موضوع:پیارے نبی کی جدائی میں رونے والا تنا
بارش ابھی کچھ دیر پہلے ہی تھمی تھی۔صحن میں لگے پودوں کے پتوں پر پانی کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے اور ٹھنڈی ہوا سے درختوں کی شاخیں ہلکے ہلکے جھوم رہی تھیں۔ عافیہ اور ہانیہ کھڑکی کے پاس بیٹھی بارش کے بعد کا یہ خوب صورت منظر دیکھ رہی تھیں۔
ہانیہ کی نظر صحن میں کھڑے ایک پرانے درخت پر پڑی۔ ہانیہ کچھ دیر اسے غور سے دیکھتی رہی،پھر بولی:خالہ جان!کیا درخت بھی خوشی اور غمی محسوس کرتے ہیں؟
خالہ جان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:ہاں بیٹی!درخت بھی اللہ پاک کی مخلوق ہیں۔اللہ پاک نے اپنی ہر مخلوق کو اپنی قدرت کے مطابق مختلف صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں۔ہم درختوں کی کیفیت کو انسانوں کی طرح نہیں سمجھ سکتے،لیکن اللہ پاک جب چاہے اپنی مخلوق کی ایسی کیفیات ظاہر فرما دیتا ہے جنہیں دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔
عافیہ نے فوراً پوچھا:کیا کبھی کسی درخت نے اپنی خوشی یا غم کا اظہار بھی کیا ہے؟
خالہ جان نے محبت سے دونوں بچیوں کی طرف دیکھا اور کہا:کیوں نہیں!بلکہ ایک مرتبہ تو ایک کھجور کا تنا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی جدائی میں اس طرح رویا کہ مسجدِ نبوی شریف میں موجود صحابۂ کرام نے بھی اس کی آواز سنی۔
لکڑی کا تنا رویا تھا!ہانیہ نے حیرت سے پوچھا۔خالہ جان مسکرائیں:بالکل!یہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ایک عظیم معجزہ تھا۔آؤ!میں تمہیں وہ ایمان افروز واقعہ سناتی ہوں۔
دونوں بچیاں فوراً خالہ جان کے قریب ہوگئیں اور پوری توجہ سے ان کی طرف دیکھنے لگیں۔
مسجدِ نبوی کا ایک منظر:
خالہ جان نے کہنا شروع کیا:یہ اُس زمانے کی بات ہے جب مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی شریف میں ابھی منبر نہیں بنایا گیا تھا۔جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرماتے تو مسجد میں موجود کھجور کے ایک تنے کے پاس کھڑے ہوکر خطبہ دیتے۔
کھجور کا تنا؟ہانیہ نے حیرت سے پوچھا۔جی ہاں!خالہ جان نے جواب دیا،وہ تنا حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک مجلس کے قریب رہتا، آپ کا ذکر سنتا اور آپ کی زبانِ اقدس سے ارشادات سننے کی سعادت پاتا تھا۔
دونوں بچیاں خاموشی سے سن رہی تھیں اور ان کی آنکھوں میں تجسس تھا۔خالہ جان نے بات جاری رکھی:پھر صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے عرض کی کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے لیے ایک منبر بنا دیا جائے تو خطبہ ارشاد فرمانے میں سہولت ہوگی اور سب لوگ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اچھی طرح دیکھ بھی سکیں گے۔تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اجازت عطا فرما دی،چنانچہ ایک منبر تیار کردیا گیا۔
جدائی کا لمحہ:
جمعہ کا دن آیا۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور منبر پر جلوہ فرما ہوگئے۔صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان خاموشی سے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی طرف متوجہ تھے۔لیکن ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ مسجدِ نبوی میں ایک عجیب آواز گونجنے لگی۔کیسی آواز ؟
عافیہ نے بے اختیار پوچھا۔خالہ جان نے مسکرا کر کہا:وہ آواز اسی کھجور کے تنے کی تھی!
