موضوع:حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مہاجرین سے محبت
(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 51ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کئے جا رہے ہیں۔)
محترمہ بنتِ ابدال عطاریہ (فرسٹ پوزیشن)
(طالبہ: ففتھ ائیر گہوگا سیالکوٹ)
انبیائے کرام علیہمُ السّلام کے بعد بنی نوعِ انسان کا سب سے افضل اور مقدس طبقہ صحابۂ کرام کا ہے۔یہ وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جنہوں نے ایمان،اخلاص اور جاں نثاری کی مثالیں قائم کیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ان کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے انہیں ہدایت کے روشن ستاروں سے تعبیر فرمایا۔ہر وہ شخص صحابی کہلاتا ہے جس نے حالتِ ایمان میں حضور کی زیارت کی ہو اور ایمان ہی پر اس دنیا سے رخصت ہوا ہو۔
صحابۂ کرام دو جماعتوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔مکۂ مکرمہ سے مدینۂ منورہ ہجرت کرنے والے مہاجرین اور ان کی مدد کرنے والے انصار کہلائے۔مہاجرین نے اللہ پاک اور اس کے رسول کی رضا کی خاطر اپنے گھر بار،مال و اسباب،عزیز و اقارب اور وطن تک کو قربان کر دیا۔جب یہ بے سرو سامان قافلہ مدینۂ منورہ پہنچا تو حضور نے ان سے جس محبت،شفقت اور دلجوئی کا اظہار فرمایا،وہ رہتی دنیا تک کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
جب مکۂ مکرمہ میں کفار کے مظالم بڑھ گئے تو صحابۂ کرام نے بارگاہِ رسالت میں ہجرت کی اجازت طلب کی۔اس موقع پر حضور نے فرمایا:مجھے تمہارے دارِ ہجرت کی خبر دے دی گئی ہے اور وہ یثرب ہے،لہٰذا جو ہجرت کرنا چاہے وہ یثرب کی طرف نکل جائے۔چنانچہ صحابۂ کرام پوشیدہ طور پر مدینۂ منورہ روانہ ہونے لگے اور حضرت ابو سلمہ بن عبد اللہ الاسد رضی اللہ عنہ سب سے پہلے وہاں پہنچے۔([1])
حضور کی مہاجرین سے محبت کی ایک نمایاں مثال مواخاتِ مدینہ ہے۔مہاجرین بے سرو سامان تھے اور ان کے اہل وعیال و اموال مکہ میں رہ گئے تھے۔اگرچہ انصار نے ان کی خوب خدمت کی،لیکن حضور نے مستقل اخوت کا رشتہ قائم فرمایا،ہر مہاجر کو ایک انصاری کا بھائی بنا دیا اور فرمایا:یہ مہاجرین تمہارے بھائی ہیں۔([2])اس اقدام نے اسلامی معاشرے میں ایثار،محبت اور باہمی تعاون کی لازوال مثال قائم کر دی۔
ہجرت کے سفر میں بھی حضور نے اپنے جاں نثار ساتھی حضرت ابوبکر صدیق کی بھرپور دلجوئی فرمائی۔غارِ ثور میں جب مشرکین قریب پہنچ گئے تو حضرت صدیقِ اکبر نے عرض کی: اگر ان میں سے کسی نے اپنے قدموں کی طرف دیکھ لیا تو ہمیں دیکھ لے گا۔اس پر حضور نے ارشاد فرمایا:ابوبکر!ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ پاک ہے!([3])
اسی طرح حضور اپنے مہاجر صحابہ کی حوصلہ افزائی بھی فرمایا کرتے تھے۔غزوۂ اُحد میں حضرت سعد بن ابی وقاص سے فرمایا: تیر چلاؤ!تم پر میرے ماں باپ قربان۔([4])حضرت زبیر بن عوام کو اپنا حواری قرار دیا([5]) اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو اس اُمت کا امین ہونے کا شرف عطا فرمایا۔([6]) یہ تینوں جلیلُ القدر صحابہ بھی مہاجرین میں شامل تھے۔
الغرض مہاجرین صحابۂ کرام سے حضور کی محبت محض الفاظ تک محدود نہ تھی بلکہ آپ کے ہر عمل سے نمایاں تھی۔آپ نے ان کی قربانیوں کی قدر فرمائی،ان کے حوصلے بلند کیے اور ہر موقع پر ان کی دلجوئی فرمائی۔یہی اسوۂ نبوی ہمیں بھی یہ درس دیتا ہے کہ جو لوگ دین کی خاطر قربانی دیں،ان کی عزت کرنا، ان کا حوصلہ بڑھانا اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا اہلِ ایمان کا شیوہ ہونا چاہیے۔
محترمہ بنتِ فضل الحق عطاریہ
