اپنی جھوٹی تعریف سننے کا وبال
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:اپنی جھوٹی تعریف سننے کا وبال


اللہ پاک کا فرمان ہے:

لَا  تَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  یَفْرَحُوْنَ  بِمَاۤ  اَتَوْا  وَّ  یُحِبُّوْنَ  اَنْ  یُّحْمَدُوْا  بِمَا  لَمْ  یَفْعَلُوْا  فَلَا  تَحْسَبَنَّهُمْ  بِمَفَازَةٍ  مِّنَ

الْعَذَابِۚ-وَ  لَهُمْ  عَذَابٌ  اَلِیْمٌ(۱۸۸) (پ 4 ،اٰلِ عمرٰن:188)

ترجمہ:ہر گز گمان نہ کرو ان لوگوں کو جو اپنے اعمال پر خوش ہوتے ہیں اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی ایسے کاموں  پر تعریف کی جائے جو انہوں نے کیے ہی نہیں۔انہیں ہرگز عذاب سے دور نہ سمجھو اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تفسیر:

لَا  تَحْسَبَنَّ  میں خطاب حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم یا ہر اس شخص سے ہے جو  خطاب کی صلاحیت رکھتا ہے۔([1]) الَّذِیْنَ  سے مراد سردارانِ یہود و منافقین ہیں۔ یَفْرَحُوْنَ  فَرَحٌ سے بنا اس کے معنی شیخی کے ہیں۔

دوسری جگہ فرمایا:

لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ(۷۶) (پ20،القصص:76)

ترجمہ:شیخی نہ مارو اللہ شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تیسری جگہ فرمایا:

وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ- (پ11،یونس:58)

ترجمہ:اللہ کی رحمت پر خوشیاں مناؤ۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یُحِبُّوْنَ حُبٌّ سے بنا اس کے معنی چاہنا،پسند کرنا۔منافقین اور یہود کے سردار بُرے کام کر کے خوش ہوتے ہیں اور اپنی تعریفیں چاہتے ہیں۔ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا:

فَلَا  تَحْسَبَنَّهُمْ  بِمَفَازَةٍ  مِّنَ  الْعَذَابِۚ- (پ 4 ،اٰلِ عمرٰن:188)

(ترجمہ:انہیں ہرگز عذاب سے دور نہ سمجھو۔)([2])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

بِمَاۤ  اَتَوْا  سے مراد ان کے کرتوت ہیں یعنی دھوکا دینا اور حق چھپانا۔جبکہ بِمَا  لَمْ  یَفْعَلُوْا  سے مراد وعدہ پورا کرنا،حق ظاہر کرنا اور سچی خبر دینا مراد ہے۔([3]) بِمَفَازَةٍ  کے معنی فوز و کامیابی،نجات۔فَوْز کے لغوی معنی آفتوں سے دوری ہے۔کامیاب انسان ناکامی سے دور رہتا ہے۔([4])

شانِ نزول:

اس آیتِ مبارکہ کے شانِ نزول میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔چند اقوال پیشِ خدمت ہیں:

(1)جب نبیِ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کسی غزوے میں تشریف لے جاتے تو بعض منافقین پیچھے رہ جاتے اور آپ کے ساتھ نہ جاتے بلکہ اپنے عمل پر خوش ہوتے کہ وہ رسولِ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ نہیں گئے، جب حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم واپس آتے تو وہ مختلف حیلے بہانے بناتے، قسمیں کھاتے  اور جو کام انہوں نے نہیں کیےان پر اپنی تعریف کیے جانے کو پسند کرتے۔اس پر یہ آیتِ مبارک نازل ہوئی۔([5])

