قرآن شفا ہے مگر کیسے؟
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:قرآن شفا ہے مگر کیسے؟

ہم روزمرہ زندگی میں دیکھتی ہیں کہ بعض چیزیں انسان پر بہت گہرا اثر ڈالتی ہیں۔کسی کی محبت بھری بات دل کو خوش کر دیتی ہے،کسی کی سخت بات دل دکھانے کا سبب بنتی ہے اور کسی اچھی نصیحت سے انسان اپنی غلطی پر غور کرنے لگتا ہے۔جب انسانی کلام بھی دل و دماغ پر اثر ڈال سکتا ہے تو اس کلام کا کیا عالم ہوگا جو اللہ پاک کا کلام ہے!قرآنِ کریم محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ اللہ پاک کی نازل فرمائی ہوئی وہ عظیم کتاب ہے جو انسان کے دل و دماغ،عقیدے،اخلاق اور عمل پر اثر انداز ہوتی ہے۔اس کی تلاوت سے دلوں پر کیفیت طاری ہوتی ہے، آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں،سوچ بدلتی ہے اور انسان گمراہی سے نکل کر ہدایت کی طرف آتا ہے۔یہی قرآنِ کریم کی عظیم تاثیر اور اس کے اعجاز کی ایک روشن دلیل ہے۔

قرآنِ کریم کی تاثیر صرف ایمان والوں تک محدود نہیں؛ تاریخ میں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں کہ بعض غیر مسلموں نے قرآنِ کریم کی آیات سنیں تو اس کی تاثیر سے متاثر ہوئے، اگرچہ ہر شخص ایمان کی دولت سے سرفراز نہیں ہوا۔

یاد رہے!قرآنِ کریم کی عظیم تاثیر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ انسان کے لیے شفا کا ذریعہ ہے۔فرمانِ الٰہی ہے:

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَۙ-وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا(۸۲)

(پ15،بنی اسرائیل:82)

ترجمہ:اور ہم قرآن میں وہ چیز اتارتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور اس سے ظالموں کو خسارہ ہی بڑھتا ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیتِ کریمہ کے تحت امام ابو حفص عمر بن علی دِمشقی رحمۃ اللہ علیہفرماتے ہیں کہ اس نازل کردہ قرآن میں شفا ہے۔پورا قرآن مومنوں کے لیے شفا ہے،یعنی یہ گمراہی اور جہالت کو دور کرتا،اختلافات کو واضح کرتا،مشکل امور کی وضاحت کرتا، شبہات کا علاج کرتا،حیرت سے نجات دیتا اور دلوں سے جہالت کو ختم کرکے شفا کا سبب بنتا ہے۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآنِ کریم کی شفا صرف جسمانی بیماریوں تک محدود نہیں،بلکہ یہ انسان کے عقائد، خیالات، اخلاق اور باطن کی اصلاح بھی فرماتا ہے۔چنانچہ قرآنِ کریم سے شفا پانے کا ایک پہلو روحانی بیماریوں کا علاج ہے،جبکہ دوسرا  پہلو جسمانی بیماریوں میں اس کے ذریعے فائدہ حاصل کرنا ہے۔

روحانی بیماریوں میں سب سے خطرناک عقائدِ باطلہ ہیں۔ ان میں اللہ پاک کی ذات و صفات،انبیائے کرام،آخرت،قضاو قدر اور دیگر بنیادی اسلامی عقائد کے بارے میں غلط تصورات شامل ہیں۔قرآنِ کریم ان تمام مسائل میں حق واضح کرتا اور دلائل کے ذریعے انسان کو صحیح عقیدے کی طرف راہ نمائی فرماتا ہے۔ اسی طرح انسان کے باطن میں پیدا ہونے والے برے اخلاق بھی روحانی بیماریوں میں شامل ہیں۔حسد،کینہ، تکبر، حرص، دنیا کی محبت اور عداوت جیسی خرابیاں انسان کے دل کو متاثر کرتی ہیں۔قرآنِ کریم ان بیماریوں کی مذمت اور ان کے نقصانات بیان کرتا،جبکہ صبر،شکر،اخلاص،عاجزی اور حسنِ اخلاق جیسی خوبیوں کی طرف راہ نمائی فرماتا ہے۔یوں قرآنِ کریم انسان کے دل وباطن کی اصلاح کرکے اسے روحانی بیماریوں سے نجات پانے کا راستہ دکھاتا ہے۔([1])

جسمانی بیماریوں میں بھی شفا:

قرآنِ کریم کی تلاوت کے ذریعے جسمانی بیماری میں دم کرنا بھی احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چند صحابہ کرام ایک سفر پر روانہ ہوئے،راستے میں وہ عرب کے ایک قبیلے کے پاس پہنچے،مگر قبیلے والوں نے ان کی مہمان نوازی نہ کی۔اسی دوران اس قبیلے کے سردار کو سانپ یا بچھو نے ڈس لیا۔لوگوں نے علاج کی کوشش کی،لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ انہوں نے صحابہ کرام سے پوچھا:کیا آپ میں سے کسی کے پاس دوا یا دم کرنے والا ہے؟ صحابہ کرام نے فرمایا کہ تم نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی،اس لیے ہم اس وقت تک دم نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے لیے کچھ معاوضہ مقرر نہ کرو۔چنانچہ انہوں نے بکریوں کا ایک ریوڑ مقرر کیا۔ایک صحابی نے سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ سردار تندرست ہوگیا۔([2])

اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ قرآنِ کریم کی آیات کے ذریعے دم کرنا جائز ہے اور اللہ پاک اس کے ذریعے شفا عطا فرماتا ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا قرآن سے دم فرمانا:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اہلِ خانہ میں سے جب کوئی بیمار ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس پر مُعَوَّذات پڑھ کر دم فرماتے۔پھر جب حضور  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنی اس آخری بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں وصال فرمایا تو میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر مُعَوَّذات پڑھ کر دم کرتی اور حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دستِ اقدس کو جسمِ مبارک پر پھیرتی،کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ہاتھ میں میرے ہاتھ سے زیادہ برکت تھی۔([3])

 نوٹ:مُعَوَّذات سے مراد سورۂ فلق اور سورۂ ناس ہیں۔

اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ایک رات نماز پڑھ رہے تھے۔حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنا دستِ اقدس زمین پر رکھا تو بچھو نے کاٹ لیا۔حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اسے جوتے شریف سے مار کر قتل کر دیا۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے نمک اور پانی منگوایا،پھر اسے ایک برتن میں ڈالا اور انگلی مبارک پر لگانے لگے جہاں بچھو نے کاٹا تھا۔ حضور  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس پر ہاتھ پھیرتے،سورۂ اخلاص،سورۂ فلق اور سورۂ ناس سے دم فرماتے رہے۔([4])

اس حدیثِ پاک کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:آپ کی بائیں ہاتھ کی انگلی شریف میں کاٹ لیا۔ جسمِ نبی پر زہر،ڈنگ،تلوار اثر کر سکتی ہے۔یہ واردات بشریت پر وارد ہوتی ہے۔بعض روایات میں ہے کہ اسے مار کر فرمایا کہ بچھو مُوذِی ہے،اسے حل و حرم ہر جگہ مار دو۔مُوذِی وہ جانور ہے جو اپنے نفع کے بغیر انسان کا نقصان کر دے۔لہٰذا کھٹمل جوں مُوذِی نہیں کہ انسان کو کاٹتی ہے مگر اپنا پیٹ بھرنے کے لیے۔یہ ہے دوا اور دعا کا اجتماع نمک و پانی بھڑ (تنبوڑی)اور بچھو وغیرہ کے کاٹے کے لیے بہت مفید ہے۔ یَمْسَحُھَا سے معلوم ہوا کہ دم کرتے وقت بیماری کی جگہ پر ہاتھ پھیرنا سنت ہے۔بعض روایات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم ایسے مریض پر سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم فرماتے تھے۔([5])

ان احادیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم کی آیات کے ذریعے دم کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور صحابہ کرام علیہمُ الرّضوان   کے مبارک عمل سے ثابت ہے۔جسمانی بیماری کی صورت میں دیگر جائز طبی اسباب اختیار کرنا اپنی جگہ  مگر قرآنِ کریم سے شفا طلب کرنا ان اسباب کے اختیار کرنے کے منافی نہیں۔

یہ ایماں ہے خدا شاہد کہ ہیں آیاتِ قرآنی

علاجِ جملہ علتہائے جسمانی و روحانی ([6])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* لاہور



[1]اللباب فی علوم الکتاب،12/369

[2]بخاری،4/31،30،حدیث:5736

[3]مسلم،ص929،حدیث:5714

[4]شعب الایمان،2/518،حدیث:2575

[5]مراۃ المناجیح،6/ 247

[6] جنتی زیور،ص 573


Share