موضوع:اپنے کام سے کام رکھئے!
زندگی کو پُرسکون اور خوشگوار بنانے کے لیے جہاں بہت سی اچھی عادات ضروری ہیں،وہیں اپنے کام سے کام رکھنا بھی ایک اہم اخلاقی خوبی ہے۔دوسروں کے معاملات میں بلاوجہ دلچسپی لینا،ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں پوچھ گچھ کرنا اور ہر معاملے میں اپنی رائے دینے کی کوشش کرنا نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ بسا اوقات بدگمانی،غیبت اور باہمی اختلافات کا سبب بھی بن جاتا ہے۔اسلام ہمیں دوسروں کے حقوق اور معاملات کا احترام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریوں اور اپنی اصلاح پر توجہ دینے کی تعلیم دیتا ہے۔
اس بات کو ایک دلچسپ لطیفے سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص چائے کے ہوٹل کے پاس سے گزر رہا تھا۔اس نے اپنے دوست کو دیکھا جو بیٹھا چائے پی رہا تھا۔وہ اس کے پاس آیا اور چائے کے نقصانات بیان کرنے لگا۔دوست نے جواب دیا: میرے دادا کی عمر 110 سال تھی!اس نے پوچھا:وہ چائے پیتے تھے؟ جواب ملا:نہیں،وہ اپنے کام سے کام رکھتے تھے!
بظاہر یہ ایک لطیفہ ہے،لیکن اس میں ایک اہم سبق پوشیدہ ہے کہ انسان اگر دوسروں کے معاملات میں بےجا الجھنے کے بجائے اپنے کام،اپنی ذمہ داریوں اور اپنی اصلاح کی فکر کرے تو بہت سی پریشانیوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے:آدمی کے اسلام کی خوبی میں سے یہ ہے کہ وہ بےفائدہ کاموں کو چھوڑ دے۔([1])
اللہ پاک نے انسان کو جو بےشمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں،ان میں سے وقت بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔گزر جانے والا وقت دوبارہ واپس نہیں آتا،اس لیے عقل مند وہی ہے جو اسے مفید کاموں میں صرف کرے۔اگر ہم اپنا قیمتی وقت دوسروں کے معاملات جاننے،ان پر تبصرے کرنے اور بےفائدہ گفتگو میں گزار دیں تو نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ اپنی ضروری ذمہ داریوں میں بھی کمی رہ جاتی ہے۔ہمیں چاہیے کہ اپنے وقت کو اللہ پاک کی رضا والے کاموں،اپنی اصلاح اور اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں صرف کریں اور ہر ایسے مشغلے سے بچیں جس کا نہ دین میں فائدہ ہو نہ دنیا میں۔
خصوصاً بعض خواتین دوسروں کے معاملات میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی لینے لگتی ہیں۔مثلاً:فلاں کی بہو میکے کیوں چلی گئی؟ فلاں کی بیٹی اتنے دنوں سے والدین کے گھر کیوں بیٹھی ہے؟ فلاں گھر میں ساس بہو کی نہیں بنتی،فلاں کی نند اور بھابھی میں آج کل بڑی دوستی ہے،ضرور کوئی بات ہوگی!اس طرح کی باتوں سے شروع ہونے والی گفتگو اکثر قیاس آرائی،بدگمانی اور غیبت تک جا پہنچتی ہے۔
یاد رکھئے!اپنے کام چھوڑ کر دوسروں کے معاملات کے پیچھے پڑ جانا صرف اخلاقی خرابی نہیں بلکہ اس سے گھریلو اور معاشرتی اختلافات کے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:بدگمانی سے بچو،کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے،نہ ٹوہ لگاؤ،نہ عیب تلاش کرو۔([2]) اور اللہ پاک بھی ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ- (پ26،الحجرات:12)
ترجمہ:اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور (پوشیدہ باتوں کی) جستجو نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یوں دوسروں کے معاملات میں بلاوجہ پڑنے سے انسان صرف اپنا وقت ہی ضائع نہیں کرتا بلکہ بسا اوقات بدگمانی، تجسس اور غیبت جیسے گناہوں میں بھی مبتلا ہوجاتا ہے۔اس لیے اپنے کام سے کام رکھنا در اصل اپنی زبان،وقت اور دل تینوں کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنی صحت، وقت اور ذہنی سکون کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے کاموں پر توجہ دیں۔جب ہم کرنے کے کام نہیں کرتیں تو نا کرنے کے کام ہمارے گلے پڑ جاتے ہیں۔اگر ہم اپنی ذمہ داریوں کو سنبھالنے، گھر کو بہتر بنانے،علمِ دین سیکھنے اور آخرت کی تیاری میں وقت صرف کریں،تو دوسروں کے معاملات میں جھانکنے کی فرصت ہی نہیں رہے گی۔
