63 نیک اعمال(نیک عمل نمبر 45)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


63 نیک اعمال

(نیک عمل نمبر 45)

زبان اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے۔اس کے ذریعے ہم ذکر و درود،تلاوتِ قرآن اور نیکی کی باتیں کر سکتی ہیں،لیکن اگر اس نعمت کی حفاظت نہ کی جائے تو یہی زبان کئی گناہوں کا سبب بھی بن سکتی ہے۔کسی پر الزام لگانا،دل آزاری کرنا،گالی دینا یا کسی کو تکلیف دینے والی بات کہنا بسا اوقات معمولی محسوس ہوتا ہے،مگر یہ اعمال ہماری آخرت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں روزانہ اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں ہماری زبان سے کوئی گناہ تو نہیں ہوا۔چنانچہ امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ نے 63 نیک اعمال کے رسالے میں مذکور نیک عمل نمبر 45 میں اسی جانب ہماری توجہ دلائی ہے:

سوال نمبر 45:کیا آج آپ نے زبان کو گناہوں(یعنی اِلزام تراشی،دِل آزاری،گالی گلوچ وغیرہ)سے بچایا؟

امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ کے عطا کردہ اس سوال میں زبان کو گناہوں سے بچانے کا درس ملتا ہے۔اس پر عمل کر کے ہم بہت سی خطاؤں سے محفوظ رہ سکتی ہیں،کیونکہ زبان کا درست استعمال انسان کو نیکیوں کی طرف لے جاتا ہے،جبکہ اس کا غلط استعمال بڑی آفت کا سبب بن سکتا ہے۔زبان کے صحیح استعمال کے بے شمار فوائد ہیں،لیکن اگر یہ اللہ پاک کی نافرمانی میں استعمال ہو تو انسان کے لیے وبال بن جاتی ہے۔چنانچہ مشہور صحابی حضرت عبدُ اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:انسان کی اکثر خطائیں اس کی زبان سے ہوتی ہیں۔([1])

زبان سے ہونے والے گناہوں سے بچنے اور  اس نیک عمل کی عادی بننے کے لئے روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لیجئے اور زبان کو گناہوں سے بچانے کی کوشش کیجئے کہ  انسان اپنی گفتگو سے پہچانا جاتا ہے اور اس کی بات چیت اس کی شخصیت کی عکاس ہوتی ہے۔نرم،شائستہ اور حکیمانہ گفتگو لوگوں کے دلوں کو قریب کرتی ہے،جبکہ توہین آمیز اور سخت گفتگو دلوں میں نفرت پیدا کر سکتی ہے۔اس لیے ہمیں گفتگو کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہماری زبان سے کسی کی دل آزاری،تحقیر یا عزت مجروح کرنے والی کوئی بات نہ نکلے۔

نیک عمل نمبر 45 میں زبان کے چند اہم گناہ یعنی الزام تراشی، گالی گلوچ اور دل آزاری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ذیل میں ان کے متعلق کچھ باتیں ملاحظہ کیجئے:

(1)الزام تراشی:

فی زمانہ الزام تراشی کرنا اس قدر عام ہے کہ بعض اوقات معمولی باتوں پر بھی دوسروں پر الزام لگا دیا جاتا ہے اور پھر انہیں لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کیا جاتا ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کسی مسلمان پر بلا دلیل الزام لگانا نہ صرف اس کی عزت کو مجروح کرتا ہے بلکہ خود ہمارے لیے بھی وبال بن سکتا ہے۔ اس بارے میں دو فرامینِ مصطفےٰ ملاحظہ کیجیے:

(1) جس نے کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کی غرض سے اس پر الزام لگایا تو اللہ پاک جہنم کے پل پر اسے روکے گا یہاں تک کہ اپنے کہنے کے مطابق عذاب پا لے۔([2])

(2)جو کسی مسلمان پر ایسی چیز کا الزام لگائے جس کے بارے میں وہ جانتا نہ ہو تو اللہ پاک اسے( جہنمیوں کے خون اور پیپ جمع ہونے کے مقام)ردغۃ الخبال میں اس وقت تک رکھے گا جب تک کہ اپنے الزام کے مطابق عذاب نہ پالے۔([3])

لہٰذا ہمیں گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ کسی کے متعلق ایسی بات نہ کہیں جس سے اس کی عزت مجروح ہو یا وہ لوگوں کے سامنے شرمندہ ہو۔اللہ پاک ہمیں الزام تراشی سے محفوظ فرمائے اور اپنی زبان کو نیکی اور خیر خواہی کے کاموں میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

