کسی کے ساتھ برا مت کیجیے!
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:کسی کے ساتھ برا مت کیجیے!

(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 53ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کیے جا رہے ہیں۔)

ہم اس دنیا میں مہمان ہیں،آج ہیں کل نہیں۔پھر بھی ہم اس مختصر سی زندگی میں ایک دوسرے کا دل دکھانے میں لگی ہوتی ہیں؟نہ جانے ایک دوسرے کو گرانے،نیچا دکھانے، تکلیف دینے میں ہمیں کیوں مزہ آتا ہے؟ حالانکہ جانتی بھی ہیں کہ دنیا مکافاتِ عمل ہے۔

یہاں کوئی چیز ضائع نہیں جاتی؛ آج ہم نے کسی کا مذاق اڑایا تو کل کوئی ہمارا بھی مذاق اڑائے گی،آج ہم نے کسی کو دھوکا دیا تو کل کوئی ہمیں دھوکا دے گی،آج ہم نے کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھایا تو کل ہم بھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوں گی، مگر سب کچھ جانتے ہوئے بھی کسی کے ساتھ برا کرنے میں جھجھک محسوس نہیں کرتیں۔

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸) (پ 30،الزلزال:7 ،8)

ترجمہ:تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے وہ اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے وہ اسے دیکھے گا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:افضل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔([1])

یاد رکھیے!جسم کا زخم دوا سے بھر جاتا ہے،وقت کے ساتھ نشان بھی مٹ جاتا ہے،لیکن لفظوں کا زخم نسلوں تک یاد رہتا ہے،کسی کے ساتھ کیا ہوا برا سلوک اس کے دل کے کسی کونے میں گہرے گھاؤ کی طرح چھپا رہ جاتا ہے۔ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے بس ایک بات کہی تھی!لیکن سامنے والی اس ایک بات کو سالوں تک سینے سے لگائے پھرتی ہے۔

طاقتور کا مقابلہ کرنا مشکل ہے،اس لیے ہم کمزور کو چنتی ہیں، اس کو اپنی شرانگیزی کا نشانہ بناتی ہیں جو جواب نہیں دے سکتی، جو پلٹ کر وار نہیں کر سکتی۔ادارے میں کسی سے ان بن ہو جائے یا اس کی ترقی ہورہی ہو تو اس کی جڑ کاٹنے کی کوشش کی جاتی ہے،اسے وہاں سے نکلوانے کی سازش کی جاتی ہے،یہ بھی نہیں سوچتیں کہ بے چاری کتنی حاجت مند ہے،کتنی مجبوریوں کی وجہ سے اسے گھر سے نکلنا پڑا ہوگا!اسی طرح ملازم پر چیخنا، غریب کو حقیر جاننا،چھوٹے بہن بھائیوں کو دبانا یہ سب طاقت نہیں،بلکہ بزدلی ہے۔اصل بہادری یہ ہے کہ طاقت ہونے کے باوجود معاف کر دیا  جائے اور  عہدہ ہونے کے باوجود عاجزی کی جائے۔

مشہور کہاوت ہے:”جو دوسروں کے لیے گڑھا کھودتا ہے، وہ خود اس میں جا گرتا ہے۔“حسد کرنے والی خود اس کی آگ میں جلتی ہے۔غیبت کرنے والی خود اپنی آخرت تباہ کرتی ہے۔ جھوٹ بولنے والی خود پھنس جاتی ہے۔لہٰذا کسی کے ساتھ برا کرنا صرف اس کا نقصان نہیں،بلکہ ہمارا سکون برباد کرتا ہے، رات کو نیند نہیں آتی،دل بےچین رہتا ہے،چہرے کی رونق ختم ہو جاتی ہے۔

