موضوع:شرح سلامِ رضا
141
دُرِّ منثورِ قرآں کی سِلکِ بَہی
زوجِ دو نورِ عفت پہ لاکھوں سلام
مشکل الفاظ کے معانی:
دُرِّ منثور:بکھرے موتی۔سِلک ِ بہی: خوبصورت لڑی۔زوج:خاوند۔دو نورِ عفت:یہاں اس سے مراد نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی دو شہزادیاں ہیں۔
مفہومِ شعر:
قرآنِ کریم کے بکھرے ہوئے موتی یعنی پاروں کو ایک خوبصورت لڑی میں پرونے والے اور یکے بعد دیگرے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی دو شہزادیوں کا خاوند بننے کا شرف پانے والے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پہ لاکھوں سلام۔
شرح:
دُرِّ منثورِ قرآں کی سِلکِ بَہی:امیر المومنین حضرت ابوبکر صدّیق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے مشورے سے قرآن پاک کے تمام صحائف جمع کر لیے تھے، مگر تین کام باقی رہ گئے، جمع شدہ صحائف کو ایک مصحف میں نقل کرنا، پھر اس ایک ہی مصحف کے نسخے اسلامی ممالک کے تمام شہروں میں تقسیم کرنا اور سب کو لہجہ ٔ قریش پر پڑھنے کا حکم دینا۔یہ تینوں کام اللہ پاک نے امیر المومنین حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے لیے اور قرآن عظیم کا جمع کرنا وعدۂ الٰہیّہ کے مطابق مکمل ہوا،اس لیے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو جامع القرآن کہتے ہیں۔([1])
زوجِ دو نورِ عفت:حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا ایک مشہور و معروف لقب ذو النّورین یعنی دو نور والا بھی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے نکاح میں یکے بعد دیگرے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی دو شہزادیاں حضرت رقیّہ و ام کلثوم رضی اللہ عنہما آئیں، اسی وجہ سے آپ کو ذو النّورین کہا جاتا ہے۔لوگ تو کسی کو اپنی ایک بیٹی دے کر پچھتاتے ہیں مگر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حضرت عثمانِ غنی سے ارشاد فرمایا:اے عثمان!اگر میری 40 لڑکیاں بھی ہوتیں تو یکے بعد دیگرے ان سب کا نکاح تمہارے ساتھ کر دیتا یہاں تک کہ کوئی بھی باقی نہ رہتی۔([2])سبحٰن اللہ!یہ آپ کی خصوصیت ہے کہ آپ کے نکاح میں دو نبی زادیاں آئیں ورنہ آج تک کسی نبی کی دو لڑکیوں کا نکاح ایک شخص سے نہیں ہوا۔
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
نور کی سرکار سے پایا دو شالہ نور کا
ہو مبارک تم کو ذو النورین جوڑا نور کا
142
یعنی عثمان صاحبِ قمیصِ ہُدیٰ
حُلَّہ پوشِ شہادت پہ لاکھوں سلام
مشکل الفاظ کے معانی:
قمیصِ ہُدیٰ:ہدایت کی قمیص،مراد خلافت ہے۔حُلَّہ پوشِ شہادت:شہادت کا لباس پہننے والے۔
مفہومِ شعر:
ہدایت کی قمیص(خِرقۂ خلافت) پہننے والے اور اس کی حفاظت کی خاطر جام شہادت نوش فرمانے والے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر لاکھوں سلام۔
شرح:
یعنی عثمان صاحبِ قمیصِ ہدیٰ:حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا تھا:اے عثمان!اللہ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اگر لوگ تم سے وہ اتارنا چاہیں تو تم ان کی وجہ سے اسے مت اتارنا۔([3])یعنی اللہ آپ کو خلافت عطا فرمائے گا، لوگ تم کو معزول کرنا چاہیں گے تم ان کے کہنے سے خلافت سے دست بردار نہ ہونا کیونکہ تم حق پر ہوگے وہ باطل پر۔([4]) حضرت عثمانِ غنی نے حضور کے اس ارشاد کو یاد رکھا اور جب فسادیوں کے محاصرے پر آپ سے ان کا مقابلہ کرنے کی اجازت طلب کی گئی تو فرمایا:مجھ سے حضور نے وعدہ لیا تھا لہٰذا میں اس پر صبر کرنے والا ہوں۔([5]) آپ نے اپنے آقا سے کیے ہوئے عہد کو خوب نبھایا اور اسی منصب اور عہد کو نبھاتے ہوئے 35 ہجری ذو الحجۃ الحرام میں نہایت مظلومیت کے ساتھ شہید کئے گئے۔
