بچوں پر شفقت کیجئے
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:بچوں پر شفقت کیجئے

اولاد اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے۔یہ انسان کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی اور دل کا سکون ہوتی ہے۔جس گھر کے آنگن میں بچوں کی چہکار نہ ہو وہ گھر ویران اور بے رونق محسوس ہوتا ہے۔بچے زندگی کی رونق،گھر کی بہار اور والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتے ہیں۔ان کی معصوم مسکراہٹ سے گھر کا ماحول خوشگوار اور دلکش بن جاتا ہے۔بچے پھول کی طرح ہوتے ہیں، جو اپنی خوشبو اور معصومیت سے گھر کو مہکا دیتے ہیں،لیکن وہ پھول کی طرح نازک بھی ہوتے ہیں،ذرا سی سختی،ڈانٹ یا تلخی سے سہم جاتے ہیں اور ان کے دل پر منفی اثر پڑتا ہے۔اس لیے ان کے ساتھ ہمیشہ شفقت،رحمدلی،نرمی اور ہمدردی کے ساتھ پیش آنا چاہیے تاکہ ان کی شخصیت بہتر انداز میں پروان چڑھے اور وہ اعتماد کے ساتھ اچھے انسان بن سکیں۔حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بچوں کے ساتھ نہایت شفقت اور محبت کا عملی نمونہ پیش فرمایا۔چند جھلکیاں ملاحظہ کیجئے:

بُراق جیسی اعلیٰ ترین سواری پر سوار ہونے والے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے خود اپنے نواسے امامِ حسن کو اپنے کندھے پر بٹھایا۔([1])بعض اوقات دورانِ نماز بچے کے رونے کی آواز آتی تو آپ نماز کو مختصر فرما دیتے۔([2])جب انصار کے پاس تشریف لے جاتے تو ان کے بچوں کو سلام کرتے،سر پر دستِ شفقت پھیرتے اور ان کے لئے دعا بھی فرماتے۔([3])

حضور کے بچوں پر شفقت و مہربانی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت انس فرماتے ہیں:حضور بچوں پر بہت زیادہ شفقت فرمانے والے تھے۔([4]) ایک بار حضور اپنے ننھے نواسے امام حسن سے پیار کرتے ہوئے منہ چوم رہے تھے۔حضرت اقرع بن حابس تمیمی نے حیران ہو کر کہا:میرے دس بیٹے ہیں مگر میں نے کبھی کسی کو پیار نہیں کیا۔آپ نے فرمایا:جو رحم نہیں کرتا اللہ پاک بھی اس پر رحم نہیں فرماتا۔([5]) اسی طرح ایک بار امام حسین بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے،حضور کا وہاں سے گزر ہوا اور انہیں پکڑنا چاہا تو وہ کھیلتے ہوئے ادھر ادھر بھاگنے لگے،حضور مسکراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے ان کو پکڑ لیا۔پھر ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا سر پر رکھ کر ان کا بوسہ لیا اور فرمایا:حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں۔اللہ پاک اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے۔([6])

ان خوبصورت و دلنشین اداؤں پر قربان!یقیناً یہ بچوں پر شفقتِ مصطفےٰ کی روشن مثالیں ہیں۔حضور کی مقدس زندگی ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔چھوٹوں سے پیار و محبت اور شفقت و الفت کا جو برتاؤ آپ نے کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔لہٰذا ہمیں بھی حضور کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے بچوں کے ساتھ محبت اور شفقت بھرا رویہ اپنانا چاہیے،انہیں مارنا پیٹنا فائدہ مند ہونے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

بچوں پر شفقت کے اثرات:

بچوں کی شخصیت کو نکھارنے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں محبت و شفقت کے سائے میں پروان چڑھایا جائے۔جن بچوں کو محبت بھرا ماحول میسر آتا ہے ان کی شخصیت میں کئی مثبت تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔محبت بھرے ماحول میں پرورش پانے والے بچوں کی ذہنی صلاحیتیں اور یادداشت بہتر ہوتی ہے کیونکہ وہ مثبت ماحول میں رہتے ہیں،اس لیے ان کی فکری قوتیں زیادہ متحرک رہتی ہیں۔بچے وہی سیکھتے ہیں جو اپنے بڑوں کو کرتے دیکھتے ہیں،جب انہیں گھر میں محبت اور شفقت ملتی ہے تو وہ بھی نرم مزاج،ہمدرد اور خیرخواہ بن جاتے ہیں اور یہی صفات ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں۔اسی طرح جس بچے کو بچپن سے محبت ملتی ہے اس میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور ایسا بچہ بڑا ہو کر کامیاب اور باوقار زندگی گزارتا ہے کیونکہ اسے اپنی قدر و منزلت کا احساس ہوتا ہے۔اس لیے ہمیں اپنے بچوں کی محبت اور شفقت کے ساتھ تربیت کرنی چاہیے تاکہ ان کی شخصیت بہتر ہو اور مثبت نتائج سامنے آئیں۔

