اعتقادات و توہمات (قسط 04)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:اعتقادات و توہمات (قسط نمبر4)

اوراد و وظائف:

وظائف ”وظیفہ“کی جمع ہے جس کے معنی معمول،روزانہ کا کام،تنخواہ یا گزارے کی رقم کے ہیں۔دینی و روحانی اصطلاح میں مخصوص آیات،اسمائے حسنیٰ یا دعاؤں کو مقررہ تعداد اور اوقات میں ذکر کرنا وظائف کہلاتا ہے۔یہ وظائف اللہ پاک کے مقدس ناموں اور قرآنی آیات پر مشتمل ہوتے ہیں جن میں بے شمار برکتیں اور روحانی تاثیرات پائی جاتی ہیں۔یہ انسان کی روحانی،جسمانی اور ذہنی پریشانیوں کے حل کا ذریعہ بنتے ہیں اور ان کے ذریعے بیماریوں،خوف،نظرِ بد اور دیگر آفات سے حفاظت حاصل ہوتی ہے۔

بہت سے ایسے مریض بھی دیکھے گئے ہیں جنہیں حکیموں اور ڈاکٹروں نے لا علاج قرار دے دیا تھا،مگر جب ان کے لیے اللہ پاک کے اسمائے حسنیٰ،آیاتِ قرآنیہ اور مقدس کلمات کے ذریعے علاج کیا گیا تو شدید امراض ختم ہو گئے اور بعض گھروں میں جادو یا  جنات کے اثرات کے سبب پیدا ہونے والی پریشانیاں بھی قرآنی آیات اور وظائف کی برکت سے دور ہو کر دوبارہ خوش حالی،برکت اور اطمینان نصیب ہوا۔

قرآن و سنت میں اس کے ثبوت پر واضح دلائل موجود ہیں،جیسا کہ اللہ پاک کا فرمان ہے:

فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ ﳓ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷) (پ17،الانبیآء:87)

ترجمہ:تو اس نے اندھیروں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہر عیب سے پاک ہے،بیشک مجھ سے بے  جا  ہوا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

جبکہ حدیثِ پاک میں ہے کہ حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے:لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّی کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ جو مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ پاک وہ دعا قبول فرماتا ہے۔([1])ایک اور روایت میں ہے کہ جس نے لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہ  ِپڑھا تو یہ(اس کے لئے) 99بیماریوں کی دوا   ہے،ان میں سب سے ہلکی بیماری پریشانی و غم ہے۔([2])

اوراد و وظائف کے اثرات کا انکار:

افسوس!بعض لوگ اوراد و وظائف کی روحانی تاثیر کو نہیں مانتے اور انہیں محض وہم یا ڈھونگ قرار دیتے ہیں،انہیں حضرت شیخ ابو سعید الخیر رحمۃُ اللہ علیہ کا واقعہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے سامنے ایک ملحد نے تعویذات کے اثر کا انکار کیا تو آپ نے اس سے فرمایا:تو عجیب گدھا ہے۔ یہ سنتے ہی وہ غصے میں آگیا اور اس کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا ۔ اس پر حضرت نے فرمایا کہ جب ایک لفظ کے اثر سے تمہاری یہ حالت ہو گئی تو پھر تم نامِ الٰہی کی تاثیر کا انکار کیسے کرتے ہو!([3])

