دوسروں کے ساتھ اچھائی کیجیے!
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:دوسروں کے ساتھ اچھائی کیجیے!

انسان تنہا زندگی نہیں گزارتا بلکہ گھر،خاندان اور معاشرے کے افراد کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے۔ایسے میں اس کے اخلاق اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے ماحول پر پڑتا ہے۔ایک نرم جملہ دل کو خوش کرسکتا ہے،کسی کی مدد اس کی مشکل آسان کرسکتی ہے اور کسی کی غلطی کو معاف کرنا ٹوٹتے ہوئے رشتے کو بچا سکتا ہے۔اسی لیے اسلام نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ اچھے سلوک اور بھلائی کرنے کی ترغیب دی ہے۔

دوسروں کے ساتھ اچھائی صرف مال خرچ کرنے یا کسی کی مالی مدد کرنے کا نام نہیں،بلکہ نرمی سے بات کرنا،خوش اخلاقی سے پیش آنا،کسی کی پریشانی دور کرنا،معاف کرنا،عیب پوشی کرنا اور مسکرا کر ملنا بھی اچھائی کی مختلف صورتیں ہیں۔جب یہ جذبہ ہمارے دلوں میں پیدا ہوگا تو ہمارا گھر محبت کا گہوارہ، رشتے مضبوط اور معاشرہ امن و سکون کا نمونہ بن سکتا ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے:مخلوق اللہ پاک کی عیال ہے اور مخلوق میں سے وہ اللہ پاک کو زیادہ پسند ہے جو اس کی عیال کے ساتھ اچھائی کرے۔([1])

ہمیں چاہیے کہ اچھائی کے لیے بڑے مواقع کا انتظار نہ کریں بلکہ روزمرہ زندگی کے معمولی معمولی کاموں میں بھی دوسروں کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کریں؛ کیونکہ بسا اوقات ہماری معمولی سی نیکی کسی کے لیے بہت بڑی خوشی کا سبب بن جاتی ہے۔

اچھائی صرف مال خرچ کرنے کا نام نہیں:

دوسروں کے ساتھ اچھائی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔کسی ضرورت مند کی مالی مدد کرنا یقیناً نیکی ہے،لیکن ہر ایک کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ مال کے ذریعے دوسروں کی مدد کرے۔اس کے باوجود ہر اسلامی بہن اپنے اچھے اخلاق،نرم گفتگو اور خیرخواہی کے ذریعے دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرسکتی ہے۔کسی پریشان حال کی دل جوئی کرنا،کسی کی مشکل دور کرنا،معاف کردینا،اچھی بات سمجھانا اور نیکی کی طرف راہ نمائی کرنا بھی اچھےسلوک کی صورتیں ہیں۔ کسی کی پریشانی دور کرنا بھی بڑی نیکی ہے۔کبھی کوئی مالی مشکل میں ہوتی ہے،کبھی گھریلو پریشانی اسے بے چین کیے ہوتی ہے اور کبھی وہ کسی ذہنی الجھن میں مبتلا ہوتی ہے۔ ایسے موقع پر اس کی بات توجہ سے سن لینا،مناسب مشورہ دینا یا اپنی استطاعت کے مطابق اس کا ہاتھ تھام لینا اس کے لیے بہت بڑی راحت بن سکتا ہے۔جیسا کہ حضرت عبدا للہ بن مبارک رحمۃُ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آیا جس کے گھٹنے میں سات سال سے پھوڑا تھا۔ انہوں نے اسے ایسی جگہ کنواں کھودنے کا مشورہ دیا جہاں لوگوں کو پانی کی ضرورت تھی۔اس شخص نے ایسا ہی کیا تو اللہ پاک نے اسے شفا عطا فرمائی۔([2])

اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے والے کام بظاہر معمولی نظر آئیں،لیکن ان میں خیر اور برکت کے بڑے دروازے ہوسکتے ہیں۔لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کی ضرورت کو محسوس کریں اور جہاں ممکن ہو،ان کے کام آئیں۔

معمولی نیکی کو معمولی نہ سمجھیں:

بعض اوقات ہم بڑی نیکی کے مواقع تلاش کرتی رہتی ہیں،حالانکہ ہمارے روزمرہ معمولات میں بھلائی کے بے شمار مواقع موجود ہوتے ہیں۔راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا،کسی غم زدہ کو تسلی دینا،بیمار کی عیادت کرنا، تعزیت کرنا،کسی کی غلطی سے درگزر کرنا،کسی کا عیب چھپانا، پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا یا کسی کو نیکی کی طرف متوجہ کرنا،یہ سب ایسے کام ہیں جن کے ذریعے ہم دوسروں کے لیے خیر کا سبب بن سکتی ہیں۔ایک روایت میں ہے:کسی بھی نیکی کو ہرگز معمولی نہ سمجھو،خواہ اپنے بھائی سے مسکراتے چہرے کے ساتھ ملنا ہی کیوں نہ ہو۔([3]) یہ حدیثِ پاک ہمیں ترغیب دیتی ہے کہ کسی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر چھوڑنا نہیں چاہیے۔ ایک مسکراہٹ کسی اداس دل کو خوشی دے سکتی ہے،ایک نرم جملہ کسی کے دل کا بوجھ ہلکا کرسکتا ہے اور ایک چھوٹی سی مدد کسی کی بڑی مشکل آسان کرسکتی ہے۔اسی طرح ایک روایت میں ہے:لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو دوسرے لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔([4]) پس ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہماری ذات دوسروں کے لیے تکلیف کا نہیں بلکہ راحت، خیر  اور فائدے کا ذریعہ بنے۔

