سوتیلی ماں کا کردار
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:سوتیلی ماں کا کردار

سوتیلا رشتہ ہمارے معاشرے میں عموماً منفی تصور کیا جاتا ہے،حالانکہ کسی رشتے کی اچھائی یا برائی اس کے نام سے نہیں بلکہ اس سے وابستہ افراد کے رویے سے متعین ہوتی ہے۔ اسلام ہمیں ہر رشتے کے حقوق ادا کرنے،حسنِ سلوک اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت وشفقت سے پیش آنے کی تعلیم دیتا ہے۔شوہر کی اولاد بھی محبت،شفقت اور حسنِ سلوک کی مستحق ہے،جبکہ سوتیلی ماں بھی شوہر کی زوجہ ہونے کے ناتے عزت و احترام کی حق دار ہے۔اگر سوتیلی ماں خلوص، محبت، صبر اور حکمت کے ساتھ اپنے شوہر کی اولاد کو اپنائے تو وہ نہ صرف بچوں کے دل جیت سکتی ہے بلکہ گھر کے ماحول کو بھی محبت اور سکون کا گہوارہ بنا سکتی ہے۔ذیل میں سوتیلی ماں کے کردارسے متعلق کچھ باتیں  پیشِ خدمت ہیں:

رشتے کو وقت دینا:

اکثر سوتیلی ماں اس وقت بچے کی زندگی میں آتی ہے جب اس کی حقیقی ماں کا انتقال ہوچکا ہو یا والدین میں علیحدگی ہوچکی ہو۔ایسی صورت میں بچے کے لیے نئی ماں کو قبول کرنا آسان نہیں ہوتا اور سوتیلی ماں کو بھی مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایسے موقع پر جلد بازی یا سختی کے بجائے محبت،نرمی،صبر اور سمجھ داری سے کام لینا چاہیے۔بچے کو وقت دیا  جائے اور اپنے اچھے برتاؤ سے اس کا اعتماد حاصل کیا  جائے۔ جب سوتیلی ماں اسے تحفظ اور محبت کا احساس دے گی تو رفتہ رفتہ دلوں کی دوریاں کم اور گھر کا ماحول خوش گوار ہوسکتا ہے۔

جذبات کا احترام:

ماں کے انتقال یا والدین کی جدائی کے بعد بچے کے دل میں اپنی ماں کی یادیں موجود رہتی ہیں۔سوتیلی ماں کو چاہیے کہ ان جذبات کا احترام کرے اور بچے کو اس کی حقیقی ماں کو بھولنے پر مجبور نہ کرے۔اگر بچہ اپنی ماں کو یاد کرے تو اسے ڈانٹنے یا ناراضی کا اظہار کرنے کے بجائے محبت سے دلاسا دے اور اسے یہ احساس دلائے کہ اس کی ماں کی یاد قابلِ احترام ہے۔ یہ رویہ بچے کے دل میں اعتماد پیدا کرے گا اور اسے سوتیلی ماں کو خیر خواہ اور شفیق سرپرست سمجھنے میں مدد دے گا۔اس کے برعکس’’ اب سے میں ہی تمہاری ماں ہوں‘‘ کہہ کر بچے کے جذبات کو نظر انداز  کرنا اس کے دل کو مزید زخمی کرسکتا ہے۔

رازدار بننا:

سوتیلی ماں کو چاہیے کہ وہ بچے کی رازدار اور خیرخواہ بنے۔اگر بچہ اپنے دل کی کوئی بات اس سے کہے تو اسے دوسروں کے سامنے بیان نہ کرے۔اسی طرح بچے کی معمولی غلطیوں کو خاندان کے سامنے اچھالنا،اسے سوتیلا کہہ کر طعنہ دینا یا اس کی حقیقی ماں سے نسبت کو تحقیر کا ذریعہ بنانا انتہائی نقصان دہ ہے۔ بچے کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ گھر میں ایک ایسی ہستی موجود ہے جس سے وہ اپنا دکھ سکھ اور دل کی بات بلا جھجھک کہہ سکتا ہے۔ اس طرح محبت اور اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے اور بچہ غلط راستے پر جانے کے بجائے اپنے گھر والوں سے راہ نمائی حاصل کرتا ہے۔

سوتیلی اولاد کی کفالت اور دیکھ بھال:

سوتیلی ماں کو چاہیے کہ وہ اپنے سوتیلے بچوں کے ساتھ اللہ پاک کی رضا کی خاطر اچھا سلوک کرے اور ایسا رویہ اپنائے کہ انہیں گھر میں اجنبیت کا احساس نہ ہو۔ان کی تعلیم،صحت،لباس اور دیگر ضروریات میں حسبِ استطاعت تعاون کرے کہ سوتیلی اولاد پر خرچ کرنا بھی باعثِ اجر ہے۔حضرت زینب رضی اللہ عنہا حضرت عبدُ اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں اور اپنے شوہر کے ان بچوں کی بھی کفالت کرتی تھیں جو ان کی پہلی زوجہ سے تھے۔([1])انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے پوچھا: کیا ان کا اپنے شوہر اور ان کے بچوں پر صدقہ کرنا کافی ہے؟تو حضور نے فرمایا:ان کے لیے دو اجر ہیں؛ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقے کا۔([2]) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ضرورت مند سوتیلی اولاد کی کفالت محض ایک گھریلو ذمہ داری نہیں بلکہ نیکی اور اجر کا ذریعہ بھی ہے۔