(2)مروان نے اپنے دربان سے کہا:اے رافع!حضرت ابنِ عباس رضی اللہُ عنہما کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ ہر شخص اپنے عمل پر خوش ہوتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ جو کام اس نے نہیں کیا اس پر بھی اس کی تعریف کی جائے۔اگر عذاب دیا جائے تو ہم سب کو عذاب دیا جائے گا؟چنانچہ جب وہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہُ عنہما کے پاس گئے اور اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا:تمہارا اس آیت سے کیا تعلق ہے؟نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے یہود کو بلایا اور ان سے کسی چیز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس چیز کو چھپا لیا اور آپ کو کچھ اور بتا دیا اور وہ یہ چاہتے تھے کہ انہوں نے آپ کو کسی اور چیز کی خبر دی۔لیکن پھر بھی وہ اس بات پر تعریف کے خواہش مند تھے کہ  انہوں نے نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سوال کے جواب میں جس چیز کی خبر دی ہے اس پر ان کی تعریف کی جائے۔نیز وہ اس بات پر بھی خوش ہو رہے تھے کہ انہوں نے حق چھپا لیا۔پھر حضرت ابنِ عباس رضی اللہُ عنہما نے یہ اور اس سے پہلے والی آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی۔([6])

(3)یہود بادشاہوں  سےکہتے تھے کہ بے شک ہم اپنی کتاب میں پاتے ہیں کہ اللہ پاک آخری زمانے میں ایک نبی کو بھیجے گا جس کے ساتھ ہی وہ  سلسلۂ نبوت کو ختم فرما دے گا۔جب اللہ پاک نے حضور نبیِ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکو بھیجا تو بادشاہوں نے ان یہودیوں سے پوچھا:کیا یہی وہ نبی ہیں جن کا ذکر تم اپنی کتاب میں پاتے ہو؟تو بادشاہوں کے مالوں کی لالچ  میں مبتلا یہودیوں نے کہا:یہ وہ نبی نہیں ہیں۔تو بادشاہوں نے انہیں خزانوں سے نوازا۔اس پر اللہ پاک نے  یہ آیتِ کریمہ نازل فرمائی:

لَا  تَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  یَفْرَحُوْنَ  بِمَاۤ  اَتَوْا  (پ4،اٰلِ عمرٰن:188)

ترجمہ:ہرگز گمان نہ کرو ان لوگوں کو جو اپنے اعمال پر خوش ہوتے ہیں۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یعنی وہ بادشاہوں سے بولے جانے والے جھوٹ پر خوش ہورہے ہیں کہ اس پر انہیں دنیوی ساز و سامان حاصل  ہو گیا۔([7])

(4)یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو لوگوں کو دھوکا دینے اور گمراہ کرنے پر خوش ہوتے اور نادان اورجاہل ہونے کے باوجود یہ پسند کرتے کہ انہیں عالم کہا جائے۔([8])

(5)علما کا لبادہ اوڑھنے والے بعض لوگ دنیا کا مال ومتاع مل جانے پر خوش ہوتے تھے، کیونکہ وہ لوگوں کے لیے گمراہی کا راستہ مزین کرتے اور پسند کرتے کہ ان کی ایسے کاموں  پر تعریف کی جائے جو انہوں نے کیے ہی نہیں تاکہ لوگ ان کو علما کہیں حالانکہ وہ علما نہ تھے۔وہ  لوگوں کو ہدایت پر ابھارتے نہ بھلائی کی ترغیب دلاتے لیکن پھر بھی وہ چاہتے تھے کہ لوگ ان کے متعلق کہیں کہ انہوں نے ایسا کیا ہے۔([9])

(6)تعریف پسند  کرنے والوں سے مراد اہلِ کتاب ہیں۔ان پر کتاب نازل کی گئی مگر انہوں نے ناحق فیصلے کئے اور  اللہ پاک کے احکام میں تبدیلی کر دی اور اس پر  وہ خوش بھی ہوئے۔وہ اس خیال میں رہے کہ وہ تو اللہ پاک کی عبادت کر تے ہیں، روزے رکھتے ہیں،نمازیں پڑھتے ہیں اور اللہ پاک کی اطاعت بھی کرتے ہیں تو اللہ پاک نے حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے فرمایا:

لَا  تَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  یَفْرَحُوْنَ  بِمَاۤ  اَتَوْا  (پ4،اٰلِ عمرٰن:188)