اچھائی کس سے کی جائے؟

اچھائی اور حسنِ سلوک کا آغاز اپنے قریب رہنے والوں سے ہونا چاہیے۔سب سے پہلے والدین کے ساتھ ادب واحترام،خدمت اور نرم گفتگو کا معاملہ کیا جائے۔پھر بہن بھائی،دیگر رشتہ دار،پڑوسی اور گھر میں کام کرنے والے افراد بھی ہمارے اچھے سلوک کے مستحق ہیں۔اگر ہم دور کے لوگوں کے ساتھ تو خوش اخلاقی سے پیش آئیں،لیکن گھر والوں کے ساتھ سخت لہجے اور بدسلوکی کا رویہ رکھیں تو ہمارے اچھے اخلاق کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔خصوصاً گھر کا ماحول ہماری توجہ کا محتاج ہے۔ ساس بہو،نند بھاوج،بہن بھائی اور دیگر رشتہ دار اگر ایک دوسرے کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظرانداز کریں،غلطیوں کو معاف کریں اور ایک دوسرے کی ضرورت کے وقت کام آئیں تو بہت سے گھریلو اختلافات پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم ہوسکتے ہیں۔اسی طرح بچوں کے سامنے نرمی،صبر اور خیرخواہی کا مظاہرہ کیا جائے تو وہ بھی اپنے بڑوں سے اچھے اخلاق سیکھتے ہیں۔

نیکی کی طرف راہ نمائی بھی اچھائی ہے:

دوسروں کے ساتھ بھلائی صرف دنیاوی معاملات تک محدود نہیں،بلکہ کسی کی نیکی کی طرف راہ نمائی کرنا بھی بہت بڑی خیرخواہی ہے۔اگر ہمیں کوئی اچھی بات معلوم ہو تو مناسب انداز میں دوسروں تک پہنچانا، انہیں نماز کی پابندی کی ترغیب دینا،قرآنِ کریم پڑھنے کی طرف متوجہ کرنا، سنتوں پر عمل کی رغبت دلانا اور نیکی کی دعوت دینا بھی اچھے سلوک کی اہم صورتیں ہیں۔ایک روایت میں ہے: جس نے کسی بھلائی کی طرف راہ نمائی کی،اسے بھی اس نیکی کو کرنے والے جتنا اجر ملے گا۔([5]) اس لیے اسلامی بہنوں کو چاہیے کہ اپنے گھر اور حلقۂ احباب میں نیکی کی دعوت کو عام کرنے کی کوشش کریں۔ کسی اسلامی بہن کو ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی ترغیب دینا،دینی تعلیم حاصل کرنے کی طرف متوجہ کرنا یا کسی نیک عمل کی یاد دہانی کروانا بھی بھلائی ہے۔ممکن ہے ہماری ایک اچھی بات کسی کے معمولات بدل دے اور وہ نیکی کا ایسا راستہ اختیار کرلے جس کے اجر میں ہمیں بھی حصہ ملتا رہے۔

ہمیں یہ جائزہ بھی لینا چاہیے کہ ہمارے الفاظ،انداز اور معاملات سے ہمارے گھر والے کس قدر خوش یا پریشان ہوتے ہیں۔اگر کسی کو ہماری ایک مسکراہٹ خوشی دے سکتی ہے تو ہمیں مسکرانے میں بخل نہیں کرنا چاہیے،کیونکہ اچھائی کا اثر صرف اس تک نہیں پہنچتا جس کے ساتھ بھلائی کی جائے،بلکہ نیکی کرنے والی کے دل میں بھی محبت،نرمی اور خیرخواہی پیدا ہوتی ہے۔اس لیے روزانہ یہ نیت کیا کریں کہ آج ہماری ذات کسی نہ کسی کے لیے آسانی اور خوشی کا سبب بنے گی۔اللہ پاک ہمیں اچھا بولنے اور اچھا سننے کی سعادت نصیب فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ذمہ دار شعبہ ماہنامہ خواتین (کراچی سطح)،رکن انٹرنیشنل افیئرز ڈیپارٹمنٹ



[1] شعب الایمان،6/44،حدیث:7448

[2] شعب الایمان،3/221،حدیث:3381

[3] مسلم،ص 1083،حدیث:6690

[4] معجم اوسط،4/222،حدیث:5787

[5] مسلم،ص 809،حدیث:4899


Share