نیکی پر مدد
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:نیکی پر مدد

دینِ اسلام اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے۔اسلامی تعلیمات پر غور کریں تو اس کو ہر مذہب سے افضل اور فطرتِ انسانی کے عین مطابق ہی پائیں گی، کیونکہ اس دین کی روشن اور پاکیزہ تعلیمات اس کی سچائی کی واضح دلیل ہیں اور انہی تعلیمات میں سے ایک نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا بھی ہے۔اسلام نے اپنے ماننے والوں کو نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا ہی حکم نہیں دیا، بلکہ اگر کوئی دوسرا نیکی کا کام کر رہا ہو تو اس کے ساتھ تعاون کرنے اور حسبِ موقع اس کا ساتھ دینے کا بھی حکم فرماتا ہے یعنی اسلام معاشرے کے ہر فرد کے اندر نیکی کے کاموں میں باہمی تعاون کا احساس دلاتا اور اس کا بہترین شعور بیدار کرتا ہے۔جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوا ہے:

وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪- (پ 6 ، المائدہ:2)

ترجمہ:اور نیکی اور پرہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

بلاشبہ یہ حسنِ معاشرت کا انتہائی اہم پہلو ہے اور اسلام نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مزید ترغیب دلاتے ہوئے نیکی کا ساتھ دینے والے کو نیکی کرنے والے کے اجر میں برابر کا حصہ دار بھی قرار دیا ہے، جیسا کہ نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا:جس نے اللہ پاک کی راہ میں جہاد کرنے والے کو ساز و سامان دیا تو گویا اس نے بھی جہاد کیا اور جس نے جہاد کرنے والے کے اہل و عیال کی اچھے طریقے سے دیکھ بھال کی تو اس نے بھی جہاد کیا۔ ([1])جس نے کسی بھی مسلمان کی نیکی کے کام میں مدد کی تو اس مدد کرنے والے کے لیے اس نیکی کرنے والے کے برابر اجر ہے اور تمام نیک اعمال میں یہی معاملہ ہے۔([2]) جیسا کہ مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:نیکی کرنے والا،کرانے والا،بتانے والا اور مشورہ دینے والا، سب ثواب کے حق دار ہیں۔([3])

نیکی پر مدد کی صورتیں:

نیکی اور خیر کے کاموں میں باہمی تعاون کی مختلف صورتوں میں سے چند پیشِ خدمت ہیں:

*وقت کے ذریعے مدد کرنا یعنی نیکی اور دین کے کاموں کیلئے وقت نکال کر دینی سرگرمیوں میں حصہ لینا۔*مالی تعاون مثلاً مسجد، مدرسہ یا غربا و مساکین کی مدد کے لیے کسی فلاحی ادارے میں رقم دینا مثلاً اشاعتِ دین اور سنتوں کی خدمت کے لیے اپنے صدقات و عطیات اپنی پیاری دینی تحریک دعوتِ اسلامی کو دینا وغیرہ۔* نیکی پر مدد کا ایک طریقہ نیک بات کا حکم دینا یا بُرائی سے منع کرنا بھی ہے، احادیث میں ان کی بہت تاکید آئی ہے اور ایسا نہ کرنے والوں کی مذمت  فرمائی گئی ہے۔نیکی کا حکم دینے کی کئی صورتیں ہیں مثلاً اگر گمان غالب یہ ہے کہ یہ ان سے کہے گا تو وہ اس کی بات مان لیں گے اور بُری بات سے باز آ جائیں گے تو نیکی کا حکم دینا واجب ہے، اس کو باز رہنا جائز نہیں، غالب گمان یہ ہے کہ وہ طرح طرح کی تہمت باندھیں گے اور گالیاں دیں گے تو ترک کرنا افضل ہے اور اگر یہ معلوم ہے کہ وہ اسے ماریں گے اور یہ صبر نہ کر سکے گا یا اس کی وجہ سے فتنہ و فساد پیدا ہو گا، آپس میں لڑائی ٹھن جائے گی، جب بھی چھوڑنا افضل ہے اور اگر یہ معلوم ہو کہ وہ اگر اسے ماریں گے تو صبر کر لے گا تو ان لوگوں کو بُرے کاموں سے منع کرے اور یہ شخص مجاہد ہے اور اگر معلوم ہے کہ وہ مانیں گے نہیں مگر نہ ماریں گے نہ گالیاں دیں گے تو اسے اختیار ہے اور افضل یہ ہے کہ حکم دے۔([4])چنانچہ آپ کے خاندان میں سے یا دیگر جاننے والی خواتین میں سے کوئی گناہوں کی عادی ہو تو جنت کے راستے پر چلنے میں اس کی مدد کریں اور اسے نرمی و محبت سے نیکی کی دعوت دیں اور بُرائی سے منع کریں۔* کسی کو ظلم و زیادتی سے روکنا بھی نیکی پر اس کی مدد ہے، جیسا کہ ایک روایت میں ہے:اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔جب یہ عرض کی گئی کہ ہم مظلوم کی تو مدد کر سکتے ہیں،لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ارشاد فرمایا:ظالم کےہاتھ پکڑ  کر (یعنی اسے ظلم سے روکنااس کی مدد کرنا ہے)۔ ([5])