یاد رہے!جب بھی کوئی وظیفہ پڑھا جائے تو وہ کسی جائز مقصد کے حصول کے لیے اللہ پاک کی بارگاہ میں عاجزی اور دعا  کا ذریعہ ہو۔وظیفہ پڑھنے والا اسے اللہ پاک کی بارگاہ میں وسیلہ بنائے اور ثواب کی نیت سے کرے۔اگر کوئی شخص صرف دنیاوی مقصد کے حصول کی نیت سے وظیفہ کرے تو مقصد حاصل ہونے کی صورت میں اگرچہ یہ جائز ہے،لیکن ثواب سے محرومی ہوگی اور اگر مقصد حاصل نہ ہونے پر وظیفہ چھوڑ دیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نیت محض حصولِ مقصد تھی،نہ کہ عبادت و ثواب۔اسی طرح وظیفہ ہمیشہ جائز مقصد کے لیے ہونا چاہیے، کیونکہ ناجائز مقصد کے لیے وظیفہ کرنا حرام ہے،مثلاً:میاں بیوی میں تفریق ڈالنے کے لیے۔اور اگر جائز مقصد کے لیے بھی ناجائز طریقہ اختیار کیا جائے،جیسے سفلی علم وغیرہ،تو یہ بھی حرام ہے۔([4])

وظائف کی پابندی اور فرائض و واجبات میں غفلت:

آج کے دور میں ایک عجیب رجحان دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض خواتین تسبیح ہاتھ میں لے کر لمبے لمبے وظائف اور درود شریف کی کثرت کرتی ہیں،مگر نماز کے وقت سستی اور غفلت کا شکار ہو جاتی ہیں ۔ اسی طرح وہ دیگر فرائض و واجبات اور حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی کمزوری دکھاتی ہیں۔یاد رہے کہ انسان پر اصل لازم و ضروری چیز فرائض و واجبات کی ادائیگی ہے۔وظائف وغیرہ چھوڑ دینے سے گناہ نہیں ہوتا،لیکن فرائض و واجبات کو بلا  عذر شرعی چھوڑنا سخت گناہ اور نقصان کا باعث ہے۔

وظائف پر ہی انحصار کرنا عملی تدابیر نہ کرنا:

بعض خواتین اوراد و  وظائف کے ذریعے ہی روحانی علاج کو یقینی تصور کرتی ہیں اور عملی تدابیر اختیار نہیں کرتیں،حالانکہ عملی تدبیر کی بھی ضرورت ہے۔یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر علاج خواہ روحانی ہو یا ڈاکٹری،اس میں حقیقی تاثیر اللہ پاک ہی دیتا ہے،لیکن وہ اس بات کا پابند نہیں کہ شفا کسی ایک ہی ذریعے سے دے؛ بلکہ چاہے تو بظاہر معمولی سبب سے بھی شفا عطا فرما دیتا ہے۔

بسا اوقات معاملہ طبی طور پر خرابی کا ہوتا ہے اور ہم صرف روحانی علاج پر اکتفا کر رہی ہوتی ہیں اور کبھی اس کے برعکس روحانی پہلو متاثر ہوتا ہے مگر ہم اس طرف توجہ نہیں دیتیں۔ اس لیے صرف اوراد و وظائف پر انحصار کے بجائے عملی تدابیر بھی اختیار کرنی چاہئیں۔دعا کے ساتھ دوا بھی ضروری ہے،البتہ! اوراد و وظائف کی اہمیت کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔

وظائف کے لیے اجازت لینا اور لوازمات پورے کرنا:

بعض وظیفے ایسے ہوتے ہیں جن میں اجازت ہونا ضروری ہے جبکہ بعض بغیر اجازت بھی پڑھے جا سکتے ہیں،جیسے وہ وظائف جو عام کتابوں میں موجود ہوتے ہیں۔تاہم جن وظائف میں عامل کی طرف سے کچھ لوازمات مقرر ہوں ان کی پابندی ضروری ہے،مثلاً:جتنی تعداد بتائی گئی ہو اتنی ہی پوری کی جائے،نہ کم نہ زیادہ،کیونکہ وظائف کی مثال چابی کے دندانوں کی سی ہے؛ اگر دندان کم یا زیادہ ہوں تو تالا نہیں کھلتا۔

