وحی اور اس کی اقسام
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:وحی اور اس کی اقسام

وحی کا لغوی معنی ہے:لکھنا،اشارہ کرنا،کوئی بات دل میں ڈالنا اور کلامِ خفی۔([1])جبکہ اصطلاح میں اللہ پاک کے نبیوں میں سے کسی نبی پر اس کی طرف سے جو کلام نازل کیا جاتا ہے، اسے وحی کہتے ہیں۔([2])بنیادی طور پر وحی کی دو قسمیں ہیں: حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر الفاظ اور معانی کا نزول ہو تو یہ وحیِ متلو ہے اور یہی قرآنِ حکیم ہے اور جب صرف معانی نازل کیے جائیں اور آپ  ان معانی کو اپنے الفاظ سے تعبیر فرمائیں تو یہی وحیِ غیر متلو ہے،اس کو حدیثِ نبوی کہتے ہیں۔

نزولِ وحی کی متعدد صورتیں تھیں۔بعض اوقات اللہ پاک کا کلام فرشتے کے واسطے کے بغیر سنایا جاتا تھا،جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے کوہِ طور پر کلامِ الٰہی سنا اور حضور نے شبِ معراج شرفِ ہم کلامی پایا۔کبھی حضرت جبرائیل علیہ السّلام کے ذریعے وحی نازل ہوتی،خواہ گھنٹی جیسی آواز کی صورت میں یا انسانی شکل میں،جیسا کہ وہ حضرت دحیہ کلبی کی صورت میں حاضر ہوئے اور کبھی اپنی اصلی صورت میں تشریف لائے،جس میں ان کے چھ سو پَر تھے۔ بعض اوقات معانی و احکام براہِ راست نبی کے مبارک دل میں القا  کیے جاتے،جیسا کہ حضور نے فرمایا:روح القدس نے میرے دل میں القا کیا۔([3]) اسی طرح خواب کے ذریعے بھی وحی آتی تھی، جیسا کہ حضور کو بعض امور خواب میں دکھائے جاتے تھے۔نیز اللہ پاک پردے کی اوٹ سے بیداری یا خواب میں بھی ہم کلام ہوتا تھا،جیسا کہ شبِ معراج اور بعض دیگر مواقع پر ہوا۔([4])یہ سب وحیِ الٰہی کے مختلف طریقے ہیں جن کے ذریعے انبیائے کرام علیہمُ السّلام  کو احکام و معارف عطا کیے جاتے تھے۔

وحی انسان کی دینی اور اجتماعی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ انسان فطرتاً مل جل کر رہتا ہے اور اپنی ضروریاتِ زندگی،جیسے خوراک،لباس،رہائش اور نکاح کے لیے ایک منصفانہ نظام کا محتاج ہے۔اگر یہ نظام انسانی خواہشات پر قائم ہو تو اس میں جانبداری اور مفاد پرستی کا دخل ہو جاتا ہے،اس لیے حقیقی اور عادلانہ قانون وہی ہو سکتا ہے جو اللہ پاک کی طرف سے عطا کیا گیا ہو اور اسی الٰہی راہ نمائی کا نام وحی ہے۔اگرچہ انسان اپنی عقل سے اللہ پاک کے وجود،وحدانیت اور بعض بنیادی حقائق کو جان سکتا ہے،لیکن عبادات،حلال و حرام،حقوق و فرائض اور اللہ پاک کی مرضی کے تفصیلی احکام معلوم نہیں کر سکتا۔نماز،روزہ،زکوٰۃ اور دیگر دینی احکام کا علم صرف وحی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ جس طرح حواس کبھی غلطی کرتے ہیں اور عقل ان کی اصلاح کرتی ہے،اسی طرح عقل بھی بعض مواقع پر خطا کرتی ہے،لہٰذا اس کی راہ نمائی اور درستی کے لیے وحی ضروری ہے۔ وحی کا تعلق منصبِ نبوت کے ساتھ خاص ہے،اگر ہر ایک کو وحی کا دعویٰ کرنے کی اجازت ہو تو دنیا کا نظام درہم برہم ہو جائے،اس لیے وحی کا دعویٰ صرف وہی کر سکتا ہے جسے اللہ پاک نے نبوت کے منصب پر سرفراز فرمایا ہو۔

وحی کے اللہ پاک کی طرف سے ہونے پر قرآن،عقل اور تاریخ سب گواہی دیتے ہیں۔اس کی سب سے بڑی دلیل خود قرآنِ مجید کا اعجاز ہے۔قرآن انسانوں کو چیلنج دیتا ہے کہ اگر وہ اسے اللہ پاک کا کلام نہیں مانتے تو اس جیسی ایک سورت بنا کر دکھائیں، لیکن نزولِ قرآن سے لے کر آج تک کوئی اس چیلنج کا جواب نہیں دے سکا اور نہ قیامت تک دے سکے گا۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قرآن اللہ پاک کا کلام ہے اور مخلوق اس کی مثل کلام پیش کرنے سے عاجز ہے۔

