بزرگوں کی بے ادبی کرنے کی مذمت
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن

سلسلہ:اخلاقیات

موضوع:بزرگوں کی بے ادبی کرنے کی مذمت

(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 51ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کیے جا رہے ہیں۔)

محترمہ اُمِّ شجاع عطاریہ (فرسٹ پوزیشن)

(معلمہ فیضان آن لائن اکیڈمی گرلز گجرات پاکستان)

الحمدُ للہ علیٰ احسانہٖ!ہم مسلمان ہیں۔ہمارا دین ہماری زندگی میں قدم بقدم ہماری راہ نمائی کرتا ہے۔والدین سے اچھا سلوک، رشتہ داروں کا خیال،چھوٹوں سے شفقت،بڑوں کا احترام، ہمسائیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ،بالخصوص بزرگوں کا ادب و احترام ہمارے دینِ اسلام کی نمایاں خوبیاں ہیں۔

بزرگ ہمارے معاشرے کا اہم ترین حصہ ہیں۔ان کی ذات ہمارے لیے ذریعۂ شفقت و الفت ہے۔جہاں ان کے ساتھ ادب و احترام کا سلوک اختیار کرنے کا حکم ہماری تعلیماتِ اسلامی کا حصہ ہے وہیں ان کی بے ادبی اور ان سے بدسلوکی سے دینِ اسلام میں ممانعت بھی موجود ہے۔

تفسیر روح البیان میں ہے کہ پہلے زمانے میں جب کوئی نوجوان کسی بوڑھے آدمی کے آگے چلتا تھا تو اللہ پاک اسے (اس کی بے ادبی کی وجہ سے) زمین میں دھنسا دیتا تھا۔([1])

اسی طرح ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کی کہ میں فاقہ کا شکار رہتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ تو کسی بوڑھے شخص کے آگے چلا ہوگا۔([2])

اسلام کی پیاری پیاری تعلیمات کا نفاذ فرمانے والے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے:بےشک میری امت کے بزرگ افراد کی عزت و تکریم،میری بزرگی و تعظیم ہے۔([3])

بزرگوں کی بے ادبی کے کچھ نقصانات:

یہ ایک ایسی معاشرتی اور اخلاقی برائی ہے جو انسان کو دنیا میں اور بسا اوقات آخرت میں بھی سخت نقصان پہنچاتی ہے۔ بزرگ ہمارے گھروں کی چھاؤں اور تجربے کا خزانہ ہوتے ہیں  ۔ ان کی بے ادبی سے خاندانی نظام کمزور ہوتا ہے اور گھر سے برکت اٹھ جاتی ہے،اس کے علاوہ انفرادی نقصان یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سے انسان کی اپنی عزت وتوقیر معاشرے میں کم ہو جاتی ہے اور وہ  بےادب بےنصیب کے مصداق ہمیشہ کے لیے بد نصیب ٹھہرتا ہے۔

ادب و احترام کی ترغیب:

انسان جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے،اگر ہم اپنے بزرگوں کا ادب واحترام کریں گی تو کل کو ہمارا بھی ادب کیا جائے گا اور اگر ہم اپنے بڑوں کا ادب نہیں کریں گی تو یقیناً کل کو ہمیں بھی اپنے چھوٹوں سے اسی رویے کا سامنا کرنا پڑے گا،لہٰذا خود بھی بزرگوں کا احترام کریں اور بالخصوص اپنی اولاد کی تربیت میں بڑوں کے ادب و احترام کو لازمی شامل کریں۔

بچوں کی پریکٹیکل تربیت کے لیے ان کے سامنے اپنے بڑوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں، ادب و احترام کریں اور ان تمام کاموں میں نیت رضائے الٰہی کی رکھیں۔الله پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے بڑے بزرگوں کا باادب اور چھوٹوں کے ساتھ شفقت کا رویہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجاہِ سیدِ الْمُرْسلین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

محترمہ بنتِ محمد سلیم عطاریہ

(طالبہ:فورتھ ائیر،شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ)

