موضوع:سیدہ صفیہ (دوسری وآخری قسط)
خیبر سے مدینے کا سفر:
مدینہ منورہ واپسی کے سفر میں جب حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے لئے اونٹ پیش کیا گیا تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے شفقت سے اپنا زانوئے مبارک آگے فرمایا تاکہ وہ اس پر پاؤں رکھ کر آسانی کے ساتھ سوار ہو جائیں۔([1]) مگر حضرت صفیہ کے دل میں حضور کی محبت اور ادب اس قدر رچا بسا تھا کہ انہوں نے پاؤں رکھنے کے بجائے نہایت احترام کے ساتھ اپنا گھٹنا زانوئے اقدس پر رکھا([2])اور اسی انداز سے سواری اختیار کی۔یہ منظر اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ان کے دل میں حضور کی محبت،عقیدت اور تعظیم کس درجہ بڑھ چکی تھی۔
اسی سفر کے دوران جب حضرت صفیہ کو اونگھ آنے لگی تو نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پوری شفقت کے ساتھ انہیں سنبھالتے رہے([3]) تاکہ وہ گرنے نہ پائیں۔یوں اس سفر میں ایک طرف حضرت صفیہ کا ادب وعشق جلوہ گر نظر آتا ہے تو دوسری طرف حضور کی محبت،دل جوئی اور مقدس بیویوں کے ساتھ بہترین سلوک اپنی پوری شان کے ساتھ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
مدینے میں قیام:
جب حضرت صفیہ مدینہ منورہ پہنچیں تو آپ کو حضرت حارثہ بن نعمان کے گھر ٹھہرایا گیا۔حضرت صفیہ نہ صرف اپنے غیر معمولی حسن و جمال کی وجہ سے معروف تھیں بلکہ نسب و خاندان کے اعتبار سے بھی ایک خاص مقام رکھتی تھیں،اسی لئے مدینے پہنچنے سے پہلے ہی آپ کے حسن و جمال اور عالیشان شخصیت کے چرچے عام ہو چکے تھے۔چنانچہ انصار کی عورتیں شوق واشتیاق کے ساتھ آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہونے لگیں اور آپ کے حسن و جمال کو دیکھ کر حیران رہ جاتیں۔یہاں تک کہ بعض مقدس بیویاں بھی نقاب اوڑھ کر آپ کو دیکھنے کے لئے تشریف لائیں۔([4])
اسی دوران جب خاتونِ جنت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چند دیگر خواتین کے ہمراہ ملنے آئیں تو حضرت صفیہ نے اپنے کانوں میں موجود سونے کا زیور(خرصہ)سیدہ خاتونِ جنت کو بطورِ تحفہ پیش کر دیا۔([5]) اس عمل سے ان کے دل کی وہ کیفیت جھلکتی ہے کہ اسلام اور حضور سے وابستگی کے بعد ان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ یہ بن گیا تھا کہ حضور اور آپ کی محبوب ہستیوں کی محبت و تعظیم کوہی اپنا مقصدِ حیات جانیں،یہاں تک کہ اسی محبت کے اظہار میں انہوں نے اپنے زیورات بھی بخوشی نچھاور کر دینے میں تامل نہ فرمایا۔
حضور کی رضا کی طلبگار:
حضرت صفیہ اگرچہ آسائشوں میں پلی ہوئی خاتون تھیں، مگر اسلام قبول کرنے کے بعد جب وہ حضور کی خدمت میں آئیں تو ان کی پوری زندگی کا مرکز صرف اور صرف حضور کی رضا کا حصول تھا۔ان کے دل میں دنیا کی کسی چیز کی طلب باقی نہ رہی تھی،بلکہ ان کی سب سے بڑی آرزو یہی تھی کہ کسی طرح حضور کی رضا حاصل رہے۔حضور بھی ان کے اس اخلاص اور نازک مزاجی کا خاص خیال فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ حجۃ الوداع کے مبارک سفر میں جب حضور اپنی تمام مقدس بیویوں کو ساتھ لے کر تشریف لے گئے تو راستے میں اتفاقاً حضرت صفیہ کا اونٹ تھک کر بیٹھ گیا۔یہ منظر دیکھ کر وہ بے اختیار رونے لگیں۔جب حضور کو اس کی خبر ہوئی تو خود تشریف لائے اور نہایت شفقت و محبت کے ساتھ اپنے دستِ مبارک سے ان کے آنسو پونچھنے لگے۔حضور بار بار انہیں تسلی دیتے اور رونے سے منع فرماتے،مگر حضرت صفیہ پر رقت اس قدر غالب تھی کہ وہ اور زیادہ اشک بہانے لگتیں۔جب کسی طرح خاموش نہ ہوئیں تو حضور نے ہلکی سی سرزنش فرمائی اور قافلے کو وہیں ٹھہر جانے کا حکم دے کر خود بھی اپنا خیمہ نصب کروایا تاکہ حضرت صفیہ کو تسلی اور اطمینان حاصل ہو۔