موضوع:ترجیحات کا تعین
صحابیات و صالحات کے اعلیٰ اوصاف جلد اول، صفحہ 54 پر ہے کہ حضرت اُمِّ سُلیم رضی اللہ عنہا جب اپنی قوم سمیت اسلام کی دولت سے مالا مال ہوئیں تو آپ نے اپنے شوہر مالِک بن نضر کو بھی اسلام کی دعوت پیش کی۔یہ اَبَدِی سَعَادَت چونکہ اس کے نصیب میں نہ تھی، لہٰذا وہ اپنے کفر پر ڈٹا رہا بلکہ ناراض ہو گیا اور پھر ملکِ شام جا کر ہلاک ہو گیا۔([1])جب اس کی ہلاکت کی خبر حضرت اُمِّ سُلیم رضی اللہ عنہا کو ملی تو اس وقت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بہت چھوٹے تھے۔چنانچہ آپ نے ارادہ کیا کہ کچھ عرصے تک نکاح نہ کریں گی۔([2])جب اس ارادے کو کچھ عرصہ گزر گیا تو ابو طلحہ نے ان سے نکاح کی خواہش کا اظہار کیا، چونکہ وہ ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے، اس لیے آپ نے فرمایا:میرے لئے یہ مناسب نہیں کہ میں ایک مشرک سے نکاح کروں۔پھر فرمانے لگیں:اے ابو طلحہ!کیا تم نہیں جانتے کہ جن خداؤں کی تم عبادت کرتے ہو انہیں تو بنی فلاں کے ایک بڑھئی(Carpenter)غلام نے تراشا ہے، اگر انہیں آگ میں رکھو گے تو وہ انہیں جلا دے گی۔یہ سن کر اس وقت تو وہ چلے گئے مگر یہ بات ان کے دل میں گھر کر گئی۔ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا:اے ابو طلحہ!کیا تم نہیں جانتے کہ جس خدا کی تم عبادت کرتے ہو وہ تو زمین سے اُگنے والا ایک درخت ہے، جسے فلاں قبیلے کے ایک حبشی نے تراشا ہے؟انہوں نے اقرار کیا تو فرمانے لگیں:اس کے باوجود تمہیں شرم نہیں آتی کہ زمین سے اگنے والی ایک لکڑی کو سجدہ کرتے ہو جسے فلاں قبیلے کے حبشی نے تیار کیا ہے!تو کیا اب گواہی دیتے ہو کہ اللہ پاک کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اللہ پاک کے رسول ہیں؟ اگر یہ گواہی دیتے ہو تو میں شادی کو تیار ہوں اور تمہارے قبولِ اسلام کے علاوہ کوئی اور مہر کا ارادہ بھی نہیں رکھتی۔اس پر ابو طلحہ نے سوچنے کے لئے کچھ وقت مانگا اور چل دئیے، جب کچھ غور و فکر کے بعد واپس آئے تو کلمۂ شہادت پڑھتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔پھر حضرت اُمِّ سُلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کا نکاح پڑھوا دیں۔([3])
واضح رہے!جو چیز مالِ مُتَقَوِّم(وہ مال جو جمع کیا جا سکتا ہو اور شرعاً اس سے فائدہ حال کرنا جائز ہو([4]))نہیں وہ مہرنہیں ہو سکتی۔([5]) اور شریعت میں مہر کی کم سے کم تعداد مقرر ہے کہ دس درم سے کم نہ ہو۔([6])چاندی میں اس کا وزن دو تولے ساڑھے سات ماشے ہے، اس کی جو قیمت بنتی ہو وہ مہر کی کم از کم مقدار ہے، زیادہ کی کوئی حد نہیں باہمی رضا مندی سے جتنا چاہے مقرر کیا جاسکتا ہے لیکن یہ خیال رکھیں کہ مہر اتنا مقرر کریں جتنا دے سکتے ہوں۔([7]) لہٰذا مذکورہ واقعے میں جو حضرت بی بی اُمِّ سُلَیم رضی اللہ عنہا نے مہر، اسلام لانے کو قرار دیا تھا تو اس کی شرح میں علمائے کرام نے فرمایا ہے کہ یا تو حضرت بی بی اُمِّ سُلَیم رضی اللہ عنہا نے مہر معاف کر دیا تھا، یا یہ مطلب ہے کہ مہرِ مُعَجَّل یعنی نکاح کا چڑھاوا کچھ نہ لیا تھا۔([8])
