،برداشت اور افہام و تفہیم سے معاملات سلجھانے کی تلقین کی جائے۔ایک سمجھ دار سمدھن آگ پر پانی ڈالنے والی بنتی ہے،تیل ڈالنے والی نہیں۔وہ اولاد کی ہر شکایت دوسری طرف پہنچانے کے بجائے انہیں سمجھاتی ہے کہ ہر گھر میں چھوٹی موٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں اور برداشت ہی سے گھر آباد رہتے ہیں۔معمولی اختلافات میں بچوں کو خود بات کرکے مسئلہ حل کرنے کی ترغیب دی جائے،کیونکہ جب ان میں پورے خاندان شامل ہو جائیں تو چھوٹی سی بات بھی بڑا تنازع بن جاتی ہے۔
اسی طرح گفتگو میں بھی احتیاط ضروری ہے۔بعض لوگ جانے انجانے میں ایسے جملے کہہ دیتے ہیں جو دوسرے کے دل پر تیر کی طرح لگتے ہیں،مثلاً:*تم نے اپنی بیٹی کو کیا سکھا کر بھیجا ہے؟ *اسے تو روٹی تک بنانی نہیں آتی!*جہیز میں دیا ہی کیا تھا؟ یا دوسری طرف سے کہا جائے:*تمہارا بیٹا ذمہ داری اٹھانا ہی نہیں جانتا۔*تمہارے لاڈ پیار نے اسے بگاڑ دیا ہے۔
ایسے جملے وقتی غصے کا اظہار تو ہو سکتے ہیں،لیکن ان کے اثرات برسوں تک باقی رہتے ہیں۔زبان سے نکلا ہوا ایک سخت لفظ بعض اوقات وہ زخم دے جاتا ہے جو معافی کے باوجود آسانی سے نہیں بھرتا۔اس لیے اگر کبھی اولاد کی کسی بات سے دل دکھ بھی جائے تو فوراً طعنہ زنی کے بجائے حکمت اور نرمی سے اصلاح کی کوشش کی جائے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں کوئی انسان کامل نہیں۔ہر شخص میں کچھ خوبیاں اور کچھ کمزوریاں ہوتی ہیں۔اگر رشتہ طے کرتے وقت کسی بات پر رضامندی ظاہر کر دی گئی تو بعد میں اسی بات کو بار بار موضوعِ گفتگو بنانا مناسب نہیں۔ہر وقت یہ کہنا کہ ہمیں تو یہ معلوم نہیں تھا،یا ہم نے تو سوچا بھی نہیں تھا،ایسی باتیں صرف دلوں میں فاصلے بڑھاتی ہیں۔
اسی طرح بے جا توقعات بھی گھریلو کشیدگی کا بڑا سبب بنتی ہیں۔ بعض اوقات دونوں سمدھنیں ایک دوسرے سے تحائف،دعوتوں یا خصوصی توجہ کی ایسی امیدیں وابستہ کر لیتی ہیں جو پوری نہ ہوں تو شکوے شکایات جنم لینے لگتے ہیں۔حالانکہ اگر یہ اصول ذہن نشین کر لیا جائے کہ ہر ایک کو ہر چیز نہیں ملا کرتی اور اللہ پاک نے جو عطا فرمایا،اسی میں بہتری ہے تو بہت سے اختلافات خود بخود ختم ہو جائیں۔
اسی طرح اسلام دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے پردہ پوشی کی تعلیم دیتا ہے،لہٰذا کامیاب سمدھن وہ ہے جو دوسری کی کمزوریاں اچھالنے کے بجائے اس کی عزت کا خیال رکھے اور جہاں ضرورت ہو، خاموشی سے اصلاح کی کوشش کرے۔
عیبوں کو ڈھونڈتی ہے عیب جو کی نظر
جو خوش نظر ہیں وہ ہنر و کمال دیکھتے ہیں
اگر سامنے والی سے کوئی غلطی ہو جائے تو اسے خاندان بھر میں بیان کرنے،رشتہ داروں میں چرچا کرنے یا بار بار دہرانے کے بجائے نظر انداز کر دینا بہتر ہے۔یاد رکھیے!جو دوسروں کی عزت کی حفاظت کرتی ہے،اللہ پاک بھی اس کی عزت محفوظ فرماتا ہے۔ اسی طرح ایک دوسرے کے ذاتی معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے بھی حتی الامکان بچنا چاہیے۔ہر گھر کے اپنے حالات اور اپنا نظم ہوتا ہے، اس لیے ہر بات میں مشورے دینا یا اپنی رائے مسلط کرنا ناگواری کا سبب بن جاتا ہے۔اسی لیے کہا جاتا ہے:اگر سامنے والی ناک سے بھی کھائے تو منہ سے کھانے کا مشورہ نہ دیں۔البتہ!اگر کوئی دینی یا اخلاقی غلطی ہو تو مناسب وقت،نرم لہجے اور اچھے انداز میں اصلاح کی کوشش کی جائے۔
