موضوع:لذتِ عبادت
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ فرماتےہیں:میں نے اپنی والدۂ ماجدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ آپ(بسا اوقات) گھر کی مسجد کے محراب میں رات بھر نماز میں مشغول رہتیں یہاں تک کہ صبح طلوع ہو جاتی۔([1])
سبحان اللہ!خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کے ذوقِ عبادت کی بھی کیا ہی شان ہے!اللہ پاک کی عبادت میں واقعی بہت لذت ہے کہ جسے یہ لذت حاصل ہو جائے اس کے لئے پوری رات اللہ پاک کی عبادت میں گزارنا دشوار نہیں رہتا۔چنانچہ عبادت میں لذت کیسے ملے؟اس کے چند طریقے پیشِ خدمت ہیں:
*نیت خالص رکھیے۔عبادت سے مقصود اللہ پاک کی رضا ہو، نیت صاف منزل آسان*گناہوں سے پرہیز کیجئے بلکہ گناہ کا ارادہ کرنے سے بھی باز رہیے۔*توبہ و استغفار کی عادت اپنائیے۔*اپنے نفس کو عبادت کا عادی بنائیے۔شروع میں اگر عبادت میں دل نہ لگے تب بھی نیکیاں کرنا مت چھوڑئیے۔ آہستہ آہستہ لذتِ عبادت نصیب ہو جائے گی۔*دنیا و آخرت کے اعتبار سے عبادت کے جو فوائد و ثمرات ہیں،ان کی معلومات حاصل کیجئے۔*بری صحبت کو چھوڑ کر اچھی صحبت اختیار کیجئے، اچھی صحبت نہ ملے تو گوشہ نشین ہو جائیے تاکہ دل ہمیشہ اللہ پاک کے ساتھ لگا رہے۔*معرفتِ الٰہی حاصل کیجئے۔اللہ پاک کی ذات و صفات،عظمت و شان سے متعلق آیات و احادیث کا مطالعہ کیجئے،اس موضوع پر علمائے اہلِ سنت کے بیانات سنیے۔ *دل کی سختی لذتِ عبادت کی راہ میں رکاوٹ ہے،اسے دور کیجئے۔ذِکْرُ اللہ کے بغیر کلام کی کثرت([2])،فحش گفتگو کرنے ([3])، زیادہ ہنسنے([4])،کثرتِ طعام([5])اور کثرتِ گناہ([6]) سے دل سخت ہوتا ہے جبکہ موت کو کثرت سے یاد کرنے اور تلاوتِ قرآن سے دل کا زنگ دور ہوتا ہے۔([7])* بھوک سے کم کھائیے۔امام محمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:بھوکا رہنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ دل میں نرمی پیدا ہوتی اور صفائی حاصل ہوتی ہے اور ان دوباتوں کے سبب دل میں مناجات کی لذت پانے اور ذکر کا اثر قبول کرنے کی صلا حیت پیدا ہوتی ہے۔([8]) البتہ!سیر ہو کر کھانا اس لئے کہ نوافل کثرت سے پڑھ سکے گا اور پڑھنے پڑھانے میں کمزوری پیدا نہ ہو گی تو حرج نہیں۔([9]) لیکن کھانے پینے کی غیر صحت بخش روٹین سے بہرحال بچیے۔*دل کو دنیا کی محبت سے خالی کر کے فکرِ آخرت اپنائیے۔*بلا وجہ کی ٹینشن پالنے اور فضولیات میں خود کو تھکانے سے بچیے،ذہنی و جسمانی طور پر اپنے آپ کو فریش رکھئے تاکہ عبادت میں دل لگے۔* غفلت،سستی اور آرام پسندی کی عادت سے پیچھا چھڑائیے۔* شیطانی وسوسوں کی رکاوٹ سے بچنے کے لئے اَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم،سورۂ فلق و سورۂ ناس پڑھئے۔*رب کی بارگاہ میں دعا کیجئے۔حدیثِ مبارک میں مذکور یہ دعا مانگئے:اَللّٰہُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَ شُکْرِکَ وَ حُسْنِ عِبَادَتِکَ۔([10])
اللہ پاک ہمیں زیادہ سے زیادہ اپنی عبادت کی توفیق عطا فرمائے اور لذتِ عبادت بھی نصیب فرمائے۔
اٰمین بجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ملیر کراچی
[1] مدارج النبوت،2/461
[2] ترمذی،4/184 حدیث:2419 ماخوذاً
[3] ترمذی،3/406 حدیث:2016 ماخوذاً
[4] ابنِ ماجہ،4/465 حدیث:4193 ماخوذاً
[5] حلیۃ الاولیاء،8/392،رقم:12637 ماخوذاً
[6] ابنِ ماجہ،4/88،حدیث:4244ماخوذاً
[7] شعب الایمان،2/353،حدیث:2014ملخصاً
[8] احیاء علوم الدین،3/105
[9] بہار شریعت،3/ 374،حصہ:16
[10] ابو داود،2/123،حدیث:1522

Comments