موضوع:بارات
دولہے کے ساتھ آنے والے شادی کے جلوس کو بارات کہتے ہیں۔اس روز دلہن کی رخصتی کی غرض سے دولہا مقررہ مقام یا پھر لڑکی کے ہاں جاتا ہے تاکہ اس کو رخصت کروا کر ساتھ لے کر آئے۔ چنانچہ بارات کے دن معاشرے میں جس قدر رسومات وغیرہ کا سلسلہ ہوتا ہے یہاں ان کا ایک مختصر جائزہ پیشِ خدمت ہے:
بارات کے متعلق ایک بد شگونی:
بعض لوگوں میں یہ رواج ہے کہ لڑکا جب بارات کے لیے گھر سے نکل جاتا ہے تو اب چاہے جو بھی ہو جائے وہ اپنے گھر میں تب تک واپس نہیں آتا جب تک کہ دلہن نہ لے آئے ورنہ اس سے بد شگونی مراد لی جاتی ہے۔ یہ درست نہیں کیونکہ کسی بھی چیز سے بد شگونی لینا حرام ہے۔([1])
دلہن کا پارلر سے تیار ہونا:
بارات والے دن دلہن کو دوپہر میں ہی پارلر بھیج دیا جاتا ہے تاکہ وہ تیار ہو کر خوبصورت لگے، دلہن کے رخصتی کے لئے تیار ہونے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے حلال چیزوں سے عورت کا اپنے شوہر کے لئے بناؤ سنگھار کرنا جائز ہی نہیں بلکہ مستحب ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: عورت کا اپنے شوہر کے لئے گہنا پہننا، بناؤ سنگار کرنا باعث اجر عظیم اور اس کے حق میں نماز نفل سے افضل ہے۔بعض صالحات(بزرگ خواتین)کہ خود اور ان کے شوہر دونوں صاحب اولیائے کرام سے تھے ہر شب بعدِ نماز عشا پورا سنگار کر کے دلہن بن کر اپنے شوہر کے پاس آتیں اگر انہیں اپنی طرف حاجت پاتیں حاضر رہتیں ورنہ زیور و لباس اتار کر مُصَلّٰے بچھاتیں اور نماز میں مشغول ہو جاتیں اور دلہن کو سجانا تو سنت قدیمہ اور بہت احادیث سے ثابت ہے۔([2]) جیسا کہ حضرت اُمِّ سِنان رضی اللہ ُعنہا کو حضور پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مقدس بیوی اُمُّ المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ ُعنہا کا بناؤ سنگھار کرنے کا شرف حاصل ہوا۔([3])
آج کل دلہن کے بناؤ سنگھار کے معاملے میں بہت سی خرابیاں شامل ہو چکی ہیں،جیسے مرد سے عورت کا میک اپ کروانا، کیونکہ شریعت نے عورت کو اجنبی مرد سے اور اسی طرح مرد کو اجنبی عورت سے پردے کا حکم دیا ہے اور ان دونوں کا ایک دوسرے کو کسی شرعی ضرورت کے بغیر چھونا بھی حرام قرار دیا ہے۔ جبکہ بیوٹی پارلر میں بے پردگی کے علاوہ جسم کا چھونا بھی پایا جاتا ہے، جو سخت ناجائز و حرام ہے اور کئی مرتبہ ان دونوں میں تنہائی بھی پائی جاتی ہے جو مزید گناہ کا باعث ہے، الغرض یہ کام کئی ناجائز و حرام کاموں کا مجموعہ ہے، ایسا کرنے کی شریعت میں ہرگز اجازت نہیں۔
عورت کا بالوں کو برابر کرنے کے لیے پیشانی کی جانب سے اس طرح بال کاٹنا کہ وہ حقیقی لمبائی میں کندھوں سے نیچے تک نہ رہیں،یہ جائز نہیں،کیونکہ عورت کے لیے کندھوں تک بال کاٹنا،چاہے پیشانی کی طرف سے ہو یا پیچھے سے ہو،حرام ہے۔([4]) اگر خوبصورتی کے لیے لٹ بنائی مگر وہ کندھے سے اوپر ہے تو نا جائز و گناہ ہے۔([5]) بعض عورتیں بالوں کو سیاہ رنگ کرواتی ہیں تو ان کا رنگ کے ذریعے بال سیاہ کرنا منع ہے کیونکہ یہ اللہ پاک کی تخلیق میں تبدیلی ہے۔([6])
اسی طرح آئی برو بنانا و بنوانا بھی مُثلَہ کے سبب حرام ہے۔ البتہ عورت بازو،ہاتھ، پاؤں اور ٹانگوں کے بال اتار سکتی ہے۔ چنانچہ
مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:سینہ اور پیٹھ کے بال مونڈنا یا کتروانا اچھا نہیں، ہاتھ پاؤں پیٹ پر سے بال دور کر سکتے ہیں۔([7]) نیز عورت(سنورنے کے لیے)کانچ کی چوڑیاں بھی پہن سکتی ہے۔([8]) البتہ اس کی آواز نامحرم تک نہ جائے۔