ترجمہ:ہرگز گمان نہ کرو ان لوگوں کو جو اپنے اعمال پر خوش ہوتے ہیں۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یعنی انہوں نے اللہ پاک اور حضور کا انکار کیا، اس کے باوجود وہ پسند کرتے کہ ان کی ان کاموں یعنی نماز روزوں کی تعریف کی جائے جو انہوں نے کئے ہی نہیں۔([10])

(7)یہود کے بعض لوگوں نے اپنے بعض لوگوں کی طرف لکھ کر بھیجا کہ محمد(صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم)نبی نہیں ہیں، لہٰذا تم اپنی اس بات پر پکے ہو جاؤ، اپنے دین اور اپنی  وہ کتاب جو تمہارے پاس موجود ہے اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہو۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا تو وہ لوگ اس پر  خوش ہوئے اور انہوں نے اس بات پر بھی خوشی منائی کہ یہود حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا انکار کرنے  پر متفق ہیں۔([11])

(8)یہود نے نبیِ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکا نامِ پاک چھپایا اور اس پر خوش ہوئے۔وہ اپنے آپ کو پاکیزہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم روزہ دار، نمازی اور زکوٰۃ ادا کرنے والے لوگ ہیں۔نیز ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر ہیں تو ان کے بارے میں اللہ پاک نے  یہ آیتِ کریمہ نازل فرمائی اور گویا فرمایا کہ یہ لوگ حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم(کا نامِ پاک)چھپاکر خوش ہوتے ہیں اور اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ عرب ان کی اپنی جانوں کو ستھرا کرنے پر ان کی تعریف کریں، حالانکہ وہ ایسے نہیں تھے۔([12])

(9)یہودی اس بات پر خوش تھے کہ انہوں نے کتاب میں جو تبدیلیاں کی ہیں وہ لوگوں کو بھلی لگیں اور لوگوں نے اس پر ان کی تعریف بھی کی، حالانکہ یہود اس کو تبدیل کرنے کے مالک نہیں تھے اور انہوں نے ہرگز ایسا نہیں کیا تھا۔([13])

(10)خیبر کے یہودی نبیِ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور کہا:ہم نے دین کو قبول کیا اور ہم اس دین پر راضی ہیں۔لہٰذا وہ پسند کرتے کہ ان کی ایسے کاموں  پر تعریف کی جائے جو انہوں نے کیے ہی نہیں۔([14])

(11)بنی اسرائیل کے کچھ بڑے علما و عبادت گزاروں کے پاس جب بادشاہ حاضر ہوئے تو وہ ان بادشاہوں کو(نا جائز کاموں کی) رخصتیں دیتے،لہٰذا بادشاہ بھی انہیں انعام و اکرام سے نوازتے۔جب بادشاہ ان کے پاس سے چلے جاتے تو وہ علما اس بات پر خوش ہوتے کہ بادشاہوں نے ان کی بات کو مان کر انہیں انعام و اکرام سے نوازا ہے۔([15])

(12)حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے یہودیوں سے تو رات میں موجود کسی چیز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے تورات میں لکھی باتوں کےبر خلاف باتوں کی خبر دی اور خیال کرنے لگے کہ وہ تو سچے ہیں۔نیز اپنے کئے پر خوش ہونے لگے تو یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد تمام منافقین ہیں کہ آیتِ مقدسہ کے ظاہر سے یہی زیادہ  بہتر معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ منافقین ایمان کا اظہار کرتے لیکن ان کے دل کفر پر جمے  ہوئے تھے۔وہ ایمان کے اظہار سے مسلمانوں کی تعریف کے خواہش مند رہتے تھے۔حالانکہ وہ تو ایمان سے ہزار منزلیں دور تھے۔وہ مومنوں کے ساتھ محبت کا دم بھرتے تھے۔ حالانکہ وہ ان کے سخت دشمن تھے۔لہٰذا بہتر یہی ہے کہ الَّذِیْنَ  اسم ِ موصول کو اپنے عموم پر رہنے دیا جائے تاکہ آیت کے حکم میں ہر وہ شخص  بھی شامل ہو جائے جو نیکی کر کے عجب(یعنی نعمت کو اللہ کی طرف منسوب کرنے کے بجائے اپنا کمال سمجھنے کے وبال)میں گرفتار ہو جاتا ہے اور چاہتا ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں، حالانکہ وہ فضائل سے بالکل خالی ہوتا ہے۔([16])

