کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جانا منع ہے!
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جانا منع ہے!


حضور نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو کاہن کے پاس آئے پھر اس کی بات کی تصدیق کرے تو وہ اس سے الگ ہو گیا جو محمد(صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم)پر نازل کیا گیا۔([1]) ایک اور روایت میں ہے کہ جو کاہن کے پاس جائے اس نے محمد مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم)پر اترے ہوئے کا انکار کیا۔([2])

شرحِ حدیث:

کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جانا اور ان کی تصدیق کرنا گویا ایمان سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہے اور ایسے شخص کا اسلام سے بظاہر کوئی تعلق نہیں رہتا، جیسا کہ ایک روایت میں ہے:کاہن کے پاس جانے والے کا مجھ سے کوئی تعلق ہے نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔([3]) یعنی ایسا شخص قرآن و حدیث کا منکر ہو کر کافر ہو گیا۔یہاں کفر سے مراد شرعی کفر ہے جو اسلام کا مقابل  ہے اور اس سے مراد وہ  ہے جو کاہن،نجومی کو عالِمُ الغیب (غیب کی باتیں جاننے والا)جان کر ان سے فال کھلوائے،غیبی خبریں پوچھے۔اگر گناہ سمجھ کر یہ کام کرے تو فسق ہے،کفر نہیں یا یہاں کفر سے مراد لغوی معنی ہیں:(یعنی) ناشکری۔([4])

کہانت سے مراد:

کہانت کا معنی ہے علمِ غیب کا دعویٰ کرنا۔ جیسا کہ ایسی خبریں دینا کہ عنقریب زمین میں ایسا ہو گا۔([5]) بعض کے نزدیک کہانت سے مراد کسی کا زمانۂ مستقبل کی چھپی باتوں کے متعلق آسمانی باتیں بتا کر علمِ غیب جاننے کا دعویٰ کرنا اور یہ گمان کرنا  ہے کہ یہ باتیں جِنّ بتاتا ہے۔([6])

علمِ کہانت کا حکم:

علمِ سحر، علمِ کہانت اور علمِ موسیقی وغیرہ علومِ مُحَرَّمات میں داخل ہیں۔([7])یعنی یہ علوم حرام ہیں۔

کاہن کسے کہتے ہیں؟

امام بدرُ الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:کا ہن وہ شخص ہے جو غیب کا فیصلہ سناتا ہے، جبکہ ایک قول یہ ہے  کہ ہر وہ شخص جو کسی کام کے واقع ہونے سے پہلے اس کی خبر دے وہ کاہن ہے۔([8])علامہ ابنِ حجر مکی ہیتمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:کاہن وہ شخص ہے جو بعض چھپی باتیں بتاتا ہے جن میں سے کچھ صحیح اور اکثر غلط ہوتی ہیں اور گمان کرتا ہے کہ یہ باتیں اُسے جِنّ بتاتا ہے۔([9])جبکہ علامہ خَطاَّبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کاہن  وہ ہے جو علمِ غیب بتانے کا دعوے دار ہو  اور مستقبل میں ہونے والے واقعات کی خبریں دیتا ہو۔([10])

کاہن لوگ بہت ذہین،سخت جان اور ناری طبیعت کے مالک ہوتے ہیں، لہٰذا شیاطین ان سے الفت رکھتے ہیں، کیونکہ شیاطین اور ان کے درمیان ان چیزوں میں مناسبت پائی جاتی ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں خصوصاً عرب میں کہانت بہت عام تھی، کیونکہ اس زمانہ میں نبوت کا سلسلہ بند تھا،پھر جب اسلام آ گیا تو کہانت بالکل کم ہو کر تقریباً زوال پذیر ہو گئی۔([11]) بلکہ ایک قول کے مطابق اللہ پاک نے جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو نبی بنایا تو ساتھ ہی کہانت باطل ہو  کر معدوم ہو گئی۔([12])

عَرَّاف کون ہیں؟

بعض کے نزدیک عَرَّاف کاہن ہی کو کہتے ہیں  اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد جادوگر ہے۔

امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:عَرَّاف وہ ہوتا ہے جو ایسے اسباب کے مقدّمات کے ذریعے اُمورِ غیبیہ جاننے کا دعویٰ کرتا ہے جن کے ذریعے وہ ان امور کے واقع ہونے کی جگہوں پر استدلال کرتا ہے جیسے چوری کیا ہوا مال جس نے چوری کیا اور جہاں سے چوری کیا گیا اس جگہ کی پہچان وغیرہ۔بعض علمائے کرام نجومی کو بھی کاہن کہتے ہیں۔([13])