143
مرتضیٰ شیرِ حق اَشجع الاَشجعین
ساقیِ شِیر و شربت پہ لاکھوں سلام
مشکل الفاظ کے معانی:
مرتضیٰ:پسندیدہ،حضرت علی رضی اللہ عنہ کا لقب۔شیرِ حق:خدا کا شیر۔اشجع الاشجعین:بہادروں کا سردار۔ ساقی:پلانے والا۔شِیر:دودھ۔
مفہومِ شعر:
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جو خدا کے شیر، بہادروں کے سردار اور اپنے مہمانوں کو دودھ و شربت پلانے والے ہیں ان پہ لاکھوں سلام۔
شرح:
مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اوصاف و کمالات میں سے ہے کہ آپ اللہ پاک کے شیر اور تمام بہادروں کے سردار ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے آپ کو اسدُ اللہ یعنی اللہ پاک کا شیر کے لقب سے نوازا،آپ کی جرأت و بہادری کا چرچا تمام عالَم میں ہے، آپ ایسے بہادر ہیں کہ بڑے بڑے بہادر آپ کے نام کی ہیبت سے کانپ اٹھتے۔بقولِ شاعر
شاہِ مرداں شیرِ یزداں قوتِ پروردگار
لَافَتیٰ اِلَّا عَلِی لَا سَیْفَ اِلَّا ذُو الْفِقار
آپ کی بہادری کا عالم یہ تھا کہ ہجرت کی رات آپ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے بستر مبارک پر بے خوف و خطر چادر اوڑھ کر مزے کی نیند سو گئے، حالانکہ جانتے تھے کہ باہر دشمن قتل کے درپے ہیں، گویا کہ آپ بخوبی جانتے تھے:
یہ سلانا میرے حضور کا ہے
144
اصلِ نسلِ صفا وجہِ وصلِ خدا
بابِ فضلِ ولایت پہ لاکھوں سلام
مشکل الفاظ کے معانی:
اصل:بنیاد۔نسلِ صفا:پاکیزہ نسل۔ وجہ: ذریعہ۔وصل:ملاقات۔باب:دروازہ۔فضل:فضیلت۔
مفہومِ شعر:
سادات کرام کی پاک و صاف نسل کی بنیاد اور جڑ، اللہ کے وصل کا ذریعہ اور فضلِ ولایت کے دروازے یعنی مولا علی رضی اللہ عنہ پہ لاکھوں سلام۔
شرح:
ہر شخص کی نسل اس کے بیٹوں اور پوتوں سے چلتی ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی مبارک نسل آپ کے دونوں نواسوں امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے جاری ہوئی لہٰذا قیامت تک تمام ساداتِ کرام کی جڑ اور اصل حضرت علی ہیں، جیسا کہ ایک روایت میں ہے:اللہ پاک نے ہر نبی کی اولاد اس کی اپنی صلب میں رکھی مگر میری اولاد علی کے صلب میں۔([6])
حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے ساتھ محبت و عقیدت اللہ پاک کی محبت اور اس کا قرب پانے کا ذریعہ ہے، کیونکہ میرے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا:علی کے چہرے کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔([7])آپ قیامت تک آنے والے تمام ولیوں کے پیشوا ہیں۔ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا: اللہ پاک نے مجھ سے علی کے متعلق عہد لیا ہے کہ علی ہدایت کے عَلم(یعنی نشانی و علامت)،ایمان کے مینارے، ولیوں کے امام اور میرے تمام فرمانبردار بندوں کا نور ہیں۔کل قیامت کے دن میرے حوض پر میرے امین اور میرے جھنڈے کو اٹھانے والے ہوں گے۔علی میرے رب کی جنت کے خزانوں کی چابیوں کے امین ہوں گے۔([8]) اسی لیے تو ہم کہتے ہیں:
جسے علی کی ولایت کا اعتراف نہیں
وہ لاکھ سجدے کرے اک گناہ معاف نہیں
دل میں ہو بغضِ علی اور بدن پر احرام
تیرے نصیب کے چکر ہیں یہ طواف نہیں

Comments