لکڑی کے تنے کی؟ ہانیہ حیرت سے بولی۔جی ہاں!وہ تنا حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی جدائی پر ایسی آواز سے رونے لگا جو حاملہ اونٹنی کے رونے جیسی تھی۔صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے ایسی کیفیت پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔دونوں بچیوں کے چہرے حیرت سے کھل گئے۔
خالہ جان نے کہا:سوچو بچیو!جس تنے نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے قریب رہ کر آپ کا ذکر سنا تھا،وہ آپ سے دوری برداشت نہ کر سکا۔ہانیہ نے آہستہ سے کہا:خالہ جان!پھر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے کیا فرمایا؟
شفیق نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا دستِ کرم:
خالہ جان کی آواز میں محبت اتر آئی اور بولیں:حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جب اس تنے کی آواز سنی تو منبر سے نیچے تشریف لائے اور اس تنے کے پاس جا کر اپنا دستِ مبارک اس پر رکھا۔
پھرکیا ہوا؟ عافیہ نے بے تابی سے پوچھا۔پھر وہ تنا خاموش ہو گیا!خالہ جان نے کہا:جیسے کوئی بچہ روتے روتے اپنی ماں کی گود میں آکر سکون پاتا ہے،اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شفقت بھری توجہ ملنے پر اس تنے کی آواز تھم گئی۔
عافیہ بولی:خالہ جان!ہمارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کتنے مہربان تھے کہ ایک لکڑی کے لیے بھی منبر سے نیچے آ گئے۔جی ہاں بیٹا!خالہ جان بولیں:ہمیں بھی اپنے اخلاق ایسے ہی نرم رکھنے چاہئیں اور ہر جاندار،یہاں تک کہ پودوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
ہانیہ نے حیرت سے کہا:سبحان اللہ!ایک لکڑی کے تنے کو بھی حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی قربت اتنی عزیز تھی!خالہ جان نے فرمایا:ہاں بیٹی! یہی تو اس واقعے کی انوکھی بات ہے۔اللہ پاک نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نبوت کی نشانی کے طور پر یہ عجیب معجزہ ظاہر فرمایا۔
دنیا یا جنت؟
خالہ جان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اس تنے کو اختیار دیا کہ اگر چاہے تو اسے دوبارہ اس کی پہلی حالت میں کر دیا جائے،وہ سرسبز ہو اور پھل دے،اگر چاہے تو اسے جنت میں لگا دیا جائے جہاں اللہ پاک کے نیک بندے اس کا پھل کھائیں ۔تو اس تنے نے آخرت کو اختیار کیا۔
عافیہ نے خوشی سے کہا:وہ تنا تو بہت سمجھ دار تھا کہ اس نے دنیا کے بجائے جنت کو پسند کیا!جی! بالکل!خالہ جان نے مسکرا کر کہا،ہمیں بھی چاہیے کہ دنیا کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائےحضور سے عشق کریں تاکہ ہمیں بھی جنت مل سکے۔یوں یہ واقعہ ہمیشہ کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے عظیم معجزات میں یادگار بن گیا۔
ہانیہ کچھ دیر خاموش رہی۔پھر بولی:خالہ جان!اگر ایک لکڑی کا تنا حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی جدائی پر رو سکتا ہے تو ہمیں تو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے اس سے بھی بڑھ کر محبت کرنی چاہیے!
خالہ جان نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا:بالکل! حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے سچی محبت صرف زبان سے دعویٰ کرنے کا نام نہیں، بلکہ آپ کی اطاعت،سنتوں سے محبت اور آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کا نام بھی ہے۔
خالہ جان نے بات ختم کرتے ہوئے بتایا:بچیو!ایک بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں جن کا نام حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ تھا۔وہ جب بھی یہ واقعہ سناتے تو زار و قطار روتے اور فرماتے:اے لوگو!جب کھجور کا ایک بے جان تنا فراقِ رسول میں رو سکتا ہے،تو کیا تم نہیں رو سکتے؟تمہارا دل تو اس سے زیادہ تڑپنا چاہیے۔([1])
عافیہ اور ہانیہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور مسکرا دیں۔باہر بارش کے بعد کی ٹھنڈی ہوا اب بھی چل رہی تھی، مگر ان دونوں کے دلوں میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی محبت کی ایک نئی خوشبو بسی ہوئی تھی۔
نتیجہ:محبت ہی اصل زندگی ہے:
اس کہانی کا نتیجہ یہ ہے کہ دل وہی زندہ ہے جس میں اللہ پاک کے رسول صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کی محبت ہو۔وہ لکڑی آپ کا قرب پانے سے جنت کی مستحق بن گئی۔اگر ہم بھی اپنی زندگی سنتوں کے مطابق گزاریں گی تو ہمیں بھی حضور کا قرب نصیب ہوگا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت(دعوتِ اسلامی)

Comments