مدنی پھول:

اس آیت میں وعید ہے خود پسندی  کرنے والے کے لیے اور اس کے لیے جو لوگوں سے اپنی جھوٹی تعریف  چاہے۔جو لوگ بغیر علم اپنے آپ کو عالم کہلواتے ہیں یا اسی طرح اور کوئی غلط وصف اپنے لیے پسند کرتے ہیں انہیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔([17]) کیونکہ بزدلوں کو خان بہادر کا اور جاہلوں کو شمس العلماء کا خطاب دینا اور ان خطاب یافتہ لوگوں کا اس پر خوش ہونا طریقہ کفار ہے، اسی طرح بےعلم لوگوں کا مولوی عالم، مولوی فاضل بن جانا اور اس کی ڈگری پر خوش ہونا طریقہ جہال ہے،کیونکہ آج کل بعض جاہل تدبیر کر کے مولوی فاضل وغیرہ کی ڈگریاں حاصل کر لیتے ہیں۔([18])

تفسیر صراط الجنان میں ہے:اس آیت میں خود پسندی کرنے والوں کے لئے وعید ہے اور ان کے لئے جوحُب ِجاہ یعنی عزت ،تعریف، شہرت کے حصول کی تمنا میں مبتلا ہیں۔جب کسی شخص کے دل میں یہ آرزو پیدا ہونے لگے کہ لوگ اس کے شیدائی ہوں،ہر زبان اس کی تعریف میں تر ہو،سب میرے کمال کے مُعترف ہوں ، مجھے ہر جگہ عزت سے نوازا جائے ، عالم نہیں ہوں پھر بھی علامہ صاحب کہا جائے ، ملک و قوم کی کوئی خدمت نہیں کی پھر بھی مِعمارِ قوم کہا جائے،نجات دہندہ سمجھا جائے،محسنِ قوم قرار دیا جائے،میرا تعارف بہترین القابات کے ساتھ ہو، ملاقات پرتپاک انداز میں کی جائے ، سلام جھک کر کیا جائے تو اسے چاہئے کہ اپنے دل پرغور کر لے کہ کہیں وہ حُبِّ جاہ کا شکار تو نہیں ہو چکا،اگر ایسا ہو تو اس آیت سے سبق  حاصل کرتے ہوئے فوراً سے پہلے اُس سے چھٹکارے کی کوشش کرے۔یاد رکھئے!خود پسندی اور حُبِّ جاہ کے مرض میں مبتلا شخص اخروی انعامات سے محرومی کا شکار ہوتا ہے اور دل میں مُنافقت کی زیادتی،قلبی نورانیت سے محرومی،دین کی خرابی میں مبتلا ہوجاتا ہے نیز برائی سے منع کرنے اور نیکی کی دعوت دینے سے محرومی،ذلت و رسوائی کا سامنا،اخروی لذت سے محرومی،دلی سکون کی بربادی اور دولتِ اخلاص سے محرومی جیسے نقصانات کا سامنا کر سکتا ہے، لہٰذا اسے چاہئے کہ دنیا کی بے ثباتی، تعریف پسندی کی مذمت، منصب و مرتبہ کے تعلق سے اخروی معاملات اور بزرگانِ دین رحمۃ اللہِ علیہم کے حالات و اقوال کا بکثرت مطالعہ کرے تا کہ ان مذموم امراض سے نجات کی کوئی صورت ہو۔([19])

جھوٹی تعریف کرنے، سُننے والوں کے لیے  وعید:

نبیِ پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب تم (مبالغہ کے ساتھ)مَدْح(تعریف)کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے منہ میں مٹی ڈال دو۔([20]) حضرت عتبی  رحمۃ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:اس حدیث میں مَدْح سے باطل اور جھوٹی تعریف مراد  ہے، البتہ بندے کی اس چیز پر تعریف کرنا جو اس میں موجود ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔چنانچہ کئی حضرات نے حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعریف کی ،لیکن ہم تک ایسی کوئی بات نہیں پہنچی کہ آپ نے تعریف کرنے والے کے منہ پر مٹی ڈالی ہو۔یوں ہی آپ نے مہاجرین و انصار صحابہ کرام کی تعریف فرمائی۔ (لہٰذا یہاں)منہ پر مٹی ڈالنے کے دو معنیٰ ہیں:(1)باطل تعریف کرنے والے کا شدید رد کرنا اور(2)تعریف کرنے والے کو کہا جائے:تمہیں مٹی کافی ہے۔([21])

مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:یہاں مَدَّاحِین سے مراد وہ جھولی چک ہیں جو خوشامد کے لیے لوگوں   کےمنہ پر تعریفیں   کرتے ہیں   بلکہ اس سے اپنے پیٹ پالتے ہیں، جھوٹی تعریفیں   کر کے سامنے والے کو خوش کرتے ہیں   جو کسی نیک شخص کی سچی تعریف کرے جس سے اس کو اور زیادہ نیکی کی رغبت ہو وہ اس میں   داخل نہیں   اس لیے مداحین صیغہ مبالغہ ارشاد ہوا یعنی تعریفیں کرنے کا عادی اس کا پیشہ ور۔بعض شارحین نے حدیث کو بالکل ظاہری معنی پر رکھاکہ واقعی ان پرمٹی ڈال دو تا کہ آئندہ وہ اس کام کی جرأت نہ کریں   دو چار جگہ منہ پر خاک پڑ جانے سے اس عمل سے توبہ کر لیں۔بعض نے فرمایا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس پر خاک ڈالو ادھر توبہ نہ کرو یہ  نہ سمجھو کہ واقعی تم بڑے اچھے آدمی ہو یا یہ مطلب ہے کہ اسے کچھ دے دو تھوڑا مال بھی گویا خاک ہے تاکہ وہ تمہاری ہجو (بُرائی) نہ کرے کہ ایسے لوگ کچھ نہ ملنے پر گالیاں   دیتے ہیں   یا یہ مطلب ہے کہ انہیں   بہت تھوڑا مال دو جو خاک برابر ہو زیادہ مال نہ دو اور بھی بہت معنی کیے گئے ہیں ۔([22])

حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:جو جھوٹی تعریف سے خوش ہوتا ہے شیطان اس کے دل میں گھس کر قبضہ جما لیتا ہے۔([23]) امام محمد غزالی رحمۃ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:اگر تیری تعریف اس وصف کی وجہ سے کی جاتی ہے جو تجھ میں نہیں تو تیرا اس تعریف پر خوش ہونا انتہائی درجے کا پاگل پن ہے۔ایسی صورت میں  تیری مثال اس شخص کی طرح ہو گی جسے لوگ بطورِ مذاق کہیں کہ تمہارے پیٹ میں جو کچھ ہے کتنا ہی مُعَطَّر ہے اور جب تم پاخانہ کرنے جاتے ہو تو اس سے کتنی پیاری خوشبو مہکتی ہے  حالانکہ وہ جانتا ہے کہ جو کچھ اس کے پیٹ اور آنتوں میں ہے سوائے گندگی کے کچھ بھی نہیں  پھر بھی وہ اس تعریف پر خوش ہوتا ہے، ایسا ہی تیرا حال ہے کہ تیرے زُہد و تقویٰ کی وجہ سے تیری تعریف کی جاتی ہے اور تواس پر خوش ہوتا ہے حالانکہ اللہ پاک تیرے باطنی خبائث، چھپے ہوئے دھوکے اور تیری گندی صفات سے باخبر ہے تو ایسی خوشی انتہا درجے کی جہالت ہے۔تُو سوچ کہ تیرے وصف پر  تعریف کرنے والا اگرسچا ہے توجو وصف تیری خوشی کا سبب ہے وہ تجھ پر اللہ پاک کا فضل ہے اور اگر جھوٹا ہے تواس پر تجھے بجائے خوش ہونے کے غمگین ہونا چاہئے۔([24])

