63نیک اعمال (نیک عمل نمبر43)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


63 نیک اعمال

(نیک عمل نمبر 43)

دعا مانگنا سنتِ نبوی ہے۔حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کثرت سے دعا فرمایا کرتے تھے،لہٰذا دعا کرنے سے اتباعِ سنت، ثواب اور دنیا  و آخرت کی بے شمار بھلائیاں حاصل ہوتی ہیں۔ دعا اللہ پاک سے مناجات،اس کا قرب پانے،اس کے فضل و کرم کی مستحق بننے اور بخشش و مغفرت حاصل کرنے کا نہایت آسان ذریعہ ہے۔حقیقت میں دعا عبادت بلکہ مغزِ عبادت ہے اور گناہ گار بندوں کے لیے اللہ پاک کی عظیم نعمت ہے۔ قرآنِ  مجید میں بھی کئی مقامات پر دعا کی اہمیت اور ترغیب بیان کی گئی ہے۔اس لیے ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں دیگر عبادات کے ساتھ دعا کا بھی اہتمام کرنا چاہیے اور اپنے والدین،بزرگانِ دین، پیر و مرشد،معلمات،اولاد اور تمام مرحومین و مرحومات کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا چاہیے۔

دعا کی فضیلت و اہمیت کے پیشِ نظر امیرِ اہلِ سنت نیک اعمال کے رسالے میں اس کی ترغیب دلاتے ہوئے نیک عمل نمبر 43  میں ارشاد فرماتے ہیں:

کیا آج آپ نے اپنے والدین اور اپنے پیر و مرشد کے لئے بے حساب مغفرت کی دعا اور کچھ نہ کچھ ایصالِ ثواب کیا؟ (ایک بار دُرُود شریف پڑھ کر بھی ایصالِ ثواب کیا جا سکتا ہے )

دعا مانگنا ایک عظیم سعادت ہے اور قرآن و حدیث میں بار بار اس کی ترغیب دی گئی ہے۔اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ- (پ24،المؤمن:60)

ترجمہ:اور تمہارے رب نے فرمایا:مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا بندے اور اللہ پاک کے درمیان خاص تعلق کا ذریعہ ہے۔امام فخر الدین رازی فرماتے ہیں کہ انسان کو قیامت کے دن اصل فائدہ اللہ پاک کی عبادت ہی سے ہوگا اور چونکہ دعا بھی عبادت کی بہترین صورت ہے اس لیے اس کی خاص اہمیت ہے۔([1]) اسی طرح حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ حضور نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہیں دشمن سے نجات دے اور رزق میں وسعت کرے؟پھر فرمایا کہ رات دن اللہ پاک سے دعا مانگتے رہو،کیونکہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔([2]) اس سے واضح ہوتا ہے کہ دعا نہ صرف عبادت ہے بلکہ دنیا و آخرت کی کامیابی کا مضبوط ذریعہ بھی ہے۔

دعا کی اہمیت کے پیشِ نظر ہمیں بھی دعا مانگنے کی عادت کو اپنانا چاہیے اور اپنی دعاؤں میں اپنے پیاروں کو بھی یاد رکھنا چاہیے خاص طور پر اپنے والدین اور پیر و مرشد کو اپنی دعاؤں میں کثرت سے یاد رکھنا چاہیے اور ان کے لئے دعائے مغفرت کے ساتھ ساتھ روزانہ ایصالِ ثواب بھی کرنا چاہیےکیونکہ والدین کے ہم پر اس قدر احسانات ہیں کہ ہم اگر چاہیں بھی تو ان کے احسانات کا بدلہ نہیں اتار سکتیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآنِ پاک میں جہاں اللہ پاک نے اپنی عبادت کا حکم دیا ہے وہیں والدین کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آنے کی تاکید بھی فرمائی گئی ہے۔چنانچہ ارشاد ِ ربانی ہے:

اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ 15،بنی اسرائیل:23)

ترجمہ:اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یادونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اُف تک نہ کہنا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

والدین اللہ پاک کی عظیم نعمت ہیں جس کا تقاضا ہے کہ ان کی خوب خوب خدمت کی جائے،ان کے لئے دعائے مغفرت اور ان کی قدر کی جائے۔ہمیں اپنے ماں باپ کے لئے یہ دعائیں کثرت سے کرنی چاہئیں:

(1) رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠(۴۱)  (پ 13،  ابرٰھیم:41)

ترجمہ:اے ہمارے رب!مجھے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو بخش دے جس دن حساب قائم ہوگا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

