موضوع:بلی کی وجہ سے عذاب
حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے فرمایا:ایک عورت ایک ایسی بلی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئی جسے اس نے باندھے رکھا۔نہ اسے کھانا دیتی اور نہ چھوڑتی تاکہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی(یہاں تک کہ وہ بھوکی مر گئی)۔([1])
شرحِ حدیث:
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بلی کو قتل کرنا اور بھوکا پیاسا یا قید میں رکھنا حرام ہے کیونکہ یہ عورت باوجود مسلمان ہونے کے اسی گناہ کی وجہ سے جہنم میں داخل کی گئی۔اس حدیث سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ جانوروں کا چارا پانی مالک کے اوپر واجب ہے۔([2])
جانوروں کو تکلیف پہنچانا منع ہے:
اسلام ایک ایسا دین ہے جو ہمیں انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے بھی حقوق بتاتا ہے۔کیونکہ جانور بھی روح والے ہوتے ہیں،انہیں بھی درد ہوتا ہے،وہ بھی تکلیف محسوس کرتے ہیں اور کسی بھی جاندار کو نا حق تکلیف پہنچانے کی اسلام میں ہرگز اجازت نہیں۔
حیوانات بھی انسانوں کی طرح اُمتیں ہیں:
حیوانات کے متعلق اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓىٕرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْؕ- (پ7،الانعام:38)
ترجمہ:اور زمین میں چلنے والا کوئی جاندار نہیں ہے اور نہ ہی اپنے پروں کے ساتھ اڑنے والا کوئی پرندہ ہے مگر وہ تمہاری جیسی امتیں ہیں۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیرِ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ میں ہے:یعنی تمہاری طرح اُن کی بھی جماعتیں ہیں،یوں کہ انہیں بھی اللہ پاک نے پیدا کیا،اُن کے رزق کو اپنے ذمہ کرم پر لیا اور اُن میں انصاف قائم کیا،لہٰذا یہ ہرگز مناسب نہیں کہ تم اُن جانوروں پر ظلم کرو اور اُن کے بارے میں جو تمہیں حکم دیا گیا ہے،اُس سے تجاوُز کرو۔([3])
ظلم خواہ انسان پر کیا جائے یا جانور پر دونوں صورتوں میں حرام ہے،بلکہ بے زبان جانور پر ظلم کرنا تو اس لیے زیادہ برا ہے کیونکہ جانور اپنی تکلیف کسی سے بیان نہیں کر سکتا۔چنانچہ یاد رکھئے!اللہ پاک ظالموں کو پسند نہیں فرماتا۔قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ(۴۰) (پ25،الشوریٰ:40)
ترجمہ:بیشک وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
جانوروں پر ظلم کی مختلف صورتیں:
جانوروں کو مارنا،بھوکا پیاسا رکھنا،ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ لادنا،ان کی طاقت سے زیادہ کام لینا یہ سب صورتیں ظلم میں داخل ہیں۔جیسا کہ امام احمد بن حجر مکی شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:انسان نے ناحق کسی چوپائے کو مارا یا اسے بھوکا پیاسا رکھا یا اس سے طاقت سے زیادہ کام لیا تو قیامت کے دن اس سے اسی کی مثل بدلہ لیا جائے گا جو اس نے جانور پر ظلم کیا یا اسے بھوکا رکھا۔([4])
فی زمانہ جانوروں پر کیا جانے والا ظلم:
بعض لوگوں کو کبوتر وغیرہ پالنے کا شوق ہوتا ہے۔کبوتر پالنا اگرچہ جائز ہے جبکہ شریعت کے دائرے میں رہ کر ہو۔لیکن کچھ لوگ کبوتر پال کر ان کو دن بھر بھوکا پیاسا اڑاتے ہیں،جب وہ اترنا چاہیں تو انہیں اترنے نہیں دیتے۔ایسا کرنا جائز نہیں۔اسی طرح بعض لوگ کبوتروں کو آپس میں لڑواتے ہیں،یہ بھی بلا وجہ ان کو تکلیف دینا ہے۔
جانوروں کی آپس میں لڑائی کروانا:
جانوروں کو لڑانا مثلاً:مرغ، بٹیر،تیتر،مینڈھے،بھینسے وغیرہ کہ ان جانوروں کو بعض لوگ لڑاتے ہیں یہ حرام ہے اور اس میں شرکت کرنا یا اس کا تماشہ دیکھنا بھی ناجائز ہے۔([5])افسوس!بعض جگہوں پر جانوروں، مثلاً: بیلوں،کتوں،مرغوں اور ریچھوں وغیرہ کی لڑائی کروائی جاتی ہے،اِس لڑائی کے لیے جانوروں کے مالکان انہیں اسی مقصد کے لیے پالتے اور لڑائی کی تیاری کرواتے ہیں،تیاری کے دوران مرغوں کے ناخنوں کو تراش کر تیز کیا جاتا ہے،یونہی کتوں وغیرہ کے دانتوں کو نوکیلا بنایا جاتاہے،تا کہ دوسرے جانور کو جلد پچھاڑ سکیں،اس لڑائی میں جانور زخمی بھی ہوتے ہیں اور بعض اوقات مر بھی جاتے ہیں۔ایسا کرنا جانوروں پر سَرا سَر ظلم ہے۔
