موضوع:اعتقادات و توہمات (قسط نمبر6)
بد شگونی:
ہمارے معاشرے میں رائج کئی باطل اعتقادات میں سے ایک بدشگونی بھی ہے۔بدشگونی کا معنی ہے:کسی چیز،شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق میں برا سمجھنا اور اس کی وجہ سے کسی کام سے رک جانا یا اسے نقصان دہ تصور کرنا۔
تفسیر قرطبی میں ہے:اچھا شگون یہ ہے کہ انسان جس کام کا ارادہ کرے،اس کے بارے میں کوئی اچھی بات سن کر اسے اپنے حق میں دلیل سمجھے۔شریعت نے اس بات کی ترغیب دی ہے کہ انسان اچھا شگون لے کر خوش ہو اور اپنا کام خوشی سے انجام دے،جبکہ کوئی بری بات سننے کی صورت میں اس کی طرف توجہ نہ دے اور نہ ہی اس کے سبب اپنے کام سے رکے۔([1])
بدشگونی ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کے ایمان وعقیدے کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی دینی ودنیاوی زندگی کو بھی متاثر کرتی ہے۔اس کی وجہ سے انسان مختلف چیزوں کے بارے میں وہمی خیالات میں مبتلا ہوجاتا ہے،ہر چھوٹی بڑی بات کو اپنے لیے برا شگون سمجھنے لگتا ہے اور یوں اس کے دل سے اطمینان و سکون رخصت ہوجاتا ہے۔یہاں تک کہ وہ اپنے قریبی لوگوں کو بھی وہمی نگاہ سے دیکھنے لگتا ہے،جس سے دلوں میں بدگمانی اور کدورت پیدا ہوتی ہے۔
کثیر احادیثِ مبارکہ میں بھی بدشگونی کے نقصانات سے خبردار کیا گیا ہے۔چنانچہ حضور نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بدفالی لینے والوں سے اپنی بیزاری کا اظہار فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:جس نے بدشگونی لی اور جس کے لیے بدشگونی لی گئی،وہ ہم میں سے نہیں ہے (یعنی ہمارے طریقے پر نہیں ہے)۔([2])
دنیا کے مختلف معاشروں میں بدشگونی کی مختلف صورتیں پائی جاتی ہیں۔ہمارے ہاں بھی بعض چیزوں،جانوروں، پرندوں، دنوں،مہینوں اور بعض واقعات کو منحوس سمجھنے کے تصورات عام ہیں،حالانکہ محض کسی چیز کے پیش آنے یا کسی خاص وقت کے آنے سے نحوست لازم نہیں آتی۔
ماہِ صفر سے بدشگونی:
بعض لوگ ماہِ صفر کو معاذ اللہ منحوس سمجھتے ہیں اور اسے آفتوں اور بلاؤں کے نزول کا مہینا قرار دیتے ہیں۔اسی وجہ سے اس میں شادی بیاہ،کاروبار یا سفر شروع کرنے سے گریز کرتے ہیں،خصوصاً ابتدائی تیرہ دنوں کو بہت منحوس جانا جاتا ہے اور انہیں تیرہ تیزی کہا جاتا ہے۔بعض مقامات پر اس تصور کے تحت سفید چنے کی نیاز بھی دی جاتی ہے تاکہ اس ماہ میں آنے والی بلائیں گھر کا رخ نہ کریں۔
یاد رکھئے!نیاز و فاتحہ بلاشبہ مستحب عمل ہے اور کسی بھی حلال رزق سے کسی بھی ماہ یا تاریخ میں کی جاسکتی ہے،لیکن اگر اسے ماہِ صفر کی نحوست دور کرنے یا اس ماہ میں نازل ہونے والی بلاؤں سے بچنے کے اعتقاد کے ساتھ کیا جائے تو یہ بدشگونی کے زمرے میں آئے گا۔
پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے صفر المظفر کے بارے میں وہمی خیالات کو باطل قرار دیتے ہوئے فر مایا:صفر کچھ بھی نہیں ۔ ([3])
حضرت شیخ عبدُ الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: عوام اسے (یعنی ماہِ صفر کو) بلاؤں،حادثوں اور آفتوں کے نزول کا وقت قرار دیتے ہیں،یہ عقیدہ باطل ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔([4])
