حضور ﷺ کی انصار سے محبت
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:حضور کی انصار سے محبت

(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 50ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کئے جا رہے ہیں۔)

محترمہ بنتِ طفیل عطاریہ (فرسٹ پوزیشن)

(طالبہ:درجۂ رابعہ پاکپورہ سیالکوٹ)

مدینہ منورہ میں رہنے والے وہ مسلمان جنہوں نے  مہاجرین (یعنی ہجرت کر کے مدینہ تشریف لانے والے)مسلمانوں کی مدد کی  انہیں انصار کہا جاتا ہے۔

انصار صحابہ وہ خوش نصیب صحابہ کرام ہیں کہ جن کو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بہت سعادتوں سے نوازا۔سب سے پہلی سعادت تو یہ تھی کہ حضور مکہ سے ہجرت کر کے  مدینہ منورہ میں ہی تشریف لائے جہاں انصار صحابہ پہلے سے موجود تھے۔ انصار صحابہ کو یہ اہمیت بھی حاصل ہے کہ خود اللہ پاک نے ان کی فضیلت اور ان سب سے اپنی رضا مندی کو قرآنِ مجید میں یوں بیان فرمایا:

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰)

11،التوبۃ:100)

ترجمہ:اور بیشک مہاجرین اور انصار میں سے سابقین اولین اور دوسرے وہ جو بھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے ہیں ان سب سے اللہ راضی ہوا اور یہ اللہ سے راضی ہیں اور اس نے ان کیلئے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں،ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے،یہی بڑی کامیابی ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

انصار صحابہ کرام بہت سی خوبیوں کے حامل تھے کہ ان حضرات نے دینِ اسلام کی مدد کی،دینِ اسلام کی اشاعت کی خاطر خوب کوششیں کی،مہاجرین صحابہ کرام کو اپنے پاس عزت و احترام سے ٹھہرایا،اسلام کی خاطر جانی و مالی قربانی دی،بارگاہِ رِسالت میں اپنے اموال اور قیمتی جانور بھی پیش کیے،اسی لیے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو بھی انصار سے بہت محبت تھی اور آپ ان کی خوشی پر خوش ہوتے۔اس ضمن میں چند احادیث پیشِ خدمت ہیں:

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے کچھ بچوں اور عورتوں کو ایک شادی کی تقریب سے آتے ہوئے دیکھا  تو کھڑے ہوگئے اور فرمایا: الٰہی! تو جانتا ہے،اے انصار!تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو ۔ الٰہی!تو جانتا ہے،اے انصار!تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو۔تین مرتبہ یہ جملہ ارشاد فرمایا۔ ([1])

ایک حدیثِ پاک میں انصار کی محبت کو علامتِ ایمان قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض ہے۔([2])

ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے انصار سے اپنی دلی وابستگی اور دلی قربت کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار  کا ایک فرد ہوتا۔اگر تمام لوگ ایک وادی و گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی و گھاٹی میں چلوں  گا اور انصار شِعار(جسم سے ملا ہوا اندرونی لباس) ہیں اور باقی لوگ دِثار (اوپر والا کپڑا) ہیں۔([3]) یعنی جس طرح اندر والا کپڑا باہر والے کی بنسبت جسم و دل کے زیادہ قریب ہوتا ہے،اسی طرح انصار بھی دیگر لوگوں سے میرے زیادہ نزدیک ہیں۔

ان تمام روایات سے معلوم ہوا کہ انصار صحابہ کرام کس قدر اہمیت کے حامل تھے اور انہوں نے کس قدر خود کو اللہ و رسول کے لیے پیش کر دیا تھا اور  یہ نہ سوچا کہ اگر ہم اپنا مال پیش کر دیں گے تو کہیں غربت کا شکار نہ ہو جائیں بلکہ صرف مال ہی نہیں اپنی جانیں بھی دینِ اسلام کے لیے پیش کیں۔

ہمیں بھی چاہیے کہ ان صحابہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اللہ و رسول کو راضی کرنے میں کامیاب ہو جائیں،دین کو آگے بڑھانے کے لیے ہم بھی کوششیں کریں،سنتوں کی پابند بن جائیں اور تقویٰ اختیار کر لیں کہ اسی میں دنیا و آخرت کی بہتری ہے۔

اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمیں تمام صحابہ کرام کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان حضرات  سے سچی پکی محبت نصیب فرمائے۔آمین

محترمہ بنتِ ندیم یوسف عطاریہ

(طالبہ:دورۂ حدیث فیضانِ رضا سرجانی ٹاؤن)

رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک حیاتِ طیبہ محبت، شفقت،وفا اور انسانیت نوازی کا ایسا روشن باب ہے جس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔آپ نے ہر ایک کے ساتھ اچھا برتاؤ فرمایا،مگر جن خوش نصیب لوگوں نے دینِ اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا،ان سے حضور کی محبت بے مثال ہے۔ انہی سعادت مند لوگوں میں انصار صحابہ سرِفہرست ہیں۔

انصار صحابہ وہ مبارک لوگ ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور مہاجرین کرام کا کھلے دل سے مدینہ منورہ میں استقبال کیا،جبکہ مکہ مکرمہ میں کفارِ قریش مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے تھے۔اس وقت انصار صحابہ نے حضور کو اپنے دلوں اور گھروں میں جگہ دی۔ان کی یہی وفاداری تاریخِ اسلام کا سنہری باب بن گئی۔

حضور بھی انصار سے بے حد محبت فرماتے تھے،جس کا ذکر کئی احادیث میں ہے،جن میں سے چند پیشِ خدمت ہیں:

حضور کا انصاری صحابہ سے محبت کا اندازہ آپ کے اس فرمان سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر انصار ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں بھی انصار کی اسی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا۔([4])

غزوۂ حنین اور محبتِ انصار:

ایک اور روایت میں ہے کہ غزوۂ حنین کے بعد جب مالِ غنیمت تقسیم ہوا تو حضور نے انصار صحابہ کو کچھ نہ دیا جس پر انہیں ملال ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے انصار کو خیمے میں بلا کر فرمایا:کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم اللہ پاک کے رسول کو اپنے ساتھ لے جاؤ؟ ([5])

انصار و آلِ انصار کے لیے دعائے مغفرت:

حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم انصار کے لیے دعا فرمایا کرتے تھے،جیسا کہ ایک حدیثِ پاک میں ہے:اے اللہ!انصار کی بخشش فرما،انصار کی اولاد اور ان کی اولاد کی اولاد کی بھی مغفرت فرما۔([6])

علامتِ ایمان:

ایک حدیثِ مبارک میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے بغض نفاق کی نشانی ہے۔([7])

ان احادیثِ مبارکہ سے حضور کی انصار صحابہ سے محبت اور ان سے راضی ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ان کے صدقے ہمیں بھی عشقِ رسول کی دولت سے نوازے۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم



[1] بخاری،2/556،حدیث:3785

[2] بخاری،1/17،حدیث:17

[3] بخاری،3/ 116،حدیث:4330

[4] بخاری،2/ 554،حدیث:3779

[5] بخاری،3/ 117،aحدیث:4333

[6] مسلم،ص 1044،حدیث:6414

[7] بخاری،1/17،حدیث:17


Share