موضوع:حضور کی نماز سے محبت
(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ مضامین 29ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کیے جا رہے ہیں)
نماز دینِ اسلام کا تیسرا بنیادی رکن ہے۔نماز کو دینِ اسلام میں ستون کی حیثیت حاصل ہے۔نماز ایسی عبادت ہے کہ اس سے متعلق فرمایا گیا کہ بندے اور کفر کے درمیان فرق نماز چھوڑنا ہے۔([1])اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر نماز کا ذکر فرمایا ہے۔مثلاً پارہ 16 سورۂ طٰہٰ کی آیت نمبر 14 میں ہے:
وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ(۱۴)
ترجمہ:اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اُمّت کو اللہ کریم نے یہ خصوصیت بھی عطا فرمائی ہے کہ دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی اُمّتوں کی نسبت اس اُمّت نے اپنے نبیِّ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی عبادات،ان کے اوقات اور کیفیات کو جیسے دیکھا محفوظ کر لیا۔بعض صحابہ کرام نے سفرمیں دیکھا تو وہ عمل اپنے ذہن میں محفوظ کرلیا،بعض گھر میں کیے جانے والے اعمال و عبادات حضور کی مقدس بیبیوں کے ذریعے اُمّت تک پہنچے اور ایسا چرچہ ہوا کہ آج مسلمانوں بلکہ ان کے بچوں کو بھی حضور کی عبادات کا علم ہے۔آپ کو اللہ پاک نے معراج سے مشرف فرمایا۔اس رات آپ اپنی سر کی آنکھوں سے ربِّ کریم کی زیارت سے مشرف ہوئے۔اس رات آپ کو بہت سے تحائف عطا فرمائے گئے۔ان میں سے ایک تحفہ پانچ نمازیں بھی ہیں۔آپ نے اپنی ظاہری زندگی میں نماز کی فرضیت کے بعد تقریباً 20 ہزار نمازیں ادا فرمائیں، تقریباً 500 جمعے ادا کئے اور عید کی 9 نمازیں ادا فرمائیں۔([2])
داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو جب معراج میں لے جایا گیا اور مقامِ قرب سے سرفراز کیا گیا تو آپ نے اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کی:اے اللہ!اب مجھے بلاؤں کے گھر(یعنی دنیا میں)واپس مت بھیج۔اللہ پاک نے فرمایا:اے محبوب!ہمارا حکم ایسا ہی ہے، آپ دنیا میں واپس جائیے تاکہ آپ کے ذریعے شریعت قائم ہو اور جو کچھ ہم نے یہاں عطا فرمایا ہے دنیا میں بھی عنایت فرمائیں گے۔چنانچہ جب آپ دنیا میں تشریف لائے تو جب بھی آپ کا دل مقامِ بلند کا مشتاق ہوتا تو فرماتے:اَرِحْنَا یَا بِلَالُ بِالصَّلَاۃِ یعنی اے بلال!نماز کے لئے اذان دے کر ہمیں سکون پہنچاؤ۔([3])اُمُّ المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ ُعنہا فرماتی ہیں: رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہم سے اور ہم آپ سے گفتگو کر رہے ہوتے کہ نماز کا وقت ہو جاتا تو(ہم ایسے ہو جاتے)گویا حضور ہمیں نہیں پہچانتے اور ہم حضور کو نہیں پہچانتے۔([4])
آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نماز سے محبت کا یہ عالم تھا کہ جب کوئی آزمائش آتی تو نماز میں مشغول ہوجایا کرتے، کیونکہ ربِّ کریم نے ارشاد فرمایا:
وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ- (پ1، البقرۃ:45)
ترجمہ:اور صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
معلوم ہوا!جب بھی کوئی مشکل آئے، کسی قسم کی کوئی پریشانی ہو، ہم نمازیں پڑھیں اور اس سے مدد حاصل کریں۔
حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہِ علیہ اس آیتِ کریمہ کے تحت فرماتے ہیں:نماز انسان کو دنیا سے بے خبر کر کے اللہ پاک کی طرف متوجِّہ کر دیتی ہے، اس لئے اس کی برکت سے دنیا کی مشکلیں دل سے فراموش ہو(یعنی بھلا دی) جاتی ہیں۔ (صاحبِ)تفسیرِ عزیزی نے اس جگہ بیان فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے گھر میں فاقہ ہوتا تھا اور رات میں کچھ ملاحظہ نہ فرماتے(یعنی کچھ نہ کھاتے)تھے اور بھوک غلبہ کرتی تو حضور مسجد میں تشریف لا کر نماز میں مشغول ہو تے تھے۔([5])