کچھ بعض مرد و خواتین اس خراب عادت میں مبتلا ہیں کہ جو ان کے منہ پر ان کی تعریف کردے  وہ اس سے خوش ہو جاتے ہیں اور جو ان کے عیبوں کی نشاندہی کر دے اس پر مارے غصہ کے آگ بگولا ہو جاتے ہیں۔انسان کی یہ خصلت بھی نہایت ناقص اور بہت بُری عادت ہے۔اپنی تعریف کو پسند کرنا اور اپنی تنقید پر ناراض ہو جانا یہ بڑی بڑی گمراہیوں اور گناہوں کا سر چشمہ ہے۔اس لئے اگر کوئی تمہاری تعریف کرے تو تم اپنے دل میں سوچو کہ اگر واقعی وہ خوبی تمہارے اندر موجود ہو تو اس پر خدا کا شکر ادا کرو کہ اس نے تم کو اس کی توفیق عطا فرمائی اور ہرگز اپنی اس خوبی پر اکڑ کر اِترا کر خوش نہ ہو جاؤ۔اگر کوئی تمہارے سامنے تمہاری خامیوں کو بیان کرے تو ہرگز ہرگز اس پر ناراضی کا اظہار نہ کرو۔بلکہ اس کی قدر کرو اور اپنی خامیوں کی اصلاح کرلو اور اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ ہر تعریف کرنے والا دوست نہیں ہوا کرتا اور ہر تنقید کرنے والا دشمن نہیں ہوا کرتا۔قرآن و حدیث کی تعلیم سے پتا چلتا ہے کہ اپنی تعریف پر خوش ہو کر پھول جانے والے اﷲ و رسول کو بے حد ناپسند ہیں۔اس قسم کے مردوں اور عورتوں کے اردگرد اکثر چاپلوسی کرنے والوں کا مجمع اکٹھا ہو جایا کرتا ہے اور یہ خود غرض لوگ تعریفوں کا پل باندھ کر انسان کو بے وقوف بنایا کرتے اور جھوٹی تعریفوں سے اسے اُلُّو بنا کر اپنا مطلب نکال لیا کرتے ہیں۔پھر لوگوں سے اپنا مطلب پورا ہونے اور بیوقوف بنانے کی داستان بیان کر کے لوگوں کو خوش طبعی اور ہنسنے ہنسانے کا سامان فراہم کرتے رہتے ہیں۔لہٰذا ہر مردو عورت کو چاپلوسی کرنے والوں اور منہ پر تعریف کرنے والوں کی چالوں سے ہوشیار رہنا چاہے اور ہرگز ہرگز اپنی تعریف سن کر خوش نہیں ہونا چاہے۔([25]) لوگوں کے مُنْہ سے اپنی تعریف و فضائل سن کر اپنے نفس کو قابو میں رکھنا انتہائی مشکل ہوتا ہے اس لیے اپنی تعریف سننے سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے، اگر کوئی کسی کے منہ پر اس کی یا اس کے کسی عمل کی تعریف کرے تو اسے چاہیے کہ  خوشی سے پھولنے کے  بجائے استغفار کرے اورخود کو اللہ پاک کی خُفیہ تدبیر سے ڈرانے کی کوشش کرے کہ آج لوگ میری اور میرے جن  اعمال کی تعریف کر رہے ہیں، نہ جانے وہ اللہ  پاک  کی بارگاہ میں مقبول بھی ہیں یا نہیں؟جن اعمال کی وجہ سے آج  میری بزرگی  وپرہیز گاری کے ڈَنکے بج رہے ہیں،کل بروزِ قیامت یہ اعمال  کہیں میری رُسوائی  کا سبب نہ بن جائیں۔اگر تعریف کرنے والی ایسے وصف کے ساتھ آپ  کی تعریف کرے جو آپ  میں موجود نہیں تو فوراً اسے منع کر دیجیے  کہ  میں ایسی نہیں ہوں۔ اگر آپ اپنی جھوٹی تعریف سن کر خاموش رہیں،مسکراتی  رہیں یا سچی تعریف پربھی  اندر ہی اندر سے لطف اندوز  ہوتی، پھولتی اور اپنا کمال تصوّر کرتی  رہیں تو خود اپنی تعریف کرنے کی عادت سے دنیا و آخرت داؤ پر لگ سکتی ہے۔([26])