خوشی اور غمی کے مواقع پر ایک دوسرے کا ساتھ دینا اس رشتے کی خوبصورتی ہے۔بیماری،شادی بیاہ یا دیگر اہم مواقع پر خلوص سے شریک ہونا محبت بڑھاتا ہے،البتہ!ہر وقت بلا تکلف آنا جانا مناسب نہیں،کیونکہ روز روز کا آنا جانا قدر کھو دیتا ہے۔اعتدال ہی محبت کو قائم رکھتا ہے۔اسی طرح اگر کبھی دوسری جانب سے مطلوبہ توجہ یا عزت نہ ملے تو فوراً بدگمانی نہ کریں،ممکن ہے وہ کسی پریشانی یا مصروفیت میں ہو۔بعض اوقات ایک مختصر سا جواب یا کسی دعوت میں شریک نہ ہو سکنا بھی غلط فہمی پیدا کر دیتا ہے،حالانکہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے، اس لیے ہمیشہ اچھےگمان سے کام لیجیے،کیونکہ شیطان مسلمانوں کے دلوں میں بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
نکاح کے بعد یہ حقیقت ذہن میں رہے کہ بیٹا اور بیٹی نئی ذمہ داریوں کے امین بن جاتے ہیں۔شریعت نے میاں بیوی دونوں کو ایک دوسرے کے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی ہے، اس لیے شادی کے بعد ان کی مصروفیات کو محبت کی کمی نہ سمجھا جائے۔ اب تو وہ بدل گیا ہے،ساس نے نظر بند کر دیا ہے وغیرہ جیسے شکوے اولاد پر بوجھ بنتے اور میاں بیوی کے تعلقات میں بھی کشیدگی پیدا کرتے ہیں۔
دانشمندی کا تقاضا ہے کہ اولاد کو دونوں گھروں کے حقوق ادا کرنے کی ترغیب دی جائے،نہ کہ اسے ایک طرف کھینچا جائے۔اگر بیٹا سسرال جائے یا بیٹی اپنے سسرال والوں کا خیال رکھے تو اسے برا نہ سمجھا جائے، کیونکہ جس طرح ہم اپنی عزت چاہتے ہیں،دوسرا خاندان بھی یہی چاہتا ہے۔
یاد رکھیے!ایک اچھی سمدھن صرف اپنی بیٹی یا اپنے بیٹے کی خیر خواہ نہیں ہوتی بلکہ دوسرے خاندان کی عزت اور خوشی کو بھی اپنی خوشی سمجھتی ہے۔وہ نفرتوں کے بجائے محبتیں بانٹتی،شکووں کے بجائے دعائیں دیتی اور اختلافات کے بجائے دلوں کو جوڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ایسی خواتین ہی درحقیقت دونوں خاندانوں کے درمیان مضبوط پل کا کردار ادا کرتی ہیں۔
اگر سمدھنیں ان باتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ان شاء اللہ نہ صرف ان کی اولاد کے گھر آباد رہیں گے بلکہ دونوں خاندان محبت، اعتماد اور باہمی احترام کے رشتے میں بندھے رہیں گے۔یوں غیبت، بدگمانی،چغلی،طعنہ زنی اور دل آزاری جیسے گناہوں سے بھی حفاظت نصیب ہوگی،اور گھر سکون ورحمت کا گہوارہ بن جائیں گے۔
اللہ پاک خاندانِ مصطفےٰ کے صدقے ہمارے گھروں میں محبت، اتفاق،خیرخواہی اور باہمی احترام کو ہمیشہ قائم رکھے،ہمیں اپنی زبان اور رویّے کی حفاظت کرنے اور رشتوں کو جوڑنے والا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
نوٹ:اپنا اور اپنی اولاد کا گھر ”سوئیٹ ہوم“ بنانے کیلئے علم وحکمت کے مدنی پھول سیکھنے کی خاطر مدنی مذاکرے دیکھنے کو اپنا معمول بنا لیجئے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* بحریہ ٹاؤن راولپنڈی
Comments