معذرت قبول کرنا
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:معذرت قبول کرنا

مشہور مقولہ ہے:اَلْاِنْسَانُ مُرَکَّبٌ مِّنَ الْخَطَاءِ وَ النِّسْیَان یعنی انسان غلطیوں اور بھول چوک کا مجموعہ ہے۔انسان ہونے کے ناطے ہم میں سے ہر ایک سے غلطیاں ہوتی ہیں۔بسا اوقات غلطی کرنے والی کو اپنی خطاؤں اور غلطیوں کا احساس ہو جاتا ہے اور وہ اس پر معذرت کرتی اور اپنی خطاؤں کی تلافی کے لیے بھی تیار ہوتی ہے مگر بعض نادان اس بیچاری کی معذرت قبول کرتی ہیں نہ اسے خطاؤں کی تلافی کرنے کا موقع دیتی ہیں، مثلاً گھر میں بہو سے غلطی ہو گئی تو اب ساس کے سامنے بہو لاکھ آنسو بہائے،ہاتھ جوڑے اور آئندہ نہ کرنے کا عہد کرے مگر ساس معذرت قبول ہی نہیں کرتی، بلکہ بعض اوقات تو ساری زندگی کسی ایک خطا کی وجہ سے اس کو طعنے سہنے پڑتے ہیں۔ چنانچہ اس حوالے سے اسلام نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ ہم معذرت کو قبول کریں اور غلطیوں کو معاف کر دیں۔حُسنِ اخلاق کا تقاضا تو یہ ہے کہ چاہے کوئی معافی مانگے یا نہ مانگے، سب کو معاف کر دیا جائے، تو پھر معافی مانگنے والی کو بلاوجہ معاف نہ کرنا شرعی و اخلاقی دونوں طرح سے درست نہ ہو گا، بلکہ حدیث پاک میں اسے گناہ قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ ایک روایت میں ہے:جو اپنے مسلمان بھائی کے سامنے عذر پیش کرے اور وہ اس کا عذر قبول نہ کرے تو اس پر ٹیکس وصول کرنے والے کی طرح گناہ ہے۔([1]) مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جیسے ٹیکس لگانے والے اور ٹیکس وصول کرنے والے اکثر ظالم ہوتے ہیں انہیں سخت سزا ملے گی ایسے ہی اس شخص کو سخت سزا ملے گی۔([2])

یاد رکھیے!ہم میں سے کوئی بھی اس بات کی گارنٹی نہیں دے سکتی کہ وہ کبھی غلطی نہیں کرے گی یا اس سے کبھی خطا ہو ہی نہیں سکتی، کیونکہ خطاؤں سے محفوظ صرف انبیائے کرام اور فرشتے ہیں، ایک عام انسان خطا کا پتلا ہے اور اس کا خطا سے محفوظ ہونا ممکن ہی نہیں، لہذا جب خطاؤں اور غلطیوں سے کوئی بھی محفوظ نہیں تو ایک دوسرے کی معذرتیں قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کیسی!ہم میں سے بعض معذرت تو قبول کر لیتی ہیں مگر جب کبھی دوبارہ سامنے والی سے کوئی غلطی ہو تو پرانی خطا پھر سے یاد دلائی جاتی ہے۔ گویا کہ ہم نے ابھی تک اس کی پچھلی کوتاہی و غلطی کو دل سے معاف نہ کیا تھا، یہی وجہ ہے کہ اب پھر اسے غلطی پر عار دلاتی ہیں۔حالانکہ یہ بہت تکلیف دہ رویہ ہے کہ کسی کو اس کی ماضی کی غلطیوں پر ملامت کی جائے۔ کاش!ہمارا ایسا ذہن بن جائے کہ کوئی معذرت پیش کرے تو اسے قبول بھی کر لیں اور آئندہ کے لیے اس بات کو اپنے دل و دماغ سے نکال پھینکیں،نیز اپنے آپ سے عہد کر لیں کہ پھر کبھی اس بات کو زبان پر نہ لاؤں گی،کیونکہ میری خطا کار مجھ سے معذرت کر چکی ہے۔

شرعی حکم:

اگر کسی سے معذرت طلب کی جائے تو از روئے شرع اسے معذرت قبول کرنا اور دل سے معاف کر دینا لازم ہے۔([3])حدیثِ پاک میں ہے:جس کے پاس اس کا بھائی معذرت کرنے کے لئے آئے تو اس پر لازم ہے کہ اس کا عذر قبول کرے، خواہ وہ سچا ہو یا جھوٹا۔جو ایسا نہ کرے گا، وہ حوض کوثر پر میرے پاس نہ آسکے گا۔([4])اللہ پاک نے معاف کرنے کو ہمت والا کام فرمایا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳) (پ 25، الشوریٰ:43)

