موضوع:معذرت قبول نہ کرنا
(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 29ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کئے جا رہے ہیں۔)
اسلامی تعلیمات میں معذرت اور معافی کو ایک اہم مقام حاصل ہے، کیونکہ یہ اسلامی اخلاقیات اور معاشرتی معاملات کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔اسلام میں معذرت کو معافی کے طلب اور باہمی احترام کا ایک مظہر سمجھا جاتا ہے۔یہ مضمون اسلامی نقطۂ نظر سے معذرت قبول نہ کرنے کے مسئلے کا تجزیہ کرے گا۔
قرآن و سنت میں معذرت اور معافی کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا ہے، ان میں سے چند مقامات ملاحظہ کیجیے۔چنانچہ،
قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-(پ 14، النحل:126)
ترجمہ:اور اگر تم (کسی کو) سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہو۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہ آیت معذرت اور معافی کی اہمیت کو واضح کرتی ہے کہ انتقام کے بجائے معافی دینا بہتر ہے۔
نبی ِاکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو اپنے مسلمان بھائی کے سامنے عذر پیش کرے اور وہ اس کا عذر قبول نہ کرے تو اس پر ٹیکس وصول کرنے والے کی مثل گناہ ہے۔([1])
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جیسے ٹیکس لگانے والے اور ٹیکس وصول کرنے والے اکثر ظالم ہوتے ہیں انہیں سخت سزا ملے گی ایسے ہی اس شخص کو سخت سزا ملے گی۔([2])
اسلامی نقطۂ نظر سے معذرت قبول نہ کرنا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے مختلف اسباب اور اثرات ہو سکتے ہیں۔
معذرت قبول نہ کرنے کے اسباب
معذرت قبول نہ کرنے کے درج ذیل چند اسباب ہو سکتے ہیں:
نقصان کی شدت:
اگر غلطی بہت بڑی ہو یا اس سے شدید نقصان پہنچا ہو، تو متاثرہ فرد معذرت کو کافی نہیں سمجھ سکتا۔ مثلاً Over speeding اور ڈرائیور کی غلطی سے کسی کی جان چلی جائے یا کوئی عضو ضائع ہو جائے تو اب ظاہر ہے کہ متاثرہ فرد کے اہلِ خانہ کے لیے معذرت قبول کرنا آسان نہیں ہوتا، لہٰذا ایسی صورتوں کے لیے اسلام نے معذرت کے علاوہ انصاف اور تلافی کا راستہ بھی رکھا ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ معذرت میں Sincerity اور سچائی ہو۔
ماضی کی تلخ یادیں:
ماضی میں کیے گئے کسی عمل سے متاثرہ فرد کا سخت دل دکھا ہو اور ماضی کی تلخ یادیں اسے معذرت قبول کرنے نہیں دے رہی ہوتیں، اسی لیے اسلام میں ماضی کی غلطیوں پر معذرت اور توبہ کی تعلیم دی گئی ہے، اور یہ سکھایا گیا ہے کہ مخلصی کے ساتھ معذرت قبول کی جائے۔
اعتماد کی کمی:
بسا اوقات معذرت کرنے والی مخلص نہیں ہوتی یا اس کے الفاظ میں سچائی کی کمی ہوتی ہے تو متاثرہ شخصیت اس پر یقین نہیں کرتی۔حالانکہ اسلامی تعلیمات میں سچائی اور ایمان داری کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔
معذرت قبول نہ کرنے کے اثرات
معذرت قبول نہ کرنے کے شخصی، سماجی اور معاشرتی طور پر یہ چند اثرات پڑسکتے ہیں:
تعلقات میں کشیدگی:
معذرت قبول نہ کرنا تعلقات میں بگاڑ پیدا کر سکتا ہے جو کہ اسلام کو پسند نہیں۔نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے معاشرتی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی شاندار تعلیم عطا فرمائی ہے۔
نفسیاتی اثرات:
معذرت قبول نہ کرنے سے متاثرہ فرد کی نفسیاتی حالت پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں،جبکہ اسلام میں بے سکونی اور غم کی حالت سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی تعلیم دی گئی ہے۔
سماجی اثرات:
معذرت قبول نہ کرنے سے سماجی اختلافات اور تناؤ بڑھ سکتے ہیں جو کہ معاشرتی امن کے خلاف ہے۔لہٰذا تعلقات کی مضبوطی، معاشرتی ہم آہنگی اور ذاتی سکون کے لئے معذرت قبول کرنا بہت اہم ہے اور یہ باہمی احترام، انصاف اور امن کے قیام میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
بنتِ شہاب عطاریہ
(ہند ویسٹ بنگال)
حقوق العباد کا معاملہ بڑا نازک ہے، ہمیں ہر وقت اس معاملے میں احتیاط کرنی چاہیے کہ بندوں کے دل ہماری وجہ سے نہ دکھیں نہ ہی کسی طرح کی کوئی تکلیف ہماری وجہ سے کسی مخلوق کو پہنچے۔حدیث پاک کا مفہوم ہے:مومن وہ ہے جس سے لوگ بے خوف رہیں اور مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں۔ ([3])
ہم چونکہ انسان ہیں،لہٰذا اگر کبھی ہم سے کسی کی ذات کو تکلیف پہنچ جائے تو ہمیں چاہیے کہ فوراً معذرت کرلیں اور رب کی بارگاہ میں توبہ و تائب ہوتی رہیں اور جب کسی سے معذرت کی جائے تو چاہیے کہ اسےقبول کرے۔اگر کوئی معافی مانگنے آئے تو چاہیے کہ اسے مایوس نہ کریں بلکہ معاف کر دیں۔حدیثِ پاک میں ہے:جس کے پاس اس کا بھائی معذرت کرنے کے لئے آیا تواسے چاہیے کہ اپنے بھائی کو معاف کردے، خواہ وہ جھوٹا ہو یا سچا۔جو معاف نہیں کرے گا، حوض ِکوثر پر نہ آسکے گا۔ ([4])
ایک اور روایت میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک معاف کر دینے سے بندے کی عزت ہی میں اضافہ فرماتا ہے۔ ([5])
اس فرمانِ عالی شان کی وضاحت یہ ہے کہ جو شخص معاف و درگزر کرتا ہے تو ایسے شخص کا مقام و مرتبہ لوگوں کے دلوں میں بڑھ جاتا ہے، ایک معنی اس کا یہ بھی ہے کہ اس سے مراد اُخروی اجر اور وہاں کی عزت ہے۔([6])
یاد رہے!اپنے ذاتی حقوق تو معاف کرنے میں ہماری عزت ہے لیکن شرعی حقوق پامال کرنے والوں کو رعایت دینے سے جرائم میں اضافہ ہوتا ہے لہٰذا ایسے لوگوں کو شرعی تقاضوں کے مطابق سزا ہی دی جائے گی۔ چنانچہ مفتی احمد یار خان نعیمی فرماتے ہیں:معافی سے دلوں پر قبضے ہوجاتے ہیں مگر معافی اپنے حقوق میں چاہیے نہ کہ شرعی حقوق میں۔قومی ملکی،دینی مجرموں کو کبھی معاف نہ کرو اپنے مجرم کو معاف کردو۔([7])
افسوس!آج بات بات پر ناراض یا بدگمان ہوکر تعلقات ختم کر دیئے جاتے ہیں۔معافی مانگنے کی زحمت بھی نہیں اٹھائی جاتی اور کوئی معافی مانگ بھی لے تو اسے رسوا کیا جاتا ہے۔ان احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں غور کریں تو ہمارے لئے اجر ہی اجر ہے معافی مانگنے پر بھی اور معاف کر دینے پر بھی۔نیز جو مسلمان کی معذرت قبول نہ کرے اس کے لئے سخت وعیدیں بھی ہیں۔اللہ رب العزت ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
Comments