موضوع:منگل اور شبِ منگل کی عبادات
منگل بھی مبارک دن ہے۔اس دن کو تاریخی اعتبار سے کئی نسبتیں حاصل ہیں،مثلاً:*اسی دن اللہ پاک نے اپنے پیارے نبی حضرت ایوب علیہ السلام کو شفا عطا فرمائی۔([1]) *اسی دن اللہ پاک نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کو بیتُ المقدس سے کعبہ شریف کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔([2]) *اسی دن حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اسلام لائے۔([3]) *اسی دن سورۃُ الحدید نازل ہوئی اور اسی دن اللہ پاک نے لوہے کو پیدا فرمایا۔([4])*اسی دن اللہ پاک نے پہاڑوں اور ان میں موجود نفع بخش چیزوں کو پیدا فرمایا۔([5]) *اسی دن اللہ پاک نے جہنم کو پیدا کیا اور اسی دن اللہ پاک نے مَلَکُ الْمَوْت علیہ السلام کو اولادِ آدم کی روحوں پر اختیار دیا۔([6])
منگل کا دن کیسے گزاریں؟
اس مبارک دن کی مبارک گھڑیوں کو گزارنے کے لئے ہماری بھر پور راہ نمائی کی گئی ہے۔چند روایات پیشِ خدمت ہیں:
منگل کا روزہ:
ام المومنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہاکو حضور نے حکم دیا تھا کہ وہ تین روزے ہر مہینے رکھیں جن میں پہلا روزہ پیر یا جمعرات کا ہو۔([7]) یہ حکم استحبابی تھا نہ کہ وجوبی،اسی واسطے اُمُّ المومنین حضرت اُمِّ سَلَمَہ رضی اللہ عنہا کے وہ روزے نفل ہوتے تھے۔مطلب یہ ہے کہ کسی مہینہ میں پیر منگل اور بدھ کے روزے رکھو اور کسی میں جمعرات،جمعہ اور ہفتہ کے۔بعض شارحین کے خیال میں یہ واؤ بمعنی اَوْ ہے یعنی تمہیں اختیار ہے کہ پیر سے شروع کرو یا جمعرات سے([8])
حضرت عائشہ فرماتی ہیں:حضور ایک مہینے میں ہفتہ،اتوار اور پیر کا روزہ رکھتے تھے اور دوسرے مہینے میں منگل،بدھ اور جمعرات کا۔([9]) یعنی آپ نے ہفتہ کے سارے دنوں میں اپنے روزے تقسیم کردیئے تھے تاکہ کوئی دن حضور انور صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کے روزے کی برکت سے محروم نہ رہے۔چنانچہ ایک مہینہ میں تین دن اور دوسرے مہینہ میں اگلے تین دن روزے رکھتے تھے اور جمعہ کے روزے کی تو عادتِ کریمہ تھی ہی جیساکہ ابھی حدیثِ پاک میں گزر گیا۔ہم لوگ دنوں سے برکت حاصل کرتے ہیں اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کی عبادات سے دن برکت پاتے تھے جیسے ہم چاند سے روشنی پاتے ہیں اور چاند سورج سے۔([10])
منگل کے دن کے نوافل:
شہادت کی موت:
جس نے منگل کے دن نصف دن کے وقت دس رکعت نماز پڑھی۔ہر رکعت میں ایک بار سورۂ فاتحہ،ایک بار آیۃ الکرسی اور تین بار سورۂ اخلاص پڑھی تو 70 دن تک اس کی کوئی برائی نہ لکھی جائے گی۔اگر وہ 70 دن کے اندر مر گیا تو شہادت کی موت مرے گا اور اس کے 70 سال کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔([11])
ایک روایت میں ہے کہ جو منگل کے دن کے درمیان میں اور ایک روایت میں ہے کہ دن بلند ہوتے وقت دس رکعتیں اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں ایک ایک بار سورۂ فاتحہ، آیۃالکرسی اور تین بار سورۂ اخلاص پڑھے تو ستر روز تک اس کے نامۂ اعمال میں کوئی گناہ نہیں لکھا جائے گا۔اگر ستر دنوں کے اندر اندر فوت ہو جائے تو شہادت کا درجہ پائے گا اور اس کے ستر سال کے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔([12])
منگل کے دن اشراق کے بعد نصف النہار تک بارہ رکعت پڑھے اور ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد آیۃ الکرسی ایک بار پڑھے اور سورۂ اخلاص تین بار۔([13])
شبِ منگل کے نوافل:
جو دو رکعت نماز پڑھے،ہر رکعت میں 15،15 بار سورۂ فاتحہ،سورۂ اخلاص اور سورۂ فلق و ناس پڑھے اور سلام پھیرنے کے بعد 15 بار آیۃ الکرسی پڑھے اور 15 بار اللہ پاک سے استغفار کرے تو اس کے لئے عظیم ثواب اور بڑا اجر ہے۔([14])