ہمیں اپنی دنیا اور دوسروں کی آخرت کی فکر کرنے کے بجائے دوسروں کی دنیا اور اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے یعنی دوسروں کے عیب تلاش کرنے اور ان کے معاملات میں الجھنے کے بجائے پہلے اپنی اصلاح پر توجہ دینی چاہیے۔اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْؕ- (پ 7،المائدۃ:105)
ترجمہ:اے ایمان والو!تم اپنی جانوں کی فکر کرو جب تم ہدایت پر ہو تو گمراہ ہونے والا تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیتِ مبارکہ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان دوسروں کی اصلاح سے بے نیاز ہوجائے،بلکہ اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کو نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا بھی ضروری ہے۔تفسیرِ خازن میں اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں حضرت عبدُ اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول لکھا ہے کہ اس آیت میں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے واجب ہونے کی بہت تاکید کی ہے،کیونکہ اپنی جانوں کی فکر رکھنے کے معنیٰ یہ ہیں کہ ہر ایک دوسرے کو نصیحت کرے، نیکیوں کی رغبت اور برائیوں سے نفرت دلائے۔([3])
لہٰذا ’’اپنے کام سے کام رکھنے‘‘ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم دوسروں کی اصلاح سے بےتعلق ہوجائیں اور ’’یا شیخ اپنی اپنی دیکھ ‘‘ کا نعرہ لگانے لگیں۔اصل بات یہ ہے کہ انسان اپنی اصلاح اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو کر دوسروں کے عیب تلاش کرنے میں نہ لگ جائے۔اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ نیکی کی دعوت دیں اور دوسروں کی اصلاح کی کوشش بھی جاری رکھیں۔
الحمدُ للہ!دعوتِ اسلامی نے ہمیں ایک عظیم مقصد عطا فرمایا ہے کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔“جب یہ مقصد ہمارے دل میں راسخ ہو جائے گا تو ہماری توجہ دوسروں کے ذاتی معاملات کے بجائے اپنی،اپنے گھر کی اصلاح اور اپنی آخرت کی تیاری کی طرف ہو گی۔یوں ہم فضول باتوں،غیبت،بدگمانی،تجسس اور بےمقصد مشاغل سے خود بھی بچ سکیں گی اور دوسروں کو بھی بچانے کی کوشش کریں گی۔
الغرض!دوسروں کے معاملات میں بلا وجہ مداخلت کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دینا،اپنے عیوب کی اصلاح کرنا اور اپنی آخرت کی تیاری میں مصروف رہنا ہی دانائی ہے۔ نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:خوشخبری ہے اس کے لیے جسے اس کے عیب(کی اصلاح)نے دوسروں کے عیب تلاش کرنے سے مشغول رکھا۔([4])
یاد رکھیے!تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم اپنے کام سے کام رکھیں،اپنی زندگی کو پرسکون بنائیں،اپنی آخرت سنواریں۔ مگر اپنی اصلاح میں مصروف ہو کر دوسروں کی اصلاح سے ہر گز بےنیاز نہ ہو جائیں۔
اللہ پاک ہمیں اپنے کام سے کام رکھنے،اپنی اصلاح کرنے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ذمہ دار شعبہ ماہنامہ خواتین (کراچی سطح)،
رکن انٹرنیشنل افیئرز ڈیپارٹمنٹ
[1] ترمذی،4/142،حدیث:2325
[2] بخاری،4/117،حدیث:6064
[3] تفسیر خازن،1/534
[4] مسند بزار،12/348،حدیث:6237
Comments