بدشگونی کی مختلف صورتیں:
بدشگونی صرف کسی خاص دن یا مہینے کو منحوس سمجھنے تک محدود نہیں،بلکہ ہمارے معاشرے میں اس کی بہت سی دوسری صورتیں بھی پائی جاتی ہیں۔مثلاً :
*کسی اندھے،لنگڑے،ایک آنکھ والے یا کسی معذور شخص کو دیکھ کر بدفالی لینا،
*کسی خاص پرندے یا جانور کو دیکھنے یا اس کی آواز سننے کو برا شگون سمجھنا،
*کسی کام کا ارادہ کرنے پر کسی کی طرف سے اس کام سے رکنے کا مشورہ ملے تو اسے منحوس سمجھ لینا اور یہ خیال کرنا کہ اب یہ کام ضرور خراب ہوگا،وغیرہ۔
اسی طرح بعض لوگ ناخن،بلی،کتے،مرغے اور دیگر چیزوں سے بھی بدشگونی لیتے ہیں۔مثلاً :
*کسی کا کٹا ہوا ناخن پاؤں کے نیچے آجائے تو اسے باہمی دشمنی کی علامت سمجھنا،
*رات کے وقت بلی یا کتے کے رونے کو منحوس جاننا،
*مرغا دن کے وقت اذان دے تو بدفالی لینا
*پہلا گاہک سودا لیے بغیر چلا جائے تو اسے کاروبار کے لیے برا شگون سمجھنا بھی اسی قسم کی غلط سوچ ہے۔
*بعض گھروں میں نئی نویلی دلہن کے آنے پر خاندان میں کسی کا انتقال ہوجائے تو اسے منحوس سمجھا جاتا ہے،
*کسی عورت کے ہاں صرف بیٹیاں پیدا ہوں،یا کوئی عورت جوانی میں بیوہ ہوجائے تو اسے بھی نحوست کی علامت سمجھ لیا جاتا ہے۔
*اسی طرح حاملہ عورت کو اس خوف سے میت سے دور رکھا جاتا ہے کہ کہیں اس کا بچے پر برا اثر نہ پڑے۔
یہ سب بے بنیاد تصورات ہیں،جن کی شریعت میں کوئی اصل نہیں۔
گھریلو توہمات:
ہمارے گھروں میں بعض ایسے خیالات بھی رائج ہیں جنہیں بظاہر معمولی سمجھا جاتا ہے،لیکن حقیقت میں یہ بھی بدشگونی اور توہم پرستی ہی کی صورتیں ہیں۔مثلاً :
*خالی قینچی چلانے سے گھر میں لڑائی ہونے کا خیال،
*خالی برتن یا چمچ آپس میں ٹکرانے کو جھگڑے کی علامت سمجھنا،
*کسی کا کنگھا استعمال کرنے سے دونوں کے درمیان لڑائی ہو جانے کا تصور،
*بچے کے دانت الٹے نکلنے کو ننھیال پر بھاری ہونے کی علامت سمجھنا،
*دودھ پیتے بچے کے بالوں میں کنگھی کرنے سے اس کے دانت ٹیڑھے نکلنے کا خیال رکھنا، وغیرہ
*اسی طرح یہ سمجھنا کہ چھوٹا بچہ کسی کی ٹانگ کے نیچے سے گزر جائے تو اس کا قد چھوٹا رہ جائے گا،
*سوئے ہوئے بچے کے اوپر سے کوئی گزر جائے تو اس کا قد رک جائے گا،
*مغرب کے بعد دروازے میں بیٹھنے سے بلائیں گزرنے کی وجہ سے نقصان ہوگا،
*مغرب کی اذان کے وقت تمام لائٹیں روشن نہ کی گئیں تو بلائیں اتر آئیں گی،
*رات کو آئینہ دیکھنے سے چہرے پر جھریاں پڑ جائیں گی،
*رات کے وقت کنگھی کرنے یا ناخن کاٹنے سے نحوست آئے گی ،
*اور گھر کی چھت یا دیوار پر اُلّو بیٹھ جائے تو کوئی مصیبت آئے گی،وغیرہ
یہ سب بھی بے اصل باتیں ہیں۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کسی چیز کے ساتھ محض ایک اتفاق پیش آ جانے سے وہ منحوس نہیں ہوجاتی۔اگر کسی گھر میں کسی خاص واقعے کے بعد کوئی نقصان پیش آیا تو اس واقعے کو اس نقصان کا سبب سمجھ لینا درست نہیں۔نفع ونقصان اللہ پاک کے اختیار میں ہے اور کسی چیز میں اپنی طرف سے نحوست مان لینا درست عقیدے کے خلاف ہے۔