بعض خواتین کسی بھی کتاب میں کوئی وظیفہ دیکھ کر فوراً شروع کر دیتی ہیں،حالانکہ یہ درست نہیں،کیونکہ جہاں اجازت یا شرائط ضروری ہوں وہاں ان کی پابندی نہ کرنے سے فائدے کے بجائے نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں ہے کہ ایک لڑکی بطورِ وظیفہ سورۂ مزمل پڑھا کرتی تھی تو اس کا دماغ خراب ہوگیا اعلیٰ حضرت سے اس کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا آیات قرآنی بھی یہ اثر رکھتی ہیں؟ جواباً فرمایا:جو قیود(یعنی شرائط) عامل بتاتے ہیں ان کی پابندی نہ کرنے سے ایسا ہوتا ہے۔ ([5])

بے توجہی سے وظائف پڑھنا فائدہ مند نہیں:

بعض خواتین وظائف وغیرہ بے توجہی سے پڑھتی ہیں اور کچھ دنوں بعد یہ کہہ کر چھوڑ دیتی ہیں کہ ہمیں تو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔یاد رہے کہ دلی توجہ کے بغیر صرف رسم کے طور پر اوراد و وظائف پڑھنا  اگرچہ بالکل بے فائدہ نہیں،کیونکہ اللہ پاک کا ذکر بہرحال ثواب کا باعث ہے،لیکن اس کی اصل تاثیر کم ہو جاتی ہے۔ بندہ جب ذکر کرے تو زبان کے ساتھ دل بھی اللہ پاک کی طرف متوجہ ہو۔حقیقی فائدہ تب حاصل ہوتا ہے جب انسان سمجھ کر،محبت کے ساتھ اور اللہ پاک کی عظمت کو محسوس کرتے ہوئے وظائف پڑھے۔اس طرح مختصر ذکر بھی برکت اور سکون کا ذریعہ بنتا ہے،جبکہ بے توجہی کے ساتھ طویل وظائف بھی وہ اثر پیدا نہیں کر پاتے۔

خواتین کا مخصوص ایام میں اوراد و وظائف پڑھنے کا حکم:

مخصوص ایام میں کسی مقصد کے لئے وظیفے کی نیت سے قرآنی آیات مثلاً:سورۂ اخلاص وغیرہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔البتہ!جو آیات دعا و ثنا پر مشتمل ہوں،انہیں صرف دعا و ثنا کی نیت سے پڑھا جا سکتا ہے۔اگر وہ آیات لفظ قُلْ سے شروع ہوتی ہوں تو پڑھتے وقت لفظ قُلْ ہٹا دیا جائے۔نیز   جن آیات میں متکلم کے صیغے کے ساتھ حمد و ثنا ہو،جیسے

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ (پ16،طہ:82)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ان کا قرآن ہونا متعین ہے،لہٰذا  ایسی آیات بھی مخصوص ایام میں حمد و ثنا  کی نیت سے پڑھنا جائز نہیں ۔ ([6])

اوراد و وظائف کی تاثیر کے لیے شرائط:

کچھ خواتین وظائف شروع تو کرتی ہیں لیکن انہیں مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہوتے، اس کی مثال یوں سمجھیے کہ جب انسان بیمار ہوتا ہے تو ڈاکٹر یا حکیم اسے پرہیز کی تلقین کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ دوا اسی وقت اثر کرے گی جب احتیاط بھی کی جائے۔اگر مریض وقت پر دوا لے اور پرہیز کرے تو جلد صحت یاب ہو جاتا ہے، لیکن اگر لاپروائی کرے تو فائدہ نہیں ہوتا۔اسی طرح اوراد ووظائف کا معاملہ بھی ہے کہ ان کے اصول و آداب کی پابندی ضروری ہے۔اگر کوئی ان کی پابندی نہ کرے یا دل میں شک رکھے کہ معلوم نہیں فائدہ ہوگا یا نقصان تو اسے مطلوبہ اثر نہیں ملتا۔ ہاں!جو اسلامی بہن اخلاص اور یقین کے ساتھ وظائف پڑھتی ہے،اسے ان کے فوائد ضرور حاصل ہوتے ہیں۔