اس واقعے میں ہمارے سیکھنے کی کئی باتیں ہیں۔غور کیجئے! آج کے اس ترقّی یافتہ دور میں بھی اگر کوئی خاتون خدانخواستہ بیوہ ہو جائے تو اسے ایک مضبوط سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر کہیں سے یہ سہارا مل جائے تو اسے اپنانے میں دیر کی جاتی ہے نہ کرنی چاہئے جبکہ وہ دور تو ابھی جہالت کے اندھیروں سے نکل رہا تھا،وہاں بیوہ کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہوگا!ایسے ماحول میں جب حضرت بی بی اُمِّ سُلَیم رضی اللہ عنہا کو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی صورت میں ایک مضبوط سہارا مل رہا تھا، جو مالدار، عزت و حشمت کے مالک اور اپنے دور کے عزت دار لوگوں میں شامل تھے۔جب انہوں نے پیغامِ نکاح بھیجا تو بی بی اُمِّ سُلَیم رضی اللہ عنہا نے خوش ہونے اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے مال و دولت کی طرف توجہ دینے کی بجائے دین اور اسلام کو ترجیح دی، کیونکہ اسلام ہی اللہ پاک کا پسندیدہ دین ہے، اسلام قبول کرنے کے بعد بندہ کفر و شرک کی گندگی سے پاک و صاف ہو جاتا ہے، اسلام کے ہم پر بے شمار احسانات ہیں بالخصوص ظلم و ستم کی چکی میں پسی ہوئی خواتین پر اسلام نے جو احسانات فرمائے ہیں کسی اور مذہب میں اس کی مثال ملنی مشکل ہے، لہٰذا ان کی زندگی میں سب سے پہلی ترجیح دینِ اسلام کو حاصل تھی،اسی وجہ سے انہوں نے وقتی و دنیاوی مفادات کے حصول کو ٹھکرا دیا اور اپنے موقف پر ثابت قدم رہیں۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک اچھی اور کامیاب زندگی گزارنے کے لئے ترجیحات کا متعین ہونا نہایت اہم ہے۔جب ہم یہ طے کر لیتی ہیں کہ ہمیں کس چیز کو ترجیح دینی ہے تو زندگی الجھنوں سے پاک ہو جاتی ہے اور فیصلے کرنا بھی آسان ہو جاتے ہیں۔ بحیثیتِ مسلمان ہماری اولین ترجیح یقیناً دین اسلام اور اس کے احکام ہونے چاہئیں۔چنانچہ ہر کام شروع کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیا کریں کہ کیا اسلام میں اس کی اجازت ہے؟ اگر معلوم نہ ہو تو مفتیانِ کرام سے پوچھ لیجئے اور ان کاموں سے بالکل پرہیز کیجئے جو شریعت کے خلاف ہوں۔
اسی طرح لوگوں کی وجہ سے احکامِ الٰہی کو پامال کرنے کے بجائے گناہوں سے بچنے کو ترجیح دیجئے اور اس کے سبب ہونے والے وقتی نقصان کو آخرت کی کامیابی پر ترجیح دیجئے کیونکہ آخرت ہمیشہ باقی رہے گی جبکہ دنیا جلد ختم ہو جائے گی۔اسی طرح فرائض و واجبات کی ادائیگی کو دیگر کاموں پر ترجیح دیجئے، نماز کا وقت ہو جائے تو دیگر کاموں کو بھلے روک دیا جائے مگر کسی حال میں بھی نماز قضا نہ ہونے پائے۔
اسی طرح مختلف کاموں کو بہترین انداز میں کرنے کے لئے بھی ترجیحات کا تعین بے حد ضروری ہے ورنہ بے فائدہ کاموں میں وقت ضائع ہو جاتا ہے اور اہم کام رہ جاتے ہیں یا پھر وقت پر مکمل نہیں ہو پاتے۔لہٰذا اپنے کاموں کو اس طرح تقسیم کیجئے کہ وہ کام جو فوری کرنے کے ہوں اور اہم بھی ہوں، انہیں ترجیح دیجئے، اس کے بعد ان کاموں کو رکھئے جو اہم تو ہوں لیکن فوراً کرنا ضروری نہ ہوں بلکہ کسی بھی فارغ وقت میں کیے جا سکتے ہوں۔
یوں ہی اپنی ترجیحات میں عبادت، گناہوں سے بچنے، فرض علوم حاصل کرنے،والدین اور شوہر کے حقوق ادا کرنے، بچوں کی تربیت کرنے، رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنے،امورِ خانہ داری،تعلیم،صحت،پیسے کمانے،خرچ کرنے،دینی اجتماعات میں شرکت کرنے وغیرہ تمام چیزوں کو اس طرح بیلنس رکھئے کہ ہر چیز کا حق ادا کر سکیں۔مزید یہ بھی توجہ رکھیے کہ کسی کم اہم چیز میں ایسی مصروف نہ ہو جائیں کہ دیگر ضروری امور کے لئے وقت ہی نہ رہے۔لہٰذا اس اعتبار سے بھی اپنی ترجیحات متعین کیجئے کہ کون سی چیز کو آپ نے کس حد تک رکھنا ہے۔ اللہ پاک ہمیں شریعت کے مطابق اپنی ترجیحات متعین کرنے اور انہی کے مطابق زندگی گزارنے کی سعادت نصیب فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ملیر کراچی
[1] استیعاب، 4/494
[2] طبقات ابن سعد، 8/313،312
[3] طبقات ابن سعد، 8/313، 314
[4] رد المحتار،7/8
[5] بہار ِشریعت،3/65،حصہ:7
[6] فتاویٰ رضویہ، 12/167
[7] تفسیر صراط الجنان، 2/175
[8] مراۃ المناجیح، 5 /71
Comments