قرآن کے اعجاز کی کئی جہات ہیں،جن میں فصاحت و بلاغت، اس کی غیر معمولی تاثیر اور غیب کی خبریں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔عرب فصاحت و بلاغت کے میدان میں اپنی مثال آپ تھے اور شعر و ادب میں انہیں کمال حاصل تھا،لیکن جب قرآن نازل ہوا تو اس کے اسلوب،حسنِ بیان اور قوتِ تاثیر نے انہیں حیران کر دیا اور وہ اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز رہے۔

اسی طرح قرآن کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس کی تلاوت جتنی زیادہ کی جائے اتنی ہی اس کی مٹھاس،محبت اور روحانی تاثیر بڑھتی جاتی ہے،جبکہ عام انسانی کلام بار بار پڑھنے یا سننے سے اپنی کشش کھو دیتا ہے۔مزید یہ کہ قرآنِ مجید میں بیان کی گئی کئی غیبی خبریں بعد میں من و عن پوری ہوئیں،جیسے رومیوں کے ایرانیوں پر دوبارہ غالب آنے کی پیشین گوئی۔ان روشن دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآنِ مجید کسی انسان کا کلام نہیں بلکہ اللہ پاک کی نازل کردہ کتاب ہے اور اس کے ذریعے پہنچنے والی وحی بھی یقیناً اللہ پاک کی طرف سے ہوتی ہے۔

اس کی ایک مضبوط دلیل حضور کی مبارک سیرت اور بے مثال شخصیت بھی ہے۔حضور اُمِّی تھے،یعنی آپ نے کسی استاد سے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا تھا،اس کے باوجود آپ ایسا جامع، فصیح،بلیغ اور حکمتوں سے بھرپور کلام لے کر تشریف لائے جس نے عرب کے بڑے بڑے ادیبوں،خطیبوں اور اہلِ دانش کو حیرت میں ڈال دیا۔یہ حقیقت خود اس بات کی روشن دلیل ہے کہ قرآنِ مجید آپ کا اپنا کلام نہیں بلکہ اللہ پاک کی نازل کردہ وحی ہے۔

بعثتِ نبوی سے پہلے بھی لوگ آپ کو ’’الصادق الامین‘‘ کے لقب سے یاد کرتے تھے اور آپ کی سچائی،امانت داری اور دیانت پر سب کا اتفاق تھا۔جو شخصیت پوری زندگی جھوٹ سے پاک رہی ہو،اس کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اللہ پاک کی طرف ایسی بات منسوب کرے جو اللہ پاک نے نہ فرمائی ہو۔اسی طرح وحی کے نزول کے بعد بھی آپ کی مبارک زندگی میں دنیا طلبی،مال جمع کرنے یا اقتدار حاصل کرنے کی کوئی خواہش ظاہر نہ ہوئی،بلکہ آپ نے سادگی،زہد اور ایثار ہی کو اختیار فرمایا۔ اگر مقصد دنیاوی مفاد ہوتا تو اس کے بے شمار مواقع موجود تھے، لیکن آپ نے ہمیشہ اللہ پاک کی رضا اور مخلوق کی ہدایت کو مقدم رکھا۔

وحی کے الٰہی ہونے کی ایک اور دلیل وہ غیبی خبریں ہیں جو قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں بیان ہوئیں اور بعد میں سچ ثابت ہوئیں۔قرآن نے رومیوں کے دوبارہ غالب آنے کی خبر دی جو چند سال بعد پوری ہو گئی اور سورۂ لہب میں ابو لہب کے کفر پر مرنے کا ذکر کیا گیا،جو بعینہٖ واقع ہوا۔اسی طرح قرآنِ مجید میں جنین کی تخلیق کے مراحل،کائنات کی وسعت اور دیگر ایسے حقائق بیان ہوئے جن کی تصدیق بعد کے ادوار میں ہوئی۔مزید یہ کہ قرآنِ مجید تقریباً 23 سال کے عرصے میں مختلف حالات، مواقع اور سوالات کے جواب میں نازل ہوا،لیکن اس کے مضامین میں کوئی تضاد،اختلاف یا باہمی ٹکراؤ نہیں پایا جاتا۔انسانی کلام میں وقت گزرنے کے ساتھ اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں، جبکہ قرآن کی کامل ہم آہنگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا نازل فرمانے والا ایک ہی ہے،یعنی ربُّ العالمین۔اس وحی کی تاثیر بھی اس کے الٰہی ہونے کی گواہ ہے،کیونکہ اسی نے جاہلیت میں ڈوبے ہوئے عربوں کو علم،عدل،تقویٰ اور اخوت کا علمبردار بنا دیا۔ شراب نوشی،ظلم،قتل وغارت اور اخلاقی برائیوں میں مبتلا قوم چند ہی برسوں میں دنیا کی راہ نما قوم بن گئی۔ایسی آفاقی اور پائیدار تبدیلی کسی انسانی کلام کا نتیجہ نہیں ہو سکتی،بلکہ یہ اسی کلام کا اثر ہے جو خالقِ کائنات کی طرف سے نازل کیا گیا ہو۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* لاہور



[1] معجم اللغۃ العربیہ،3/2415ماخوذاً

[2] عمدۃ القاری،1/ 37

[3]لسان العرب،1/1621

[4]نزہۃ القاری،1/235،234ملخصاً،عمدۃ القاری،1/ 75،74ملخصاً


Share