سگی اور سوتیلی اولاد میں یکسانیت رکھنا:

اگر سوتیلی ماں کی اپنی اولاد بھی ہو تو اسے چاہیے کہ توجہ اور دیگر تمام معاملات میں حتی الامکان انصاف کا معاملہ کرے۔سوتیلی اولاد کو ہر موقع پر یہ احساس دلانا کہ وہ اس گھر میں’’دوسرے درجے‘‘ کی ہے،اس کے دل میں احساسِ محرومی پیدا کرسکتا ہے۔حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا اگرچہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھیں، لیکن حضور کی دیگر ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہنَّ  ان سے بے حد محبت فرماتی تھیں۔ حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے سیدہ خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کی شادی کے موقع پر ان کے گھر کی تیاری میں بھی بھرپور تعاون کیا اور ان کے لیے ضروری سامان کا اہتمام فرمایا۔ ([3]) یہ عظیم خواتین کے حسنِ سلوک کی روشن مثال ہے۔ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے گھر میں موجود بچوں کے درمیان سوتیلے اور سگے ہونے کی بنیاد پر فرق نہ پیدا کریں بلکہ محبت،شفقت اور انصاف کے ساتھ ان کی تربیت کریں۔

سوتیلی اولاد کی خوبیوں کا اعتراف:

بعض اوقات سوتیلی اولاد کے بارے میں دل میں موجود منفی جذبات کی وجہ سے اس کی خوبیوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔سوتیلی ماں کو چاہیے کہ وہ اس رویے سے بچے اور اپنی اولاد کی طرح سوتیلی اولاد کی اچھی عادات اور صلاحیتوں کو بھی سراہنے کی عادت بنائے۔بچہ کوئی اچھا کام کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کرے،اس کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرے اور مناسب موقع پر دوسروں کے سامنے اس کی تعریف بھی کرے۔جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت فاطمہ کی علمی خوبی کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا: میں نے گفتگو اور کلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مثل حضرت فاطمہ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔([4]) اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کسی کی خوبی کا اعتراف کرنا محبت بڑھانے اور دلوں کو قریب کرنے کا ذریعہ ہے۔

محبت سے گھر سنواریے:

سوتیلی ماں کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کی اولاد کو بوجھ سمجھنے کے بجائے انہیں اپنے گھر کا حصہ سمجھے۔ ہر بچے کی طبیعت،عمر اور حالات مختلف ہوتے ہیں،اس لیے سب سے یکساں انداز میں پیش آنا ضروری نہیں،البتہ!کسی کے ساتھ محض سوتیلا ہونے کی وجہ سے ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔اگر کسی بچے کی اصلاح مطلوب ہو تو تنہائی میں محبت اور حکمت سے سمجھایا جائے،سب کے سامنے رسوا نہ کیا جائے۔

یاد رکھیے!بچے محبت کی زبان بہت جلد سمجھتے ہیں۔آپ کے چند نرم الفاظ،معمولی سی توجہ اور خلوص بھرا رویہ اس بچے کے دل میں آپ کے لیے ایسی محبت پیدا کرسکتا ہے جو بڑے بڑے فاصلے ختم کر دے۔اسی طرح سخت لہجہ،مسلسل طعنہ زنی اور امتیازی سلوک بچے کے دل میں ایسی دوری پیدا کرسکتا ہے جسے ختم کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔لہٰذا سوتیلی ماں کو چاہیے کہ اپنے شوہر کی اولاد کے ساتھ محبت،شفقت اور حسنِ سلوک کا معاملہ کرے،ان کی ضروریات کا خیال رکھے،ان کی خوبیوں کو سراہے اور حکمت کے ساتھ ان کی غلطیوں کی اصلاح کرے۔گھر میں محبت اور انصاف کا ماحول قائم ہوگا تو بچے بھی اعتماد کے ساتھ پروان چڑھیں گے اور خاندان کا نظام مضبوط ہوگا۔اللہ پاک ہمیں اپنے تمام رشتوں کے حقوق پہچاننے،خصوصاً سوتیلی اولاد کے ساتھ محبت و شفقت سے پیش آنے اور اپنے گھروں کو محبت، انصاف اور سکون کا گہوارہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* شعبہ ذمہ دار  ماہنامہ خواتین



[1] مراۃ المناجیح،3/118ملخصاً

[2] مسلم،ص 389،حدیث:2318 ماخوذاً

[3] ابن ماجہ،2/444،حدیث:1911 ملخصاً

[4] مسلم،ص 51،حدیث:196


Share