اس کے علاوہ Nails Making یعنی خوبصورتی کے لیے عورتوں کا اپنے ناخنوں کی تراش خراش کروانا اور ان پر Artificial یعنی مصنوعی ناخن لگوانا بھی جائز ہے،جبکہ یہ ناخن انسان یا خنزیر کے کسی حصے سے تیار کردہ نہ ہوں،البتہ مصنوعی ناخن لگانے میں اگر ایسا انداز ہو کہ دیکھنے والے یہی سمجھیں کہ خلافِ شرع ناخن بڑھائے ہوئے ہیں اور یوں محلِ تہمت بنے تو اس سے بچنا چاہیے کہ لوگوں کو بدگمانی کا موقع نہ دیا جائے۔([9])
انسان اور خنزیر کے بالوں کے علاوہ دوسرے جانور کے بالوں کی مصنوعی پلکیں عورتوں کو زینت کے طور پر لگانا جائز ہے۔لیکن وضو،غسل کرنے کے لئے ان پلکوں کا اتارنا ضروری ہے کیونکہ مصنوعی پلکیں گوند وغیرہ سے لگانے کے بعد اصلی پلکوں کے ساتھ چپکا دی جاتی ہیں، لہٰذا انہیں اتارے بغیر اصلی پلکوں کا دھونا ممکن نہیں جبکہ وضو،غسل میں اصلی پلکوں کے ہر بال کا دھونا فرض ہے۔([10]) الغرض اس میں بھی شرعی حدود کو مدنظر رکھا جائے،شریعت کے احکامات سے ٹکرانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
دولہے کا شیروانی پہننا:
دولہے کا شیروانى پہننا جائز ہے،اس کو اسراف نہىں کہہ سکتے۔شیروانى پاکستان کا قومى لباس بھی ہے۔ امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:میں نے بھی اپنے نکاح میں شیروانى پہنی تھی۔البتہ!شادی میں شیروانى پہننے کا سنت ہونا معلوم نہیں ہے۔پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم زیادہ تر دو چادریں استعمال فرماتے یعنی یمنی چادر کى تہبند باندھتے تھے،([11]) کُرتا پہننا بھى ثابت ہے،([12]) البتہ پاجامہ یا شلوار وغىرہ پہننا ثابت نہیں۔([13]) نیز یہ خیال بھی رکھا جائے کہ شیروانی ایسے کپڑے کی نہ ہو جو مرد کے لیے جائز نہیں۔
گھر و گاڑی سجانا:
شادی کے موقع پر بارات کے دن دلہن کو لانے والی گاڑی، کمرہ اور گھر کو سجایا جاتا ہے ۔اب تو گھر سجانے کا رواج پہلے کی نسبت بہت کم ہو گیا ہے، مگر کمرہ ضرور سجایا جاتا ہے اور کار اگرچہ اپنی نہ ہو مگر پھر بھی مہنگی بکنگ کروائی جاتی ہے جس کو پھولوں سے خوب سجایا جاتا ہے۔یہ سب اگر تحدیثِ نعمت (یعنی نعمت کے اظہار)کے سبب ہے تو مستحب اور فخر و دکھاوے کی غرض سے ہو تو گناہ ہے۔
سرمہ لگائی:
اس موقع پر سرمہ لگائی کے نام سے بھی ایک رسم کی جاتی ہے۔جب دولہا نہا دھوکر تیار ہو جاتا ہے اور بارات روانہ ہونے والی ہوتی ہے تو اس وقت دولہے کی بھابھی اس کی آنکھوں میں اپنے ہاتھوں سے سرمہ لگاتی ہے اور اس سرمہ لگائی پر اس کو دولہے کی جانب سے پیسے ملتے ہیں۔
یاد رہے!یہ دونوں(بھابھی اور دیور) ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہیں،عورت کا اس طرح نامحرم کو چھونا جائز نہیں۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اجنبی جوان عورت کو جوا ن مرد کے ہاتھ پاؤں چھونا جائز نہیں اگر چہ (وہ مرد اس عورت کا) پِیر ہو۔([14])
اگر بھابھی کے علاوہ کوئی محرم لگائے تو حرج نہیں۔البتہ سُرمہ لگانا نہ صرف جائز بلکہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نہایت ہی پیاری پیاری سنّت ہے۔مرد کے لیے پتھر کا سرمہ استعمال کرنے میں حرج نہیں اور سیاہ سرمہ یا کاجل زینت کی نیّت سے مرد کو لگانا مکروہ ہے اور زینت مقصود نہ ہو تو کراہت نہیں۔([15]) سرمہ لگانا اگر بنیتِ سنت ہو تو ثواب ہے مگر آج کل جس طرح کی رسم ادا کی جاتی ہے یوں تو گناہ ہی ہاتھ آئے گا ۔
