(نیک عمل نمبر 46)
بے شک زبان اللہ پاک کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔حجم میں چھوٹی ہونے کے باوجود اس کے ذریعے انسان بڑے بڑے نیک اعمال بھی انجام دے سکتا ہے اور سنگین گناہوں میں مبتلا بھی ہوسکتا ہے۔ایمان و کفر کا اظہار بھی زبان ہی سے ہوتا ہے،اسی لیے زبان کی حفاظت نہایت اہم ہے۔احادیثِ مبارکہ میں بھی زبان کو گناہوں سے محفوظ رکھنے کی خصوصی تاکید فرمائی گئی ہے۔
زبان کی آفات بہت زیادہ ہیں،جن میں بے فائدہ گفتگو، فضول کلام،باطل باتوں میں مشغول ہونا،فحش کلامی،گالی گلوچ، بدکلامی،لعنت بھیجنا اور جھوٹے وعدے کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ ان آفات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان بولنے سے پہلے سوچے اور اپنی زبان کو صرف مفید،جائز اور نیکی کی باتوں میں استعمال کرنے کی کوشش کرے۔
خاموشی حکمت ہے:
ایک مرتبہ حضرت لقمان حکیم رحمۃُ اللہ علیہ حضرت داود علیہ السّلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اس وقت آپ زِرہ بنا رہے تھے۔حضرت لقمان حکیم رحمۃُ اللہ علیہاسے دیکھ کر حیران ہوئے اور پوچھنا چاہا کہ یہ کیا ہے،مگر حکمت کے سبب خاموش رہے۔جب حضرت داود علیہ السّلام زرہ بنانے سے فارغ ہوئے تو اسے پہن کر فرمایا:جنگ کے لیے زرہ کیا ہی اچھی چیز ہے!یہ سن کر حضرت لقمان حکیم رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا: خاموشی حکمت ہے،مگر اسے اختیار کرنے والے کم ہیں۔([1])
زبان کی اسی اہمیت کے پیشِ نظر امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے اُمّتِ مسلمہ کو زبان کی آ فات سے بچانے کے لیےسوال نمبر46عطا فرمایا ہے کہ کیا آج آپ نے زبان کو فضول استعمال (یعنی وہ گفتگو جس سے دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو )سے بچانے کی عادت بنانے کے لئے کچھ نہ کچھ اشارے سے گفتگو کی؟(زہے نصیب! روزانہ کم از کم چار بار لکھ کر اور کم از کم تین بار اشارے سے گفتگو کرنے کی سعادت حاصل ہو۔)
زبان کی آفات بہت زیادہ ہیں اور ان میں ایک اہم آفت فضول کلام بھی ہے۔علامہ احمد صاوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: لغو سے مراد ہر وہ بات یا کام ہے جس میں مسلمان کے لیے دینی یا دنیوی کوئی فائدہ نہ ہو،جیسے مذاق،کھیل کود،فضول کاموں میں وقت ضائع کرنا وغیرہ۔مسلمان کو چاہیے کہ اپنی زندگی نیک اعمال اور جائز ضروریات میں مصروف رکھے۔([2])
احادیثِ مبارکہ میں بھی زبان کی حفاظت اور بے فائدہ امور سے بچنے کی ترغیب دی گئی ہے۔حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے نجات کے بارے میں پوچھا تو حضور نے ارشاد فرمایا:اپنی زبان پر قابو رکھو اور تمہارا گھر تمہارے لیے گنجائش رکھے (یعنی بے کار ادھر ادھر نہ جاؤ) اور اپنی خطا پر آنسو بہاؤ۔([3])
زبان کی حفاظت کے فوائد:
زبان کو فضولیات اور لغویات سے بچانا بہت ضروری ہے،کیونکہ انسان اکثر زبان ہی کے ذریعے غیبت،چغلی اور دیگر گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے۔جو زبان کو بے لگام چھوڑ دیتا ہے،وہ اپنے نیک اعمال کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔چنانچہ حضرت امام حسن بصری رحمۃُ اللہ علیہسے کسی نے عرض کی:فلاں نے آپ کی غیبت کی ہے۔آپ نے غیبت کرنے والے کے لیے کھجوروں کا تھال بھیجا اور فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے اپنی نیکیاں مجھے ہدیہ کی ہیں،اس لیے میں نے اس کا معاوضہ دینا بہتر جانا۔([4])
