موضوع:غلطی نہ ماننا
(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ مضمون 30ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کیا جا رہا ہے۔)
غلطی نہ ماننا
زوجۂ افضال نصیر (FB ایریا کراچی )
غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے، کیونکہ انسان خطا کا پتلا ہے، لیکن اس غلطی پر ڈٹ جانا یا اپنی غلطی ماننے سے انکار کر دینا شیطانی صفت ہے، کیونکہ شیطان نے اپنی غلطی تسلیم نہیں کی، جب اسے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا اور اس نے انکار کیا تو اللہ پاک کے حکم کے باوجود وہ اپنی اس غلطی پر قائم رہا،اپنی غلطی ماننے اور اللہ پاک سے معافی مانگنے کے بجائے غرور اور تکبر میں مبتلا ہو کر مردود قرار پایا۔ جبکہ اس کے برعکس حضرت آدم علیہ السلام کو ایک اجتہادی خطا (جو کہ گناہ نہیں ہوتی) کے سبب جنت سے زمین کی طرف بھیج دیا گیا تو انہوں نے اپنی خطا کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ پاک سے معافی طلب کی اور رو رو کر عرض کرتے رہے:
رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَاٚ- وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(۲۳) (پ 8، الاعراف:23)
ترجمہ:اے ہمارے رب!ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اور اگر تو نے ہماری مغفرت نہ فرمائی اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ضرور ہم نقصان والوں میں سے ہوجائیں گے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
حضرت آدم علیہ السلام کا خطا کے بعد اس پر غمگین ہونا اور معافی طلب کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اپنی غلطیوں پر شرمندہ ہونا ربِّ کریم کے پسندیدہ بندوں کا طریقہ ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت آدم علیہ السلام اپنی خطا پر شرمندہ ہو کر کامیاب ہوئے ،نیز اللہ کریم نے نہ صرف ان کی توبہ قبول فرمائی بلکہ انہیں تاجِ خلافت سے نوازا، جبکہ شیطان کی ہٹ دھرمی کی بنا پر اس کے گلے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لعنت و ذلت کا طوق ڈال دیا گیا۔
یاد رکھیے!اپنی غلطی تسلیم کرنا اپنے آپ کو انسان ماننا اور منوانا ہے اور غلطی پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنا شیطانی کام ہے۔لہٰذا اگر ہمیں اس بات کا احساس ہو جاتا ہے کہ ہم سے یہ غلطی ہو گئی ہے تو ہمیں ابلیس کی طرح اپنی غلطی پر ڈٹ جانے کے بجائے شرمندہ ہونا اور اسے تسلیم کر لینا چاہیے،نیز اس سے معافی مانگنی چاہیے جس کا ہم کسی بھی طرح کے نقصان کا سبب بنی ہوں چاہے وہ دل دکھانا ہو یا کوئی اور نقصان۔
ہمیں اپنی غلطی کو صحیح کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے کہ اگر ہم اپنی غلطی کو صحیح سمجھ کر اس پر ڈٹی رہیں گی تو کبھی بھی دنیا اور دین میں اپنے صحیح مقام پر نہیں پہنچ سکیں گی بلکہ ہماری چھوٹی چھوٹی غلطیاں جنہیں ہم نظر انداز کرتی ہیں کسی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے لیکن جسے اس غلطی کا احساس ہو اور وہ اس پر شرمندہ ہو تو اس کی یہ شرمندگی اسے معتبر بنا دیتی ہے۔
غلطی نہ ماننے کے اسباب:
اپنی غلطی پر ڈٹ جانے اور اسے نہ ماننے کے چند اسباب ملاحظہ فرمائیے:
انا و خود غرضی:
یہ دونوں باتیں غلطی ماننے اور معافی مانگنے پر آمادہ ہونے میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں، انا یہ بات گوارا نہیں کرتی کہ ہم اپنی غلطی تسلیم کریں، حالانکہ نفس کی اس خواہش کو پورا کرنا ایک دوسری غلطی ہے، کیونکہ اگر نفس قابو سے باہر ہو جائے تو وہ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے۔
غرور:
اسی طرح غرور میں مبتلا ہونا یا صرف اپنے ذاتی مفاد کے لیے دوسروں کو غلط ثابت کرنے کی عادی ہونا بھی ایسے اسباب ہیں جو غلطی ماننے اور معافی مانگنے کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں، کیونکہ اس صورت میں اپنی غلطی کو دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔ذرا سوچئے!اگر اس میں کامیاب بھی ہو جائیں تو کیا یہ کامیابی دلی سکون اور سچی خوشی دے سکتی ہے؟
بغض:
اپنی غلطی نہ ماننے کا ایک سبب بغض بھی ہے۔اگر آپ کے دل میں کسی شخص کے لیے بغض ہے تو یہ بغض آپ کو اس کے سامنے اپنی غلطی ماننے نہیں دے گا،اسی لیے اسلام نے دل میں بغض رکھنے سے منع فرمایا ہے،بلکہ ایک روایت میں ہے:اللہ پاک شعبان کی پندرہویں رات اپنی مخلوق پر تجلی فرماتا ہے تو مشرک اور بغض و کینہ رکھنے والے کے علاوہ ساری مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے۔([1])
غلطی تسلیم نہ کرنے کے معاشرتی نقصانات:
اپنی غلطی سے انکاری ہونا معاشرے میں بھی بگاڑ کا سبب بنتا ہے،اس سے دلوں میں نفرتیں جنم لیتی اور آپس میں لڑائی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں جس کی اسلام میں سختی سے مخالفت کی گئی ہے بلکہ اسلام میں درگزر، محبت اور امن کا پیغام دیا گیا ہے۔اپنی غلطی تسلیم کرنے سے آ پس میں محبت اور اتفاق پیدا ہوتا ہے جس کا ہمارا دین بھی تقاضا کرتا ہے۔
حل و علاج:
کسی کا بتایا ہوا کام آپ کرنا بھول جائیں، آپ کی وجہ سے کسی کو کوئی نقصان ہو جائے یا کسی کو آپ کی وجہ سے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو معذرت کر لیجئے اور کوشش کیجئے کہ اپنی تمام غلطیوں کی دنیا ہی میں لوگوں سے معافی مانگ لیجئے ورنہ بروزِ قیامت آپ کے نیک اعمال اسے دے دیئے جائیں گے جس کا آپ نے ذرا سا بھی حق دبایا ہو گا اور اس وقت آپ کے پاس افسوس کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہو گا، آپ کی نظروں کے سامنے آپ کے اعمال اس کو مل جائیں گے اور آپ کچھ بھی نہیں کر سکیں گی۔
اللہ پاک عاجزی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا ہمیں عاجزی اختیار کرتے ہوئے اپنی غلطیوں کی معافی مانگ لینی چاہیے تاکہ ہمارا یہ عمل ہمارے رب کو خوش کرنے کا باعث بن سکے، معافی ہمیشہ دل سے مانگئے کہ آئندہ اس غلطی کو دہرانے کا ارادہ نہ ہو ورنہ دکھاوے کے لیے مانگی جانے والی معافی بھی بیکار جائے گی جو دنیا میں بھی آپ کا اعتبار کھو دے گی اور آخرت میں بھی آپ کے اعمال ضائع ہو جائیں گے۔ہم اپنی غلطی پر ڈٹ کر اپنے سب سے بڑے دشمن شیطان کو خوش کرتی ہیں جبکہ ہمیں اپنے رب کی رضا کا ہر لمحہ خیال رکھنا چاہیے جو کہ ہمارے لیے آخرت میں کامیابی اور جنت میں جانے کا سبب بنے گا۔
اللہ پاک ہمیں ان تمام اسباب سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے جو توبہ و معافی مانگنے کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
Comments