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نمازِ پنجگانہ کے علاوہ سُنَن و نوافل بھی ادا فرمایا کرتے، ان کے فضائل سے آگاہ فرماتے اور عمل کی ترغیب بھی دلاتے تھے۔چنانچہ حضرت عبدُ الله بن شقیق رحمۃ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:میں نے اُمُّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ ُعنہا سے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نفل نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا:آپ میرے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے پھر تشریف لے جاتے، لوگوں کو نماز پڑھاتے اور گھر واپس تشریف لاتے تو دو رکعتیں پڑھتے۔ جب نماز مغرب پڑھا کر تشریف لاتے تو بھی دو رکعتیں پڑھتے،پھر عشا پڑھا کر تشریف لاتے تو بھی دو رکعتیں پڑھتے۔پھر رات میں نو رکعتیں پڑھتے تھے جن میں وتر بھی ہیں اور رات میں بہت دیر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور بہت دیر تک بیٹھ کر اور جب کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہو کر ہی کرتے اور جب فجر طلوع ہوتی تو دو رکعتیں پڑھتے۔([6]) ابوداود شریف کی روایت میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ پھر آپ جا کر لوگوں کو نمازِ فجر پڑھاتے۔([7])
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اول رات سوتے تھے اور آخر رات جاگتے تھے، پھر اگر آپ کو اپنی اہلیہ سے حاجت ہوتی تو حاجت پوری فرما کر سو جاتے۔پھر اگر پہلی اذان کے وقت نہانے کی حاجت ہوتی تو جلدی کھڑے ہو کر اپنے اوپر پانی بہاتے اور اگر نہانے کی حاجت نہ ہوتی تو نماز کے لیے وضو کرتے،پھر دو رکعتیں پڑھتے۔([8]) آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نماز سے محبت کا اندازہ یوں بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ خسوف و کسوف یعنی سورج و چاند گرہن و تیز آندھی وغیرہ کے وقت نوافل میں مشغول ہو جایا کرتے، اشراق و چاشت بھی ادا فرماتے۔بعض روایات میں یوں بھی آیا ہے کہ آپ نمازِ عشا کے بعد کچھ دیر سوتے، پھر کچھ دیر تک اٹھ کر نماز پڑھتے، پھر سو جاتے، پھر اٹھ کر نماز پڑھتے،صبح تک یہی حالت قائم رہتی۔کبھی دو تہائی رات گزر جانے کے بعد بیدار ہوتے اور صبحِ صادق تک نمازوں میں مشغول رہتے۔کبھی آدھی رات گزر جانے کے بعد بسترسے اٹھ جاتے اور پھر ساری رات بستر سے پیٹھ نہیں لگاتے تھے اور لمبی لمبی سورتیں نمازوں میں پڑھا کرتے۔کبھی رکوع و سجود لمبا ہوتا تو کبھی قیام۔کبھی چھ رکعت، کبھی آٹھ رکعت، کبھی اس سے کم، کبھی اس سے زیادہ پڑھا کرتے۔عمر شریف کے آخری حصے میں کچھ رکعتیں کھڑے ہو کر کچھ بیٹھ کر ادا فرماتے، نمازِ وتر نمازِ تہجد کے ساتھ ادا فرماتے تھے۔([9])اللہ پاک ہمیں بھی آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نماز سے محبت کے صدقے نمازوں کا ذوق و شوق، نمازوں سے محبت اور انہیں اخلاص اور خشوع و خضوع کے ساتھ پابندی سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
بنتِ محمد شبیر
(جوہر آباد خوشاب)
نماز وہ انمول تحفہ ہے جو ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو معراج کی رات عطا فرمایا گیا۔نماز کی اہمیت اس بات سے سمجھیے کہ عبادات کے احکام زمین پر نازل ہوئے، جبکہ نماز وہ عظیم تحفہ ہے جو معراج پر بلا کر عطا فرمایا گیا۔سبحان اللہ!آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شان یہ ہے کہ انہیں معراج پر بلایا گیا جبکہ ہم جیسی گنہگاروں کی معراج نماز قرار دی گئی۔ شبِ معراج 50 نمازوں کا تحفہ دیا گیا تھا، پھر اس میں کمی کر دی گئی۔چنانچہ ہم جو نمازیں پڑھتے ہیں وہ پانچ ہیں۔اللہ پاک نے جب 50 نمازیں فرض فرما دیں اور پھر کمی بھی کر دی گئی تو فرمایا:اے محمد! بے شک ہمارے ہاں قول نہیں بدلتا تمہارے لئے ان پانچ میں پچاس کا ثواب ہے۔([10])یاد رہے!ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنی ظاہری دنیوی زندگی میں11 سال 6 ماہ میں تقریباً 20 ہزار نمازیں ادا فرمائیں، 500 جمعے ادا فرمائے اور عید کی 9 نمازیں پڑھیں۔([11])
آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اللہ پاک کے پیغامات کو بندوں تک پہنچایا اور ساتھ میں جو احکام نازل ہوئے ان پر عمل کر کے بھی اس طرح دکھایا کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مشعلِ راہ بن گئے۔جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ ُعنہا فرماتی ہیں:ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تمام رات نماز میں کھڑے رہے اور قرآنِ پاک کی ایک ہی آیت بار بار پڑھتے رہے۔([12])جس سے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نماز سے محبت ظاہر ہوتی ہے۔
