موضوع:شرح شجرۂ قادریہ،رضویہ،ضیائیہ،عطاریہ(قسط 9)
9
اَحْسَنَ اللہ لَھُم رِزقاً سے دے رزقِ حَسن
بندۂ رزّاق تاجُ الاصفیاء کے واسطے
مشکل الفاظ کے معانی:رزقِ حسن:اچھا رزق۔رزاق:رزق دینے والا۔تاج الاصفیاء:ستھروں کے سردار۔
مفہومِ شعر:اے اللہ!شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے شہزادے شیخ عبد الرزاق قادری رحمۃ اللہ علیہ کے وسیلے سے مجھے پاکیزہ بابرکت اور حلال رزق عطا فرما۔
شرح:اس شعر میں جو تین الفاظ ذکر کیے گئے ہیں؛ رزقًا،رزق اور رزاق ان تینوں لفظوں میں لفظی اور معنوی دونوں مناسبت پائی جاتی ہے۔لفظی اعتبار سے ر،ز،ق کی ہم آہنگی ہے اور معنوی اعتبار سے رزق یعنی روزی کا معنی پایا جاتا ہے۔یہاں اللہ پاک کی صفتِ رزاق(یعنی بہت زیادہ رزق دینے والا) بیان کی گئی ہے اور اللہ پاک کے نیک بندے کے وسیلے سے اچھے رزق کی دعا مانگی گئی ہے۔یعنی ایسا رزق جو حلال،پاکیزہ اور بابرکت ہو۔
اس شعر میں سلسلۂ عالیہ،قادریہ،رضویہ کے 18 ویں شیخِ طریقت یعنی حضرت عبد الرزاق قادری رحمۃ اللہ علیہ کے وسیلے سے حلال،پاکیزہ اور بابرکت رزق کی دعا کی گئی ہے۔ان کا مختصر تعارف پیشِ خدمت ہے:
شیخ تاج الدین عبد الرزاق:
آپ سلسلۂ قادریہ کے ایک ممتاز صوفی بزرگ ہیں۔آپ کی ولادت 18 ذو القعدہ 528 ھ بروز اتوار بغداد شریف میں ہوئی۔آپ کا نام عبدالرزاق کنیت ابو الفرح،عبدُ الرحمن اور لقب تاجُ الدین ہے۔آپ کے والدِ محترم حضور غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی تعلیم و تربیت فرمائی۔آپ کی سیرت،اخلاق اور علم و فضل حضور غوثِ پاک کی تعلیمات کا عکسِ جمیل ہے۔آپ کے والدِ محترم غوثِ پاک رحمۃ اللہ علیہ نےآپ کو خلافت سے نوازا۔آپ وقت کے مفتی اور امام بھی تھے،صبر و شکر،اخلاقِ حسنہ اور زہد و تقوی میں مشہور تھے۔دنیاوی جاہ و جلال سے آپ نے دوری اختیار کی ہوئی تھی۔آپ کم گو تھے اور ضرورت کے علاوہ گفتگو نہیں فرماتے تھے۔آپ کی شرم و حیا اور خوفِ خدا کا یہ عالم تھا کہ تین سال تک آسمان کی طرف نگاہ نہیں اٹھائی۔([1])
آپ کی ذاتِ بابرکات جامع الکمالات تھی۔آپ کی ذات سے بہت سے لوگوں کو فیض پہنچا آپ کی صحبت بابرکت سے فیض پا کر بہت سے لوگ عالم و فاضل،عارفِ کامل اور بڑے بڑے مراتب تک پہنچے۔آپ کی وفات چھ شوال 623 ھ میں ہوئی۔آپ کے جنازے کا جس وقت اعلان ہوا تو ہر طرف لوگوں کا ہجوم ہوگیا اور اتنی بڑی تعداد اکٹھی ہوگئی تھی کہ آپ کے جنازے کے لیے پورے شہر میں جگہ کم پڑگئی یہاں تک کہ سات مقامات پر باری باری نماز جنازہ کے بعد آپ کی تدفین کی گئی۔یہ جمعہ کا دن تھا۔مزارِ مبارک بغداد شریف میں ہے۔([2])
یہ شعر ایک جامع دعا بھی ہے اور وظیفہ بھی۔اسے یقینِ کامل کے ساتھ پڑھا جائے تو ان شاء اللہ الکریم رزق میں برکت اور کشادگی حاصل ہوگی۔رزق میں برکت کے لیے تقویٰ، پرہیزگاری اور اللہ پاک پر بھروسا بہت ضروری ہے۔اللہ پاک ان عظیم ہستیوں کے صدقے ہمیں حلال،آسان،بابرکت اور کشادہ رزق عطا فرمائے۔
اٰمین بجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* کراچی
[1] تذکرۂ مشائخِ قادریہ رضویہ،ص 259،258 ملتقطاً
[2] تذکرۂ مشائخِ قادریہ رaضویہ،ص 259 تا 261 ملتقطاً
Comments