موضوع:حضرت داود علیہ السلام کے معجزات و عجائبات (پہلی قسط)
حضرت داود علیہ السّلام اللہ پاک کے مقبول نبی ہیں جنہیں حضرت شمویل علیہ السّلام کے بعد اور حضرت سلیمان علیہ السّلام سے پہلے شرفِ نبوت سے نوازا گیا۔آپ خوفِ خدا،تقویٰ و پرہیزگاری، عاجزی و انکساری،عبادت و ریاضت اور خوش الحانی جیسے اعلیٰ اوصاف سے مالا مال تھے۔
پچھلی قسط میں ہم نے پڑھا تھا کہ جالوت کو قتل کرنے کے بعد وعدے کے مطابق طالوت نے اپنی آدھی سلطنت اور اپنی بیٹی حضرت داود کو دے دی تھی،حضرت شمویل کا وصال ہوا تو آپ نبوت سے بھی نواز دیئے گئے،پھر کچھ عرصے بعد طالوت کا انتقال ہوا تو آپ پوری سلطنت کے عظیم بادشاہ بن گئے۔
سلطنت کی منتقلی:
حضرت داود علیہ السّلام کو سلطنت ملنے کے متعلق ایک عجیب واقعہ بھی تفاسیر اور تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے،چنانچہ تفسیر ِ خازن میں ہے کہ جب طالوت نے اپنی بیٹی کا نکاح حضرت داود سے کر دیا اور انہیں اپنی بادشاہت میں شریکِ اقتدار کیا تو لوگ آپ کی طرف زیادہ مائل ہوگئے اور آپ کا بہت زیادہ ذکر کرنے لگے، یہاں تک کہ طالوت کے مقابلے میں آپ کو زیادہ چاہا جانے لگا، یہ بات طالوت کو ناگوار گزری،اس نے آپ سے حسد کیا اور آپ کے قتل کا ارادہ کرلیا۔
کئی کوششوں کے باجود وہ اپنے ناپاک ارادے میں کامیاب نہ ہوسکا،علما و عابدین نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی تو اس نے کئی علما اس وجہ سے قتل کردیئے،آخرکار اس کے دل میں شرمندگی پیدا ہوئی اور اس نے اپنی توبہ کا راستہ تلاش کرنا شروع کیا۔وہ ہر رات قبرستان جاتا اور اس قدر روتا کہ زمین آنسوؤں سے بھیگ جاتی۔ایک رات اسی طرح رو رہا تھا کہ ایک قبر سے آواز آئی:اے طالوت!کیا زندوں کو قتل کرنا کافی نہ تھا کہ اب مُردوں کو تکلیف دینے آگئے ہو!یہ سن کر اس کی بےقراری مزید بڑھ گئی اور وہ کسی عالم کی تلاش میں نکل پڑا جس سے وہ اپنی توبہ کا طریقہ معلوم کرسکے،مگر اس نے کوئی عالم نہ چھوڑا تھا جو اس کی راہ نمائی کرتا۔بالآخر اسے ایک عبادت گزار عورت کا ٹھکانا بتایا گیا جو اسمِ اعظم جانتی تھی،وہ اس کے پاس آیا اور اپنے مسئلے کا حل پوچھا،عورت اسے حضرت شمویل علیہ السّلام کی قبر پر لے گئی اور دعا کی تو حضرت شمویل اپنی قبر سے زندہ ہو کر اٹھ گئے اور فرمانے لگے:کیا قیامت قائم ہوگئی ہے؟ عورت نے کہا: نہیں،بلکہ یہ طالوت آپ سے اپنی توبہ کی صورت پوچھنا چاہتا ہے۔
حضرت شمویل نے اسے اس کی حرکتوں پر ملامت کی،پھر پوچھا:تمہارے کتنے بیٹے ہیں؟ اس نے کہا:دس،فرمایا:تمہاری توبہ اسی صورت قبول ہوسکتی ہے کہ تم اپنی بادشاہت چھوڑ دو اور اپنے بیٹوں سمیت اللہ پاک کی راہ میں جہاد کرو،اپنے سامنے اپنے بیٹوں کو لڑنے کے لیے پیش کرو یہاں تک کہ وہ تمہاری نظروں کے سامنے شہید ہوجائیں،پھر تم بھی لڑو یہاں تک کہ سب سے آخر میں تم بھی قتل کر دیئے جاؤ!یہ کہہ کر حضرت شمویل واپس اپنی حالت پر لوٹ گئے۔چنانچہ،
طالوت نے بادشاہت چھوڑ دی اور اپنے بیٹوں سمیت اللہ پاک کی راہ میں لڑنے نکل گیا،یہاں تک کہ لڑتے لڑتے راہِ خدا میں جان دے دی۔طالوت کی حکومت چالیس سال رہی اس کے قتل کے بعد بنی اسرائیل حضرت داود علیہ السّلام کے پاس آئے اور انہیں اپنا بادشاہ بنالیا اور طالوت کے خزانے بھی ان کے حوالے کردیئے۔([1])
حضرت یوسف علیہ السّلام کے بعد آپ پہلے شخص ہیں جنہیں سلطنت و نبوت دونوں عہدوں پر فائز کیا گیا اور آپ نے تقریباً ستر سال دونوں ذمہ داریوں کو پورا کیا۔([2])
