اعتقادات و توہمات (قسط نمبر7)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:اعتقادات و توہمات (قسط نمبر7)

سورج اور چاند گرہن

سورج اور چاند گرہن اللہ پاک کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کی قدرتِ کاملہ کے مظاہر میں سے ہیں۔اللہ پاک اپنے بندوں کو اپنی قدرت کی نشانیاں دکھا کر ڈراتا اور غفلت سے بیدار فرماتا ہے۔قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:

وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا(۵۹) (پ 15،بنی اسرائیل:59)

ترجمہ:اور ہم نشانیاں ڈرانے کے لئے ہی بھیجتے ہیں۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیت کے تحت شیخ محمود بن احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: سورج گرہن اللہ پاک کی ڈرانے والی نشانیوں میں سے ہے؛ کیونکہ یہ روشنی نعمت کو تاریکی میں بدل دیتی ہے اور نعمت کو اس کی ضد یعنی اندھیرے میں تبدیل کردینا ڈرانے کے لیے ہوتا ہے۔اللہ پاک اپنے بندوں کو اس لیے ڈراتا ہے کہ وہ گناہوں سے باز آئیں اور اس کی اطاعت کی طرف متوجہ ہوں جس میں ان کی کامیابی ہے۔بندے کو اپنے پروردگار کی بارگاہ میں رجوع کرنے والی حالتوں میں  قریب ترین حالت نماز ہے ۔ ([1])

گرہن کے بارے میں باطل تصورات:

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سورج اور چاند گرہن کے بارے میں مختلف عجیب و غریب تصورات اور توہمات پائے جاتے ہیں۔بعض لوگ اسے کسی بڑی شخصیت کی موت یا پیدائش سے جوڑتے ہیں،بعض اسے آنے والی مصیبت یا کسی بڑے حادثے کی علامت سمجھتے ہیں،جبکہ بعض مقامات پر خصوصاً  حاملہ خواتین کے متعلق مختلف پابندیاں مشہور ہیں۔

حاملہ خواتین کے متعلق توہمات:

حاملہ خواتین کے بارے میں یہ توہم پایا جاتا ہے کہ گرہن کے وقت اگر وہ باہر نکلیں،چھری یا قینچی استعمال کریں،کپڑا کاٹیں یا سلائی کڑھائی کریں تو بچے کے جسم پر کوئی نشان پڑ سکتا ہے یا اس کے کسی عضو کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔اسی طرح بعض لوگ اس دوران کھانا پکانے یا کھانے سے بھی منع کرتے ہیں اور یہ تصور رکھتے ہیں کہ گرہن کے وقت ایسی شعاعیں یا جراثیم پیدا ہوتے ہیں جو کھانے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔یہ سب باتیں بے بنیاد توہمات ہیں۔ شریعت میں گرہن کے وقت حاملہ عورت کے لیے ان کاموں کی کوئی خاص ممانعت نہیں۔نفع و نقصان کا مالک اللہ پاک ہے؛ سورج یا چاند اپنے اختیار سے کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتے۔

دنیا کے مختلف معاشروں میں بھی گرہن کے بارے میں طرح طرح کے توہمات پائے جاتے رہے ہیں۔بعض قدیم اقوام اسے دیوتاؤں کی ناراضی،کسی آفت یا بیماری کی علامت سمجھتی تھیں۔قدیم چینیوں میں یہ تصور مشہور تھا کہ چاند گرہن کے وقت ایک بہت بڑا اژدھا چاند کو نگل رہا ہے،چنانچہ لوگ شور مچا کر اسے بچانے کی کوشش کرتے تھے۔

بعض جگہوں پر ذہنی بیماری میں مبتلا بچوں کو گرہن کے وقت ریت میں دبانے جیسے طریقے بھی اختیار کیے جاتے رہے ہیں۔ حالانکہ یہ تمام تصورات محض توہمات ہیں اور اسلام ان سے پاک ہے۔

گرہن کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا:

حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کے زمانۂ اقدس میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوا۔اتفاق سے انہی دنوں حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا۔بعض لوگوں نے سورج گرہن کو حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات سے جوڑا تو حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے اس باطل خیال کی واضح تردید فرمائی اور ارشاد فرمایا:بےشک چاند اور سورج اللہ پاک کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں،ان کو گرہن کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا،پس جب تم ان کو دیکھو تو اللہ پاک سے دعا کرو،اس کی کبریائی بیان کرو،نماز پڑھو اور صدقہ دو۔([2])

علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اس میں اہلِ جاہلیت کے اس عقیدے کو باطل قرار دیا گیا ہے کہ ستارے زمین میں مؤثر ہیں۔اہلِ جاہلیت کا یہ خیال تھا کہ چاند یا سورج کا گرہن زمین میں موت یا نقصان کا سبب بنتا ہے،جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے واضح فرما دیا کہ یہ اعتقاد باطل ہے۔سورج اور چاند اللہ پاک کی مخلوق اور اس کے تابع ہیں، ان کا اپنے اختیار سے کسی کو نفع یا نقصان پہنچانا ممکن نہیں۔([3])

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:کفارِ عرب اور مشرکینِ ہند کے اس گرہن کے متعلق عجیب خیالات ہیں؛ کفارِ عرب کہتے تھے کہ کسی برے آدمی کی پیدائش یا اچھے آدمی کی وفات پر گرہن کرسکتا ہے،مشرکینِ ہند کا عقیدہ ہے کہ چاند اور سورج پہلے انسان تھے،انہوں نے بھنگیوں چماروں سے کچھ قرض لیا اور ادا نہ کیا اس سزا میں انہیں گرہن لگتا ہے، چنانچہ ہندو گرہن کے وقت بھنگیوں کو خیرات دیتے ہیں اور مانگنے والے بھنگی بھی کہتے ہیں کہ سورج مہاراج کا قرض چکاؤ، اسلام ان لغویات سے علیحدہ ہے وہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جب چاہے چاند سورج کو نورانی کردے اور جب چاہے ان کا نور چھین لے،چونکہ یہ قہرِ خداوندی کے ظہور کا وقت ہے اس لیے اس وقت نماز پڑھو،دعائیں مانگو،صدقہ دو۔([4])

گرہن کے وقت کیا کرنا چاہیے؟

سورج اور چاند گرہن محض ایک طبعی واقعہ نہیں کہ جسے دیکھ کر انسان غافل ہو جائے،بلکہ یہ اللہ پاک کی قدرت کی نشانی ہے۔ایسے موقع پر ہمیں اپنے رب کی طرف متوجہ ہونا چاہیے،توبہ و استغفار کرنا چاہیے،دعا مانگنی چاہیے، نماز پڑھنی چاہیے اور صدقہ و خیرات کرنا چاہیے۔ساتھ ہی قیامت کے ان ہولناک مناظر کو یاد کرنا چاہیے جب سورج بے نور ہوجائے گا اور کائنات کا موجودہ نظام درہم برہم کردیا جائے گا۔یوں گرہن کا منظر ہمارے لیے عبرت اور آخرت کی تیاری کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

حاملہ خواتین کے لیے کیا حکم ہے؟

حاملہ خواتین کے لیے بھی یہی حکم ہے کہ وہ گرہن کے وقت دیگر نیک اعمال میں مشغول ہوں۔شرعاً ان کے لیے کپڑا کاٹنے،سلائی کرنے،سو جانے،چلنے پھرنے یا دیگر معمول کے کام کرنے کی کوئی خاص ممانعت نہیں ۔ عوام میں مشہور یہ باتیں کہ گرہن کے وقت فلاں کام کرنے سے بچے کو نقصان پہنچے گا یا اس کے جسم پر نشان پڑ جائے گا،بے اصل توہمات ہیں۔

البتہ!اگر کسی کام کی ضرورت نہ ہو تو اسے چھوڑ کر نماز، دعا، ذکر و استغفار میں مشغول رہنا یقیناً زیادہ بہتر ہے۔اس سے توہمات کی تائید مقصود نہیں بلکہ ایسے بابرکت وقت کو اللہ پاک کی یاد میں گزارنا مقصود ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ سورج اور چاند گرہن کے موقع پر باطل اعتقادات اور توہمات سے مکمل بچیں،اللہ پاک کی قدرت کو یاد کریں،اپنے گناہوں سے توبہ کریں، نماز، دعا،ذکر اور صدقے کے ذریعے اپنے رب کی بارگاہ میں رجوع کریں۔

اللہ پاک ہمیں اپنی نشانیوں سے عبرت حاصل کرنے، باطل توہمات سے محفوظ رہنے اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* طالبہ فیضان آن لائن اکیڈمی گرلزعرب،بحرین



[1] محیط برہانی،2/255

[2] بخاری،1/357،حدیث:1044

[3] عمدۃ القاری،5/302،تحت الحدیث:1040

[4] مراۃ المناجیح،2/379


Share