کیڑے مکوڑوں کو بلاوجہ مارنا:
ایسے کیڑے مکوڑے جو تکلیف دینے والے نہ ہوں،جیسے چیونٹیاں،مکھیاں اور ان کی طرح تکلیف نہ دینے والے کیڑے وغیرہ،انہیں بلا وجہ مارنے کی شرعاً اجازت نہیں،لیکن اگر یہ نقصان یا تکلیف کا باعث بنیں تو انہیں ضرورتاً مارا جا سکتا ہے۔لیکن کچھ لوگ ان کو بلا وجہ ہی مار دیتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو بہت تکلیف دہ طریقے سے مارتے ہیں،کبھی جلا کر تو کبھی بے دردی سے مسل کر بے زبان جانوروں کو تکلیف دی جاتی ہے۔ایسا کرنا ظلم ہے اور جلا کر مارنے سے تو احادیثِ مبارکہ میں بھی منع کیا گیا ہے۔بعض اوقات بچے بھی کھیل کود میں چیونٹیوں وغیرہ کو مسل دیتے ہیں،ان کو بھی ایسا کرنے سے روکنا چاہیے۔
قربانی کے موقع پر جانوروں کو اذیت دینا:
عیدُ الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کو بھی مختلف طریقوں سے تکلیف دی جاتی ہے۔چھوٹی گاڑی میں کئی کئی جانور لاد دیئے جاتے ہیں،جانوروں کو گاڑی سے اتارنے کے لیے مناسب انتظامات کرنے کے بجائے چھلانگ لگوا دی جاتی ہے جس سے بسا اوقات جانور زخمی بھی ہو جاتے ہیں،نیز جانور کو گھمانے کے نام پر بھی ان کو تنگ کیا جاتا ہے۔اسی طرح ذبح کے وقت بھی بعض لوگ بہت بے رحمی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بلا وجہ جانور کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔حالانکہ حضور کا فرمان ہے:وَ اِذَا ذَبَحْتُمْ فَاَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَ لْيُحِدَّ اَحَدُكُمْ شَفْرَتَهٗ فَلْيُرِحْ ذَبِيْحَتَهٗ یعنی جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو،تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو خوب تیز کرلیا کرے اور اپنے ذبیحہ(یعنی جانور)کو آرام پہنچائے۔([6]) حدیثِ پاک کے اس حصے میں حضور نے بطورِ خاص ذبح کے وقت جانور پر رحم کرنے کا حکم دیا ہے۔
دینِ اسلام نے جانوروں پر ظلم کرنے والوں کے لیے وعیدیں بیان فرمائیں تو جانوروں پر رحم کرنے والوں کو انعامات سے بھی نوازا۔چنانچہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کو انتقال کے بعد کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا:اللہ پاک نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟جواب دیا:مجھے اللہ پاک نے اپنی بارگاہ میں کھڑا کیا اور پوچھا:میری بارگاہ میں کیا لے کر آئے ہو؟میں نے اپنی عبادات کا ذکر کیا،اللہ پاک نے فرمایا:میں نے ان میں سے کوئی چیز بھی قبول نہیں کی،ہاں!ایک مرتبہ تم بیٹھے لکھ رہے تھے کہ ایک مکھی قلم پر آ بیٹھی،تو تم نے اس پر رحم کرتے ہوئے اسے سیاہی پینے دی۔لہٰذا جس طرح تم نے اس پر رحم کیا،میں نے بھی تم پر رحم کیا۔جاؤ!میں نے تمہیں بخش دیا۔([7])
گناہ کو معمولی نہ سمجھیے:
معلوم ہوا کہ کسی بھی گناہ کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے،بسا اوقات بظاہر چھوٹا نظر آنے والا گناہ بھی اللہ پاک کی ناراضی کا باعث بن جاتا ہے۔جیسا کہ اس عورت کو فقط بلی کو بھوکا پیاسا رکھنے کی وجہ سے عذاب دیا گیا۔کوئی بھی گناہ خواہ بظاہر کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو اس کو کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ اس میں اس اللہ پاک کی نافرمانی ہے جو ہمیں صبح و شام رزق دیتا ہے،جس نے ہمیں اس قدر نعمتیں عطا فرمائیں ہیں کہ جن کا شمار بھی نہیں ہو سکتا۔ایسے احسان و نعمت کرنے والے کی نافرمانی بھلا کیسے چھوٹی ہو سکتی ہے!اللہ پاک ہمیں گناہوں سے بچنے اور انسانوں،جانوروں سبھی پر رحم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* شعبہ ٹیچر ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ مجلس جامعۃ المدینہ گرلز
[1]بخاری،2/ 408،حدیث:3318
[2]شرح مسلم للنووی،جزء:14/241،240
[3]تفسیر قرطبی،الجزء السادس،3/260
[4]زواجر،2/ 174
[5]بہار شریعت،3/512،حصہ:16
[6]مسلم،ص832،حدیث:5055
[7]فیض القدیر،1/ 606،تحت الحدیث:941
Comments