قومِ اَیلہ کا عجیب حیلہ اور اس کی سزا:
حضرت داود علیہ السّلام کی قوم بنی اسرائیل کے ستر ہزار افراد سمندر کے کنارے”اَیلہ“نامی گاؤں میں رہتے تھے۔یہ بڑی خوشحالی کی زندگی بسر کررہے تھے۔اللہ پاک نے انہیں ہفتے کے دن تمام دنیاوی مصروفیات وغیرہ چھوڑ کر عبادت کے لیے خاص کرنے کا حکم دیا تھا اور ان پر ہفتے کے دن مچھلی کا شکار حرام فرمایا تھا باقی دنوں میں شکار حلال تھا،قدرت کی طرف سے ان کی آزمائش یوں کی گئی کہ ہفتے کے دن دریا میں خوب مچھلیاں آتیں یہاں تک کہ یہ پانی کی سطح پر مچھلیاں دیکھتے،مگر اور دنوں میں مچھلیاں نہ آتیں۔شیطان نے انہیں یہ حیلہ سکھایا کہ دریا کے کنارے بڑے بڑے حوض بنالو اور ہفتے کے دن دریا سے حوض کی طرف نالیاں نکال لو،یوں مچھلیاں خودبخود نالیوں میں آکر پھنس جائیں گی اور اتوار کے دن تم ان کا شکار کرلینا،ان لوگوں کو یہ شیطانی حیلہ بازی پسند آگئی،انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ ہفتے کے دن نالیاں بنا کر مچھلیوں کو ان میں مقید کرنا بھی شکار کرنا ہی ہے جو کہ حرام قرار دیا گیا ہے،چنانچہ ان میں تین گروہ بن گئے؛ ایک گروہ اس شیطانی حیلہ بازی سے منع کرتا اور اس دن شکار سے باز رہا،دوسرا گروہ اس کو دل سے برا جان کر خاموش رہا اور تیسرا گروہ ان نافرمانوں کا تھا جنہوں نے حکمِ خداوندی کی کھلم کھلا مخالفت کی اور شیطان کے حیلے کو قبول کرتے ہوئے ہفتے کے دن شکار کر کے ان مچھلیوں کو کھایا اور بیچا۔
ایک عرصے تک وہ اس نافرمانی میں مبتلا رہے،جب وہ اس سے باز نہ آئے تو منع کرنے والوں نے ان کا بائیکاٹ کرنا شروع کردیا،ان سے ہر قسم کا تعلق ختم کردیا اور گاؤں کے بیچوں بیچ ایک دیوار کھینچ کر ان سے علیحدگی قائم کرلی،نیز آنے جانے کا دروازہ بھی الگ کرلیا۔
حضرت داود علیہ السّلام نے ان نافرمانوں پر لعنت کی تو اس کا اثر یوں ظاہر ہوا کہ وہ سب کے سب بندر بن کر رہ گئے۔جب لوگ ان کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے تو وہ ان میں سے اپنے اپنے رشتہ داروں کو پہچان کر ان کے کپڑوں کو سونگھتے اور زار و قطار روتے تھے مگر یہ ان کو نہیں پہنچاتے تھے۔بندر بن جانے والوں کی تعداد بارہ ہزار تھی،یہ سب تین دن تک زندہ رہے اس دوران نہ کچھ کھا سکتے تھے،نہ پی سکتے تھے،اسی حالت میں وہ سب بھوکے پیاسے ہلاک ہوگئے۔شکار سے منع کرنے والوں اور صحیح قول کے مطابق دل سے برا جان کر خاموش رہنے والوں کو بھی اللہ پاک نے ہلاکت سے بچالیا۔([3])
جلیل القدر بادشاہت اور فصلِ خطاب:
حضرت داود علیہ السّلام کو اللہ پاک نے زبردست بادشاہت اور حق وباطل کے درمیان فرق کرنے والا علم عطا فرمایا تھا، یہاں تک کہ مفسرین فرماتے ہیں:حضرت داود علیہ السّلام روئے زمین کے بادشاہوں میں سب سے زیادہ طاقتور سلطنت والے تھے۔ ([4]) لوگ آپ سے بہت محبت کرتے اور آپ کی خدمت و حفاظت کو اپنی سعادت سمجھتے تھے۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہر رات چھتیس ہزار لوگ آپ کی حفاظت کرتے تھے یہاں تک کہ صبح ہوتی تو آپ ان سے فرماتے کہ تم لوٹ جاؤ!اللہ پاک کا نبی تم سے راضی ہے۔بعض نے چالیس ہزار بھی کہا ہے۔([5])
[1] تفسیر خازن،1/191،192 ملخصاً، البدایۃ و النہایۃ،1/454
[2] سیرت الانبیاء،ص 680
[3] تفسیر قرطبی،الجزء السابع،4/219 ، 220 ملتقطاً،حاشیہ صاوی،1/73 ملخصاً
[4] تفسیر کبیر،9/376
[5] تفسیر کبیر،9/376
Comments