نیکی پر مدد کے اور بھی بہت سے ذرائع ہیں مثلاً کتاب وقلم  سے اور کردار وغیرہ سے۔کیونکہ علمائے کرام قلم سے  نیکی پر مدد کرتے ہیں،اولیائے عظام کا کردار نیکی پر مدد ہے اور بزرگوں کی کتابوں سے مدد لے کر یا خود کتابیں لکھ کر دوسروں کو دین کے احکام، دین کی باتیں پہنچا کر نیکی پر مدد کی جا سکتی ہیں۔

الحمد للہ ہماری پیاری تحریک دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں ہمارے لیے نیکی پر مدد کے ذرائع بے شمار ہیں،مثلاً ہم دوسری خواتین کو سنتوں بھرے اجتماع کا ایڈریس بتا کر بلکہ اپنے ساتھ لے جاکر نیکی پر مدد کر سکتی ہیں، علمِ دین کے فوائد  بتا کر مدنی مذاکرہ سننے اور مدنی چینل دیکھنے کی  ترغیب دلا کر نیکی پر مدد کر سکتی ہیں،اسی طرح قرآنِ پاک کی تعلیم دے یا دلوا سکتی ہیں،نماز،زکوٰۃ،حج کی درستی کے لیے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے مختلف کورسز میں دیگر اسلامی بہنوں کو داخلہ دلوا کر نیکی کے راستے کی طرف رہنمائی کر سکتی ہیں، یہ سب نیکی پر مدد کے ذرائع ہی تو ہیں۔اگر آپ لکھنا جانتی ہیں یا لکھنے کا شوق رکھتی ہیں تو آئیے!نیکی پر مدد کیجئے!الحمد لله!دعوتِ اسلامی کا شعبہ ماہنامہ خواتین  موجود ہے،آپ اس کے پلیٹ فارم سے امت کی خیر خواہی اور نیکی پر مدد کی نیت سے مضامین لکھئے،آپ کے مضامین ضروری تفتیش وغیرہ کے مراحل کے بعد ان شاء اللہ ماہنامہ خواتین میں شامل یا دعوتِ اسلامی کے شب و روز کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کئے جائیں گے۔

اگر نیکی پر مدد کرنی ہے اور اپنے لئے ثو اب کا ذخیرہ اکھٹا کرنا ہے، نیکی پر مدد کے طریقے سیکھنے ہیں اور دوسروں کو سکھانے ہیں تو اس کا بہترین نسخہ یہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں خود کو شامل کر لیجئے، یہ وہ پلیٹ فارم ہے جس میں نیکی پر مدد بھی کی جاتی ہے اور نیکی پر مدد کرنے کے طریقے بھی سکھائے جاتے ہیں۔آئیے!اس دینی تحریک سے وابستہ ہو جائیے، خود بھی نیک بنئے اور دوسروں کو بھی نیکی پر مدد کر کے نیک راستے پر چلائیے۔

البتہ!یہ بھی یاد رہے کہ کچھ نیکیاں ہم ڈائریکٹ نہیں کر سکتیں، مثلاً تبلیغِ دین کے لیے مدنی قافلے میں سفر کرنا وغیرہ تو ایسی  صورت میں ہم اپنے گھر کے مرد حضرات کی اس نیک کام کی ادائیگی کے لیے اسباب فراہم کر کے ان کے ثواب میں شامل ہو سکتی ہیں۔صحابہ کرام و صحابیات نیکی کے کاموں میں آپس میں ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ رکھتے تھے جیسا کہ ہجرت کے موقع پر حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ عازمِ مدینہ ہوئے تو اس موقع پر  حضرت اسماء بنتِ صدیق نے سامانِ سفر تیار کرنے کی خدمت سرانجام دی، جب باندھنے کے لئے کوئی چیز نہ ملی تو انہوں نے اپنے نِطاق(کمر پر باندھنے کے کپڑے) کے2 ٹکڑے کر کے اس سے سامانِ سفر باندھا،اسی وجہ سے آپ کا لقب ذاتُ النطاقین یعنی دو پٹکوں والی ہے۔ ([6])لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ ہم جو نیکی کے کام خود نہیں کر سکتیں ان میں اپنے محارم کی مدد کر کے ثواب کی حصہ دار بنیں۔اللہ پاک ہمیں اپنے اندر نیکیوں کی حرص پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور نیکی کے راستے میں ایک دوسرے کی مددگار بننے کی سعادت نصیب فرمائے۔

 اٰمین بجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن انٹرنیشنل افئیرز ڈیپارٹمنٹ



[1]…بخاری،2/267،حدیث:2843

[2]… شرح ابن بطال،5/51ملتقطاً

[3]… مراۃ المناجیح، 1/194

[4]… فتاویٰ ہندیہ،5/353،352

[5]… بخاری،2/127،حدیث: 2444

[6]… بخاری،  2/304، حدیث:2979


Share