موضوع: وضو کی اہمیت،فضیلت اور برکات
انسان اپنی روزمرہ زندگی میں صفائی ستھرائی کا اہتمام کرتا ہے۔ صاف لباس، پاکیزہ جسم، صاف گھر اور عمدہ ظاہری حالت انسان کے وقار اور سلیقے کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ دینِ اسلام نے بھی ظاہری پاکیزگی کی ترغیب دی ہے، لیکن اسلام کی تعلیمات صرف جسم اور لباس کی صفائی تک محدود نہیں بلکہ انسان کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطن کی پاکیزگی پر بھی توجہ دلاتی ہیں۔
وضو اسی پاکیزگی کا ایک خوب صورت عملی مظہر ہے۔ وضو کے ذریعے مسلمان نماز اور دیگر عبادات کے لیے ظاہری پاکیزگی حاصل کرتے ہیں اور ساتھ ہی اللہ پاک کی رحمت و رضا کے مستحق بھی بنتے ہیں۔الغرض وضو محض ہاتھ، منہ اور پاؤں دھونے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی عبادت ہے جو بندے کو اپنے رب کے حضور حاضری کے لیے تیار کرتی ہے۔
اللہ پاک نے پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے اپنی محبت کا ذکر یوں فرمایا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ(۲۲۲) (پ2،البقرۃ:222)
ترجمہ: بیشک اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب صاف ستھرے رہنے والوں کو پسند فرماتاہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا:پاکیزگی نصف ایمان ہے۔([1])جبکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا:بے شک اسلام صاف ستھرا(دین)ہے تو تم بھی پاکیزگی حاصل کیا کرو کیونکہ جنت میں صاف ستھرا رہنے والا(مسلمان)ہی داخل ہو گا۔([2])
ان ارشادات سے معلوم ہوا کہ پاکیزگی اسلام کی اہم تعلیمات میں سے ہے۔ بدن کی پاکیزگی ہو یا لباس کی ستھرائی، ظاہری شکل و صورت کی عمدگی ہو یا رہن سہن کا سلیقہ، گھر اور سامان کی صفائی ہو یا دیگر معاملات میں پاکیزگی و نفاست، اسلام انسان کو پاکیزہ اور صاف ستھرا رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔
وضو کی ابتدا کیسے ہوئی؟
وضو کی اہمیت اور فضیلت جاننے سے پہلے یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ وضو کی ابتدا کیسے ہوئی!اس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ طواف فرما رہے تھے کہ ایک شخص نے وضو کی ابتدا کے بارے میں سوال کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے طواف مکمل فرمایا، پھر اس شخص کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وضو کی ابتدا سے متعلق ایک تفصیلی واقعہ بیان فرمایا۔([3])
اس روایت کے مطابق، جب اللہ پاک نے فرشتوں کو حضرت آدم علیہ السّلام کی خلافت کے بارے میں بتایا تو فرشتوں نے اس معاملے کی حکمت پوچھی۔اللہ پاک نے فرمایا:
اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰) (پ1،البقرۃ:30)
ترجمہ:بیشک میں وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتے ۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
پھر روایت میں آگے آتا ہے کہ فرشتوں نے اللہ پاک کے حضور توبہ واستغفار کیا تو انہیں وضو کے مختلف اعضا دھونے اور مسح کرنے کا حکم دیا گیا۔ فرشتوں نے اللہ پاک کے حکم کے مطابق عمل کیا، پھر انہیں بتایا گیا کہ حضرت آدم علیہ السّلام اور ان کی اولاد میں سے جو مومن اسی طرح وضو کرے گا، اسے مغفرت و رضا کی نعمتیں عطا ہوں گی۔ یوں اس روایت میں وضو کو اللہ پاک کی مغفرت و رضا کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔([4])
سبحان اللہ! وضو کی یہ برکت کتنی عظیم ہے کہ مسلمان جب پاکیزگی کی نیت سے وضو کرتے ہیں تو ظاہری پاکیزگی کے ساتھ گناہوں سے پاکیزگی اور اللہ پاک کی رضا کی امید بھی رکھتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ وضو کو صرف ایک معمول سمجھ کر نہ کریں بلکہ اس عظیم عبادت کی قدر کرتے ہوئے اس کے آداب اور فضائل کو پیشِ نظر رکھیں۔
باوضو رہنے کی اہمیت:
وضو صرف نماز سے پہلے پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ اللہ پاک کے نیک بندوں کا معمول بھی رہا ہے۔ صوفیائے کرام کے ہاں ہر وقت باوضو رہنے کا خصوصی اہتمام ملتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انسان کو اپنی موت کا وقت معلوم نہیں، اس لیے وہ چاہتا ہے کہ جب بھی موت آئے، پاکیزگی کی حالت میں اپنے رب کے حضور حاضر ہو۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ عقیدت مندوں کی تربیت اور اصلاح کے لیے گفتگو فرماتے تو بزرگانِ دین کے بعض نصیحت آموز ارشادات بھی بیان فرماتے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہاکثر یہ دو اشعار پڑھا کرتے جن میں تصوف کے آٹھ اہم آداب بیان کیے گئے ہیں:
با وضو رہ ، بول تھوڑا ، کر ذکر ربط دل رکھ پیر سے ، کھو دے خطر
رہ جدا لوگوں سے ، تھوڑا کھا طعام اعتراضی چھوڑ ، آٹھوں ہیں تمام
ان اشعار میں اللہ پاک کی محبت اور اس کی راہ پر چلنے والوں کے آداب میں سب سے پہلے باوضو رہنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ چنانچہ سفر ہو یا حضر، صوفیائے کرام ہر وقت باوضو رہنے کی کوشش کرتے تھے۔
حضرت ابو نصر سراج طوسی رحمۃ اللہ علیہفرماتے ہیں کہ صوفیا کے آداب میں سے ایک ادب یہ ہے کہ وہ سفر میں ہمیشہ باوضو رہتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ معلوم نہیں کب موت آجائے، کیونکہ اللہ پاک فرماتا ہے:
اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ(۴۹) (پ11،يونس:49)
ترجمہ:تو جب وہ مدت آ جائے گی تو وہ لوگ ایک گھڑی نہ تو اس سےپیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے ہو سکیں گے۔([5])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اسی جذبے کے تحت اللہ والوں کا معمول تھا کہ وہ ہمیشہ باوضو رہنے کی کوشش کرتے تاکہ اگر اچانک موت آجائے تو پاکیزگی کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوں۔ یہاں تک کہ ایک بزرگ کے متعلق منقول ہے کہ اگر ان کا وضو باقی نہ رہتا اور قریب ہی دریا پر وضو کرنے کے لیے جانا ہوتا تو پہلے تیمم کر لیتے، اس اندیشے سے کہ کہیں دریا تک پہنچنے سے پہلے موت نہ آجائے۔
وضو کے فضائل:
(1)وضو گناہ جھڑنے کا ذریعہ ہے:
اللہ کریم کےآخری رسول صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے فرمایا:جب بندۂ مومن وضو کرتے ہوئے کُلّی کرتا ہے تو اس کے منہ سے گناہ نکل جاتے ہیں،جب ناک میں پانی ڈالتا ہے تو ناک کے گناہ نکل جاتے ہیں،جب چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ نکل جاتے ہیں،یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کے کناروں کے نیچے کے گناہ بھی نکل جاتے ہیں۔جب اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے دونوں ہاتھوں کے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے ہاتھوں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں۔ جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ جھڑ جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے کانوں کے گناہ بھی جھڑ جاتے ہیں۔جب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں کے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ پاؤں کے ناخنوں کے گناہ بھی نکل جاتے ہیں۔([6])
(2)بروزِ قیامت وضو کرنے والے کی پیشانی چمکتی ہوگی:
حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کا فرمانِ عالیشان ہے:میری اُمّت کو قیامت کے دن پکارا جائے گا تو وضو کے باعث ان کی پیشانیاں اور قدم چمکتے ہوں گے،لہٰذا تم میں سے جو اپنی چمک میں اضافہ کرنے کی طاقت رکھے اُسے چاہیے کہ وہ ایسا ہی کرے۔ ([7])
(3)مشقت کے وقت کامل وضو درجات کی بلندی کا سبب ہے:
حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے صحابہ سے ارشاد فرمایا:کیا میں تمہاری ایسے عمل کی طرف راہ نمائی نہ کروں جس کے سبب اللہ پاک گناہ مٹاتا اور درجات کو بلند فرماتا ہے؟صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی:یا رسولَ اللہ!کیوں نہیں!ارشاد فرمایا: دشواری کے وقت کا مل وضو کرنا، مسجد کی طرف کثرت سے چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا،پس یہی گناہوں سے حفاظت کے لئے قلعہ ہے۔([8])