(2)گالی گلوچ کرنا:

گالی گلوچ بھی زبان کا ایسا گناہ ہے جو نہ صرف کسی مسلمان کی عزت و آبرو کو مجروح کرتا ہے بلکہ باہمی محبت والفت کو بھی ختم کر دیتا ہے۔گالی کی تعریف یہ ہے کہ انسان کی عزت کے بارے میں ایسی بات کہنا جو اسے عیب دار کر دے۔([4]) کسی مسلمان کو بلا وجہِ شرعی ایذا دینا حرام ہے اور گالی دینا سخت حرام ہے اور بعض گالیاں تو ایسی ہیں جو کسی صورت میں حلال نہیں ہو سکتیں اور ان کا دینے والا سخت فاسق ہوتا ہے۔([5]) مثلاً:کسی پاک دامن عورت کو زانیہ کہنا۔([6]) اسی طرح زمانے،سفید مرغ،ہوا اور بخار کو گالی دینا بھی منع ہے۔([7])فرمانِ الٰہی ہے:

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا(۱۴۸) (پ6،النسآء:148)

ترجمہ:بری بات کا اعلان کرنا اللہ پسند نہیں کرتا مگر مظلوم سے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ایک قول کے مطابق اس آیت میں بری بات سے مراد گالی دینا ہے۔([8])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

افسوس!آج کل بات بات پر گالی دینا اور دوسروں کو برے ناموں سے پکارنا عام ہوتا جا رہا ہے۔بعض اوقات کسی کی شکل، رنگ،قد یا جسمانی ساخت کی وجہ سے ایسے نام رکھ دیئے جاتے ہیں جو بظاہر مذاق محسوس ہوتے ہیں،لیکن سامنے والی کے دل کو شدید تکلیف پہنچا سکتے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ مذاق میں بھی ایسے الفاظ استعمال نہ کریں جو کسی کی عزتِ نفس کو مجروح کریں۔ اپنی زبان کو قابو میں رکھنا ایک مسلمان کی اہم ذمہ داری ہے ۔ ایک روایت میں ہے:اچھی بات کے علاوہ اپنی زبان قابو میں رکھو،کیونکہ اس کے ذریعے تم شیطان پر غالب آ جاؤ گے۔([9]) لہٰذا ہمیں چاہیے کہ غصے،مذاق یا کسی سے اختلاف کے وقت بھی اپنی زبان پر قابو رکھیں اور ایسی گفتگو سے بچیں جس سے کسی مسلمان کی دل آزاری یا تحقیر ہو۔

(3)دل آزاری

مسلمان کا دل دکھانا بھی معمولی بات نہیں۔کسی کو ایسی بات کہنا،مذاق اڑانا یا ایسا رویہ اختیار کرنا جس سے اس کی دل آزاری ہو،گناہ کا سبب بن سکتا ہے۔فرمانِ الٰہی ہے:

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸)

(پ22،الاحزاب:58)

ترجمہ:اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے ستاتے ہیں تو انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھا لیا ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ایك روايت کے مطابق مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔([10]) خصوصاً ہمیں اپنی گھریلو اور معاشرتی زندگی میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔مثلاً:ساس اپنی بہو کو طعنے نہ دے،بہو ساس کی عزت کا خیال رکھے اور نند بھابھی کے معاملات میں ایسی بات نہ کہے جس سے نفرت پیدا ہو۔کسی عورت کے لباس، شکل، رنگ، غربت یا گھریلو حالات کا مذاق اڑانے اور اسے برے ناموں سے پکارنے سے بھی بچنا چاہیے۔ خواتین کی محفلوں میں غیبت، عیب جوئی اور نقل اتارنے سے پرہیز کیجئے۔یاد رکھئے!زبان کا زخم نظر نہیں آتا،مگر اس کی تکلیف دیر تک رہتی ہے۔ہماری زبان کسی کا دل توڑنے کے بجائے غم کم کرے،عزت بڑھائے اور تسلی دے۔




[1]شعب الایمان،4/241،حدیث:4933

[2]ابو داود،4/ 355،حدیث:4883

[3] کتاب الجامع فی آخر المصنّف،10 /353،حدیث:21069

[4]عمدۃ القاری،1/ 408،تحت الحدیث:48

[5]فتاویٰ رضویہ،6/538

[6]بہار شریعت،2/398،حصہ:9 ماخوذاً

[7]حدیقہ ندیہ،4/87،85ماخوذاً

[8]تفسیر نسفی،ص261

[9]جامع صغیر،340،حدیث:5495

[10]بخاری،1/15،حدیث:10


Share