حضرت شمویل علیہ السلام کے معجزات و عجائبات(آخری قسط)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:حضرت شمویل علیہ السلام کے معجزات و عجائبات  (آخری قسط)

حضرت شمویل علیہ السّلام کی خواہش پر طالوت کو بنی اسرائیل کا بادشاہ مقرر کیا گیا،جو حضرت بنیامین کی نسل سے تھے۔وہ ایک نیک،خوبصورت اور بلند قد والے تھے،یہاں تک کہ ان کے قد کی وجہ سے انہیں طالوت کہا جاتا تھا۔([1])وہ مالی طور پر کمزور تھے۔ان کے پیشے کے بارے میں مختلف اقوال ملتے ہیں، جیسے چمڑے کی دباغت،سواری کے جانور کرائے پر دینا اور پانی پلانا۔([2])بنی اسرائیل نے ان کی غربت اور خاندانی حیثیت کی وجہ سے انہیں بادشاہ ماننے سے انکار کیا،مگر حضرت شمویل علیہ السّلام نے فرمایا کہ”اللہ پاک نے انہیں منتخب فرمایا ہے اور بادشاہت اللہ پاک کی عطا ہے۔“اصل معیار علم اور جسمانی قوت ہے اور یہ صفات طالوت میں دوسروں سے زیادہ موجود ہیں، اس لیے وہی بادشاہت کے مستحق ہیں۔([3])

امام رازی کے مطابق علم اور قوت کو مال و مرتبے پر ترجیح دینے کی چند وجوہات ہیں:1علم اور طاقت حقیقی کمالات ہیں جبکہ مال و منصب ایسے نہیں۔2علم اور قدرت انسان کے ذاتی کمالات ہیں، جبکہ مال و منصب انسان کی ذات سے الگ ہیں۔ 3 بادشاہت کا اصل مقصد نظامِ حکومت چلانا،جنگی حکمت عملی سمجھنا  اور قوم کو دشمن کے شر سے محفوظ رکھنا ہے اور یہ سب صلاحیتیں علم اور قوت سے حاصل ہوتی ہیں،نہ کہ مال و منصب سے۔اس لیے حکمرانی کے لیے اصل معیار علم اور طاقت کو قرار دیا گیا ہے۔([4])

ایک اور مطالبہ!!!

بنی اسرائیل اپنی ضد سے اتنی آسانی سے باز آنے والے نہیں تھے،چنانچہ انہوں نے پھر ایک اور مطالبہ کر دیا کہ طالوت کے اللہ پاک کی طرف سے منتخب ہونے پر دلیل یا نشانی پیش کیجیے!حضرت شمویل نے فرمایا:اس کی نشانی یہ ہے کہ وہ صندوق جس میں تمہاری تسکین و طمانیت کا سامان ہے اور جس میں حضرت موسیٰ وہارون کے تبرکات تھے جو عمالقہ تم سے چھین کر لے گئے تھے،وہ تمہیں فرشتے واپس کر دیں گے۔اگر تم ایمان والے ہو تو اس سے بڑھ کر تمہیں کسی نشانی کی ضرورت نہیں۔([5]) چنانچہ تھوڑی ہی دیر کے بعد چار فرشتے صندوق لے کر آگئے اور صندوق کو حضرت شمویل علیہ السّلام کے پاس رکھ دیا۔یہ دیکھ کر تمام بنی اسرائیل نے طالوت کی بادشاہی کو تسلیم کرلیا اور آپ نے بادشاہ بن کر نہ صرف ملکی انتظام سنبھالا بلکہ بنی اسرائیل کی فوج بھرتی کر کے قومِ عمالقہ کے کفار سے جہاد بھی فرمایا۔([6])

تابوتِ سکینہ:

یہ تابوت اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السّلام  پر نازل فرمایا،جس میں تمام انبیا اور ان کے گھروں کی تصاویر تھیں۔ آخر میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  اور آپ کے گھر کی تصویر سرخ یاقوت میں تھی۔یہ صندوق نسل در نسل منتقل ہوتا ہوا حضرت موسیٰ علیہ السّلام  تک پہنچا،جو اس میں تورات کی تختیاں، عصا،لباس اور نعلین رکھتے تھے،جبکہ حضرت ہارون علیہ السّلام کا عصا و عمامہ اور منّ بھی اس میں شامل تھا۔اس کے ساتھ بنی اسرائیل کو جنگ میں سکون اور فتح نصیب ہوتی تھی۔جب وہ نافرمان ہوئے تو اللہ پاک نے دشمنِ قومِ عمالقہ کو ان پر مسلط کیا، جنہوں نے تابوت لے کر بے حرمتی کی،جس کے نتیجے میں وہ بیماریوں اور تباہی کا شکار ہوئے۔آخرکار انہوں نے تابوت چھوڑ دیا،جسے فرشتے واپس بنی اسرائیل تک لے آئے اور وہ طالوت کے پاس پہنچا۔تابوت کی واپسی کو بنی اسرائیل نے طالوت کی بادشاہی کی علامت سمجھ کر قبول کیا اور جہاد کے لیے تیار ہو گئے، جن میں حضرت داؤد علیہ السّلام  بھی شامل تھے۔([7])

