جمعرات اور شبِ جمعرات کی عبادات
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:جمعرات اور شبِ جمعرات کی عبادات

جمعرات کا دن بہت ہی بابرکت ہے کیونکہ اس میں برکت کے لئے خود نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے خصوصی دعا کرتے ہوئے ارشادفرمایا:اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لِاُمَّتِیْ فِیْ بُکُوْ رِہَا یَوْمَ خَمِیْسِہَا یعنی اے  اللہ!میری اُمّت کے روزِ جمعرات کی صبح میں برکت عطا فرما۔([1])

جمعرات کا دن کیسے گزاریں؟

جمعرات کے  دن کی  برکتیں پانے کےلئے نبیِ پاک   صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کی بارگاہ  میں کثرت سے درود و سلام پیش کیجئے کہ ایک روایت میں ہے:جب جمعرات کا دن آتا ہے،اللہ کریم فرشتوں کو بھیجتا ہے،جن کے پاس چاندی کے کاغذ اور سونے کے قلم ہوتے ہیں،وہ لکھتے ہیں  کہ  کون روزِ جمعرات اور شبِ جمعہ مجھ پر کثرت سے درودِ پاک پڑھتا ہے۔([2]) اور  جذب القلوب میں ہے:جو جمعرات کے دن 100 بار درود شریف پڑھے کبھی محتاج نہ ہو۔([3])

جمعرات کے دن کے نوافل:

مومنین و متوکلین کی تعداد کے برابر نیکیاں:

جس نے جمعرات کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دو رکعت یوں پڑھیں کہ پہلی میں ایک بار سورۂ فاتحہ اور 100 بار آیۃ الکرسی جبکہ دوسری میں ایک بار سورۂ فاتحہ اور 100 بار سورۂ اخلاص پڑھی اور پھر بعد میں 100بار درودِ پاک پڑھا تو اللہ پاک اسے رجب،شعبان اور رمضان کے روزے رکھنے کا ثواب عطا فرمائے گا،اس کے لئے حجِ بیت اللہ کرنے والے کی مثل ثواب ہو گا اور اس کے لئے اللہ پاک پر ایمان لانے اور اس پر بھروسا کرنے والوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھی جائیں گی۔([4])

شبِ جمعرات کے نوافل:

شہدا و صدیقین کا مرتبہ:

جس نے جمعرات کی رات مغرب و عشا کے درمیان دو رکعت اس طرح پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور پانچ بار آیۃ الکرسی،پانچ بار سورۂ اخلاص اور پانچ پانچ بار معوذتین(یعنی سورۂ فلق و ناس)پڑھیں اور سلام کے بعد 15 بار استغفار کیا اور اس کا ثواب اپنے والدین کو پہنچایا تو تحقیق اس نے والدین کا حق ادا کر دیا اگرچہ ان کا نافرمان ہو اور  اللہ پاک اسے شہدا و صدیقین کا مرتبہ عطا فرمائے گا۔([5])

جمعرات کے روزے کی فضیلت:

ممکن ہو تو اس دن کا روزہ رکھ لیجئے کہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم پیر اور جمعرات کے روزے کا خاص خیال رکھتے تھے۔([6])چنانچہ بارگاہِ رسالت میں ان دو دنوں کے روزوں کے متعلق عرض کی گئی تو حضور نے فرمایا:یہ وہ دن ہیں جن میں اللہ پاک کی بارگاہ میں اعمال پیش کیے جاتے ہیں،لہٰذا میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال روزے کی حالت میں پیش کیے جائیں ۔([7]) ایک روایت میں ہے کہ حضور نے فرمایا:ان دونوں دنوں میں اللہ پاک ہر مسلمان کی مغفرت فرماتا ہے مگر وہ دو شخص جنہوں نے باہم(یعنی آپس میں )جدائی کر لی ہے ان کے متعلق فرشتوں سے فرماتا ہے:انہیں چھوڑ دو،یہاں تک کہ صلح کر لیں۔([8]) چنانچہ حضور کی سنت پر عمل کرتے ہوئے حضرت عبّاس  رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ اُمِّ فَضْل رضی اللہ عنہا کے متعلق منقول ہے کہ آپ ہر پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتیں ۔ ([9])

جمعرات کے روزے کی فضیلت دیگر احادیث سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔چنانچہ مروی ہے کہ جس نے بدھ،جمعرات اور جمعہ کا روزہ رکھا اللہ پاک اس کے لئے جنت میں  ایک مکان بنائے گا جس کا باہر کا حصہ اندر سے اور اندر کا باہر سے دکھائی دے گا۔([10]) اور ایک روایت کے مطابق اللہ پاک اس کے لئے جنت میں  موتی،یاقوت اور زبرجد کا محل بنائے گا اور اس کے لئے دوزخ سے آزادی  لکھ دی جا ئے گی۔([11])

اسی طرح ایک صحابی کو نفل روزوں کے بارے میں رہنمائی دیتے ہوئے حضور نے رمضان،شوال اور ہر بدھ و جمعرات کے روزے رکھنے کی ترغیب دی اور فرمایا کہ ایسا کرنے والا گویا ہمیشہ روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔([12])