اسلام میں بزرگوں کا احترام نہ صرف ایک اخلاقی فریضہ ہے بلکہ یہ ایمان کی علامت بھی ہے۔بزرگ وہ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا قیمتی وقت عبادت،خدمتِ خلق اور تجربات کے ذریعے گزارا ہے۔ان کی عزت کرنا دراصل اپنے دین،ثقافت اور اقدار کی عزت کرنا  اور ان کی بےادبی ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف اخلاقی پستی کی نشانی ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بنتا ہے۔قرآن و حدیث میں بڑوں کے احترام پر زور دیا گیا ہے اور ان کی توہین کو سخت ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے،ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے اور ہمارا حق نہ پہچانے،وہ ہم سے نہیں۔([4]) اسی طرح ایک روایت میں ہے: مسلمانوں کے بڑوں کی عزت کرو اور ان کے چھوٹوں پر رحم کرو؛ میں اور تم قیامت میں یوں آئیں گے،پھر حضور نے اپنی انگلیوں کو ایک ساتھ مِلایا۔([5])

بزرگوں کی بے ادبی کے نقصانات میں یہ چیزیں شامل ہیں: * یہ عمل اللہ پاک کی ناراضی کا سبب ہے،کیونکہ یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔* بے ادبی سے گھروں اور معاشرے سے سکون اور رحمت کم ہو جاتی ہے۔* نوجوان اور بزرگ نسل کے درمیان محبت اور اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی گفتگو اور اپنے عمل میں ہمیشہ بڑوں کا ادب ملحوظ رکھیں،ان کی بات غور سے سنیں،ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور ان کے لیے دعا گو رہیں۔یہی رویہ ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی کی طرف لے جائے گا۔کیونکہ جس نے جو کچھ پایا،ادب واحترام کی برکت سے پایا اور جس نے جو کچھ کھویا،بےادبی کی وجہ سے کھویا۔

جو لوگ اپنے بڑوں کی عزت وعظمت کو دل سے تسلیم کرتے ہوئے ان کا احترام کرتے ہیں،اللہ پاک انہیں بھی عزت ووقار عطا فرماتا ہے،لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کر دیتا ہے اور ان کے حلقۂ تعلقات میں برکت عطا فرماتا ہے۔ایسے لوگ رفتہ رفتہ معاشرے میں باعزت اور باوقار مقام حاصل کر لیتے ہیں۔ہمارے ان بزرگوں میں والدین،اساتذہ،پیر و مرشد اور دیگر اہلِ علم بھی شامل ہیں۔

امامِ اعظم ابوحنیفہ حضرت نعمان بن ثابت رحمۃُ اللہ علیہ کے شاگرد حضرت یوسف بن خالد سمتی بصری رحمۃُ اللہ علیہ نے تکمیلِ علم کے بعد اپنے شہر بصرہ جانے کی اجازت طلب کی تو امامِ اعظم نے فرمایا:کچھ دن ٹھہرو تاکہ میں تمہیں ان ضروری امور سے متعلق وصیت کروں کہ لوگوں کے ساتھ معاملات کرنے، اہلِ علم کے مراتب پہچاننے،نفس کی اصلاح،عوام و خواص کو دوست رکھنے اور عام لوگوں کے حالات سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے  جن کی ضرورت پڑتی ہے یہاں تک کہ جب تم علم حاصل کر کے جاؤ تو وہ وصیت تمہارے ساتھ ایسے آلے کی طرح ہو جو علم کو زینت دے اور اسے عیب دار ہونے سے بچائے۔پھر فرمایا:جب تم بصرہ میں داخل ہو گے تو لوگ تمہارے استقبال اور تمہاری زیارت کو آئیں گے تو تم ہر شخص کو اس کے مرتبے کے لحاظ سے عزت دینا،شرفا کی عزت اور اہلِ علم کی تعظیم و توقیر کرنا،بڑوں کا ادب و احترام کرنا اور چھوٹوں پیار و محبت۔([6])

کروں عالموں کی کبھی بھی نہ توہین

بنا دے مجھے باادب یاالٰہی!

آج سے اپنے والدين كی عزت،بڑے بہن بھائیوں کا احترام اور اپنی معلمات کی تعظیم کرنے نیز چھوٹوں سے بھی شفقت و محبت سے پیش آنے کی نیت کر لیجئے۔اللہ پاک ہم سب کو اپنے بڑوں کا ادب و احترام کرنے اور اپنے چھوٹوں سے شفقت و محبت کے ساتھ پیش آنے کی تو فیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن



[1] تفسیر روح البیان،9/62

[2] تفسیر روح البیان،5/56

[3] کنز العمال،جز:3،2/ 71،حدیث:6010

[4] معجم کبیر،11/ 355،حدیث:12276

[5] المطالب العالیہ،7/ 570،حدیث:3143

[6] امام اعظم کی وصیتیں،ص 27،25


Share