اس واقعے سے عقیدہ و عمل کی بہت سی اہم باتیں معلوم ہوتی ہیں،جن میں سے چند پیشِ خدمت ہیں:* بزرگوں کے تبرکات اللہ پاک کی بارگاہ میں بڑی قدر و منزلت رکھتے ہیں اور ان کے ذریعے مخلوق کو رحمتیں،برکتیں اور روحانی سکون حاصل ہوتا ہے۔قرآنِ مجید میں مذکور حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السّلام  کے تبرکات والے صندوق سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پاک نے ان چیزوں کو باعثِ سکینہ و برکت بنایا۔لہٰذا جہاں اولیا و صالحین کے تبرکات ہوں وہاں رحمتِ الٰہی نازل ہوتی ہے اور اہلِ ایمان کو قلبی اطمینان اور روحانی فیوض حاصل ہوتے ہیں۔* بزرگوں کے تبرکات پر جب اللہ پاک کی رحمت اور سکینہ نازل ہونا قرآن سے ثابت ہے تو ان مقدس ہستیوں کی قبروں پر رحمت و برکت کا نزول بدرجۂ اولیٰ ثابت ہوگا۔لہٰذا جو مسلمان اولیائے کرام کی قبروں پر حاضر ہوتے ہیں،وہ بھی ان رحمتوں اور برکتوں سے فیض یاب ہوتے ہیں،جیسے بارش میں کھڑا شخص بھیگ جاتا ہے اور عطر کے پاس بیٹھنے والا خوشبو پا لیتا ہے۔اس حاضری کے سبب دلوں کو سکون،مصائب سے نجات اور دینی و دنیوی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔*بزرگوں کے تبرکات اور مقدس مقامات کی بے ادبی اللہ پاک کے غضب کا سبب بنتی ہے۔قرآن میں مذکور صندوقِ سکینہ کی اہانت کرنے والی قومِ عمالقہ مختلف آفات و مصائب میں مبتلا ہوئی،یہاں تک کہ انہوں نے خود مان لیا کہ یہ عذاب اس مقدس صندوق کی بے حرمتی کا نتیجہ ہے۔اسی خوف سے انہوں نے صندوق واپس کر دیا تاکہ اللہ پاک کے عذاب سے نجات حاصل ہو سکے۔*صندوقِ سکینہ کی برکت سے بنی اسرائیل کو فتح ملتی تھی تو اللہ والوں کی قبروں سے بھی برکتیں، رحمتیں اور مشکلات سے نجات حاصل ہونا ناممکن نہیں کہ بزرگوں کے تبرکات کے مقابلے میں خود ان مقدس ہستیوں کے اجسام زیادہ شرف و برکت رکھتے ہیں۔*اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ جب کوئی قوم اللہ پاک اور اس کے رسول کی نافرمانی میں مبتلا ہو جاتی ہے تو اس سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔بنی اسرائیل کی سرکشی اور گناہوں کے سبب ان سے صندوقِ سکینہ جیسی عظیم نعمت بھی چھین لی گئی۔([8])

پیاس کے ذریعے آزمائش:

جب بنی اسرائیل طالوت کی بادشاہت پر راضی اور جہاد کے لیے نکلنے پر آمادہ ہوئے تو طالوت نے حکم دیا کہ جو لوگ دنیاوی کاموں جیسے تعمیرات یا تجارت میں مشغول ہوں وہ میرے ساتھ نہ چلیں،کیونکہ لشکر کو مکمل توجہ اور تیاری کے ساتھ نکلنا چاہیے تاکہ دل دنیاوی مشاغل سے خالی رہیں۔ ([9])  وہ ایک بڑا لشکر لے کر بیت المقدس سے روانہ ہوئے۔راستے میں شدید گرمی اور پیاس نے لوگوں کو بے حال کر دیا،جو ان کے لیے آزمائش تھی۔حضرت شمویل علیہ السّلام  پر آنے والی وحی کے مطابق طالوت نے اعلان کیا کہ اللہ  پاک تمہیں ایک نہر کے ذریعے آزمائے گا،جو اس کا پانی پئے گا وہ میرا نہیں،اور جو نہ پئے گا وہ میرا ہے،البتہ! جو ایک چلو بھر لے تو مضائقہ نہیں۔ جب لشکر نہر پر پہنچا تو اکثر لوگ صبر نہ کر سکے اور خوب پانی پی لیا،مگر  313 افراد ثابت قدم رہے اور صرف ایک چلو پر اکتفا کیا۔اس صبر کی وجہ سے ان کے ایمان کو قوت ملی  اور اللہ پاک نے اس چلو پانی میں برکت ڈال دی جو ان کے لیے کافی ہو گیا۔ ([10]) امام رازی فرماتے ہیں:یہ اس وقت کے نبی(حضرت شمویل) کا معجزہ تھا،جس طرح اللہ پاک حضور کے زمانے میں تھوڑے پانی سے بہت مخلوق کو سیراب فرماتا رہا۔جبکہ جی بھر کر پینے والوں کے ہونٹ سیاہ ہوگئے،ان کی پیاس مزید بڑھ گئی اور ان کے دلوں میں بزدلی بیٹھ گئی۔([11])



[1] تفسیر کبیر،2/505،504ملتقطاً

[2] تفسیر کبیر،2/504 مفہوماً

[3] پ 2،البقرۃ:247 مفہوماً

[4] تفسیر کبیر،2/504 ملتقطاً

[5] پ 2،البقرۃ:248مفہوماً

[6] عجائب القرآن مع غرائب القرآن،ص 60

[7] سیرت الانبیاء،ص 664،665 ملخصاً

[8] عجائب القرآن مع غرائب القرآن،ص 56،55 ملخصاً

[9] تذکرۃ الانبیاء،ص 437 ملخصاً

[10] تفسیر کبیر،2/511

[11] تفسیر کبیر،2/511


Share