عُلومِ قرآن
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:عُلومِ قرآن

قرآنِ مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔اللہ پاک نے اسے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  پر نازل فرمایا،جن کے ذریعے نبوت کا سلسلہ مکمل ہوا اور ایسا کامل دین عطا فرمایا جو تمام ادیان کے لیے خاتمہ و تکمیل ہے۔قرآنِ کریم خالقِ کائنات کا وہ ابدی دستور ہے جو انسانیت کی ہدایت اور دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے نازل کیا گیا۔یہی دینِ محمدی اور شریعتِ اسلامی کی بنیاد،دلیل اور سرچشمہ ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ پاک کی ذات و صفات کے روشن دلائل، انبیا علیہمُ السّلام  کے واقعات اور حضور کی نبوت و رسالت اور عظمتوں کا بیان ہے۔اسی میں عبادات،معاملات، حلال و حرام، اخلاق و آداب اور انسانی زندگی کے تمام ضروری احکام ذکر کیے گئے ہیں۔عرش و فرش،جنت و دوزخ اور انسان کی ہدایت کے لیے ضروری تمام امور کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا گیا ہے۔چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ(پ14،النحل:89)

ترجمہ:اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

قرآنِ مجید چونکہ معارف و حقائق کا بے کنار سمندر ہے، اس لیے علمائے اُمت نے اس کے مختلف علوم اور پہلوؤں پر جداگانہ تحقیق فرمائی۔انہوں نے تفسیر،اصولِ تفسیر،علومِ قرآن اور دیگر فنون میں بے شمار کتابیں تصنیف کیں،اصول مرتب کیے اور علمی ذخیرہ امت کے لیے محفوظ کر دیا۔انہی اکابرین کی شب و روز محنتوں کے نتیجے میں آج اسلامی کتب خانے عظیم علمی و تحقیقی سرمائے سے مالا مال ہیں۔

چند دہائیاں پہلے تک عام مسلمان قرآنِ کریم کی تلاوت زیادہ تر ثواب کی نیت سے کرتے تھے اور اپنی طرف سے ترجمہ یا تفسیر بیان کرنے سے خوف محسوس کرتے تھے۔وہ جانتے تھے کہ قرآنِ کریم گہرے سمندر کی طرح ہے اور اس کی گہرائی میں وہی اتر سکتا ہے جو علم وفن میں کامل مہارت رکھتا ہو۔جیسے بغیر تیراکی جانے دریا میں کودنا جان کو خطرے میں ڈالنا ہے،اسی طرح علومِ دینیہ سے ناواقف ہو کر قرآنِ کریم کی تفسیر و ترجمانی کرنا ایمان کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

اسی لیے مفسرینِ کرام قرآنِ کریم کی تفسیر سے پہلے کئی علوم وفنون میں مہارت حاصل کرتے تھے۔مثلاً:صرف،نحو، معانی،بیان،بدیع،لغت،ادب،منطق،فقہ،اصولِ فقہ،حدیث، اصولِ حدیث،تفسیر،اصولِ تفسیر،کلام،تاریخ،جغرافیہ، حساب، فلسفہ اور تصوف وغیرہ۔یہ حضرات اپنی زندگیاں ان علوم کے حصول میں صرف کرتے،پھر نہایت احتیاط کے ساتھ قرآنِ کریم کی تفسیر کی طرف متوجہ ہوتے۔

اس کے باوجود ان کے دلوں میں کلامِ الٰہی کا ایسا ادب ہوتا کہ آیاتِ متشابہات میں بے جا گفتگو سے بچتے۔آیاتِ محکمات کی تفسیر کرتے وقت بھی مفسرین،محدثین اور فقہا کے اقوال کو سامنے رکھتے اور اپنی تمام تر علمی صلاحیتیں صرف کرنے کے بعد بھی اپنے آپ کو قرآنِ کریم کے سامنے ایک طالبِ علم ہی سمجھتے تھے۔

مگر افسوس!آج ایک ایسا طبقہ بھی پیدا ہو چکا ہے جو علومِ قرآن سے ناواقف ہونے کے باوجود صرف لغت کی چند معلومات کی بنیاد پر قرآنِ کریم کا ترجمہ اور مفہوم بیان کرنے لگتا ہے،حالانکہ قرآنِ حکیم کو سمجھنے کے لیے گہرے علم، تقویٰ اور اکابرِ امت کی راہ نمائی کی سخت ضرورت ہے۔