مکتبۃ المدینہ کی کتاب”جنتی زیور“میں ہے:یاد رکھو کہ جس طرح جڑی بوٹیوں اور تمام دواؤں کی تاثیر اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ اسی ترکیب سے وہ دوائیں استعمال کی جائیں جو ان کے استعمال کا طریقہ ہے اسی طرح عملیات اور تعویذات کی بھی کچھ شرائط کچھ ترکیبیں کچھ لوازمات ہیں کہ جب تک ان سب چیزوں کی رعایت نہ کی جائے گی عملیات کی تاثیرات ظاہر نہ ہوں گی اور فیوض و برکات حاصل نہ ہوں گے ان شرائط میں سے سات شرطیں نہایت ہی اہم اور انتہائی ضروری ہیں کہ جن کے بغیر قرآنی اعمال میں تاثیرات کی اُمید رکھنا نادانی ہے ۔ وہ شرائط یہ ہیں:

(1) حلال لقمہ کھانا اور حرام غذاؤں سے بچنا۔

(2) سچ بولنا اور جھوٹ سے ہمیشہ بچتے رہنا۔

(3) نیت کو درست اور پاکیزہ رکھنا کہ ہر نیکی اللہ کریم ہی کے لیے کرنا۔

(4) شریعت کے احکام کی پوری پوری پابندی کرنا۔

(5)اللہ کریم کےدِین کے ستونوں،مثلاً:قرآن،کعبہ،نبی، نماز وغیرہ کی تعظیم اور بزرگانِ دِین کا ہمیشہ ادب و احترام کرنا۔

(6)جو وظیفہ بھی پڑھیں دل کی حضوری(یعنی مکمل توجہ) کے ساتھ پڑھنا۔

(7) جو عمل اور وظیفہ پڑھیں اس کی تاثیر پر پورا پورا   یقین اور پختہ عقیدہ رکھنا۔اگر شک و شبہ ہوا تو وظیفہ یا عمل میں اثر نہ رہے گا۔([7])

بسا اوقات ہم وظائف شروع تو کرتی ہیں مگر استقامت نہیں رہتی،جس کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ ہمیں درست قرآن پڑھنا نہیں آتا۔اس لیے قرآنِ کریم کو صحیح پڑھنا سیکھنا چاہیے تاکہ وظائف بھی آسان ہوجائیں۔

دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہم وقت کی کمی کا بہانہ بناتی ہیں اور جلد گھبرا جاتی ہیں۔حالانکہ اگر ہم تھوڑا سا وقت نکال کر اندازہ لگائیں تو کئی وظائف چند منٹ میں مکمل ہوسکتے ہیں۔ جیسے لمبے سفر میں انسان منزل کو سامنے رکھے اور مسلسل سفر کرتا رہے تو فاصلہ طے کر لیتا ہے،اسی طرح وظائف میں بھی استقامت کا دامن تھامے رکھے اور ثواب کو سامنے رکھے تو عمل آسان محسوس ہونے لگتا ہے۔ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ روزانہ ہمارا کتنا وقت فضول باتوں میں ضائع ہوجاتا ہے۔اگر اسی وقت کو نیکی میں لگایا جائے تو ہماری دنیا و آخرت سنور سکتی ہے۔لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اخلاص،یقین اور استقامت کے ساتھ اوراد و وظائف کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* طالبہ فیضان آن لائن اکیڈمی گرلز عرب،بحرین



[1] ترمذی،5/302،حدیث:3516

[2] مستدرک،2/237،حدیث:2034

[3] فتاویٰ رضویہ،24/207 ملخصاً

[4] فتاویٰ رضویہ،23/398 مفہوماً

[5] ملفوظات اعلیٰ حضرت،ص 341،حصہ:3

[6] فتاویٰ اہلسنت غیر مطبوع،فتویٰ نمبر:WAT-2485

[7] جنتی زیور،ص 574


Share