دولہے کو کُلّاہ پہنانے اور سہرا باندھنے کی رسم:
بہنیں اپنے بھائی کے لیے کلاہ لاتی ہیں اور اس کو بہنوئی پہناتے ہیں اس پر بھی دولہا رقم دیتا ہے۔اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ ہندوؤں سے مشابہت نہ ہو، بہتر یہی ہے کہ سنت کی نیت سے عمامہ شریف سجایا جائے، جیسا کہ بعض لوگ بالخصوص مذہبی اور دیندار حضرات علمائے کرام وغیرہ کرتے ہیں،اس میں رسم کے ساتھ ساتھ سنت کی ادائیگی بھی ہو جائے گی۔
کلاہ کے اوپر سہرا باندھا جاتا ہے، سہرا پھولوں یا موتیوں کی اس لڑی کو کہتے ہیں جو دولہے کے چہرے پر لٹکائی جاتی ہیں۔ پاکستان میں زیادہ تر گلاب اور موتیا پھول کے سہرے ہوتے ہیں،کہیں چھوٹے اور کہیں بڑے،کراچی والوں میں اکثر یہ رواج ہے کہ گھٹنوں تک کا سہرا پہنایا جاتا ہے اور یہ دولہے کا بھائی اسے پہناتا ہے۔ یہ بھی شرعی طور پر درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔چنانچہ
دار الافتاء اہلسنت کا فتوی ہے کہ دولہے کو سہرا باندھنا جائز ہے،جبکہ ممانعت کی کوئی خاص وجہ موجود نہ ہو،مثلاً وہ ایسا سہرا ہو جو کسی مقام پر کفار کے ساتھ خاص ہو ، جس سے ان کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہو وغیرہ وغیرہ۔ ([16])
اسی طرح مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:سہرا باندھنا جائز ہے،ہاں وہ سہرا جس میں نلکیاں ہوتی ہیں جو کہ خاص ہندوؤں میں رائج ہے (اس کا پہننا) ناجائز ہے۔([17])
دولہے کا سر بالا بنانا:
گھر کے کسی چھوٹے بچے کو سر بالا بنایا جاتا ہے اور اس کو دولہے کی مثل ہی کپڑے اور جوتے وغیرہ پہنائے جاتے ہیں اور ہر وقت وہ بچہ دولہے کے ساتھ ہی رہتا ہے،اس میں کوئی حرج نہیں۔اس میں یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ دولہے کا بھانجا سر بالا نہ بنایا جائے، اس کی کوئی اصل نہیں، بھانجا یا کوئی بھی سر بالا ہو سکتا ہے۔ ([18])
ضروری نہیں کہ سربالا صرف کوئی چھوٹا بچہ ہی ہو، کیونکہ بسا اوقات سربالا کسی ایسے فرد کو بھی بنایا جاتا ہے جو دولہے کو اس کی زندگی کے اس اہم دن پر ہر جگہ ناپسندیدہ کاموں سے بچائے اور اس کا خاص خیال رکھے۔
گھوڑے پر بارات لے جانا:
موٹر گاڑیوں کے عام ہونے سے پہلے بارات گھوڑے اور بگھیوں وغیرہ پر جاتی تھی،بعد میں کار پر بارات لے جانے کا رواج پڑ گیا اور آج تک یہی رواج قائم ہے،البتہ!اب بھی کہیں کہیں یہ رواج ہے کہ بارات گھوڑے یا بگھی پر جاتی ہے،جب بارات لے کر جاتے ہیں تو دولہا گھوڑے پر سوار ہوتا ہے۔
بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ جس گھوڑے پر دولہا سوار ہوتا ہے اگر اس کو دولہا نے قابو کر لیا تو اس کی بیوی اس کی فرمانبردار رہے گی،اگر دولہا گھوڑا قابو نا کر سکے تو اس سے یہ تصور لیا جاتا ہے کہ دولہا اپنی بیوی کو قابو نہ کر سکے گا، یہ بیکار کی باتیں ہیں جن کی کوئی اصل نہیں۔
اسی طرح دولہے کے دوست احباب رشتےدار ناچتے، گاتے اور پیسے پھینکتے گھوڑے کے آگے چلتے جاتے ہیں، یہ بھی درست نہیں۔البتہ گھوڑا ایک بابرکت سواری ہے اس پر بارات لے جانے میں کوئی حرج نہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* شعبہ حج و عمرہ پاک سطح دفتر ذمہ دار
Comments