بچوں پر شفقت کی مثالیں:

چھوٹے بچوں پر شفقت و مہربانی کے یہ انداز اختیار کیجئے:بچوں کو اللہ پاک کی امانت سمجھ کر محبت بھرا سلوک کیجئے اور ان کے ساتھ نرمی وپیار کا برتاؤ رکھئے۔انہیں پیار کیجئے،بدن سے لپٹائیے اور کندھے پر بٹھائیے تاکہ ان میں اپنائیت پیدا  ہو۔ان کے ہنسنے،کھیلنے اور بہلنے کی باتوں میں دلچسپی لیجئے اور ہر وقت ان کا دل خوش رکھنے کا خیال رکھئے۔موسم کے نئے پھل اور میوے انہیں دیجئے کیونکہ وہ بھی سادہ دل ہوتے ہیں۔اپنی گنجائش کے مطابق انہیں کھانے،پہننے اور کھیلنے کے لیے جائز چیزیں دیجئے۔بچوں کو بہلانے کے لیے جھوٹا وعدہ نہ کیجئے بلکہ وہی وعدہ کیجئے جسے پورا کرنے کا ارادہ ہو۔اگر ایک سے زیادہ بچے ہوں تو سب کو برابر چیزیں دیجئے اور کسی کو بلا وجہ ترجیح مت دیجئے تاکہ کسی کے دل میں محرومی پیدا نہ ہو۔([7])

یہ حقیقت ہے کہ ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے،مگر اس کی شخصیت اندرونی اور بیرونی عوامل مثلاً والدین،تعلیم و تربیت،سازگار ماحول اور افرادِ معاشرہ کے اثرات سے مل کر تشکیل پاتی ہے۔ایک روایت میں ہے:ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے،پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔([8])

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ اسی نکتے پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:بچہ والدین کے پاس اللہ پاک کی امانت ہے۔اس کا دل ایک صاف اور سادہ جوہر کی طرح ہوتا ہے جو ہر نقش و اثر کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اسے ہر طرف مائل کیا جا سکتا ہے ۔ اگر اس میں اچھی عادات پیدا کی جائیں اور اسے علمِ نافع دیا جائے تو وہ عمدہ نشوونما پا کر دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرتا ہے اور یہ ایک عظیم کارِ خیر ہے جس میں والدین اور اساتذہ وغیرہ سب شریک ہوتے ہیں۔لیکن اگر اس کی اصلاح سے غفلت کی جائے تو وہ بگڑ کر تباہ ہو جاتا ہے،جس کا وبال اس کے سرپرست پر ہوتا ہے۔([9])

بچے اگر ایسی شرارتیں کریں جو بدتمیزی اور بداخلاقی کے دائرے میں نہ آتی ہوں،جیسے کھیل کود اور معصومانہ حرکتیں،تو ان پر بلا وجہ غصہ نہیں کرنا چاہیے۔یہ بچپن کے حسین اور بے فکری کے لمحات دوبارہ واپس نہیں آئیں گے۔جب یہ بچے بڑے ہوں گے تو دنیا کے دکھ،ذمہ داریاں اور فکریں انہیں گھیر لیں گی،اس لیے یہ وقت انہیں خوشی سے جینے دینا چاہیے اور اپنا ذہنی دباؤ ان پر مسلط نہیں کرنا چاہیے۔البتہ!اگر بچہ بدتمیزی، بداخلاقی یا نقصان دہ شرارت کرے تو وہاں نرمی اور محبت کے ساتھ اس کی اصلاح ضروری ہے۔اسے صحیح اور غلط کی تمیز سکھانا بھی شفقت ہی کا حصہ ہے۔

الغرض ہمیں تعلیماتِ نبوی کے مطابق بچوں کے ساتھ محبت و شفقت کا برتاؤ کرنا چاہیے۔ان پر پیار و محبت کے پھول نچھاور کرنے چاہییں تاکہ وہ اچھی شخصیت بن سکیں۔بچوں کو نرمی اور عزت کے ساتھ پروان چڑھانا اور ان کی غلطیوں کی اصلاح حکمت سے کرنا ہی ان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* شعبہ ذمہ دار ماہنامہ خواتین



[1] ترمذی،5/432،حدیث:3809

[2] بخاری،1/253،حدیث:707 ماخوذاً

[3] سنن کبریٰ للنسائی،5/92،حدیث:8349

[4] مسندابی یعلیٰ،3/425،حدیث:4181

[5] بخاری،4/100،حدیث:5997

[6] ابن ماجہ،1/96،حدیث:144

[7] فتاویٰ رضویہ،24/453 ملخصاً

[8] بخاری،1/466،حدیث:1385

[9] احیاء العلوم،3/88 ملخصاً


Share