پوتی و نواسی کا کردار
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:پوتی ونواسی کا کردار

انسان کے دنیا میں آنے کا ظاہری وسیلہ اگرچہ والدین ہیں،مگر اس کے وجود کی بنیاد میں دادا دادی اور نانا نانی کا حصہ بھی شامل ہوتا ہے۔والدین اولاد کی تربیت اور پرورش کے ذمہ دار ہوتے ہیں،جبکہ بزرگوں کی شفقت،دعائیں اور تجربات گھر کے ماحول کو سکون اور محبت عطا کرتے ہیں۔ماں باپ کی محبت جہاں اولاد کے لیے سایۂ رحمت ہے،وہیں دادا دادی اور نانا نانی کی شفقت اس محبت کو مزید کشادگی بخشتی ہے۔اسلام ایک ایسا پاکیزہ دین ہے جو خاندانی تعلقات کو مضبوط اور محبتوں کو قائم رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔اسی لیے شریعتِ مطہرہ میں صلہ رحمی کی خاص تاکید فرمائی گئی اور رشتہ داروں سے تعلق توڑنے والوں کے لیے سخت وعیدیں بیان کی گئیں۔نیز حسنِ سلوک کے اعتبار سے قریبی رشتہ داروں کے حقوق اور مراتب کو بھی واضح کیا گیا ہے۔لہٰذا والدین خواہ براہِ راست ہوں یا بالواسطہ، دونوں ہی محبت،احترام اور حسنِ سلوک کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔چنانچہ شریعتِ مطہرہ نے حقوقِ والدین میں دادا دادی اور نانا نانی کو بھی شامل فرمایا ہے۔

پوتی اور نواسی خاندان کی وہ ننھی کلیاں ہوتی ہیں جو اپنے اخلاق،اندازِ گفتگو اور طرزِ عمل سے گھر کے ماحول کو خوشگوار بھی بنا سکتی ہیں اور بگاڑ بھی سکتی ہیں۔اگر ان کی تربیت صحیح انداز سے ہو تو یہ مستقبل کی مثالی بیٹیاں،بہوئیں اور مائیں بن کر پورے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہیں۔چنانچہ ادب و احترام کی لڑی سے جڑے ان مقدس اور بزرگ رشتوں کے ساتھ پوتی اور نواسی کا کردار کیسا ہونا چاہیے؟درج ذیل نکات کے ذریعے جاننے کی کوشش کرتی ہیں:

اطاعت و فرمانبرداری:

پوتی اور نواسی کو چاہیے کہ اپنے والدین کے ساتھ ساتھ دادا دادی اور نانا نانی کی اطاعت کو بھی باعثِ سعادت سمجھے۔ والدین کی بات تو اولاد کسی حد تک نہ چاہتے ہوئے بھی مان لیتی ہے لیکن دادا دادی اور نانا نانی کی بات اور حکم ماننا اپنی آزادی میں آڑ سمجھا جانے لگا ہے۔

ادب و احترام:

ادب دینِ اسلام کی خوبصورتی ہے۔اپنے سے بڑے رتبے والے کی تعظیم کو شریعتِ مطہرہ نے پسند فرمایا ہے خواہ وہ علم میں بڑے ہو یا عمر میں۔دادا دادی اور نانا نانی عمومی طور پر بزرگی کی عمر کو پہنچ چکے ہوتے ہیں۔مسلمان کے سفید بالوں کی اپنی عزت و تکریم ہے۔حدیثِ پاک کے مطابق جو بڑوں کا ادب نہ کرے وہ طریقۂ نبوی پر نہیں۔([1]) پوتی اور نواسی کو چاہیے کہ وہ اپنے بزرگوں کو آتا دیکھ کر احتراماً کھڑی ہو جائیں، ان کے ہاتھ چومیں،ان کے سامنے اپنے الفاظ اور انداز کو ادب کے دائرے میں قید کر لیں،ان کی غیر موجودگی میں بھی ان کا ذکر کرتے ہوئے مؤدبانہ الفاظ کا انتخاب کریں،اگر کوئی منفی بات ہو بھی جائے تو وفا کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنے بزرگوں کو داؤ پر نہ لگائیں بلکہ Cover Up کرنے کی کوشش کریں۔

جو ہے باادب وہ بڑی بانصیب اور

جو ہے بے ادب وہ نہایت بُری ہے

دیکھ بھال اور خدمت:

نواسی اور پوتی کا فرض ہے کہ اپنے دادا دادی اور نانا نانی کی خدمت کریں۔عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اعضا کمزور پڑجاتے اور طرح طرح کی بیماریاں گھیر لیتی ہیں۔ایسی حالت میں بزرگوں کو کسی سہارے کی حاجت ہوتی ہے، مسلسل خدمت سے گھر والے بیزاری کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔پوتی اور نواسی کو چاہیے کہ ان کی خدمت میں کوتاہی نہ کریں،وقت پر دوا دیں،ممکن ہو تو ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق پرہیزی کھانے خود بنا کر انہیں کھلائیں، خود ہاتھ پکڑ کر چلائیں، سفر وغیرہ میں بھی ان کی دیکھ بھال کا خصوصی خیال رکھیں، ٹیکنالوجی کا بنیادی اور ضروری استعمال انہیں سکھانے میں مدد کریں،ضرورت پڑنے پر انہیں کال ملا کر دیں۔اس طرح کرنے سے ان شاء اللہ بزرگوں کے دلوں سے دعائیں نکلیں گی اور بیڑا پار ہو جائے گا۔

وقت دینا:

ٹیکنالوجی کے تیز رفتار دور میں انسان کے پاس دوسروں کے لئے وقت نکالنا تو دور کی بات  خود کو وقت دینے کے لئے وقت نہیں ہے۔یہ ٹائم مینجمنٹ نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ ہمارے بزرگانِ دین درس و تدریس،تصنیف و تالیف اور دیگر مشاغل کے باوجود اپنے گھر والوں کے لئے وقت نکالتے تھے۔

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بھی اپنے مبارک وقت کو تین حصوں میں تقسیم فرمایا ہوا تھا جس کا ایک حصہ گھر والوں کے لئے مختص تھا۔([2]) پوتی اور نواسی کو بھی چاہیے کہ اپنے دادا دادی اور نانا نانی کے لئے وقت نکال کر ان کے پاس موجود تجربات،خاندانی اقدار اور تہذیبی ورثے سے فائدہ حاصل کریں۔نوجوان نسل کی ایک تعداد ”بار بار وہی پرانی باتیں“ کا عذر بنا کر بزرگوں کے پاس بیٹھنے سے کتراتی اور فقط انہیں سلام کرلینے یا کھانا پانی پوچھ لینے کو کافی سمجھتی ہے۔حالانکہ یہ بزرگ ہماری توجہ کے طلبگار ہوتے ہیں۔پوتی اور نواسی کو چاہیے کہ آتے جاتے بزرگوں کو سلام کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ دیر ان کے پاس بیٹھیں،اپنی سرگرمیاں بھی ان کے ساتھ شیئر کریں، دور ہونے کی صورت میں کال پر رابطہ مضبوط رکھیں اور آنے جانے کا سلسلہ بھی جاری رکھیں۔

دعا اور ایصالِ ثواب:

دادا دادی یا نانا نانی کا انتقال ہو جائے تو پوتی اور نواسی کو چاہیے کہ ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتی رہیں،فاتحہ اور قرآن خوانی کا سلسلہ جاری رکھیں۔جمعہ کو سورۂ یس پڑھ کر انہیں ایصال کرتی رہیں کہ وفات کے بعد ہمارے بزرگ ہمارے ایصالِ ثواب کے منتظر ہوتے ہیں۔آج ہم کسی کو یاد رکھیں گی تو کل ہمارے مرنے کے بعد کوئی ہمارے لیے بھی ہاتھ اٹھانے والا ہوگا۔

پوتی اور نواسی کو چاہیے کہ اپنے بہن بھائیوں کے دلوں میں بھی اپنے بزرگوں کی محبت پیدا کریں،بزرگوں کی طرف سے ہونے والی ڈانٹ ڈپٹ پر اپنا دل بڑا رکھیں اور اس حوالے سے چھوٹوں کی بھی تربیت کرتی رہیں۔

آخری گزارش!

جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے کی وجہ سے بچوں کی ایک تعداد دادی دادا سے شاکی رہتی ہے جبکہ نانی نانا کے گن گاتے نہیں تھکتی۔اس میں ماں کا بھی کردار ہوتا ہے لیکن دینِ اسلام ہمیں میانہ روی کی راہ نمائی فرماتا ہے۔نانا نانی کا پیار اپنی جگہ لیکن دادا دادی کی محبت سے بھی انکار ممکن نہیں!دونوں طرف کے ہی حقوق پورے کرنا ضروری ہیں۔

اللہ پاک ہمیں اپنے خاندانی رشتوں کی قدر کرنے اور انہیں نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* صدر راولپنڈی



[1] معجم کبیر،8/228،حدیث:7895 ملخصاً

[2] شمائل محمدیہ،ص 192،رقم:319


Share