ترجمہ:اور بیشک جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا تو یہ ضرور ہمت والے کاموں میں سے ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

معاف کرنا جس قدر ہمت و مشقت والا کام ہے اسی قدر اس کے فوائد بھی ہیں،اسی طرح معذرت قبول کرنے کے دینی اور دنیاوی دونوں اعتبار سے بہت فوائد ہیں۔قرآن و احادیث میں اس کی بڑی فضلیت آئی ہے۔چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے:

فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ(۴۰)(پ 25، الشورٰی:40)

ترجمہ:تو جس نے معاف کیا اور کام سنوارا تو اس کا اجر اللہ (کے ذمہ کرم) پر ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

معاف کرنا بخشے جانے کا سبب ہے، جیسا کہ ارشاد ہوا ہے:

وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْاؕ-اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْؕ- (پ18،النور:22)

ترجمہ:اور انہیں چاہیے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں ، کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری بخشش فرما دے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

احادیثِ پاک کی روشنی میں اس کے فضائل ملاحظہ کیجیے، چنانچہ ایک روایت میں ہے:بے شک اللہ پاک درگزر فرمانے والا ہے اور درگزر کرنے کو پسند فرماتا ہے۔([5]) ایک اور روایت میں ہے:قیامت کے روز اعلان کیا جائے گا:جس کا اجر اللہ پاک کے ذِمّۂ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہو جائے۔پوچھا جائے گا:کس کے لئے اجر ہے؟تو اعلان کرنے والا کہے گا:ان لوگوں کے لئے جو معاف کرنے والے ہیں تو ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلا حساب جنت میں داخل ہو جائیں گے۔([6])

معذرت قبول کرنے کے فوائد:

جب ہم کسی کی معذرت قبول کر لیتی ہیں تو سامنے والی کے دل میں ہماری عزت بڑھ جاتی ہے اور اس کا دل ہمارا احسان مند ہوتا ہے۔مشہور کہاوت ہے: انسان احسان کا غلام ہے۔حدیثِ پاک میں ہے:بندہ کسی کا قصور معاف کرے تو اللہ پاک اس معاف کرنے والے کی عزت ہی بڑھائے گا۔([7])

لوگوں کی معذرت قبول کرنے والوں کے لیے تو جنت کی خوشخبری ہے۔یہ انداز پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے بھی اپنایا اور آپ نے کئی مواقع پر معافی و درگزر سے کام لیا۔صحابہ کرام اور اولیائے کرام کی سیرت میں بھی ہمیں یہی انداز نظر آتا ہے تو کیوں نہ ہم بھی اس انداز کو اپنائیں!اگر ہم اس انداز کو اپنائیں معاف کرنے والی اور معذرت قبول کرنے والی بن جائیں تو ہمارا گھر امن کا گہوارہ بن سکتا ہے، مگر افسوس!ایک ہی گھر کے افراد ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں، وجہ یہ ہوتی ہے کہ معذرت قبول نہیں ہوتی، کسی کا گڑگڑانا و عاجزی کرنا ہم پر اثر انداز نہیں ہوتا اور یوں دل کی سختی اپنے پنجے گاڑ لیتی ہے۔ حالانکہ امیر المومنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا ارشاد  ہے:لوگوں میں سب سے عقلمند وہی ہے جو ان کے زیادہ عذر قبول کرنے والا ہے۔([8])

معذرت قبول کرنے کا جذبہ کیسے ملے؟

اس کا بہت بڑا سبب خود پسندی،تکبر اور دوسروں کو حقیر جاننا ہے کہ جس کے اندر یہ مرض ہو وہ اپنی غلطی کو غلطی اور دوسروں کی غلطیوں کو معافی کے قابل نہیں سمجھتی۔لہٰذا ہمیں اپنے اندر سے اس مرض کو دور کرنا ہو گا۔اس کے علاوہ آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم اور آپ کے صحابہ و اولیائے کرام کی پیاری سیرت  کا مطالعہ کرنا اور ان کو اپنانا ہو گا کہ ان حضرات نے کس طرح لوگوں کی معذرتوں کو قبول کیا اور ان کو معاف فرمایا۔اگر معاشرے میں سب لوگ معذرتیں قبول کرنے والے بن جائیں تو معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

اے کاش!ہمیں بھی یہ جذبہ نصیب ہوجائے۔

 اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم




[1] شعب الایمان، 6/322، حدیث:8338

[2] مراۃ المناجیح، 6/623

[3] بہار شریعت، 1/1052، حصہ:6 مفہوماً

[4] مستدرک، 5/213، حدیث:7340

[5] مستدرک، 5/546، حدیث:8216

[6] معجم اوسط، 1/542، حدیث:1998

[7] مسلم، ص 1071، حدیث:6592

[8] مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب لابن جوزی، ص 185


Share