موضوع:اپنا عیب خود ظاہر کرنا کیسا؟
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کو یہ فرماتے سنا کہ میرے ہر اُمّتی کو اللہ پاک معاف فرمائے گا سوائے ان کے جو سرِ عام گناہ کرتے ہیں ۔ سرِ عام گناہ کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ کوئی رات کو ایک(گناہ کا )عمل کرتا ہے،پھر جب صبح ہوتی ہے تو اللہ پاک اُس کے اِس عمل کی پردہ پوشی فرماتا ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ اے فلاں!میں نے رات کو ایسا ایسا کیا حالانکہ رات میں اُس کے ربّ نے اُسے چھپالیا۔وہ صبح کو اللہ پاک کے پردے کو خود ہی چاک کر دیتا ہے۔([1])
شرحِ حدیث:
مذکورہ حدیثِ مبارک میں اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ پاک ہر مسلمان کو معاف فرما دے گا،سوائے مُجاہرین کے۔
علامہ بدرُ الدِّین عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:مُجاہر وہ ہے جو اپنے گناہ کا اعلان کرے اور اسے ظاہر کرے۔اب معنی یہ ہوں گے کہ میری اُمّت کے ہر شخص کے گناہ کو معاف کیا جائے گا اور اس سے کوئی پوچھ گچھ نہ ہو گی مگر یہ کہ جو سرِ عام گناہ کرتا ہے۔([2]) مذکورہ حدیثِ پاک کے الفاظ میرے ہر اُمتی کو اللہ پاک معاف فرمائے گا،کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:معافی کے دو معنی ہو سکتے ہیں:ایک یہ کہ عفو سے ہو یعنی رب کی طرف سے معافی دی جاوے گی۔دوسرے یہ کہ عافیت سے ہو یعنی اسے عافیت دی ہوئی ہے،اس کی غیبت حرام ہے۔([3])
اللہ پاک کا پردہ پوشی فرمانا باطنی نعمت ہے:
اللہ پاک کی صفات میں سے ایک صفت سَتَّار بھی ہے یعنی پردہ پوشی کرنے والا۔ اللہ پاک دنیا میں بھی اپنے بندوں کے بہت سے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے اور بروزِ قیامت بھی پردہ پوشی فرمائے گا اور یہ پردہ پوشی فرمانا اللہ پاک کی عطا کردہ باطنی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ۔ اللہ پاک قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةًؕ- (پ21،لقمٰن:20)
ترجمہ:اور اس نے تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردیں۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
علامہ ابو الحسن ابنِ بَطَّال رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں: حضرت عبدُ اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک کے اِس فرمانِ عالیشان میں ظاہری نعمت سے مراد اِسلام،اچھی شکل و صورت اور رزق کی فراخی ہے جبکہ باطنی نعمت سے مراد گناہوں اور عیوب پر پردہ ڈالنا ہے۔([4])
سب کے سامنے گناہ کرنے والوں کی غیبت کرنا جائز ہے:
کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ پاک کی اس نعمت کی ناقدری کرتے ہوئے خود ہی اپنے گناہوں کا چرچا کرتے ہیں کہ ہم نے فلاں فلاں گناہ کیا ہے۔چنانچہ ایسے افراد کے متعلق شیخ عبدُ الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اُس شخص کی غیبت حرام ہے جو بُرائی کرے اور اُس کو چھپائے رکھے لیکن جو بے حیا ہو کر سب کے سامنے بُرائی کرے اُس کی بُرائی بیان کرنا غیبت نہیں۔ ([5]) اسی طرح حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: علانیہ(سب کے سامنے) گناہ کرنے والوں کی نہ آخرت میں پردہ پوشی کی جائے گی،نہ دنیا میں ان کی غیبت حرام ہو گی،اِن کی غیبت جائز ہے کہ وہ خود ہی اپنے پردہ دار نہیں۔([6])
گناہ کا اظہار کرنا بھی گناہ ہے:
گناہ چھپ کر ہو یا سب کے سامنے، ہر صورت میں گناہ ہی ہے،لیکن سرِعام گناہ کرنے میں گناہ کی برائی کے ساتھ اس کا اظہار بھی شامل ہوجاتا ہے۔گناہ کا اظہار کرنا گویا اس بات کی علامت ہے کہ انسان کو اپنے گناہ پر شرمندگی نہیں اور نہ ہی اللہ پاک کے سامنے جواب دہ ہونے کا خوف ہے ۔ مزید یہ کہ گناہ کو دوسروں کے سامنے بیان کرنے سے انہیں بھی گناہ کی ترغیب مل سکتی ہے۔
