خواتین اور صدقہ و خیرات
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:خواتین اور صدقہ وخیرات

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ(۱۸)(پ27،الحدید:18)

ترجمہ:بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ  دینے والی عورتیں اور وہ جنہوں نے اللہ کو اچھا قرض دیا ان کیلئے کئی گنا بڑھا دیا جائے گا اور ان کے لئے عزت کا ثواب ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تفیر:

قرآنِ مجید میں بہت سے احکام ایسے بیان ہوئے ہیں جن میں مردوں کا ذکر کر کے عورتوں کو بھی ان کے حکم میں شامل کیا گیا ہے،جیسے نماز،زکوٰۃ اور دیگر عبادات۔اسی طرح کئی مقامات پر مردوں اور عورتوں دونوں کا مشترکہ ذکر کر کے ان کے اعلیٰ اوصاف اور فضائل بیان کیے گئے ہیں،مثلاً خشیتِ الٰہی،اطاعتِ الٰہی اور سچائی۔انہی بہترین اوصاف میں سے ایک اہم وصف صدقہ و خیرات بھی ہے۔چونکہ عورتوں میں مال کی محبت نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہے،اس لیے قرآنِ کریم نے خاص طور پر مذکورہ آیت میں صدقہ کرنے والی عورتوں کا ذکر فرما کر ان کے عظیم اجر و ثواب کو واضح فرمایا ہے۔

صدقہ اس بیج کی مانند ہے جسے اللہ پاک زندہ کرتا ہے اور زمین کی زرخیزی کے مطابق اسے کئی گنا بڑھا دیتا ہے،یہی وہ صدقہ ہے جس کی قرآن و سنت میں ترغیب دی گئی ہے اور جس کے ذریعے اہلِ کتاب جیسی سنگ دلی سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے جن کے دل سخت ہو گئے تھے۔قرآنِ کریم نے ابتدا ہی سے صدقہ کو ایمان کے ساتھ جوڑ کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کی تاکید فرمائی ہے تاکہ واضح ہو کہ صدقہ ایمان کا لازمی ثمرہ ہے جو اس سے جدا نہیں ہوتا۔قرآن اسے اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ یہ صدقہ کو ایمان کی سچی گواہی قرار دیتا ہے۔اللہ پاک نے ان لوگوں کے لیے جو قیامت کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں یا صدقے کی برکات کے فوری و دیر پا اثرات کا انکار کرتے ہیں،اسے حسی مثالوں سے مؤکد فرمایا ہے۔چنانچہ وہ مرد و عورتیں جو اس وصف پر قائم ہیں اور اپنے اموال کمزوروں پر خرچ کرتے ہیں،ان کا یہ عمل ان کے ایمان کی سچائی کی دلیل ہے کیونکہ ان سے کوئی دنیوی فائدہ مطلوب نہیں ہوتا۔مردوں اور عورتوں دونوں کا الگ ذکر اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے اور بندوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ صدقہ کو اپنی عادت بنائیں یہاں تک کہ یہ ان کی طبیعت کا حصہ بن جائے۔([1])

اَقْرَضُوا اللّٰهَ سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے ہر اس کام میں خرچ کیا جس میں خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔پھر اس قرض کو مؤکد اور موصوف کرتے ہوئے قَرْضًا حَسَنًا فرمایا یعنی ایسا قرض جو خالص نیت اور خیر کے کاموں میں صدقہ و خرچ کرنے کے جذبے کے ساتھ دیا گیا ہو۔اس(قرض) کا حُسن اس میں ہے کہ انسان اپنی پوری توجہ اپنے عمل کی طرف رکھے،اس کے ذریعے(اللہ پاک کے ہاں)اپنی پہچان بنائے اور اس کا اجر صرف اسی سے طلب کرے۔([2])

یاد رہے کہ صدقہ اس وقت تک حقیقی قرضِ حسن نہیں بنتا جب تک اس میں چند صفات جمع نہ ہوں:وہ مالِ حلال سے دیا جائے،خوش دلی کے ساتھ ادا کیا جائے اور اس کے بعد نہ احسان جتلایا جائے نہ کسی کو تکلیف دی جائے۔بہترین اور پاکیزہ مال اللہ پاک کی راہ میں دیا جائے،نہ کہ گھٹیا چیز اور نیت صرف اللہ پاک کی رضا ہو نہ کہ دکھاوے کی۔مزید یہ کہ انسان اپنی محبوب چیز راہِ خدا میں دے،صحت و تندرستی میں جب زندگی کی امید ہو اور فقر کا اندیشہ بھی ہو،اس وقت صدقہ کرے۔ساتھ ہی اپنے عمل کو بڑا نہ سمجھے بلکہ کم خیال کرے اور کثرت سے صدقہ کرے۔([3]) جب یہ اوصاف جمع ہو جائیں تبھی صدقہ حقیقی معنوں میں قرضِ حسن بن کر عظیم اجر کا ذریعہ بنتا ہے۔حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی صدقہ و خیرات کی ترغیب یوں ارشاد فرمائی کہ ایک مرتبہ نمازِ عید کے بعد حضور عورتوں کے پاس تشریف لے گئے،انہیں نصیحت فرمائی اور خاص طور پر صدقہ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: صدقہ کرو۔حضور کی اس ترغیب کا عورتوں پر ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے فوراً اپنے زیورات اتار کر صدقہ کرنا شروع کر دیئے اور حضرت بلال کے کپڑے میں ڈالنے لگیں،یہاں تک کہ کافی مقدار میں زیورات جمع ہو گئے،جنہیں بعد میں مسلمان فقرا میں تقسیم کر دیا گیا۔([4])