کاہن اور عراف سے مراد کون اشخاص ہیں، چونکہ اس میں اختلاف پایا جاتا ہے، لہٰذا حکیمُ الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ان میں بنیادی فرق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:کاہن وہ لوگ ہیں جنہیں شیاطین سے تعلق ہوتا ہے،علمِ غیب کا دعویٰ کرتے ہیں اور آئندہ کی جھوٹی سچی خبریں دیتے ہیں۔عراف وہ کہلاتے ہیں جو چھپی چیزیں چوری کے مال کا پتہ بتاتے ہیں،کاہنوں سے غیبی چیزیں پوچھنا گناہِ کبیرہ بلکہ قریبِ کفر ہے۔([14]) ایک مقام پر فرماتے ہیں:بعض کاہنوں کا دعویٰ تھا کہ ہمارے پاس جنات آ کر ہم کو غیبی چیزیں غیبی خبریں بتاتے ہیں کہ شیاطین آسمان پر جا کر فرشتوں کی باتیں سن کر ایک سچ میں سو جھوٹ ملا کر کاہنوں نجومیوں کو بتاتے ہیں۔ بعض کاہن خفیہ علامات، اسباب سے غیبی چیزوں کا پتہ بتاتے ہیں انہیں عَرَّاف کہتے ہیں اور اس عمل کو عرافت،یہ دونوں عمل حرام ہیں ان کی اجرت لینا دینا دونوں حرام ہیں۔ لفظ کاہن بہت عام ہے۔نجومی،رَمّال،عَرَّاف سب کو کاہن کہا جاتا ہے۔ ([15]) کہانت کی اجرت کے حرام ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ایک دن امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کی کمائی سے دودھ پی کر غلام سے پوچھا:تم نے یہ دودھ کہا ں سے حاصل کیا؟اس نے عرض کی:میں نے ایک آدمی کے لئے کَہانَت  کی(آئندہ کی بات بتائی ) تھی اس نے یہ دودھ بھیجا ہے۔ آپ نے جب اس کی یہ بات سنی تو فورا ً اپنے منہ میں اُنگلی ڈال کر اُلٹی کرنے لگے یہاں تک کہ گمان ہونے لگا کہ آپ کے اس عمل سے آپ کی روح پرواز کر جائے گی۔پھر آپ نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:یا اللہ!(جومیرے اختیار میں تھا میں نے کر لیا اور) جو کچھ رگوں نے اُٹھا یا  آنتوں کے ساتھ مل گیا میں اس سے تیری بار گاہ میں عذر پیش کرتا ہوں۔([16])

کاہنوں سے غیبی خبریں پوچھنا کیسا؟

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو کاہن کے پاس آیا اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو 40 راتوں تک اس کی توبہ روک دی جاتی ہے اور اگر اس نے اس کی بات کی تصدیق کی تو کفر کیا۔([17]) ایک روایت میں ہے:جو شخص کاہن کے پاس جا کر کسی چیز کے متعلق پوچھے تو اس کی 40دن کی نمازیں قبول نہیں کی  جائیں گی۔([18]) اگر سائل تصدیق کیلئے پوچھے تو یہ حکم ہے اور اگر اس کا مذاق اڑانے اور اسے جھوٹا ثابت کرنے کے لئے کچھ پوچھے تو یہ حکم نہیں۔نماز قبول نہ ہونے سے مراد  نماز کا ثواب نہ ملنا ہے۔([19])

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:کاہنوں اور جوتشیوں سے ہاتھ دکھا کر تقدیر کا بھلا بُرا دریافت کرنا اگر بطورِ اعتقاد ہو یعنی جو یہ بتائیں حق ہے تو کفرِخالص ہے، اسی کو حدیث میں فرمایا:فَقَدْ کَفَرَ  بِمَا اُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ یعنی اس نے محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر نازل ہونے والی شے کا انکار کیا۔([20]) اور اگر بطورِ  اعتقاد و تَیَقُّن(یعنی یقین رکھنے کے طور پر) نہ ہو مگر مَیل و رغبت کے ساتھ ہو تو گناہِ کبیرہ ہے اور اگر ہَزل و اِستہزاء(یعنی ہنسی مذاق کے طور پر)ہو تو عبث و مکروہ و حماقت(یعنی فضول،نا پسندیدہ، بیوقوفی) ہے،ہاں!اگر بقصدِ تَعْجِیْز(یعنی اسے بے بس کرنے کے لئے ) ہو تو حرج نہیں۔([21])