اگر مسکا لگانے کے لئے کسی کی تعریف کی کہ’’آج آپ بہت اچھی لگ رہی ہو‘‘تو یہ جھوٹ اور گناہ ہوگا۔بہرحال! ہمیں مسلمان سے حُسنِ ظن رکھنا چاہئے کہ ہم اُسے اچّھی لگ رہی ہوں گی جبھی وہ ایسا کہہ رہی ہے۔البتہ!ہمیں اپنی جھوٹی تعریف سننےسے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر کوئی ہماری سچی تعریف کرے تو اسے بھی نرمی سے منع کرنا چاہیے۔اگر پھر بھی وہ باز نہ آئے تو پھولنے کی بجائے اچھی اچھی نیتیں کر لینی چاہئیں کہ اللہ پاک نے میرے عیبوں پر پردہ ڈال کر میری عبادتوں کو لوگوں پر ظاہر کیاہے، اس سے بڑا احسان کیا  ہوگا کہ اللہ پاک خود اپنے بندوں کے عیبوں کو چھپا کر ان کی عبادات کو ظاہر کر دے۔مگر افسوس!ہمارا حال یہ ہے کہ کوئی ہماری تعریف کرے تو ہم خوش ہوتی ہیں لیکن جیسے ہی کسی عیب کی نشاندہی ہوئی ہم فوراً آپے سے باہر ہو جاتی ہیں۔ حالانکہ اگرکوئی ہماری تعریف کرے تو خوشی سے پھولنے اور غرور و تکبر کی آفت میں مبتلا ہونے کی بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ کیا واقعی مجھ میں یہ خوبی ہے بھی یا نہیں!تا کہ اگر وہ خوبی ہو تو اللہ کا شکر ادا  کروں، ورنہ اپنی اصلاح کروں۔اللہ پاک ہمیں اپنی تعریف سننے سے بچنے اور اپنے عیبوں کی اصلاح کی توفیق نصیب فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  



…[1]تفسیر روح البیان،2/143

…[2] تفسیر حسنات،1/686،685

…[3] تفسیر روح البیان، 2/143

…[4] تفسیر حسنات،1/686

…[5] بخاری، 3/198، حدیث:4567

…[6] بخاری، 3/198،حدیث:4568

…[7] تفسیر قرطبی،الجزء الرابع،2/235

…[8] تفسیر خازن،1 /334

…[9] تفسیر در منثور،2/404

…[10] تفسیر در منثور،2/404

…[11] تفسیر در منثور، 2/405

…[12] تفسیر در منثور، 2/405

…[13] تفسیر در منثور، 2/405

…[14] تفسیر در منثور، 2/406،405

…[15] تفسیر در منثور،2/406

…[16] تفسیر روح البیان، 2/143

…[17] تفسیر  خزائن العرفان، ص149

…[18] تفسیر نور العرفان،ص118

…[19] تفسیر صراط الجنان،  2 /114

…[20] مسلم،ص1223،حدیث:7506

…[21] مستطرف، 1/390

…[22] مراٰۃ المناجیح،6/ 454

…[23] حلیۃ الاولیاء،6/313،رقم:8749

…[24] احیاء العلوم، 3/355

…[25] جنتی زیور، ص131 ملخصاً

…[26] نیکیاں چھپاؤ، ص 90


Share