زبان کی حفاظت کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان دنیاوی آفات سے محفوظ رہتا ہے۔حضرت سفیان ثوری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:زبان سے ایسی بات نہ نکالو جس کے سبب تمہارے دانت توڑ دیئے جائیں۔ایک بزرگ فرماتے ہیں:اپنی زبان کو بے لگام نہ چھوڑو تاکہ یہ تمہیں کسی فساد میں مبتلا نہ کردے۔([5])
بزرگانِ دین کا انداز:
حضرت عطاء بن ابی رباح رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ پہلے لوگ فضول گفتگو کو ناپسند کرتے تھے۔وہ کتابُ اللہ، سنتِ رسول،نیکی کی دعوت،برائی سے منع کرنے اور دنیاوی ضرورت کی گفتگو کے علاوہ ہر بات کو فضول شمار کرتے تھے۔ ([6])
ایک روایت میں ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السّلام نے ایک جن کے بارے میں لوگوں سے اس کی گفتگو کا حال معلوم کروایا۔ اس نے لوگوں کے سروں کی طرف دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا۔ جب وجہ پوچھی گئی تو بتایا کہ مجھے ان فرشتوں پر تعجب ہوا جو اس قدر جلدی جلدی لکھ رہے ہیں اور ان لوگوں پر بھی تعجب ہے جو اتنی تیزی سے انہیں لکھوا رہے ہیں!([7])
اسی لیے فضول گفتگو سے بچنا بے حد ضروری ہے۔ہمارے بزرگانِ دین زبان کی حفاظت کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔ احیاء علوم الدین میں ہے کہ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ اپنے منہ میں پتھر رکھ لیا کرتے تھے تاکہ غیر ضروری گفتگو سے بچیں۔ ([8]) حضرت اَرطاۃ بن منذر رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایک شخص لمبے عرصے تک خاموشی کی مشق کے لیے منہ میں پتھر رکھتا تھا۔([9])
لکھ کر گفتگو اور جائزہ:
فضول گفتگو سے بچنے کے لیے امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے نیک عمل نمبر 46 میں روزانہ کم از کم چار مرتبہ لکھ کر اور کم از کم تین مرتبہ اشارے سے گفتگو کرنے کی ترغیب دی ہے۔اس طرح ضرورت کی بات بھی کم الفاظ میں کی جاسکتی ہے اور زبان کو فضول گوئی سے بچانے کی عادت بھی بنتی ہے۔ہمارے بزرگانِ دین بھی اپنی گفتگو کا جائزہ فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ تابعی بزرگ حضرت ربیع بن خثیم رحمۃُ اللہ علیہ بیس سال تک دنیاوی بات زبان سے نہیں کرتے تھے۔صبح دوات، کاغذ اور قلم رکھتے اور دن بھر جو گفتگو کرتے اسے لکھ لیتے،پھر شام کو اس کا جائزہ فرماتے۔([10])
قفلِ مدینہ:
امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:غیبت کے خلاف جنگ میں زبان پر قفلِ مدینہ کا نفاذ نفس کے خلاف بہترین ہتھیار ہے۔
دینی ماحول میں زبان کو اللہ پاک کی ناراضی والے کاموں اور فضول گوئی سے بچانے کے لیے ضروری بات بھی کم الفاظ میں،لکھ کر یا اشارے سے کرنا زبان کا قفلِ مدینہ کہلاتا ہے۔
دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں ہر اسلامی ماہ کی پہلی پیر کو،یعنی اتوار مغرب سے پیر مغرب تک،یومِ قفلِ مدینہ منانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔اس موقع پر مکتبۃ المدینہ کا رسالہ خاموش شہزادہ ایک بار پڑھنے یا سننے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے۔قفلِ مدینہ کی تحریک کا مقصد اپنے نامۂ اعمال کو فضول گوئی سے محفوظ رکھنا ہے۔اللہ پاک ہمیں زبان کی حفاظت،فضول گفتگو سے بچنے اور اپنے بزرگانِ دین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
کچھ ایسی توجہ ہو عطا پیر کی یا رب
کم بولوں نگاہوں کو میری جو کہ جھکا دے
[1]احیاء علوم الدین،3/141
[2]حاشیہ صاوی،4/ 1356-1357
[3]ترمذی،4/182،حدیث:2414
[4]منہاج العابدین،ص65
[5]منہاج العابدین،ص66
[6]احیاء علوم الدین،3/141
[7]احیاء علوم الدین،3/142
[8]احیاء علوم الدین،3/137
[9] موسوعۃ لابن ابی الدنیا،7/256،رقم:438
[10]احیاء علوم الدین،3 / 137

Comments