عبادت کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا خوفِ الٰہی بھی کمال درجے کا تھا۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن شِخِّیر فرماتے ہیں:ایک روز میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، کیا دیکھتا ہوں کہ آپ نماز پڑھ رہے ہیں اور رونے کے سبب آپ کے مبارک پیٹ سے تانبے کی دیگ(کے جوش) کی طرح آواز آ رہی ہے۔([13])
ایک ہم ہیں کہ اگر ہمارے گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہ ہو یعنی فاقے چل رہے ہوں تو ہم بیمار ہو جاتی ہیں اور بیماری کے سبب نماز پڑھنے کو دل نہیں چاہتا لیکن آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا طرزِ عمل ملاحظہ فرمائیے کہ جب آپ کے گھر میں فاقہ ہوتا تھا اور بھوک غلبہ کرتی تھی تو مسجد میں تشریف لا کر نماز میں مشغول ہوتے تھے۔([14])اور اس طرح متوجہ ہوتے کہ بھوک کا احساس تک نہ رہتا۔لہٰذا ہمیں بھی اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ آج ہم اللہ پاک کی لاکھوں نعمتیں کھانے کے باوجود اللہ پاک کی نعمتوں سے غافل ہو کر دنیا کی رنگینیوں میں کھو چکی ہیں جبکہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھلانے والے اور بھوک کے باوجود اللہ پاک کے صابر و شاکر اور اللہ پاک کی عبادت کرنے والے بندے تھے۔
نماز میرے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سکون کا سبب ہے۔جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرماتے:اے بلال!ہمیں نماز سے سکون پہنچاؤ(یعنی اے بلال!اذان دو تاکہ ہم نماز میں مشغول ہوں اور ہمیں سکون ملے۔) ([15]) آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نماز سے محبت اس عمل سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نماز میں اتنا لمبا قیام فرمایا کرتے کہ آپ کے مبارک قدموں یا پنڈلیوں پر ورم آ جاتا۔ عرض کی گئی:آپ اتنی تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں؟ ارشاد فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟([16])
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو رات میں نماز پڑھتے دیکھا، آپ تین بار یوں کہتے:اﷲ اکبر!ملکوت،جبروت،کبریائی اور عظمت والا۔پھر نماز شروع کر کے سورۂ بقرہ پڑھتے،پھر رکوع کرتے تو آپ کا رکوع آپ کے قیام کی طرح ہوتا۔رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم، سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کہتے،پھر رکوع سے سر اٹھا کر رکوع کی طرح قومہ فرماتے اور یہ کلمات کہتے:لِرَبِّیَ الْحَمْدُ،پھر سجدہ کرتے اور سجدے میں یوں کہتے:سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی،پھر سجدے سے سر اٹھا کر کہتے:رَبِّ اغْفِرْلِیْ، رَبِّ اغْفِرْلِیْ۔پھر چار رکعتیں پڑھیں جن میں سورۂ بقرہ،سورۂ الِ عمران،سورۂ نسآء،سورۂ مائدہ یا سورۂ انعام کی تلاوت کی۔([17]) رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی عبادت کے تفصیلی حالات کتبِ احادیث میں موجود ہیں، یہاں تفصیل کی گنجائش نہیں، البتہ اتنا بتا دینا ضروری ہے کہ آپ کا طرزِ عمل درمیانی حد سے کم یا زیادہ ہونے سے خالی ہوا کرتا تھا، آپ تمام رات نماز پڑھتے نہ تمام رات سوتے بلکہ رات کو نماز بھی پڑھتے اور سو بھی لیتے۔([18])
[1]… ابوداود،4/289،حدیث:4678
[2]… فیضانِ نماز،ص7
[3]… کشف المحجوب، ص 330، 331ملخصاً
[4]… احیاء العلوم،1/205
[5]… تفسیر ِنعیمی،1/300،299
[6]… مسلم، ص287،حدیث:1699ملتقطاً
[7]… ابوداود،2/29،حدیث:1251
[8]… مسلم،ص 291، حدیث:1728
[9]… سیرتِ مصطفیٰ، ص595ملخصاً
[10]… ترمذی، 1/254، حدیث: 213
[11]… فیضانِ نماز،ص7
[12]… شمائلِ محمدیۃ،ص165تا166، حدیث:261
[13]… شمائلِ محمدیہ، ص184،رقم:305
[14]… تفسیر نعیمی، 1/300
[15]… معجم کبیر، 6/277، حدیث: 6215
[16]… بخاری،1/384،حدیث:1130
[17]… ابوداود،1/332،حدیث:874
[18]… سیرت رسول عربی، ص364
Comments