مضامینِ قرآنِ کریم کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے کئی بنیادی علوم کی ضرورت پیش آتی ہے۔ذیل میں چند اہم علوم اور ان کی ضرورت کا مختصر تعارف ذکر کیا جاتا ہے:

بنیادی طور پر قرآنِ مجید کی آیات تین اقسام پر مشتمل ہیں:

پہلی قسم ان آیات کی ہے جن کے حقیقی معانی اور مراد تک عقل وشعور کی رسائی ممکن نہیں ہوتی،انہیں متشابہات  کہا جاتا ہے۔ان میں بعض ایسی آیات بھی ہیں جن کے ظاہری معنی ہی واضح نہیں ہوتے،جیسے حروفِ مقطعات:الٓمٓ،حٰمٓ،الٓمّٓرٰ وغیرہ۔

دوسری قسم ان آیات کی ہے جن کے الفاظ کے معنی تو معلوم ہوتے ہیں لیکن ان کی حقیقی مراد سمجھنے کے لیے گہری علمی بصیرت درکار ہوتی ہے،کیونکہ ظاہری معنی مراد نہیں ہوتے۔مثال کے طور پر فرمانِ الٰہی  ہے:

یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْۚ- (پ26،الفتح:10)

ترجمہ:ان کے ہاتھوں پر  اللہ  کا ہاتھ ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ایسی آیات میں اگر علم اور احتیاط سے کام نہ لیا جائے تو انسان غلط فہمی کا شکار ہو سکتا ہے۔

تیسری قسم ان آیات کی ہے جن کی مراد واضح ہوتی ہے، انہیں محکمات کہا جاتا ہے۔اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌؕ- (پ3،ال عمرٰن:7)

ترجمہ:وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

محکمات میں بھی بعض آیات ایسی ہیں جن کا مفہوم بالکل واضح ہوتا ہے،جیسے

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) (پ30،الاخلاص:1)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ترجمہ:تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے۔

ایسی آیات کو نصوصِ قطعیہ کہا جاتا ہے۔البتہ!بعض محکم آیات ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی صحیح مراد تک پہنچنے کے لیے تفسیر کی ضرورت پڑتی ہے  اور صرف لفظی ترجمہ پر اعتماد بعض اوقات گمراہی اور ہلاکت کا سبب بن سکتا ہے۔([1])

انہی ضروری علوم میں ایک اہم علم ناسخ ومنسوخ بھی ہے۔ نسخ سے مراد یہ ہے کہ شرعی حکم کے تعلق کو بعد میں آنے والی دلیلِ شرعی سے ختم کر دیا جائے۔([2]) اس علم کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ علمائے کرام فرماتے ہیں:جو شخص ناسخ و منسوخ کی معرفت نہ رکھتا ہو،اس کے لیے قرآنِ کریم کی تفسیر کرنا جائز نہیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے پوچھا جو لوگوں کے سامنے قرآن کے واقعات بیان کرتا تھا:کیا تم ناسخ ومنسوخ کو جانتے ہو؟اس نے عرض کی:نہیں۔ تو آپ نے فرمایا:تم خود بھی ہلاک ہوئے اور دوسروں کو بھی ہلاک کیا۔([3])

قرآنِ کریم میں نسخ کی تین قسمیں بیان کی جاتی ہیں:

*وہ جس کی تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہو گئے۔

*وہ جس کا حکم منسوخ ہو گیا لیکن تلاوت باقی رہی۔

*وہ جس کی تلاوت منسوخ ہوئی مگر حکم باقی رہا۔([4])

علمائے کرام نے اس کی حکمت بھی بیان فرمائی ہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت صرف احکام پر عمل کے لیے نہیں بلکہ حصولِ ثواب کے لیے بھی کی جاتی ہے۔اسی وجہ سے بعض مقامات پر حکم منسوخ ہونے کے باوجود تلاوت باقی رکھی گئی، تاکہ بندوں کو اللہ پاک کی نعمت اور اس آسانی کی یاد دہانی ہوتی رہے جو اس نے اپنے فضل سے عطا فرمائی۔([5])

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* لاہور




[1]  علم القرآن،ص7 تا 27 ماخوذاً

[2] قرآن میں ناسخ و منسوخ،ص15

[3] الاتقان فی علوم القرآن،2/ 700

[4] الاتقان فی علوم القرآن،2/705 تا 717ماخوذاً

[5]  الاتقان فی علوم القرآن،2/ 713


Share