موضوع:بدھ اور شبِ بدھ کی عبادات
دیگر دنوں کی طرح بدھ کا دن بھی بعض امتیازی خصوصیات اور تاریخی نسبتوں کا حامل ہے۔ایک قول کے مطابق اللہ پاک نے بدھ کا دن حضرت یعقوب علیہ السلام اور پچاس رسولوں کو عطا فرمایا۔([1])اس دن اللہ پاک نے فرشتوں ([2])،آسمانوں([3]) اور نور کو پیدا فرمایا۔([4]) مگر افسوس!بعض لوگ بدھ کے دن کو منحوس سمجھتے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام نے بدھ کے دن حجامہ لگوایا تو آپ پر بیماری مسلط ہوئی یا بدھ کے دن آپ کی بیماری کی شروعات ہوئی۔ نیز بعض قوموں پر بدھ کے دن عذابِ الٰہی آیا،مثلاً:بدھ کے دن اللہ پاک نے سات کافروں کو سات چیزوں سے ہلاک کیا:(1)عَوج بن عُنق کو ہدہد کے ساتھ(2)قارون کو خسف(زمین میں دھنسانے)کے ساتھ(3)فرعون اور اس کے لشکر کو دریا کے ساتھ(4)نمرود ملعون کو مچھر کے ساتھ(5) قومِ لوط کو سنگریزوں کے ساتھ (6)شداد بن عاد کو حضرت جبریل علیہ السلامکی آواز ساتھ اور (7)قومِ عاد کو ہوا کے ساتھ ہلاک فرمایا۔([5]) ان تمام باتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سزا وعذاب کا دن منحوس ہوتا ہے۔ لہٰذا بدھ کفار پر عذاب کا بھی دن ہے اور منحوس بھی۔حالانکہ حکیمُ الامّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اسلام میں کوئی دن یا کوئی ساعت(وقت)منحوس نہیں۔ ہاں!بعض دن بابرکت ہیں۔([6])
تفسیر رُوح البیان میں ہے:صفر وغیرہ کسی مہینے یا مخصوص وقت کو منحوس سمجھنا درست نہیں؛تمام اوقات اللہ پاک کے بنائے ہوئے ہیں اور ان میں انسانوں کے اعمال واقع ہوتے ہیں۔ جس وقت میں بندۂ مومن اللہ کریم کی بندگی میں مشغول ہو وہ وقت مبارک ہے اور جس وقت میں اللہ کریم کی نافرمانی کرے وہ وقت اس کے لئے منحوس ہے۔حقیقتاً اصل نحوست تو گناہوں میں ہے۔([7]) علمائے کرام نے اپنی اپنی کتابوں میں بدھ کے دن اور رات کے تعلق سے چند ایسی عبادات و معاملات کا ذکر فرمایا ہے جن کو بجا لا کر خواتین دنیا و آخرت کی ڈھیروں برکات حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ان کی ترغیب کے لئے بدھ کے دن اور رات میں کئے جانے والے چند اعمال ذکر کئے جاتے ہیں:
بدھ کا روزہ:
حضرت مسلم قُرَشی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم سے ساری زندگی کے روزے رکھنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:تمہارے اہلِ خانہ کا بھی تم پر حق ہے۔پھر فرمایا:رمضا ن کے،اس کے بعد والے مہینے کے اور ہر بدھ و جمعرا ت کے روزے رکھو تو گویا تم نے ساری زندگی روزے رکھے اور افطار کیا۔([8])
ایک روایت میں ہے:جس نے رمضان،شوال،بدھ اور جمعرات کا روزہ رکھا تو وہ داخلِ جنت ہو گا۔([9]) حضور خود بھی ایک مہینے میں ہفتہ،اتوار اور پیر کا جبکہ دوسرے ماہ منگل،بدھ اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے۔([10])
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو ہر بدھ،جمعرات اور جمعہ کا روزہ رکھے تو الله پاک اس کے لیے جنت میں ایسا گھر بنا ئے گا جس کا باہری حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے دیکھا جا سکے گا۔([11])
قبولیتِ دعا کا وقت:
حضور نے مسجد الفتح میں تین دن پیر،منگل اور بدھ کو دعا مانگی،تو بدھ کے دن دو نمازوں(ظہر اور عصر )کے درمیان دعائے مصطفےٰ قبول ہوئی اور آپ کے چہرۂ مبارکہ پر خوشی کے آثار دیکھے گئے۔حضرت جابر فرماتے ہیں:اس کے بعد جب بھی مجھے کوئی اہم و سخت معاملہ درپیش ہوتا تو میں اسی ( بدھ کی ظہر و عصر کے درمیانی) وقت کا ارادہ کرتا اور اس وقت میں دعا کرتا تو دعا کی قبولیت کو جان لیتا۔([12])
بزرگانِ دین کا معمول:
علم نور ہے تو اس کی ابتدا نور کے دن ہی مناسب ہے۔([13]) نیز حدیثِ پاک میں ہے:کوئی ایسا عمل نہیں جس کی ابتدا بدھ کے دن سے ہوئی ہو اور وہ پا یہ تکمیل کو نہ پہنچا ہو۔([14])لہٰذا کئی علمائے دین پڑھنے پڑھانے کے معاملے میں بھی اس حدیثِ پاک پر عمل کیا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت شیخ بُرہان الدین زرنوجی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ہمارے استاد شیخ الاسلام بُرہان الدین رحمۃ اللہ علیہ(صاحبِ ہدایہ شریف)کی عادت تھی کہ آپ سبق بدھ ہی کے روز شروع فرمایا کرتے تھے اور اس بات پر ایک حدیث روایت کر کے اس پر استدلال کرتے ہوئے فرماتے کہ حضور نے فرمایا:کوئی ایسا عمل نہیں جس کی شروعات بدھ سے ہوئی ہو اور وہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچا ہو۔([15]) سبق شروع کرنے کا یہی طرزِ عمل امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا تھا۔آپ اس حدیث کو اپنے استاد شیخ قوام الدین احمد بن عبدُ الرشید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں اور میں نے چند با اعتماد لوگوں سے سنا ہے کہ شیخ ابو یوسف ہَمدانی رحمۃ اللہ علیہ ہر نیک کام کو بدھ کے روز پر موقوف کر دیا کرتے تھے۔بدھ کو کچھ خصوصیت یوں بھی حاصل ہے کہ بدھ وہ دن ہے جس میں اللہ کریم نے نور کو پیدا فرمایا اور یوں یہ دن کفار کے حق میں منحوس اور مومنین کے حق میں مبارک ثابت ہوتا ہے۔([16])
بدھ کےدن کے نوافل:
بدھ کے نوافل:
جس نے بدھ کے دن سورج بلند ہوتے وقت بارہ رکعت نماز ادا کی،ہر رکعت میں ایک بار سورۂ فاتحہ،تین بار سورۂ اخلاص اور تین تین بار مُعَوَّذَتَیْن (سورۂ فلق اور سورۂ ناس) کو پڑھا تو عرش کے پاس ایک فرشتہ پکارتا ہے:اے اللہ پاک کے بندے! نئے سرے سے عمل کر،تیرے پچھلے گناہ بخش دئیے گئے۔ اللہ پاک نے تجھ سے قبر کا عذاب،اس کی تنگی و تاریکی اور قیامت کی سختیوں کو دور کر دیا۔اس دن ایک نبی کے عمل کے برابر اس کا عمل بلند ہو گا۔([17])
شبِ بدھ کے نوافل:
قیامت تک ثواب:
جو بدھ کی رات دو رکعت نماز پڑھے،پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد دس بار سورۂ فلق اور دوسری میں سورۂ فاتحہ کے بعد دس بار سورۂ ناس پڑھے تو ہر آسمان سے ستر ہزار فرشتے نازل ہوں گے جو قیامت تک اس کا ثواب لکھتے رہیں گے۔([18])
گھر کے 10 افراد کی شفاعت کا اختیار:
جو(مسلمان اس رات) 16 رکعت نماز پڑھے،سورۂ فاتحہ کے بعد جتنا چاہے(قرآن) پڑھے،ہر دو رکعت کے آخر میں 30 بار آیۃ الکرسی اور پہلی دو رکعتوں میں 30 بار سورۂ اخلاص پڑھے تو وہ اپنے گھر والوں میں سے ان 10اشخاص کی شفاعت کرے گا جن پر جہنم واجب ہو چکا ہو گا۔([19])
70 سال کے گناہوں کی معافی:
جو شبِ بدھ چھ رکعات پڑھے،ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد یہ آیت
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ٘-وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُؕ-بِیَدِكَ الْخَیْرُؕ-اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۲۶) (پ3،ال عمرٰن:26)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
پڑھے،جب اپنی نماز سے فارغ ہو تو یوں کہے:جَزَی اللّٰہُ مُحَمَّدًا عَنَّا مَا ہُوَ اَہْلُــہٗ تو اس کے 70 سال کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور اس کے لئے جہنم سے آزادی لکھ دی جائے گی۔([20])
بدھ کے دن حجامہ مت کروائیے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس نے بدھ یا ہفتے کے دن حجامہ کرایا،پھر اپنے جسم میں سفید داغ دیکھے تو وہ اپنے آپ کو ہی ملامت کرے۔([21])امام ابو جعفر نیشا پوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:میں نے ایک دن اس حدیث کو غیرِ صحیح سمجھتے ہوئے بدھ والے دن حجامہ کروایا تو مجھے مرضِ برص لاحق ہو گیا،پھر خواب میں حضور کی زیارت ہوئی تو میں نے آپ سے اس مرض کی شکایت کی تو حضور نے فرمایا:تم میری حدیث کی اہانت سے بچو(یعنی تم نے میری حدیث کو ہلکا جانا،اسی لئے اس مرض میں مبتلا ہوئے۔) ([22])