مفتی شریف الحق اَمجدی رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:گناہ کا اِرتکاب بہر حال گناہ ہے مگر اِس کا اِعلان کرنا بھی گناہ ہے بلکہ اِرتکابِ گناہ سے(بھی)بڑا گناہ ہے، (کیونکہ) یہ گناہ کی اِشاعت بھی ہے اور نڈر ہونا بھی ہے۔([7])
گناہوں سے بچنے کا حکم:
اللہ پاک نے پوشیدہ گناہوں کے ساتھ ساتھ علانیہ گناہوں سے بھی بچنے کا حکم دیا گیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے:
وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ(۱۲۰)
(پ8،الانعام:120)
ترجمہ:اور ظاہری اورباطنی سب گناہ چھوڑ دو بیشک جو لوگ گناہ کماتے ہیں انہیں عنقریب ان گناہوں کا بدلہ دیا جائے گا جن کا وہ اِرتکاب کرتے تھے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ ظاہری گناہ سے مراد وہ گناہ ہیں جن کا ارتکاب اعلانیہ اور مجمعِ عام میں ہو اور باطنی گناہ سے مراد وہ گناہ ہیں جو چھپ کر کئے جائیں۔([8])
اِظہارِ گناہ پر اُبھارنے والے اسباب:
(1)جرأت و بے باکی:
بعض اوقات انسان اللہ پاک کے عذاب سے بے خوف ہونے کی وجہ سے گناہ کا اظہار کرتے ہوئے کوئی شرم محسوس نہیں کرتا۔عذاب سے بے خوفی اسے گناہوں اور ان کے اظہار پر دلیر کردیتی ہے جو بہت خطرے کی بات ہے۔ اللہ پاک قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِۚ-فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠(۹۹) (پ9،الاعراف:99)
ترجمہ: کیا وہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہیں تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے صرف تباہ ہونے والے لوگ ہی بے خوف ہوتے ہیں۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
(2)جہالت و لاعلمی:
بسا اوقات گناہ کا اظہار کرنے والے کو اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ گناہ کا اظہار کرنا بھی گناہ ہے۔یوں وہ لاعلمی کی وجہ سے دوسروں کے سامنے اپنے گناہوں کا ذکر کر کے انہیں بھی اپنے گناہوں پر گواہ بنا لیتا ہے۔
(3)زیادہ بولنے کی عادت:
زیادہ بولنے کا عادی انسان بسا اوقات اپنی اس عادت کی وجہ سے اظہارِ گناہ میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے اور اسے احساس بھی نہیں ہوتا۔ایک بزرگ فرماتے ہیں:
اِحْفَظْ لِسَانَکَ لَا تَقُوْلُ فَتُبْتَلَی اِنَّ الْبَلَاءَ مُوَکَّلٌ بِالْمَنْطِقِ
ترجمہ:اپنی زبان کی حفاظت کر،نہ بول،نہ مصیبت میں پڑ،بےشک مصیبتیں گفتگو کے ساتھ جُڑی ہوئی ہوتی ہیں۔([9])
نوجوان نسل اور گناہوں کی کثرت:
افسوس!ہمارے معاشرے میں سرِعام گناہ کرنا اور گناہوں کا بے باکی کے ساتھ اظہار کرنا عام ہوتا جارہا ہے۔بعض لوگ نمازیں قضا ہونے یا دیگر گناہوں کا ذکر بھی فخر یا بے فکری کے انداز میں کرتے ہیں۔بالخصوص بعض نوجوان لڑکے اور لڑکیاں نامحرموں سے ناجائز تعلقات یا دیگر گناہوں کا اپنے دوستوں کے سامنے ذکر کرتے اور کبھی اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ایک حدیثِ مبارک میں ہے:جب کسی قوم میں بے حیائی کے کام کھلم کھلا ہونے لگ جائیں تو ان میں طاعون اور وہ بیماریاں عام ہو جاتی ہیں جو پہلے کبھی ظاہر نہ ہوئی تھیں۔([10])
یہ کس قدر بدنصیبی کی بات ہے کہ اللہ پاک تو بندے کے گناہوں پر پردہ ڈالے اور بندہ خود اس پردے کو چاک کردے! ہمیں چاہیے کہ اللہ پاک اور لوگوں سے حیا کرتے ہوئے اپنے گناہوں کی تشہیر نہ کریں،بلکہ سچی توبہ کر کے انہیں چھوڑ دیں، تاکہ اللہ پاک دنیا میں بھی عزت و عافیت عطا فرمائے اور قیامت کے دن بھی رسوائی سے محفوظ رکھے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* شعبہ ٹیچر ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ مجلس جامعۃ المدینہ گرلز
[1]بخاری،4/118،حدیث:6069
[2]عمدۃ القاری،15/221،تحت الحدیث 6069
[3]مراۃ المناجیح،6/458
[4]شرح بخاری لابن بطال،9/263
[5]اشعۃ اللمعات،4/ 77
[6]مراۃ المناجیح،6/459
[7]نزہۃ القاری،5/ 578
[8]تفسیر صراط الجنان،3/193
[9]منہاج العابدین،ص66
[10]ابن ماجہ،4/368،حدیث:4019

Comments