(4)وضو پر وضو کرنا دس نیکیاں پانے کا ذریعہ ہے:
حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا:جو وضو ہونے کے باوجود وضو کرےاس کے لئےدس نیکیاں لکھی جائیں گی۔([9])
(5)وضو کر کے دو رکعت پڑھنا جنت واجب کرنے والا عمل ہے:
نبی پاک صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کا فرمانِ جنت نشان ہے:جو اچھے طریقے سے وضو کرے،پھر کھڑے ہو کر دو رکعتیں دل جمعی سے ادا کرے تو اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی۔ ([10])
با وضو رہنے کی برکتیں
وضو کی بے شمار برکتیں ہیں جن میں سے چند یہ ہیں :
(1) حالتِ وضو میں وفات پانا:
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرمایا:اے میرے بیٹے!اگر تم ہمیشہ با وضو رہنے کی طاقت رکھو تو ایسا ہی کرو کیونکہ مَلَکُ الْمَوْت(یعنی روح نکالنے والا فرشتہ)جس بندے کی روح حالتِ وضو میں نکالتا ہے اس کے لئے شہادت لکھ دی جاتی ہے۔([11])
(2) باوضو سو کر دعا کرنے کی فضیلت:
اللہ پاک کے سب سے آخری نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا:جو با وضو اللہ پاک کا ذکر کرتے ہوئے اپنے بستر کی طرف آئے یہاں تک کہ اس پر غنودگی چھا جائے تو وہ رات کی جس گھڑی میں بھی اللہ پاک سے دنیا اور آخرت کی جو بھلائی طلب کرے اللہ پاک اسے وہ بھلائی عطا فرما دے گا۔([12])
(3)ہر وقت با وضو رہنا مومن کی صفت ہے:
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے فرمایا:دین پر ثابت قدم رہو تم ہرگز اس کی برکات شمار نہ کر سکو گے اور جان لو کہ تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل نماز ہے اور مومن ہی ہر وقت با وضو رہ سکتا ہے۔([13])
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتےہیں: ہر وقت باوضو رہنا ہرحدث(وضو توڑنے کا سبب پائے جانے)کے بعد معاً (یعنی فوراً)وضو کرنا مستحب ہے۔وضو کی محافظت اسلام کی سنت ہے۔ ([14])
بعض عارفین نے فرمایا:جو ہمیشہ با وضو رہے اللہ تعالیٰ اُسے سات فضیلتوں سے مشرف فرمائے:
1۔ملائکہ (فرشتے)اس کی صحبت میں رغبت کریں۔
2۔قلم اُس کی نیکیاں لکھتا رہے۔
3۔اُس کے اعضاء تسبیح کریں۔
4۔اُس سے تکبیرِ اُولیٰ فوت نہ ہو۔
5۔جب سوئے اللہ تعالیٰ کچھ فرشتے بھیجے کہ جن و انس(یعنی جنات اور انسان)کے شر سے اس کی حفاظت کریں۔
6۔سکراتِ موت(یعنی موت کی تکلیف) اُس پر آسان ہو۔
7۔جب تک باوضو ہو امانِ الٰہی میں رہے۔([15])
وضو کے دوران اور بعد میں پڑھے جانے والے اذکار:
وضو کے ہر عمل میں پاکیزگی کے ساتھ اللہ پاک کی یاد بھی شامل ہوجائے تو اس عبادت کی برکت مزید بڑھ جاتی ہے۔ وضو مکمل کرنے کے بعد نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بعض دعائیں اور اذکار ارشاد فرمائے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ وضو کے بعد انہیں پڑھنے کا معمول بنائیں۔
جنت کی بشارت:
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے فرمایا:تم میں سے جو کامل وضو کرے،پھر یہ کلمہ اَشْهَدُ اَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ، وَ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللَّهِ وَ رَسُولُهُ پڑھے تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے۔ ([16])
مضبوط مہر:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے فرمایا:جو وضو کرنے کے بعد یہ کلمات سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَ بِحَمْدِكَ،لَآ اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُكَ وَ اَتُوبُ اِلَيْكَ پڑھے تو ان کلمات کو چمڑے میں لکھ کر مہر لگا دی جاتی ہے،پھر اس مہر کو قیامت تک توڑا نہیں جائے گا۔([17])
نظر کبھی کمزور نہ ہو:
جو وضو کے بعد آسمان کی طرف دیکھ کر ایک مرتبہ سورۂ قدر پڑھ لیا کرے تو ان شاء اللہ اس کی نظر کبھی کمزور نہیں ہو گی۔([18])
وضو کے بعد تین بار سورۂ قدر پڑھنے کے فضائل:
حدیثِ مبارک میں ہے:جو وضو کے بعد ایک مرتبہ سورۂ قدر پڑھے تو وہ صدیقین میں سے ہے،جو دو مرتبہ پڑھے وہ شہیدوں میں شمار کیا جائے اور جو تین مرتبہ پڑھے تو اللہ پاک میدانِ محشر میں اسے اپنے انبیا کے ساتھ رکھے گا۔([19])
وضو کے بعد کی دعا:
جو وضو کرنے کے بعد یہ دعا پڑھے: سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَ بِحَمْدِكَ،اَشْهَدُ اَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُكَ وَ اَتُوبُ اِلَيْكَتو یہ دعا مہر لگا کر عرش کے نیچے رکھ دی جائے گی اور قیامت کے دن اس پڑھنے والے کو دی جائے گی۔([20]) وضو کے بعد یہ دعا بھی پڑھ لیجئے: اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ ۔([21])
تحیۃ الوضو کا ثواب:
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے نمازِ فجر کے وقت ارشاد فرمایا: اے بلال!مجھے اپنے اسلام میں کئے گئے سب سے زیادہ امید دلانے والے عمل کے بارے میں بتاؤ کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آواز سنی ہے۔انہوں نے عرض کی:میں نے اتنی امید دلانے والا عمل تو کوئی نہیں کیا، البتہ!میں دن اور رات کی جس گھڑی میں بھی وضو کرتا ہوں تو جتنی رکعتیں ہو سکتی ہیں نماز ادا کر لیتا ہوں۔([22])
امام غزالی کی اہم نصیحت:
حضرت امام محمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وضو کے بعد جب بندہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اسے یہ سوچنا چاہیے کہ اس نے اپنے جسم کو پاک کر لیا ہے، حالانکہ جسم تو لوگوں کی نگاہوں کے سامنے ہوتا ہے۔اصل توجہ اس دل کی پاکیزگی پر ہونی چاہیے جس پر اللہ پاک کی نظر ہوتی ہے۔اس لیے اللہ پاک کے حضور کھڑے ہونے سے پہلے دل کو بھی گناہوں،برے خیالات اور ناپسندیدہ اخلاق سے پاک کرنا ضروری ہے۔دل کی حقیقی صفائی توبہ،اخلاص اور اچھے اخلاق اختیار کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔جو صرف ظاہری صفائی پر اکتفا کرے اور اپنے باطن کی اصلاح نہ کرے، اس کی مثال ایسے شخص کی ہے جو کسی عظیم مہمان کے استقبال کے لیے گھر کے صرف دروازے کو سجا دے،لیکن گھر کے اندر گندگی اور بدبو باقی رہنے دے۔ظاہر ہے کہ ایسا طرزِ عمل عقل و دانائی کے خلاف ہے۔اسی طرح اللہ پاک کے حضور حاضر ہونے سے پہلے ظاہری پاکیزگی کے ساتھ دل کی پاکیزگی کا اہتمام بھی نہایت ضروری ہے۔([23])
الغرض وضو صرف جسمانی صفائی کا نام نہیں بلکہ*یہ ایک ایسا خوبصورت اور نورانی عمل ہے جو انسان کے ظاہر اور باطن دونوں کو نکھار دیتا ہے۔*یہ عبادت کو انجام دینے کے لئے ایک بہترین روحانی تیاری ہے۔*اس سے روح کو تازگی نصیب ہوتی ہے۔*بندہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے کا شرف پانے کے لئے پوری طرح تیار ہوجاتا ہے اور* یہ اسلام کی خوبصورتی کا بہترین نمونہ ہے ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* شعبہ ذمہ دار ماہنامہ خواتین
[1]مسلم،ص115،حدیث:534
[2]کنز العمال، الجزء التاسع، 5/123،حدیث: 25996
[3]سلوۃ العارفین،1/171،170
[4]سلوۃ العارفین،1/171،170
[5]اللمع فی تاریخ التصوف ،ص227
[6] نسائی، ص 25، حدیث:103
[7]بخاری،1/71،حدیث:136
[8]مسلم،ص123، حدیث: 587
[9]ابو داود،1/ 56، حدیث:62
[10]مسلم، ص118، حدیث:553
[11] شعب الایمان،3/29، حدیث:2783
[12] ترمذی، 5/311، حدیث:3537
[13]ابن ماجہ ،1/178، رقم:277
[14]فتاویٰ رضویہ،1/944
[15]فتاویٰ رضویہ، 1/ 945
[16]مسلم،ص118، رقم: 553
[17]معجم اوسط، 1/397،رقم: 1455
[18]مسائل القرآن،ص290
[19] کنز العمال،الجزء التاسع، 5 / 132، رقم: 26085
[20]شعب الایمان،3/21،رقم:2754
[21]ترمذی،1/121،حدیث:55
[22]بخاری،1/390، رقم: 1149
[23] احیاء علوم الدین،1 /185 ملخصاً


Comments