اگر ہم کسی کا بھلا نہیں کر سکتیں تو کم از کم برا بھی نہ کریں۔ تعریف نہیں کر سکتیں تو تنقید بھی نہ کریں،کسی کی راہ میں پھول نہیں بچھا سکتیں تو کانٹے بھی نہ ڈالیں۔زندگی بہت چھوٹی ہے! اس مختصر سی زندگی کو محبت،درگزر اور اچھے اخلاق سے خوشگوار بنائیں۔

ہمارا بینک بیلنس سرمایہ سب یہیں رہ جائے گا دنیا ہمیں صرف ہمارے اخلاق اور کردار سے یاد رکھے گی،لہٰذا اپنا کردار اتنا مضبوط رکھیے کہ ہمارے جانے پر لوگ خوش نہ ہوں بلکہ ہماری کمی کو محسوس کیا جائے۔

انسان جس تکلیف کو اپنے لیے پسند نہیں کرتا،وہ کسی دوسرے مسلمان کو بھی نہ دے۔بعض اوقات ہماری ایک معمولی سی بات، طنزیہ،سخت لہجہ دوسرے کے دل پر ایسا اثر چھوڑ دیتا ہے جس کا ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا۔

اللہ پاک قرآنِ مجید میں مسلمانوں کو ناحق ایذا دینے والوں کے متعلق ارشاد فرماتا ہے:

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸)

(پ 22،الاحزاب:58)

ترجمہ:اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے ستاتے ہیں تو انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھا لیا ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

مذکورہ آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: جولوگ ایمان والے مردوں اور عورتوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جس سے انہیں اذیت پہنچے حالانکہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہوتا جس کی وجہ سے انہیں اذیت دی جائے تو ان لوگوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھا لیا اور خود کو بہتان کی سزا اور کھلے گناہ کے عذاب کا حق دار ٹھہرا لیا ہے۔

یاد رہے کہ مسلمان مرد وعورت کو دین ِاسلام میں یہ حق دیا گیا ہے کہ انہیں کوئی شخص اپنے قول اور فعل کے ذریعے ناحق ایذا نہ دے۔([2])

حدیثِ پاک میں مسلمان کو ناحق تکلیف دینے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے:جس نے کسی مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ پاک کو تکلیف دی۔([3]) اور جس نےاللہ پاک کو تکلیف دی یقیناً اللہ پاک اسے عذاب میں گرفتار فرمائے گا۔

اسی طرح ایک اور مقام پر سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:افضل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے)  مسلمان محفوظ رہیں۔([4])چنانچہ،

یاد رہے!مسلمان کو بغیر کسی شرعی وجہ کے تکلیف دینا قطعی حرام ہے۔([5])

بیان کردہ آیت،تفسیر اور احادیث سے معلوم ہوا کہ دینِ اسلام میں مسلمانوں کو ہر طرح کی ناحق ایذا سے بچانا نہایت اہمیت کا حامل ہے اور کسی مسلمان کو قول یا فعل کے ذریعے تکلیف پہنچانا سخت گناہ اور اللہ پاک کی ناراضی کا سبب ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے اخلاق و کردار کا جائزہ لیتے ہوئے یہ عہد کرنا چاہیے کہ کسی کے ساتھ بُرا نہیں کریں گی،بلکہ نرمی،خیر خواہی اور حسنِ سلوک کو اپنا شعار بنائیں گی۔

 افسوس کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ اس معاملے میں غفلت کا شکار ہیں اور معمولی باتوں،طنز،سخت لہجے اور مختلف برے اعمال کے ذریعے دوسروں کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔اللہ پاک انہیں اور ہم سب کو مسلمانوں کے حقوق ادا کرنے،دوسروں کو ایذا دینے سے بچنے اوراچھے اخلاق اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن  صَلَّی  اللہ  عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم




[1] بخاری،1/16،حدیث:11

[2] تفسیر صراط الجنان،8/88

[3] معجم اوسط،2/387،حدیث:3607

[4] بخاری،1/16،حدیث:11

[5] فتاویٰ رضویہ،24/425


Share