موضوع:رضائے مولا از ہمہ اولی
منقول ہے کہ حضرت رابعہ بصریہ رحمۃ اللہ علیہا بارگاہِ الٰہی میں یہ دعا کرنا کہ”یااللہ!ہم سے راضی ہو جا“اچھا نہ سمجھتیں اور فرمایا کرتیں کہ بندے کو اللہ پاک سے حیا آنی چاہئے کہ اس سے رضا کا سوال کرے اور خود اس سے راضی نہ ہو۔ چنانچہ جب ان سے عرض کی گئی کہ بندہ کب اللہ پاک سے راضی کہلاتا ہے؟تو آپ نے ارشاد فرمایا:جب وہ مصیبت پہنچنے پر اتنا ہی خوش ہو جتنا نعمت ملنے پر خوش ہوتا ہے۔([1])
یہ اللہ پاک کی رضا پر راضی رہنے کا بہت اعلیٰ درجہ ہے کہ بندہ رب کے ہر فیصلے کو خوش دلی سے قبول کرے۔نعمت ملے یا آزمائش آئے،دل مطمئن ہی رہے اور مصیبت پہ بھی یہ سوچ کر خوش ہو کہ میرے رب کی رضا یہی ہے،نیز محبتِ الٰہی کا ایسا غلبہ ہو کہ تکلیف کا احساس ہی ختم ہو جائے۔
جے سوہنا میرے دُکھ وِچ راضی میں سکھ نُوں چُلھے پاواں
(یعنی اگر میرے پیارے اللہ پاک کی مرضی یہ ہے کہ مجھے دنیا میں دکھ پہنچے تو میں خوشیوں کو آگ میں ڈالوں،مجھے میرے رب کی مرضی منظور ہے۔)
البتہ!اگر رنج و الم،تکلیف و مصیبت پہنچنے پہ دل غمگین ہو جائے،آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں تب بھی اس بات کا ضرور خیال رکھا جائے کہ دل میں اگر وسوسے آئیں تو ان پہ بالکل توجہ نہ دی جائے،زبان کو شکوے شکایات اور واویلا کرنے سے بچایا جائے اور دل سے اللہ پاک کے فیصلے پر راضی رہا جائے۔ قضائے الٰہی پر ناراضی کی صورت میں بہت بڑے نقصان بلکہ کفر ونفاق کا ڈر ہے۔اللہ پاک محفوظ فرمائے۔
یاد رکھئے!اللہ پاک پر اعتراض کرنا کفر ہے۔اللہ پاک ہمارا رب ہے۔ہمیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ اپنے ربِّ کریم کے فیصلوں پر اعتراض کریں بلکہ اعتراض تو در حقیقت ہماری ان خواہشات پر بنتا ہے جو رب کی مرضی سے ہٹ کر ہیں۔ ہمارے رب نے ہمارے لئے جو فیصلہ فرما دیا،اس کے علاوہ کی خواہش ہمارے دل میں پیدا ہی نہیں ہونی چاہیے۔
اللہ پاک کا ہر کام حکمت والا ہوتا ہے،خواہ ہماری عقل میں آئے یا نہ آئے۔ہمارا رب بہت زیادہ رحم فرمانے والا اور ستر ماؤں سے بڑھ کر محبت فرمانے والا ہے۔وہ ہمیں اسی حال میں رکھے گا جو ہمارے حق میں بہتر ہو گا۔اللہ پاک ہم سے زیادہ ہماری بھلائی کو جاننے والا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری ہے:
وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْۚ-وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠(۲۱۶) (پ،2،البقرۃ:216)
ترجمہ:اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں نا پسند ہو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے حالانکہ وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
پھر ہونا تو وہی ہے جو تقدیر میں لکھا ہے۔اگر ہم اس پر راضی نہ رہیں گی تو بلاوجہ خود کو پریشان کریں گی۔دل کو اللہ پاک کی یاد،عبادت اور فکرِ آخرت کے بجائے فضول سوچوں میں مشغول رکھنا بڑی بیوقوفی ہے۔رضائے الٰہی پر راضی رہنے سے دلی سکون نصیب ہوتا،بے کار غموں سے نجات ملتی اور اللہ پاک کی رضا و ثوابِ آخرت حاصل ہوتا ہے۔اللہ پاک ہمیں اپنی رضا پر راضی رہنے کی سعادت عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ملیر کراچی
Comments