(2)رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴) (پ15،بنی اسرائیل:24)

ترجمہ: اے میرے رب!تو ان دونوں پر رحم فرما جیسا ان دونوں نے مجھے بچپن میں پالا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

نیک عمل نمبر 43 کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ اپنے والدین اور پیر و مرشد کے لئے کچھ نہ کچھ ایصالِ ثواب کیا ؟

ایصالِ ثواب کرنے کے بے شمار فوائد ہیں۔ایصالِ ثواب زندہ و مردہ دونوں کو کیا جا سکتا ہے۔والدین اور پیر و مرشد کے ہم پر بہت زیادہ احسانات ہیں،لہٰذا ہمیں چاہیے کہ انہیں نیک اعمال،مثلاً:نفلی عبادات اور تلاوتِ قرآن کا ثواب ایصال کیا جائے،ان کی طرف سے غربا و مساکین پر صدقہ کیا جائے اور ان کے حق میں استغفار کیا جائے۔الغرض ان کی زندگی اور وفات دونوں میں خوب خوب ایصالِ ثواب کیا جائے۔

ہمیں اپنے والدین،پیرومرشد اور اپنی معلمات وغیرہ کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا چاہیے اور جن کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک فوت ہو گیا ہو تو ان کے لئے ایصالِ ثواب کرنا چاہیے۔اس ضمن میں 2 فرامینِ مصطفےٰ پیشِ خدمت ہیں:

(1) جو اپنے والد یا والدہ کی طرف سے حج کرے تو اُن کا حج پورا کر دیا جائے گااور اس(حج کرنے والے) کے لئے دس حج کا ثواب ہے۔([3])سبحان اللہ!جب کبھی نفلی حج کی سعادت حاصل ہو تو فوت شدہ ماں یا باپ کی نیت کریں تاکہ ان کو بھی حج کا ثواب ملے،آپ کا بھی حج ہو جائے گا بلکہ مزید دس حج کا ثواب ہاتھ آئے۔([4])

(2) جب تم صدقہ کرنے کا ارادہ کرو تو اسے اپنے ماں باپ کی طرف سے کرو کہ اس کا ثواب انہیں ملے گا اور تمہارے ثواب میں کوئی کمی بھی نہیں آئے گی۔([5])

درود شریف پڑھ کر ایصالِ ثواب کرنے سے بے شمار برکتیں حاصل ہوتی ہیں،اس لیے والدین اور پیر و مرشد کو بھی دعا اور ایصالِ ثواب میں شامل رکھنا چاہیے،کیونکہ ان کے احسانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔علمائے کرام کے مطابق کسی مرشدِ کامل سے وابستگی ایمان کی حفاظت اور اصلاحِ آخرت کا ذریعہ بنتی ہے۔ایصالِ ثواب کی ترغیب کے لیے ایک واقعہ یہ ہے کہ حضرت حسن بصری رحمۃُ اللہ علیہ نے ایک خواب میں ایک عورت کی بیٹی کو پہلے عذاب میں مبتلا دیکھا،پھر بعد میں اسی کو جنت میں نعمتوں کے ساتھ پایا۔وجہ پوچھی تو معلوم ہوا کہ ایک شخص کے درود شریف پڑھنے کی برکت سے اللہ پاک نے کئی قبروں کے عذاب کو ختم فرما دیا۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ درود شریف اور ایصالِ ثواب بہت بڑی رحمت اور نجات کا ذریعہ ہیں۔([6])

اس واقعے سے معلوم ہوا کہ ایصالِ ثواب در اصل محبت اور وفاداری کا اظہار ہے۔یہ فوت شدگان سے رشتہ برقرار رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے تاکہ ہم انہیں اپنی دعاؤں اور نیکیوں میں یاد رکھیں۔اسی طرح دعا  بھی صرف مانگنے کا نام نہیں بلکہ یہ خالق اور مخلوق کے درمیان ایک گہری وابستگی اور براہِ راست گفتگو ہے،جو دل کو وہ اطمینان دیتی ہے جو دنیا کی کسی اور چیز میں نہیں ہے۔



[1] تفسیر کبیر،9 / 527

[2] مسند ابی یعلی،2 / 201،202،حدیث:1806 

[3] دار قطنی،2 / 329،حدیث:2587

[4]  مدنی پنج سورہ،ص395

[5]شعب الایمان،6/205،حدیث:7911

[6]التذکرۃ،ص78،77 ملخصاً


Share