بچوں کا پہلا کلام
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:بچوں کا پہلا کلام

حضرت امِّ سُلَیم رضی اللہ ُعنہا اپنے دودھ پیتے بچے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کلمۂ طیبہ اور کلمۂ شہادت پڑھنے کی تلقین کرتی رہتی تھیں، چنانچہ جب انہوں نے بولنا شروع کیا تو سب سے پہلے یہی پاکیزہ کلمات ان کی زبان سے ادا ہوئے۔([1])

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری بزرگ خواتین اپنی اولاد کی کتنے بہترین طریقے سے تربیت کرتی تھیں اور بچپن ہی سے انہیں اچھا مسلمان بنانے کی کوشش کیا کرتیں تھیں۔آپ بھی کوشش کیجئے کہ آپ کے بچوں کی زبان سے سب سے پہلے اللہ پاک کا مبارک نام ہی ادا ہو۔ایک حدیثِ مبارک میں ہے: اپنے بچوں کی زبان سے سب سے پہلے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہلواؤ۔([2]) اس لئے بچہ جوں ہی بولنے کے لائق ہو سب سے پہلے اس کی زبان سے لفظ اللہ کہلوائیے۔اس کے بعد لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ (صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم) کہنا سکھائیے۔

افسوس!آج کل بچوں کو ذِکْرِ الٰہی سنانے کا اہتمام کرنے کے بجائے جان بوجھ کر یا انجانے میں میوزک سنایا جا رہا ہوتا ہے۔کھلونے ہوں یا کارٹونز ہر چیز میں میوزک کی موجودگی ضرور ہوتی ہے،حالانکہ میوزک سننا سنانا نا جائز و حرام ہے۔ نابالغ بچوں کو اگرچہ گناہ نہیں ملتا لیکن ان کو میوزک سنانے اور میوزک کے اسباب فراہم کرنے والے ضرور گناہ گار ہوتے ہیں۔لہٰذا بچوں کو میوزک سے دور رکھا جائے اور بچپن ہی سے ایسے کھلونے دئیے جائیں جن میں میوزک نہ ہو،اگر ہو تو میوزک والی وائر کاٹ دی جائے۔اسی طرح ایسے کارٹونز، پوئمز اور ویڈیو گیمز سے بھی بچایا جائے جن میں میوزک ہو۔

بچوں کو میوزک سنانے سے انہیں روحانی و جسمانی دونوں لحاظ سے بڑوں سے زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے کہ بچپن کا تاثر زیادہ گہرا اور پکا ہوتا ہے۔چنانچہ محققین بیان کرتے ہیں:میوزک نشے والی چیزوں کی طرح کام کرتا اور انسان کو اپنے آس پاس کے ماحول سے بے خبر کر کے دماغ کو دھوکا دینے والی حالت میں پہنچا دیتا ہے۔سائنس میں اس کے کافی شواہد موجود ہیں کہ موسیقی کی کئی اقسام ذہن پر منفی اثرات ڈالتی ہیں جس سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے۔لہٰذا خود بھی موسیقی سے دور رہا جائے اور  بچوں کو بھی اس سے دور رکھا جائے، شروع سے ہی ان کی صحت مند ذہنی تربیت کی جائے، انہیں تلاوت و نعت کی آوازیں سنائی جائیں، انہیں انبیائے کرام، صحابہ کرام، بزرگانِ دین اور نیک لوگوں کے اخلاقی اسباق پر مشتمل نصیحت آموز قصے سنائے جائیں،میوزک سے 100 فیصد پاک مدنی چینل دکھایا جائے،یو ٹیوب چینل کڈز لینڈ کے سبق آموز کارٹونز دکھائے جائیں تو ان شاء اللہ ان کا ذہن بہت مثبت و بابرکت اثرات لے گا اور جب بچہ بڑا ہو گا تو اس کے دل میں ان شاء اللہ خدا و رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی محبت رچ بس چکی ہو گی۔ اللہ پاک ہمیں اولاد کی اسلامی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم



[1] طبقات ابن سعد، 8/312 ملخصاً

[2] شعب الایمان، 6/398، حدیث:8649


Share