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے بھی نقل فرمایا ہے کہ اگر جمعہ کے روزے کے ساتھ جمعرات یا ہفتہ کا روزہ بھی شامل کر لیا جائے تو اس کا ثواب دس ہزار برس کے روزوں کے برابر ہے۔([13])

ہمیں بھی فرض روزوں کے ساتھ نفل روزے رکھنے کی عادت ڈالنی چاہئے،اس کے بہت سے دینی اور دنیاوی فوائد ہیں،دینی فوائد یہ ہیں کہ اس میں جہنم سے نجات،جنت میں جانے کا حصول اور ایمان کی حفاظت ہوتی ہے،دنیاوی فوائد یوں کہ پیٹ کے بہت سارے امراض سے حفاظت اور دن بھر کھانے پینے میں استعمال ہونے والے وقت کی بچت ہو گی اور تمام فوائد کی اصل یہ ہے کہ اس سے اللہ پاک اور رسول ِکریم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کی رضا حاصل ہوتی ہے۔

جمعرات کو ایصال ِ ثواب کرنا کیسا؟

نیک اعمال کا ایصالِ ثواب کرنا ہر دن جائز اور باعثِ اجر و ثواب ہے،بالخصوص والدین،عزیز و اقارب اور گھر کے دیگر مرحومین کے لیے دعا کرنا نہایت فضیلت کا کام ہے۔یہ عمل قرآنِ پاک اور احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے۔البتہ آسانی اور یاد دہانی کے لیے کوئی دن مقرر کرنا بھی جائز ہے،بشرطیکہ اسے شرعاً لازم نہ سمجھا جائے۔اسی لیے ہر جمعرات کو،خصوصاً مغرب سے پہلے یا بعد،اپنے مرحوم رشتہ داروں کے لیے دعا،تلاوتِ قرآن، صدقہ اور دیگر نیک اعمال کا ایصالِ ثواب کرنا چاہیے۔

علامہ محمد عبدُ الرَّءُوف مُناوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:امام قزوینی فرماتے ہیں:جمعرات کا دن بڑا مبارک دن ہے خاص کر حاجت طلب کرنے اور سفر شروع کرنے کے لئے۔حضرت صَخْر  رحمۃ اللہ علیہ جمعرات کو سفر پر جاتے تھے اور بڑے مال دار ہو گئے۔([14])مزید فرماتے ہیں:روزِ جمعرات علم حاصل کرنے کے لئے صبح سویرے بیٹھنا مستحب ہے اور بروز جمعرات یا پیر کو علم شروع کرنا(یعنی کسی دینی کتاب کی شروعات)کرنا مستحب ہے۔بعض لوگ علم کی شروعات  کرنے کے لئے بدھ کے دن کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ بدھ یومِ نور ہے۔البتہ!بعض صاحبِ علم و ولایت وصیت فرماتے ہیں کہ تالیف و قراءت کی شروعات بروز پیر اور جمعرات کو ہونی چاہئے۔([15])

                             الغرض!جمعرات کا دن رحمتوں کا دروازہ،برکتوں کا پیش خیمہ اور شبِ جمعہ کی نورانی ساعتوں کا استقبال ہے۔یہ وہ بابرکت دن ہے جس کی صبح اللہ پاک کی رحمتوں اور مغفرت کی خوشبو سے معطر ہوتی ہے،جبکہ اس کی شام شبِ جمعہ کی مقدس اور نورانی فضاؤں میں داخل ہو جاتی ہے۔یہی وہ دن ہے جس میں بندوں کے اعمال بارگاہِ الٰہی میں پیش کیے جاتے ہیں۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اس مبارک دن کو غفلت میں نہ گزاریں،بلکہ دیگر دنوں کی طرح بلکہ ان سے بڑھ کر عبادت،تلاوتِ قرآن،ذکرِ الٰہی، دعا، صدقہ و خیرات اور دیگر نیک اعمال کا اہتمام کریں،تاکہ ہمارے اعمال بہترین صورت میں بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* شعبہ ذمہ دار ماہنامہ خواتین




[1]مسند بزار،11/448،حديث:5312،فیضانِ ایام،ص22

[2]کنز العمال،جز1،1/250،حدیث:2174،فیضان ایام،ص 25

[3] جذب القلوب،ص240

[4]قوت القلوب،1/54،احیاء علوم  الدین،1 /267

[5]قوت القلوب،1/56،احیاء علوم الدین،1/ 269

[6]ترمذی،2/186،حدیث:745

[7]نسائی،ص387،حدیث:2355

[8]ابنِ ماجہ،2/344،حدیث:1740

[9]طبقات ابن سعد،8/217،صحابیا ت و صحالحات کے اعلی اوصاف،ص39

[10]معجم اوسط،1/87،حدیث:253

[11]شعب الایمان،3/397،حدیث:3873

[12]شعب الایمان،3/395،حدیث:3868

[13]فتاوی رضویہ،10 / 653ملخصاً

[14]فیض القدیر،2/133،تحت الحدیث:1458

[15]فیض القدیر،2/23،تحت الحدیث:1214ملتقطاً،فضائل الایام و الشہور،ص 141ملخصاً


Share