چونکہ حضرت صفیہ کے دل میں حضور کی رضا کے سوا کوئی طلب نہ تھی،اس لئے اس سرزنش سے ان کے دل میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں حضور ان سے ناراض تو نہیں ہو گئے۔اسی فکر میں وہ بے حد بے چین ہو گئیں اور اس خیال سے کہ کسی طرح حضور کی رضا دوبارہ حاصل ہو جائے،حضرت عائشہ کے پاس حاضر ہوئیں اور انہیں حضور کی بارگاہ میں اپنی سفارش پر آمادہ کیا۔چنانچہ حضرت عائشہ خوشبو میں بسے ہوئے زعفرانی دوپٹے کے ساتھ حضور کے خیمے میں حاضر ہوئیں تو حضور نے فرمایا:عائشہ!یہ تمہارا دن نہیں ہے۔ عرض کی:
ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ- (پ6،المائدۃ: 54)
(ترجمہ: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔)([6])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
سیدہ صفیہ کا عشقِ مصطفےٰ:
سیدہ صفیہ کے دل میں عشقِ مصطفےٰ کی شمع کس درجہ روشن تھی،اس کا اندازہ اس روح پرور واقعے سے بخوبی ہوتا ہے کہ وصالِ ظاہری فرمانے سے کچھ پہلے جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مرضِ مبارک میں مبتلا تھے،اس وقت حضور کی تمام مقدس بیویاں حضور کے گرد جمع تھیں۔فضا غمگین تھی اور ہر دل حضور کے مرض سے بے چین تھا۔اسی کیفیت میں حضرت صفیہ کے دل میں محبت و وفا کا ایک عجیب عالم ظاہر ہوا، وہ ضبط نہ رکھ سکیں اور نہایت ادب وعقیدت کے ساتھ عرض کی:اے اللہ پاک کے نبی!میری خواہش ہے کہ آپ کا یہ مرض مجھے لگ جائے اور آپ اس تکلیف سے محفوظ رہیں۔
یہ جملہ در اصل ان کے عشقِ بے پایاں،ایثارِ کامل اور حضور کے لیے اپنی ذات کو قربان کر دینے کے جذبے کا مظہر تھا کہ وہ اپنے محبوب کی ہر تکلیف اپنے اوپر لے لینے کو سعادت سمجھتی تھیں۔اس خالص محبت و ایثار کی کیفیت کو دیکھ کر حضور نے بھی ان کے جذبۂ وفا کی تصدیق فرمائی اور ارشاد فرمایا:اللہ پاک کی قسم!یہ سچ کہتی ہیں۔([7]) بلاشبہ حضرت صفیہ کا یہ واقعہ ان کے عشقِ مصطفےٰ کی ایسی روشن مثال بن گیا جس میں محبت، ایثار اور صدقِ وفا کی پوری تصویر جھلک اٹھتی ہے۔
سیدہ صفیہ کی دل جوئی:
حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنی دیگر مقدس بیویوں کی طرح سیدہ صفیہ کی بھی دل جوئی فرمایا کرتے تھے،جس کے کئی واقعات مروی ہیں۔مثلاً:ایک روز حضور نے حضرت صفیہ کو اشک بار دیکھ کر سبب پوچھا تو انہوں نے عرض کی:یا رسول اللہ! حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کہہ رہی تھیں کہ ہم دونوں دربارِ رسالت میں تم سے بہت زیادہ معزز ہیں کیونکہ ہم حضور کے ہی خاندان سے ہیں۔یہ سن کر حضور نے فرمایا:تم نے ان دونوں سے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ تم دونوں مجھ سے بہتر کیسے ہو! حالانکہ حضور میرے شوہر،حضرت ہارون علیہ السلام میرے باپ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میرے چچا ہیں۔([8]) اس اندازِ بیان میں جہاں حضرت صفیہ کی عظمت کا اظہار ہے،وہیں حضور کی اپنے اہلِ بیت کے ساتھ شفقت،دل نوازی اور حسنِ معاشرت بھی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے۔اسی طرح ایک سفر کے موقع پر حضرت انس اور حضرت ابو طلحہ حضور کے ہمراہ تھے،جبکہ حضرت صفیہ بھی شریک سفر تھیں اور حضور نے انہیں اپنی سواری پر اپنے پیچھے سوار فرمایا ہوا تھا۔([9]) راستے بھر حضور کی یہ محبت آمیز رفاقت جلوہ گر رہی،یہاں تک کہ اسی انداز میں مدینہ منورہ میں داخل ہوئے۔اس واقعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شوہر کا اپنی زوجہ کو اپنی سواری پر ساتھ بٹھانا نہ صرف جائز بلکہ سنتِ نبوی سے ثابت ہے۔([10])
اوصافِ حمیدہ:
حضرت صفیہ عبادت،تقویٰ،زُہد،نیکی اور صدقے کے اعتبار سے ان عورتوں میں سے تھیں جو تمام عورتوں کی سردار ہیں۔([11]) امام ابن حجر عسقلانی نقل فرماتے ہیں:حضرت صفیہ بہت عقل مند،بردبار اور صاحبِ فضل و کمال خاتون تھیں۔([12]) آپ نے اپنی زندگی میں ہی اپنا گھر صدقہ کر دیا تھا۔([13]) آپ گٹھلیوں پر تسبیح پڑھا کرتی تھیں۔چنانچہ خود فرماتی ہیں کہ حضور میرے پاس تشریف لائے،اس وقت میرے سامنے چار ہزار گٹھلیاں پڑی تھیں جن پر میں تسبیح پڑھ رہی تھی۔حضور نے فرمایا:کیا تم نے ان سب کے برابر تسبیح پڑھ لی ہے؟کیا میں تمہیں اس سے زیادہ(فضیلت والی بات)نہ سکھا دوں جو تم نے اب تک پڑھا ہے؟میں نے عرض کی:کیوں نہیں،مجھے ضرور سکھائیے۔فرمایا:کہو:سُبْحَانَ اللہ عَدَدَ خَلْقِہِ اللہ پاک کی پاکی ہے اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر۔([14])آپ بہت ہی بہادر خاتون تھیں،چنانچہ جب باغیوں نے حضرت عثمانِ غنی کے گھر کا محاصرہ کیا اور پانی و خوراک بند کر دی تو حضرت صفیہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر انہیں کھانا پانی پہنچاتی تھیں۔([15]) آپ کے اخلاق اور عفو ودرگزر کا یہ عالم تھا کہ جب آپ کی ایک باندی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے آپ کی جھوٹی شکایت کی تو حقیقت معلوم ہونے پر آپ نے اس باندی کو سزا دینے کے بجائے اللہ پاک کی رضا کے لئے آزاد کر دیا۔([16]) آپ نے چار سال حضور کے ساتھ گزارے۔([17])
مروی احادیث:
آپ سے مروی احادیث کی کل تعداد 10ہے جن میں سے ایک بخاری و مسلم دونوں میں موجود ہے اور باقی 9 دیگر کتابوں میں ہیں۔([18]) آپ سے روایت کرنے والوں میں امام علی بن حسین یعنی امام زین العابدین جیسی عظیم ہستیاں شامل ہیں۔([19])
وفات اور تدفین:
ام المومنین حضرت صفیہ کا وصال مختلف اقوال کے مطابق 39 یا 52 ہجری میں یا ایک قول کے مطابق خلافتِ فاروقی میں ہوا اور حضرت فاروقِ اعظم نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ ([20]) ایک قول کے مطابق آپ کی وفات ماہِ رمضان میں 50 ہجری میں حضرت امیرِ معاویہ کے زمانے میں ہوئی۔ وفات کے وقت آپ کی عمر 60 سال تھی۔آپ کو مدینے شریف کے مشہور قبرستان جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔([21]) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں:ایک بار ہمیں مدینے شریف میں کوئی آواز سنائی دی توحضرت عبدُ الله بن عبّاس مجھ سے فرمانے لگے: اے عکرمہ!دیکھو!یہ کیسی آواز ہے؟فرماتے ہیں:میں گیا تو پتا چلا کہ حضرت صفیہ کا انتقال ہو گیا ہے۔جب میں واپس آیا تو حضرت عبدُ الله کو سجدے میں پایا حالانکہ ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا،اس لئے میں نے (تَعَجُّب کے طور پر) کہا:سبحن اللہ!آپ سجدہ کرتے ہیں،حالانکہ ابھی سورج نہیں نکلا!حضرت عبدُ الله نے ارشاد فرمایا:کیا پیارے آقا صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے یہ نہیں فرمایا کہ جب تم کوئی نشانی دیکھو تو سجدہ کرو؟اس سے بڑی نشانی اور کون سی ہو گی کہ حضور کی مقدس بیویاں دنیا سے تشریف لے گئی ہیں اور ہم ابھی زندہ ہیں!([22])
[1]مغازى للواقدى،2/708
[2]معجم كبیر،11 /304،حديث:12068
[3]سبل الہدی و الرشاد،11/215
[4]طبقات ابن سعد،8 /100ملتقطاً
[5]طبقات ابن سعد،8 /100ملتقطاً
[6]مسند امام احمد،44/435،حدیث:26866
[7]طبقات ابن سعد،2/239 ملخصاً
[8] ترمذی،5/474،حدیث:3918
[9]بخاری،2/335،حدیث:3085
[10]مراۃ المناجیح،5/489 ملخصاً
[11]البدایہ و النہایہ،5/539
[12]اصابہ،8/211
[13]طبقات ابن سعد،8/102
[14]ترمذی،5/325،حديث:3565
[15]طبقات ابن سعد،8/101
[16]اصابہ،8/212،211ملخصاً
[17]آخری نبی کی پیاری سیرت،ص138
[18]سیرتِ مصطفیٰ،ص683
[19]شرح زرقانى،4/ 436
[20]مدارج النبوت،2/483
[21]شرح زرقانى على المواہب،4/436ملتقطاً
[22]سنن كبرىٰ للبيہقى،3 /477،حديث:6379
Comments