اسی طرح حضور نے ایک مرتبہ خواتین کو صدقہ کرنے کی خصوصی ترغیب دلائی تو حضرت زینب جو اپنے شوہر حضرت عبد اللہ بن مسعود اور زیرِ کفالت یتیموں پر خرچ کرتی تھیں،نے پوچھا کہ کیا ان پر خرچ کرنا بھی صدقہ شمار ہوگا؟تو حضور نے ارشاد فرمایا:ہاں،اس پر دوگنا اجر ملے گا؛ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقے کا۔([5])

عورتوں کا صدقہ و خیرات کرنا عموماً شوہر کے مال سے ہوتا ہے۔اس بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر بیوی شوہر کی اجازت سے اس کے مال میں سے راہِ خدا میں خرچ کرے تو شوہر اور بیوی دونوں کو ثواب ملتا ہے؛شوہر کو مال کمانے اور اس کے مال سے صدقہ ہونے کا،جبکہ بیوی کو صدقہ کرنے کا اجر حاصل ہوتا ہے۔علمائے کرام فرماتے ہیں کہ چونکہ شوہر نے محنت و مشقت سے مال کمایا ہوتا ہے،اس لیے اسے زیادہ ثواب ملتا ہے۔لہٰذا جب مرد کی اجازت سے اس کے گھر والے اس کی کمائی میں سے زکوٰۃ یا صدقہ ادا کریں تو اس کا اجر سب کو ملتا ہے،البتہ!زکوٰۃ کے معاملے میں واضح اجازت دینا اور فرض کی ادائیگی کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔([6])

خیال رہے کہ رب نے صدقہ کے بعد قرض کا ذکر فرمایا ہے، یا تو صدقہ سے عام خیرات مراد ہے جس میں صدقاتِ جاریہ بھی شامل ہیں  اور قرض سے وہ صدقہ مراد ہے جس کا فقیر کو مالک بنایا جائے،یا صدقہ سے واجبہ اور قرض سے نفلی صدقات مراد ہیں، یا صدقہ سے خیرات اور قرض سے نیتِ خیر مراد ہے۔اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں:صدقہ کا اجر یقینی ہے جیسے قرض کی ادائیگی یقینی ہوتی ہے اور مومن فقرا اللہ پاک کے محبوب ہیں کہ ان کے لیے قرض کا لفظ استعمال فرمایا گیا۔([7])تفسیر ابنِ کثیر میں ہے:اللہ پاک فرماتا ہے کہ وہ ان مردوں اور عورتوں کو ثواب عطا فرمائے گا جو اپنے مالوں میں سے حاجت مندوں،فقیروں اور مسکینوں پر صدقہ کرتے اور اللہ پاک کو قرضِ حسن دیتے ہیں یعنی وہ اپنا مال خالص نیت کے ساتھ اللہ پاک کی رضا حاصل کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔جن لوگوں کو وہ دیتے ہیں ان سے نہ کسی بدلے کی خواہش رکھتے ہیں اور نہ کسی شکریہ کی۔اسی لیے اللہ پاک نے فرمایا:اللہ پاک ان کی ایک نیکی کا بدلہ دس گنا عطا فرمائے گا،پھر اس سے بھی بڑھا کر سات سو گنا تک کر دے گا،بلکہ اس سے بھی زیادہ۔([8])یہ تو دنیاوی اجر ہے کہ اللہ پاک کی راہ میں کوئی چیز صدقہ کی تو اس سے کئی گنا لوٹ کر ملے گی۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ زکوۃ دینے والوں کی زکوۃ ہر سال بڑھتی ہے کیونکہ ان کے پاس مال بڑھ جاتا ہے تو یہ صدقہ دینے کا ہی اجر ہے۔علامہ اسماعیل حقی وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:ان کے لیے ایسا معزز اور عظیم اجر ہے جس کے ساتھ اللہ پاک کی رضا اور خصوصی عنایت بھی شامل ہوگی۔([9])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* معلمہ و مفتشہ جامعۃ المدینہ گرلز

فیضانِ ام عطار گلبہار سیالکوٹ



[1]نظم الدرر،19/282تا284

[2]نظم الدرر،19/284

[3]تفسیر سمعانی،5/373

[4]سنن کبریٰ للنسائی،1/549،حدیث:1784 ملخصاً

[5]بخاری،1/495،حدیث:1466 ملتقطاً

[6]عورت اور قرآن،ص267 ملخصاً

[7]تفسیر نور العرفان،ص862

[8]تفسیر ابن کثیر،8/55

[9]تفسیر روح البیان،9/367


Share