موضوع:حساب کتاب(قسط1)
دنیا میں جو بھی اچھا بُرا عمل کیا جائے گا آخرت میں اس کے متعلق ضرور پوچھ گچھ ہو گی، کیونکہ بروزِ قیامت حساب و کتاب کا معاملہ حق ہے۔([1])بندوں کے اعمال کا حساب ہو گا۔ہر شخص کو اس کا نامۂ اعمال دیا جائے گا جو فرشتوں نے لکھا تھا۔([2]) جو اس کا انکار کرے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔([3])
حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حساب کے معنی گنتی و شمار کے ہیں اس سے مراد مکلف جنّ و انس کے اعمال کی گنتی ہے جو قیامت میں سزا و جزا کے لئے بندے کے سامنے کی جائے گی۔([4])
یونہی نامۂ اعمال سے مراد وہ کتاب ہے جس میں بندوں کی نیکیاں اور بُرائیاں درج ہیں۔یہ مومنین کو سیدھے اور کفار کو الٹے ہاتھ میں پیٹھ کے پیچھے سے دی جائے گی۔([5])اسے لکھنے کی ذمَّہ داری دو فرشتوں کی ہے جنہیں کراماً کاتبین کہا جاتا ہے۔یہ ہر شخص کے ساتھ ہوتے ہیں،جیسا کہ ایک روایت میں ہے: بندے کی سیدھی جانب نیکیاں اور الٹی جانب بُرائیاں لکھنے والا فرشتہ موجود ہے۔نیکیاں لکھنے والا بُرائیاں لکھنے والے فرشتے کا نگران ہے۔جب بندہ کوئی نیکی کرتا ہے تو سیدھی جانب والا اسے 10 گنا بڑھا کر لکھ دیتا ہے لیکن جب کوئی بُرائی کرتا ہے تو نگران فرشتہ دوسرے کو کہتا ہے:اس بندے کو سات ساعتوں تک مہلت دے دو، ہو سکتا ہے یہ اللہ پاک کی تسبیح یا استغفار کر لے۔([6])
ساعت وقت کے ایک مخصوص حصّے کا نام ہے، البتہ اور معنی بھی مراد ہو سکتے ہیں، مثلاً 24 گھنٹوں میں سے کوئی ایک حصہ ،مجازاً وقت کا غیر معیّن حصّہ یا موجودہ وقت۔([7])جبکہ فقہا کے عرف میں ساعت سے مراد وقت کا ایک حصّہ ہوتا ہے نہ کہ 24 گھنٹوں میں سے کوئی ایک گھنٹہ۔([8])
قرآن میں حِساب و کِتاب کا بیان:
اللہ پاک کا فرمان ہے:
فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ(۷) فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ(۸) وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ(۹) وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ(۱۰) فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ(۱۱) وَّ یَصْلٰى سَعِیْرًاؕ(۱۲) اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ(۱۳)
(پ30، الانشقاق:7 تا 13)
ترجمہ:تو بہرحال جسے اس کا نامَۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے گھر والوں کی طرف خوشی خوشی پلٹے گا اور رہا وہ جسے اس کا نامَۂ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا تو وہ عنقریب موت مانگے گا اور وہ بھڑکتی آگ میں داخل ہو گا بیشک وہ اپنے گھر والوں میں خوش تھا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صِدِّیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس سے قیامت کے دن حساب لیا جائے گا وہ ہلاک ہو جائے گا۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!کیا اللہ پاک نے یہ ارشاد نہیں فرمایا:
فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ(۷) فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ(۸) (پ30،الانشقاق:8،7)
ترجمہ:تو بہرحال جسے اس کا نامَۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:یہ تو صرف پیشی ہو گی لیکن جس سے حساب میں جرح کر لی گئی وہ عذاب دیا جائے گا۔([9])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
حساب میں جرح اور آسانی سے مراد:
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے فرمانِ عالی میں حساب سے مراد تحقیق و جرح والا حساب ہے جس میں ہر عمل کی پوچھ گچھ ہو، کوئی گناہ نظر انداز نہ کیا جائے، پھر وجہِ گناہ بھی پوچھی جائے۔گناہ کیوں کئے؟جس سے کیوں پوچھ لیا سمجھو وہ گیا اور قرآنِ مجید میں حساب سے مراد صرف پیشی کا حساب ہے جس میں بعض موٹے موٹے گناہ پیش ہوں اور اکثر نظر انداز کر دئیے جائیں، ان پیش فرمودہ اعمال کو دکھا کر اقرار کرا کر معاف کر دیا جائے۔([10])
یاد رکھئے!یہ آسان حساب ہے جس کی وضاحت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں آپ فرماتی ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا:اے اللہ!مجھ سے حساب میں آسانی فرمانا۔میں نے عرض کی:یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!حساب میں آسانی کیا ہے؟ارشاد فرمایا:جس کے نامۂ اعمال کو دیکھ کر اس سے درگزر فرما لیا جائے۔([11])
حساب کتاب کی نوعیت:
ہر شخص سے اس کی نوعیت اور حالت کے مطابق حساب لیا جائے گا۔مثلاً
*کسی سے پوشیدہ طور پر پوچھا جائے گا کہ تو نے یہ یہ کام کئے؟وہ عرض کرے گا:ہاں میرے مالک!میں نے یہ سب کچھ کیا،یہاں تک کہ تمام گناہوں کا اقرار کر لے گا،مگر وہ کریم رب کرم کرتے ہوئے فرمائے گا:ہم نے دنیا میں بھی تیرے عیب چھپائے اور اب بھی تجھے معاف کرتے ہیں۔([12])
*کسی سے سختی کے ساتھ ہر بات کی پوچھ گچھ ہو گی،جس سے یوں سوال ہو گا وہ ہلاک ہو جائے گا۔([13])
*کسی کو نعمتیں یاد دلا کر پوچھا جائے گا کہ تیرا کیا خیال تھا کہ ہم سے نہیں ملنا؟وہ عرض کرے گا:نہیں۔اللہ پاک فرمائے گا:تو جیسے تُو نے ہمیں یاد نہ کیا ہم بھی تجھے عذاب میں چھوڑتے ہیں۔کوئی ایسا بھی ہو گا کہ جب اسے نعمتیں یاد دلا کر فرمائے گا تو وہ بولے گا کہ میں تجھ پر،تیری کتاب اور تیرے رسول پر ایمان لایا،میں نے نماز پڑھی، روزہ رکھا،صدقہ کیا اور اپنی طاقت کے مطابق نیک کام کیے۔ارشاد فرمائے گا:ہم تجھ پر گواہ بھیجیں گے۔وہ اپنے دل میں سوچے گا کہ مجھ پر کون گواہی دے گا!اس وقت اس کے منہ پر مہر کر دی جائے گی اور اس کے اعضا کو حکم ہو گا کہ بولو!تب اس کی ران،گوشت اور ہڈیاں اس کے اعمال بیان کریں گی۔([14])
*کسی پر اس کے اعمال پیش کئے جائیں گے تاکہ وہ اپنے اچھے اور بُرے اعمال کو پہچان لے، پھر اچھے کاموں پر ثواب دیا جائے گا اور بُرے کاموں سے درگزر فرمایا جائے گا یعنی نہ بات بات پر گرفت ہو گی، نہ یہ کہا جائے گا کہ ایسا کیوں کیا؟نہ عذر پوچھا جائے گا اور نہ اس پر حجّت (دلیل) قائم کی جائے گی۔
*اس امّت میں وہ شخص بھی ہو گا جس کے 99 دفتر گناہوں کے ہوں گے، اس سے پوچھا جائے گا کہ تیرے پاس کوئی عذر ہے۔وہ عرض کرے گا:نہیں۔پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ لکھا ہو گا،حکم ہو گا کہ جا اور اس کا وزن کر! وہ عرض کرے گا:یہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتا ہے؟فرمایا جائے گا:تجھ پر ظلم نہ ہو گا، پھر ایک پلڑے پر گناہوں کے سارے دفتر رکھے جائیں گے اور ایک میں وہ پرچہ۔پس وہ پرچہ ان تمام دفتروں سے بھاری ہو جائے گا۔([15])
*بہت سے تو ایسے ہوں گے جو اللہ پاک کی رحمت اور حضور نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شفاعت کی بدولت بلا حساب جنّت میں داخل ہوں گے۔([16])
(جاری ہے۔۔۔)
[1]شرح عقائدِ نسفیہ،ص246
[2] کتاب العقائد،ص36،35
[3] الشفا،2/290
[4] مراٰۃ المناجیح،7/382
[5] شرح عقائدِ نسفیہ، ص246
[6] تفسیر بغوی،4/201
[7] شرح سنن ابی داود للعینی، 4/ 363، تحت الحدیث:1017
[8] در مختار،3/ 499
[9] بخاری،4/257،حدیث:6537
[10] مراٰۃ المناجیح،7/382تا383
[11] مستدرك، 5/355،حدیث:7711
[12] بخاری،4/118،حدیث:6070
[13] بخاری، 3/ 375، حدیث:4939
[14] مسلم،ص 1246،حدیث:7438
[15] ترمذی،4/291،290، حدیث:2648ملتقطاً
[16] ہمارا اسلام،ص 270
Comments