اعتقادات و توہمات (قسط 05)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:اعتقادات و توہمات (قسط نمبر5)

ستاروں کو مؤثر جاننا:

علمِ ہیئت کے ماہرین اور قدیم یونانی فلاسفہ کے نزدیک سات آسمانوں پر سات سیارے گردش کرتے ہیں،جبکہ آٹھویں آسمان پر حرکت نہ کرنے والے ستارے ہیں۔ان پر سیاروں کے مجموعوں سے بننے والی بارہ شکلوں کو وہ بُروج کہتے ہیں،جن کے نقوش ان کے نزدیک نویں آسمان پر ظاہر ہوتے ہیں۔([1]) اہلِ نجوم کہتے ہیں کہ فلاں ستارہ جب فلاں برج میں پہنچ جاتا ہے تو بارش،قحط اور طوفان پر اثر انداز ہوتا ہے۔اسی بنا پر وہ نام اور تاریخِ پیدائش سے ستارہ نکال کر زندگی کے حالات،کامیابی و ناکامی اور مستقبل کی پیش گوئیاں کرتے ہیں،یہاں تک کہ اخبارات میں ”آپ کا ہفتہ کیسا رہے گا؟“جیسے کالم بھی اسی بنیاد پر شائع ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام باتیں بے اصل اور دورِ جاہلیت کی یادگار ہیں۔اسلام میں ایسے باطل نظریات کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ نظامِ کائنات کا حقیقی مالک و مختار صرف اللہ پاک ہے،اسی کے حکم سے ہر کام ہوتا ہے۔ستاروں کو مؤثرِ حقیقی ماننا یا ان کی ذاتی تاثیر کا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔([2])

ستاروں کی تاثیر کا عقیدہ رکھنا،مثلاً:یہ کہنا کہ فلاں ستارہ فلاں برج میں پہنچا تو بارش ہوئی،صریح باطل ہے۔اس کا رد اس حدیثِ مبارک سے بھی ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بارش ہونے کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ صحابۂ کرام نے عرض کی:اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ارشاد فرمایا:(اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:) میرے کچھ بندے مومن اور کچھ کافر ہو گئے۔ جس نے کہا:ہم پر اللہ پاک کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی،وہ مجھ پر ایمان لایا اور ستاروں کی تاثیر کا منکر ہوا اور جس نے کہا:ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی،وہ میرا منکر ہوا اور ستاروں کی تاثیر پر ایمان لایا۔([3])

بہارِ شریعت میں ہے:ستاروں کی تاثیر مانتے ہوئے یہ کہنا کہ فلاں ستارہ طلوع ہوگا تو فلاں واقعہ پیش آئے گا یا فلاں نچھتر سے بارش ہوگی،خلافِ شرع اور باطل ہے۔احادیثِ مبارکہ میں ایسے عقائد کی سختی سے تردید فرمائی گئی ہے۔([4])

اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہسے ستاروں کی سعادت ونحوست پر اعتقاد کے بارے میں سوال ہوا تو آپ نے فرمایا:نیک مسلمان کے لیے کوئی چیز نحس نہیں،کافر کے لیے کوئی چیز سعد نہیں، جبکہ گناہ گار مسلمان کے لیے اس کا اسلام ہی سعادت ہے اور قبول ہونے کی صورت میں اطاعت بھی سعادت کا سبب ہے۔ رہے ستارے،تو ان میں کوئی ذاتی سعادت یا نحوست نہیں۔ انہیں مؤثرِ حقیقی ماننا شرک،ان سے مدد مانگنا حرام اور ان کی رعایت کرنا بھی خلافِ توکل ہے۔([5])

ستاروں کے مطابق شادی کی تاریخ رکھنا:

بدقسمتی سے بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی ستاروں کی تاثیر کے اس قدر قائل ہو چکے ہیں کہ شادی،کاروبار اور دیگر اہم فیصلے بھی ستاروں کی نقل و حرکت کے مطابق کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ نجومی ایسے لوگوں کو دھوکا دے کر بڑی بڑی رقمیں بٹورتے رہتے ہیں۔بسا اوقات لڑکا لڑکی کا رشتہ طے ہونے اور ضروری تحقیق مکمل ہونے کے باوجود صرف یہ کہہ کر انکار کر دیا جاتا ہے کہ دونوں کے ستارے آپس میں نہیں ملتے،اس لیے یہ شادی کامیاب نہیں ہوگی۔

یاد رہے!ستاروں کا انسانی قسمت سے کوئی تعلق نہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت قتادہ رحمۃُ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اللہ پاک نے ستارے تین مقاصد کے لیے پیدا فرمائے:آسمان کی زینت، شیاطین کو سنگسار کرنے اور راستوں کی رہنمائی کے لیے۔جس نے اس کے علاوہ کوئی اور معنی بیان کیے،اس نے غلطی کی اور بلا علم بات کی۔([6])لہٰذا مسلمانوں کو ستاروں کی تاثیر،برجوں کی پیش گوئیوں یا آپ کا آج،ہفتہ یا مہینا کیسا گزرے گا؟جیسی تحریروں پر یقین رکھنا چاہیے نہ شادی کے لیے لڑکے لڑکی کے ستاروں کے ملنے یا نہ ملنے کو کوئی حیثیت دینی چاہیے۔

نجومیوں کے پاس جانا:

بہت سے لوگ قسمت کا حال معلوم کرنے کے لیے کاہنوں،نجومیوں اور رمل وجفر کے جھوٹے دعویداروں کے پاس جاتے،ہاتھ دکھاتے اور فال نکلواتے ہیں،پھر انہی کے مطابق اپنے مستقبل کے فیصلے کرتے ہیں، حالانکہ یہ سخت نقصان کا راستہ ہے۔جیسا کہ ایک روایت میں ہے:جو کسی کاہن کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی،وہ اس سے بری ہوگیا جو اللہ پاک نے (مجھ) محمد پر نازل فرمایا اور جو کاہن کے پاس گیا مگر اس کی تصدیق نہ کی،اس کی چالیس راتوں کی نماز قبول نہیں کی جاتی۔([7]) اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: کاہنوں اور جَوتشیوں سے ہاتھ دکھا کر تقدیر کا بھلا برا دریافت کرنا اگر بطور اعتقاد ہو یعنی جو یہ بتائیں حق ہے تو کفرِخالص ہے،اسی کو حدیث میں فرمایا:فَقَدْ کَفَرَ بِمَا اُنزِلَ عَلٰی مُحَمَّد اس نے محمد پر نازل ہونے والی چیز کا انکار کیا  اور اگر بطور اعتقاد و تَیَقُّن (یعنی یقین رکھنے کے) نہ ہو مگر میل و رغبت کے ساتھ ہو تو گناہِ کبیرہ ہے،اسی کو حدیث میں فرمایا: لَمْ یَقْبَلِ اﷲ ُلَہُ صَلٰوۃ اَرْبَعِیْنَ صَبَاحًا یعنی اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہ فرمائیگا،اور اگر بطور ہزل و استہزاء(یعنی ہنسی مذاق کے طور پر) ہو تو عبث(یعنی بے کار) و مکروہ حماقت ہے،ہاں!اگر بقصدِ تَعْجِیْز (یعنی اسے عاجز کرنے کے لئے) ہو تو حرج نہیں۔([8]) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ  میں نے عرض کی: یارسول اللہ!بے شک کاہنوں کی بتائی ہوئی بات سچ بھی نکلتی ہے۔ ارشاد فرمایا:وہ ایک سچی بات ہوتی ہے جسے جِنّ اُچک کر اپنے دوست (کاہن)کے کان میں ڈال دیتا ہے، پھر کاہن اس ایک سچی بات میں سو سے زیادہ جھوٹی باتیں ملا دیتا ہے۔ ([9])

روشن ستارہ دیکھ کر دعا مانگنا:

بعض لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ آسمان پر ٹوٹتا یا چمکتا ہوا ستارہ دیکھ کر فوراً دعا مانگنی چاہیے،کیونکہ اس وقت دعا قبول ہوتی ہے،اسی وجہ سے اسے Wishing Star بھی کہا جاتا ہے۔حالانکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ عقیدہ بے بنیاد ہے۔اگرچہ دعا کی قبولیت کے بعض اوقات، مثلاً: تہجد، اذان و اقامت کے درمیان اور بارش کے وقت، احادیث میں بیان ہوئے ہیں،لیکن ٹوٹتے ستارے کو دعا کی قبولیت کا ذریعہ کہیں نہیں بتایا گیا۔حقیقت یہ ہے کہ پہلے شیاطین آسمانوں سے بعض خبریں سن کر کاہنوں تک پہنچاتے تھے،مگر حضور کی تشریف آوری کے بعد اللہ پاک نے انہیں شہابِ ثاقب کے ذریعے روک دیا۔چنانچہ جب وہ آسمانی خبریں سننے کی کوشش کرتے ہیں تو ان پر آگ کے شعلے پھینکے جاتے ہیں، جنہیں ہم زمین سے ٹوٹتے ہوئے ستاروں کی صورت میں دیکھتے ہیں۔([10])

یاد رہے!اسلام ستاروں سے فائدہ اٹھانے سے منع نہیں کرتا، بلکہ انہیں سمت معلوم کرنے،وقت کے تعین اور دیگر جائز مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔اسی بنا پر مسلمان ماہرینِ فلکیات نے ستاروں کی حرکات کا مطالعہ کیا، کیلنڈر مرتب کیے اور قبلہ معلوم کرنے جیسے مفید طریقے ایجاد کیے،مگر کبھی بھی ستاروں کو مؤثرِ حقیقی نہیں مانا بلکہ انہیں اللہ پاک کی قدرت کی نشانیاں قرار دیا۔اللہ پاک ہمیں ہر قسم کی توہم پرستی اور باطل عقائد سے محفوظ فرمائے۔آمین

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* طالبہ فیضان آن لائن اکیڈمی عرب،بحرین



[1] رسم و رواج کی شرعی حیثیت،ص500ملخصاً

[2] شرح صحیح مسلم،1/527 ملخصاً

[3] بخاری،1/354،حدیث:1038

[4] بہار شریعت،3/659،حصہ:16ملخصاً

[5] فتاویٰ رضویہ،21/223 ملتقطاً

[6] بخاری،2/377

[7] معجم اوسط،5/87،حدیث:6670

[8] فتاویٰ رضویہ،21/ 155 ملخصاً

[9] مسلم،ص 944،حدیث:5816

[10] تفسیر خازن،3/97 مفہوماً


Share