جو منگل کی رات دو رکعت نماز پڑھے،ہر رکعت میں ایک بار سورۂ فاتحہ اور سات بار سورۂ قدر اور سورۂ اخلاص پڑھے تو اللہ پاک اسے جہنم کی آگ سے آزاد فرما دے گا اور بروزِ قیامت یہ نماز اس کے لئے جنت کی طرف راہ نما اور دلیل ہو گی۔([15])
شبِ منگل دو رکعت پڑھے،ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص اور معوذتین پندرہ بار اور سلام کے بعد درود شریف اور آیۃ الکرسی اور استغفار پندرہ بار پڑھے۔([16])
مروی ہے کہ جس نے شبِ منگل بارہ رکعات ادا کیں اور ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد پندرہ مرتبہ سورۂ نصر پڑھی تو اللہ پاک اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنا دے گا جس کی لمبائی اور چوڑائی دنیا کی وسعت سے سات گنا زیادہ ہو گی۔([17])
منگل کے دن بعض کرنے یا نہ کرنے والے کام:
امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا گیا کہ درزی کو کون سے روز(نیا کپڑا)سلنے کو دے؟تو جواباً ارشاد فرمایا:کپڑے کے استعمال یا درزی کو دینے کے لئے کوئی خصوصیت نہیں، ہاں منگل کے دن کپڑا قطع نہ کیا جائے،مولا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ نے فرمایا:جو کپڑا منگل کے روز قطع کیا جائے وہ جلے یا ڈوبے یا چوری ہو جائے۔([18]) منگل کے دن کپڑے کاٹنا شرعاً جائز ہے مگر واجب نہیں لہٰذا کپڑے سینے والی اِسلامی بہنوں کی خدمت میں مشورہ ہے کہ منگل کے دن کپڑے کاٹنے سے اجتناب کرتے ہوئے کسی اور دن کا ٹ لیں۔([19])
منگل کے دن شادی کرنا:
بعض لوگ کہتے ہیں کہ منگل کو شادی نہیں کرنی چاہئے؟اس بارے میں دار الافتا اہلِ سنت کا فتویٰ ہے کہ منگل والے دن شادی کرنا شرعاً بالکل جائز ہے،شریعت میں کسی بھی دن شادی کرنے سے کوئی ممانعت نہیں ہے اور اس دن کے متعلق بد شگونی لینے کی بھی اجازت نہیں ہے۔([20])
منگل کے دن حجامہ کروانا کیسا؟
حضرت کبشہ بنتِ ابی بکرہ کے والد اپنے گھر والوں کو منگل کے دن حجامہ کروانے سے منع کرتے تھے اور یہ روایت بیان کرتے کہ منگل کا دن خون کا دن ہے اور اس میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں خون ٹھہرتا نہیں۔([21])قابیل نے ہابیل کو منگل کے دن ہی قتل کیا اور جناب حوا کو منگل کے دن ہی حیض شروع ہوا گویا یہ دن خون کی ابتدا کا ہے یا اس دن میں خون جوش مارتاہے۔اس دن کی ہر گھڑی میں احتمال ہے کہ شاید وہ ہی گھڑی ہو۔([22]) البتہ!اگر مہینے کی سترہ تاریخ منگل کے دن ہو تو اس دن حجامہ کروانا سال بھر کی بیماری کی دوا ہے۔([23]) جیسا کہ حضرت عبدُ اللہ بن عباس فرماتے ہیں:میں بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا تو آپ منگل کے دن حجامہ کروا رہے تھے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ!کیا اس دن بھی حجامہ کروایا جاتا ہے؟ارشاد فرمایا:ہاں!تم میں سے جس کا منگل کا دن مہینے کی سترہ تاریخ کے موافق آ جائے تو وہ اس(تاریخ)سے آگے نہ بڑھے یہاں تک کہ حجامہ کروا لے، پس تم اس میں حجامہ کروایا کرو۔([24])
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*شعبہ ذمہ دار ماہنامہ خواتین
[1]مستدرک،5/299،حدیث:7556
[2]الاحسان،3/108،حدیث:1713
[3]مسند ابی یعلی،1/ 217،حدیث:442
[4]مجمع الزوائد،5/155،حدیث:8331
[5]مستدرك،3 / 409،حديث:4050
[6]فیض القدیر،1/63،تحت الحدیث:8
[7]ابوداود،2/483،حدیث:2452
[8]مراۃ المناجیح،3/191
[9]ترمذی،2/186،حدیث:746
[10]مراۃ المناجیح،3/190
[11]قوت القلوب،1/53
[12]غنیۃ الطالبین مترجم،ص675
[13]جواہر خمسہ مترجم،ص59
[14] احیاء علوم الدین،1/ 268
[15] احیاء علوم الدین،1/ 268
[16]جواہر خمسہ مترجم،ص58
[17]قوت القلوب،1/56
[18]فتاویٰ رضویہ،22/184
[19]اصلاحِ امت میں دعوتِ اسلامی کا کردار،ص13
[20]فتاوی اہلِ سنت غیر مطبوع،فتویٰ نمبر:WAT-4763
[21]ابو داود،4/7،حدیث:3862
[22]مراۃ المناجیح،6/233 ملتقطاً
[23]معجم کبیر،20/216،حدیث:499
[24]کتاب المجروحین لابن حبان،2/402
Comments