بدھ کو ناخن کاٹنا کیسا؟
بدھ کے دن ناخن نہیں کاٹنے چاہئیں کہ برص یعنی کوڑھ ہو جانے کا اندیشہ ہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے اس طرح کا سوال کیا گیا کہ ایک حدیث میں بدھ کے دن ناخن کاٹنے کی ممانعت آئی اور دوسری حدیث میں بدھ کے دن ناخن کاٹنے کی فضیلت آئی،ان دونوں روایتوں میں تطبیق یا ترجیح کی کیا صورت ہے اور بدھ کے دن ناخن تراشنا کیسا ہو گا؟ اس کا جواب آپ نے یہ ارشاد فرمایا:یَوْمُ الْاَرْبِعَاء(بدھ کے دن ناخن کاٹنے کی)ممانعت کی حدیث دونوں ضعیف ہیں،اگر روز چہار شنبہ وجوب کا دن آجائے مثلاً:39 دن سے نہیں تراشے تھے آج بدھ کو چالیسواں دن ہے اگرآج بھی نہیں تراشتا تو چالیس دن سے زائد ہوجائیں گے اور یہ نا جائز و مکروہِ تحریمی ہے تو اس پر واجب ہو گا کہ بدھ کے دن تراشے لیکن اگر حالتِ سعت و اختیار کی ہے تو بدھ کے دن نہ تراشنا مناسب کہ جانبِ خطر کو ترجیح رہتی ہے۔امام ابن الحاج مکی علیہ الرحمہ نے بدھ کے دن ناخن تراشنے چاہے پھر خیال کیا کہ حدیث میں ممانعت آئی ہے پھر کہا یہ سنتِ حاضرہ ہے اور حدیث ضعیف،تراش لئے فوراً مبتلائے برص ہو گئے،شب کو زیارتِ اقدس سے مشرف ہوئے،سرکار میں فریاد کی،ارشاد ہوا کیا تمہیں حدیث نہ پہنچی تھی؟عرض کی حضور میں نے خیال کیا کہ یہ سنتِ حاضرہ ہے اور حدیث ضعیف، ارشاد ہوا کیا تم نے نہ سنا تھا کہ ہم نے فرمایا ہے؟پھر دستِ اقدس ان کے بدن پر مس فرمایا کہ فوراً اچھے ہو گئے،اٹھے تو اچھے تھے۔([23])
منگل اور بدھ کے دن گوشت فروخت نہ ہونے کی وجہ؟
امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ سے سوال ہوا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ منگل اور بدھ کے دن اس وجہ سے بڑے جانور کا گوشت فروخت نہیں کیا جاتا کہ اس دن قابیل نے حضرت ہابیل رحمۃ اللہ علیہ کو قتل کیا تھا،اس کی کیا حقیقت ہے؟ آپ نے فرمایا:ایسا نہیں ہے یہ سب عوامی باتیں ہیں،پاکستان میں غالباً گائے اور بکرے کی قِلّت کا مقابلہ کرنے کے لئے ہفتے میں دو دن منگل اور بدھ کو گائے اور بکرے کا گوشت فروخت نہیں کیا جاتا۔دنیا میں ہر جگہ ایسا نہیں ہے کئی ملکوں میں منگل اور بدھ کے دن بھی گائے اور بکرے کا گوشت فروخت ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی بعض لوگ چُھپ چُھپا کر ان دِنوں میں گائے اور بکرے کا گوشت فروخت کرتے ہوں گے،کیونکہ ہوٹلوں پر ان دِنوں میں بھی گائے اور بکرے کا گوشت مل جاتا ہے۔ شادی وغیرہ کی تقریبات میں کھانے کا اہتمام کرنے کے لئے گائے اور بکرے ذبح کرتے ہوں گے۔([24])
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* شعبہ ذمہ دار ماہنامہ خواتین
[1] غنیۃ الطالبین،2/124
[2]تفسیر طبری،1/237،حدیث:602
[3]حلیۃ الاولیاء،4/297،رقم:5613
[4]مسلم،ص1149،حدیث:7054
[5]فضائل الایام و الشہور،ص 117
[6]مراۃ المناجیح،5/484
[7]تفسیر روح البیان،3/428
[8]ترمذی،2 / 187،حدیث:748
[9]سنن کبری للنسائی،2/147،حدیث:2778
[10]ترمذی،2 / 186،حدیث:746
[11]معجم كبیر،8/ 251،حدیث:7981
[12]مسند امام احمد،22/425،حدیث:14563
[13]فضائل الایام و الشہور،ص115
[14]کشف الخفاء،2/163،تحت الحدیث:2189
[15]کشف الخفاء،2/163،تحت الحدیث:2189
[16]تعلیم المتعلم،ص 72،73ملخصاً
[17]قوت القلوب،1/53
[18] مفتاح السعادۃ،ص728
[19]احیاء علوم الدین،1/269
[20]احیاء علوم الدین،1/269
[21]جامع صغیر،ص508،حدیث:8328
[22]فیض القدیر،6/45،تحت الحدیث:8328
[23]فتاویٰ رضویہ،22 / 686،685
[24]مدنی مذاکرہ،22رجبُ المرجب1440ھ
Comments