موضوع:گناہ پر مدد
(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 28ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کئے جا رہے ہیں۔)
مدد دو طرح کی ہوتی ہے:اچھی اور بُری۔الحمد لله!ہم مسلمان ہیں اور اسلام ہمیں ایک دوسرے کی اچھی امداد کا درس دیتا ہے،نیکی اور بھلائی کے کاموں میں مدد کرنا اچھی مدد اور ایسے ہی گناہ کے کاموں پر مدد کرنا بُری مدد ہے۔اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ:2)
ترجمہ:اور نیکی اور پرہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو ۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
تفسیر صراط الجنان میں ہے:اس آیت کریمہ میں اللہ پاک نے دو چیزوں کا حکم دیا ہے:(1)نیکی اور پرہیزگاری پر مدد کا (2)گناہ اور زیادتی پر مدد نہ کرنے کا۔آیت میں اِثْمٌ سے مراد گناہ ہے اور ایک قول کے مطابق کفر ہے۔ ([1]) گناہ پر مدد کرنے سے مراد گناہ پر راضی رہتے ہوئے گناہ گار کا ساتھ دینا ہے، دیگر معانی میں بُرا ساتھی اور بُری صحبت اختیار کرنا مراد ہے۔
گناہ پر مدد کا حکم:
گناہ پر مدد کرنا اللہ پاک کی ناراضی کا سبب ہے جس کا منع ہونا واضح آیتِ کریمہ سے ثابت ہے،لہٰذا گناہ پر مدد کرنا شرعاً ناجائز و گناہ ہے۔
گناہ پر مدد کی چند مثالیں:
کسی کا حق مارنے میں دوسرے کی مدد کرنا،سود لے کر فیصلہ بدلنا،ظالموں کی حمایت کرنا،جھوٹے مقدمہ بازوں کی وکالت کرنا،فحاشی،گانے باجے اور رقص وغیرہ کی محفلوں کی طرف رہنمائی کرنا،وہ ادارے جہاں غلط اور غیر شرعی عقائد وغیرہ کی تعلیم دی جاتی ہے ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون کرنا، گناہ کے کاموں میں سفارش کرنا، جھوٹی گواہی دینا وغیرہ۔
گناہ پر مدد کے اسباب و نقصانات:
گناہ پر مدد کرنا دنیا و آخرت دونوں میں نقصان کا سبب ہے دنیا میں اس طرح کہ شرمندگی کا باعث ہے اور اخروی نقصان عذاب کی حق داری ہے۔ انسان کا گناہ پر مدد سے بچنا اسی صورت ممکن ہوگا جب گناہ کے بارے میں علم ہو۔بسا اوقات لوگ گناہ پر مدد کررہے ہوتے ہیں حالانکہ انہیں اس کا علم نہیں ہوتا اس صورت میں ہر ایک کو چاہیے کہ وہ گناہ کو پہچان کر اس پر مدد کرنے سے باز رہے۔ گناہ کی پہچان سے متعلق حدیثِ مبارک میں ہے:نیکی اچھے اخلاق ہیں اور گناہ وہ ہے جو تمہاے دل میں کھٹکے اور تمہیں ناپسند ہو کہ لوگوں کو اس کا پتا چلے۔ ([2])
بعض اوقات گناہوں پر مدد کرنے والے یہ سوچ کر مدد کرتے ہیں کہ بُرائی کرنے والا خود ہی اس کا نقصان اٹھائے گا ہمیں کیا؟یہ سوچ نہایت غلط ہے، اس لیے کہ اس کے گناہ کے اثرات تمام معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں، ایسے ہی جیسے کشتی توڑنے والا اکیلا نہیں ڈوبتا بلکہ سب کو لےکر ڈوبتا ہے۔اسی طرح بُرائی کرنے والے چند افراد کا یہ جرم تمام معاشرے میں پھیل جاتا ہے اور ایک بد بخت کی وجہ سے سب اس کا شکار ہو جاتے اور اس میں مبتلا ہوکر اپنی آخرت برباد کر ڈالتے ہیں۔
اللہ کریم ہمیں گناہوں پر کسی کی مدد کرنے سے محفوظ رکھے اور نیکیوں پر ایک دوسری کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
کسی کے گناہوں میں مدد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس کے بُرے اعمال میں شریک ہو رہی ہیں یا اسے اس میں مزید ملوث ہونے کی ترغیب دے رہی ہیں،یہ عمل خود گناہ ہے اور اس کا وبال آپ پر بھی پڑے گا۔قرآن و حدیث میں اس بات کی مذمت بیان کی گئی ہے،جیسا کہ اللہ پاک کا فرمان ہے:
وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ 6، المائدۃ:2)
ترجمہ:اور نیکی اور پرہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو ۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
جو کسی بُرے کام میں کسی دوسرے کی مدد کرے یا کسی کو برائی کی دعوت دے، تو وہ بھی اس کے گناہ میں شریک ہے۔ جیسا کہ نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا:جس نے ہدایت کی دعوت دی اسے اس ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس نے کسی گمراہی کی دعوت دی، اس پر اس کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ ہو گا اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔([3])اسی طرح ایک اور حدیثِ پاک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا:جس نے کوئی بُرا طریقہ جاری کیا،پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا، تو اس کے لئے بھی اتنا ہی گناہ لکھا جائے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کا اور ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہیں کی جائے گی۔ ([4])
محیط برہانی میں ہے:گناہوں اور فسق و فجور کے کاموں پر مدد کرنا اور اس پر ابھارنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ ([5])
گناہ پر مدد کرنے کے نقصانات:
اس کے ذاتی، معاشرتی، دنیوی و اخروی ہر طرح سے نقصان ہی نقصان ہیں، مثلاً ذاتی نقصان یہ ہے کہ گناہوں پر مدد کرنے سے آپ کا ایمان کمزور ہو سکتا ہے اور آپ خود بھی گناہ کی راہ پر چل سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ آخرت میں بھی جواب دینا ہے کہ آپ کو آخرت میں ان گناہوں کا حساب دینا ہو گا جن میں آپ نے دوسروں کی مدد کی ہو گی۔ جبکہ معاشرتی نقصان یہ ہے اس سے معاشرتی بگاڑ پیدا ہو گا اور بُرائیوں کو فروغ ملے گا۔
کرنے والے کام:
گناہ ہوتا دیکھ کر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟اس حوالے سے کچھ کرنے کے کام یہ ہیں:
1۔روکنا:
اگر آپ کسی کو گناہ کرتی دیکھیں تو اسے محبت اور حکمت کے ساتھ روکنے کی کوشش کیجئے۔ہاتھ سے روک سکیں تو ہاتھ سے روکیے۔اگر ہاتھ سے روکنے پر قادر نہ ہوں تو زبان سے روکیے۔اگر ایسا کرنے پر بھی قادر نہ ہوں تو کم از کم دل میں ہی بُرا جانیے کہ یہ ایمان کا ادنیٰ درجہ ہے۔ ([6])
2۔نصیحت:
مناسب موقع دیکھ کر نرمی کے ساتھ نصیحت کیجئے تاکہ وہ گناہ سے باز آ سکے۔
3۔دعوت و ترغیب:
نیکی کی دعوت دیجئے،اس کی اہمیت اور فوائد پر روشنی ڈالیے اور دوسروں کا دل دکھانے کے وبال سے بچنے کی ترغیب دلائیے۔
4۔ خود محتاط رہنا:
اپنے اعمال کا جائزہ لیتی رہیے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کیجئے۔
معاذَ اللہ اگر آپ کسی کے گناہوں میں مدد کرتی ہیں تو یہ آپ کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان دہ ہے۔اس لیے ہمیشہ نیکی اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کیجئے اور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین کیجئے۔اللہ پاک ہمیں گناہ کرنے اور گناہوں پر مددگار بننے سے محفوظ فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم


Comments