بدشگونی کا یہ تصور صرف ہمارے معاشرے تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی اس کی مختلف شکلیں پائی جاتی ہیں۔مثلاً:بعض مغربی ممالک میں13 کے عدد کو منحوس سمجھا جاتا ہے،یہاں تک کہ بعض عمارتوں میں تیرہویں منزل کو تیرہ نمبر دینے کے بجائے براہِ راست چودہویں منزل لکھ دیا جاتا ہے،جبکہ بعض ہسپتالوں میں 13 نمبر کا کمرہ یا بستر بھی نہیں رکھا جاتا۔
یہ تمام مثالیں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ بدشگونی اور تَوَہم پرستی کسی ایک معاشرے کا مسئلہ نہیں،بلکہ انسان جب اسباب کے حقیقی مؤثر ہونے کے بارے میں غلط تصور قائم کر لیتا ہے تو ایسی بے شمار وہمی باتیں جنم لیتی ہیں۔اسلام نے انسان کو ایسے باطل تصورات سے نکال کر اللہ پاک کی قدرت اور اس کے فیصلے پر اعتماد کا درس دیا ہے۔
بدشگونی مسلمانوں کا شیوہ نہیں:
یاد رکھئے!کسی شخص،چیز،وقت یا واقعے کو محض وہم کی بنیاد پر منحوس قرار دینا مسلمانوں کا شیوہ نہیں،بلکہ یہ جاہلیت کے باطل تصورات میں سے ہے۔قرآنِ پاک میں فرعونیوں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ جب ان پر کوئی خوش حالی آتی تو کہتے کہ یہ ہمارے لیے ہےاور جب کوئی برائی پہنچتی تو حضرت موسیٰ علیہ السّلام اور ان کے ساتھیوں سے بدشگونی لیتے تھے۔ اللہ پاک نے ان کے اس باطل خیال کی تردید فرمائی۔([5])
اسی طرح زمانۂ جاہلیت کے لوگ پرندوں کے نام، آواز، رنگ اور ان کے اڑنے کی سمت سے بھی فال لیا کرتے تھے۔ مثلاً:عقاب کو دیکھ کر مصیبت،کوے سے سفر اور ہدہد سے ہدایت کی فال لیتے۔
اسی طرح اگر پرندہ سیدھی جانب اڑتا تو اسے اچھا شگون اور الٹی جانب اڑتا تو بدشگونی سمجھتے تھے۔([6])
اسلام نے ان باطل خیالات کا خاتمہ کیا اور مسلمانوں کو اللہ پاک کی ذات پر بھروسا رکھنے کی تعلیم دی۔چنانچہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ایسے طریقوں سے منع فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:اچھا یا برا شگون لینے کے لیے پرندہ اڑانا، بدشگونی لینا اور طرق (یعنی کنکر پھینک کر یا ریت میں لکیر کھینچ کر فال نکالنا) شیطانی کاموں میں سے ہے۔([7])
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ کسی شخص،جانور،پرندے،دن،مہینے یا کسی اتفاقی واقعے کو اپنے لیے منحوس نہ سمجھیں۔اگر دل میں کسی قسم کا وہم پیدا ہو تو اسے اہمیت دینے کے بجائے اللہ پاک پر بھروسا کریں،دعا کریں اور اپنے جائز کام کو جاری رکھیں۔
یاد رکھئے!نفع ونقصان،خوشی وغمی اور خیر و شر سب اللہ پاک کے اختیار میں ہیں۔مومن کا کام توہمات کے پیچھے چلنا نہیں بلکہ اللہ پاک کی قدرت اور اس کے فیصلے پر یقین رکھنا ہے۔اللہ کریم ہمیں دینِ اسلام کی درست سمجھ عطا فرمائے،ہر طرح کی بدشگونی اور باطل اعتقادات سے محفوظ رکھے اور اپنے فیصلوں پر راضی رہتے ہوئے صرف اپنی ذات پر کامل بھروسا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* طالبہ فیضان آن لائن اکیڈمی عرب،بحرین
[1] قرطبی،8/132،جز:16ملتقطاً
[2] معجم کبیر،18/ 162،حدیث:355
[3] بخاری،4/24،حدیث:5707
[4] اشعۃ اللمعات،3/664
[5] پ 9،الاعراف:131
[6] بریقہ محمودیہ،2/378
[7] ابوداود،4/22،حدیث:3907
Comments