(طالبہ:ففتھ ائیر پاکپورہ سیالکوٹ)
اسلامی تاریخ میں ہجرت ایک ایسا عظیم اور ایمان افروز واقعہ ہے جس نے حق و باطل کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی۔جب مکہ مکرمہ کے کفار نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی تو اللہ پاک کے حکم سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنے جاں نثار صحابۂ کرام کو مدینۂ منورہ ہجرت کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔ مہاجرین نے اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی رضا کی خاطر اپنا وطن،گھر،مال و اسباب،کاروبار اور عزیز و اقارب سب کچھ چھوڑ دیا۔مدینۂ منورہ پہنچنے کے بعد ان بے سروسامان مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا سہارا حضور کی ذاتِ اقدس تھی، لہٰذا حضور نے مدینے پہنچتے ہی مہاجرین اور انصار کے درمیان مؤاخات(بھائی چارے)کا عظیم نظام قائم فرمایا،جس کی مثال تاریخِ عالم میں نہیں ملتی۔آپ نے ہر مہاجر کو ایک انصاری کا دینی بھائی بنا دیا تاکہ وہ محبت،تعاون اور ہمدردی کے ساتھ ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔
حضور کی یہ محبت صرف الفاظ تک محدود نہ تھی بلکہ آپ کا ہر عمل مہاجر صحابہ سے شفقت،خیرخواہی اور دلجوئی کا عملی نمونہ تھا۔آپ ان کے حالات پوچھتے،ان کی ضروریات کا خیال رکھتے، ان کے غم میں شریک ہوتے اور انہیں صبر و استقامت کی تلقین فرماتے۔مہاجرین نے اللہ پاک کی رضا کے لیے اپنا وطن،اہل و عیال اور مال و اسباب چھوڑ دیا تھا،اس لیے بعض اوقات جدائی کا غم انہیں بے چین کر دیتا۔ایسے مواقع پر حضور انہیں تسلی دیتے اور ارشاد فرماتے:تم اللہ پاک کی رضا کے لیے جس چیز کو بھی چھوڑو گے،اللہ پاک تمہیں اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔ ([7])
مہاجر صحابہ میں ایک جماعت اصحابِ صفہ کی تھی،جنہوں نے دنیاوی آسائشوں کے بجائے علمِ دین اور صحبتِ رسول کو اختیار کیا۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم ان کی خصوصی خبرگیری فرماتے،ان کے ساتھ بیٹھتے،ان کی تربیت کرتے اور کھانے پینے کے انتظامات میں بھی ان کا خیال رکھتے۔یہ حسنِ سلوک اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپ اپنے مہاجر صحابہ کی دینی و دنیاوی ضروریات سے کتنی گہری وابستگی رکھتے تھے۔
ہجرت کے بعد مدینے کی آب و ہوا بعض مہاجرین کے لیے موافق نہ تھی،چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق،حضرت بلال اور حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہم بخار میں مبتلا ہو گئے۔اپنے جان نثار ساتھیوں کی تکلیف دیکھ کر حضور نے بارگاہِ الٰہی میں دعا فرمائی کہ مدینے کی آب وہوا کو صحت بخش بنا دے اور اس کے بخار کو جُحفہ کی طرف منتقل فرما دے۔([8]) اللہ پاک نے اپنے محبوب کی دعا قبول فرمائی اور مہاجرین کو راحت نصیب ہوئی۔
یہ سب باتیں اس حقیقت کی دلیل ہیں کہ حضور اپنے مہاجر صحابہ سے بے حد محبت فرماتے تھے۔آپ نے ان کی قربانیوں کی قدر فرمائی،ان کی دلجوئی کی اور ہر مشکل گھڑی میں ان کا سہارا بنے۔ہمیں بھی چاہیے کہ صحابۂ کرام سے سچی محبت رکھیں، ان کی قربانیوں کو یاد کریں اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔اللہ پاک ہمیں حضور اور آپ کے صحابۂ کرام کی سچی محبت نصیب فرمائے۔آمین
[1] فقہ السیرۃ،ص222ملخصاً
[2] سیرت مصطفیٰ،ص 186
[3] مسلم،ص 998،حدیث:6169
[4] بخاری،3/37،حدیث:4055
[5] بخاری،3/55،حدیث:4113 ماخوذاً
[6] بخاری،2/546،545،حدیث:3744 ماخوذاً
[7] مسند شہاب،2/178،حدیث:1137
[8] مدارج النبوت،2/70 ملخصاً
Comments