کاہنوں سے غیبی خبریں پوچھنا حرام ہے،انہیں عالِمِ غیب جاننا،ان کی خبروں کی تصدیق کرنا کفر ہے۔ہاں!انہیں جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ان سے کچھ پوچھ کر لوگوں پر ان کا جھوٹ ظاہر کرنا اچھا ہے کہ یہ تبلیغ ہے۔([22])

کیا کاہنوں کی ہر خبر درست ہوتی ہے؟

کاہن کی بیان کردہ اکثر خبریں غلط اور جھوٹ ہوتی ہیں، البتہ بعض ان میں سے درست بھی ہوتی ہیں لیکن ان کے درست ہونے کی ہرگز یہ وجہ نہیں کہ ان کو غیب کا علم حاصل ہے۔

کاہنوں کی بعض باتیں درست ہونے کی وجہ:

کاہنوں کی بعض باتیں درست ہونے کی وجہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اس روایت میں مذکور ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب اللہ پاک آسمانی فرشتوں کو کوئی حکم دیتا ہے تو وہ عاجزی کی وجہ سے اپنے پَر مارنے لگتے ہیں جیسے زنجیر کو صاف پتھر پر مارا جائے۔پھر اللہ پاک اس حکم کو نافذ فرما دیتا ہے۔جب ان کے دلوں  سے کچھ خوف دور ہوتا ہے تو ایک دوسرے سے کہتے ہیں:تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ جواب دیتے ہیں:تمہارے رب نے جو فرمایا  وہ حق فرمایا اور وہی بلند و بر تر ہے۔ان کی باتیں شیطان چوری چھپے سننے کی کوشش کرتے ہیں۔بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ سننے والے شیطان کو چنگاری جا لگتی ہے اور وہ جل جاتا ہے ا س سے پہلے کہ وہ یہ بات اپنے ساتھ والے کو بتائے اور بعض اوقات چنگاری لگنے سے پہلے وہ اپنے نزدیک والے شیطان کو جو اس کے نیچے ہوتا ہے، بتا چکا ہوتا ہے اور اس طرح وہ بات زمین تک پہنچا دی جاتی ہے، پھر وہ جادو گر کے منہ میں ڈالی جاتی ہے، پھر وہ جادو گر ایک کے ساتھ سو جھوٹ اپنی طرف سے ملاتا ہے، اس پر لوگ اس کی تصدیق کر کے کہنے لگتے ہیں کہ کیا اس نے فلاں روز ہمیں نہیں بتایا تھا کہ فلاں  بات یوں ہو گی؟ چنانچہ ہم نے اس کی بات کو درست پایا حالانکہ یہ وہی بات تھی جو آسمان سے سنی گئی تھی۔([23]) ایک روایت میں ہے کہ کچھ لوگوں  نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے کاہنوں(کی باتیں قابلِ اعتماد ہونے یا نہ ہونے )کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا:ان کی باتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔لوگوں نے عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!جو خبر وہ دیتے ہیں بعض اوقات وہ سچ نکلتی ہے۔ ارشاد فرمایا:وہ کلمہ جن سے سنا ہوا ہوتا ہے جسے جِنّی اچک لیتی ہے اور اپنے دوست( کاہن) کے کان میں  اس طرح ڈال دیتی ہے جس طرح ایک مرغی دوسری مرغیوں  کے کان میں آواز پہنچاتی ہے، پھر کاہن اس کلمہ میں  سو سے زیادہ جھوٹی باتیں  مِلا دیتے ہیں۔([24])

سطیح کاہن نے ولادتِ مصطفےٰ کی خبر دی:

مخزوم بن ہانی مخزومی کے والد جو کہ 150 سال تک زندہ رہے، یہ حکایت بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ولادت کی رات ساسانی خاندان کے مشہور بادشاہ کسریٰ کا محل ایک گڑ گڑاہٹ کے ساتھ ہلنے لگا،اس کے 14 کنگرے ٹُوٹ کر زمین پرگر پڑے، فارس کی ہزار سال سے جلنے والی  آگ ایک دم سے بجھ گئی، بحیرۂ ساوہ کا پانی خشک ہو گیا اور کسریٰ نے ایک پریشان کر دینے والا خواب دیکھا کہ سرکش اُونٹوں کے پیچھے تیز رفتار عربی گھوڑے ہیں جو دریائے دجلہ کو پار کر کے اس کے ملک میں  پھیل گئے ہیں۔اس خواب نے کسریٰ اور دیگر کئی لوگوں کو سخت گھبراہٹ میں ڈال دیا،چنانچہ کسریٰ کے نائب نعمان بن مُنْذِر نے عبدُ المسیح بن بُقَیْلہ غسَّانی کو سطیح کاہن کے پاس بھیجا، تاکہ اس عظیم معاملے کے متعلق معلومات حاصل کرے۔ سطیح کاہن ملکِ شام میں رہتا تھااور کہانت میں بڑی شہرت کا مالک تھا۔جب عبد ُالمسیح اس کے پاس آیا اور ابھی وہ اس کی رہائش گاہ سے باہر ہی تھا کہ سطیح نے اُسے اپنی کہانت کے زور سے وہ سب کچھ بتا دیا جس کی ابھی اس نے خبر بھی نہ دی تھی۔ پھر اس نے کہا:اے عبدُ المسیح!جب تلاوت کی کثرت ہو جائے اور صاحِبِ عَصا( حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم) ظاہر ہو جائیں اور وادیِ سَماوَہ بہنے لگے اور بحیرۂ ساوہ خشک ہو جائے اور فارس کی آگ بجھ جائے تو پھر ملکِ شام سطیح کے لئے شام نہیں رہے گا،جتنے کنگرے کسریٰ کے محل کے گرے ہیں ابھی اتنے ہی بادشاہ اور ہوں گے جو یکے بعد دیگرے حکومت کریں گے، پھر ان کا سلسلۂ حکومت ختم ہو جائے گا۔کسریٰ کا خواب اس کی بادشاہت کے خاتمے کی نشانی  اور اس کے اسلام اور اہلِ اسلام کی مملکت بن جانے اور اس کے شہروں میں عربوں کے داخل ہونے کی علامت ہے۔([25])

شیاطین کو آسمانوں سے روک دیا گیا:

قرآنِ پاک سے یہ بات ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ولادت کے بعد شیاطین کو آسمانوں پر جانے سے روک دیا گیا۔ارشاد ہوتا ہے:

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ(۱۷) اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ(۱۸) (پ14،الحجر:18،17)

ترجمہ:اور اسے ہم نے ہر شیطان مردود سے محفوظ رکھا البتہ جو چوری چھپے سننے جائے تو اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ پڑجاتا ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

حضرت عبدُ اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:شیاطین کو آسمانوں میں آنے جانے سے روکا نہیں جاتا تھا، لہٰذا وہ آسمانوں میں داخل ہو کر وہاں  کی خبریں  کاہنوں کے پاس لایا کرتے۔جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تو شیاطین تین آسمانوں سے روک دیئے گئے۔پھر جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ولادت ہوئی تو وہ تمام ہی آسمانوں  سے منع کر دیئے گئے۔اس کے بعد ان میں  سے جب کوئی باتیں چوری کرنے کے ارادے سے اوپر چڑھتا تو اسے شعلے کے ذریعے مارا جاتا۔([26])

کیا جنات کو غیب کا علم ہے؟

 قرآنِ پاک کی سورہ سبا میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ جنات کو غیب کا علم حاصل نہیں۔کیونکہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات ہوئی تو ایک سال تک جنات اس سے لاعلم رہے، ایک سال کے بعد آپ کی وفات کا حال ان پر ظاہر ہوا۔اگر ان کو غیب کا علم ہوتا تو ایک سال تک اس سے لاعلم نہ رہتے۔

جنات کی خبروں کی حقیقت:

یقیناً بسا اوقات جنات گزرے حالات کی درست خبریں دینے میں  کامیاب ہو جاتے ہیں  مثلاً آپ کو 10سال پہلے سخت بخار آ گیا تھا یا آپ 15 سال پہلے فلاں  قبرستان میں  ڈر گئے تھے یا آپ کے بچے کو سر پر چوٹ آ گئی تھی وغیرہ۔گزرے حالات بتانے کی وجہ یہ ہے کہ یہ باتیں وہ حاضری کا جِنّ آپ کے ہمزاد سے پوچھ لیتا ہے۔تو ہمزاد کے ذریعے ملی ہوئی اطلاع کو علمِ غیب نہیں کہتے۔ہر شخص کے ساتھ ایک ہمزاد بھی پیدا ہوتا ہے جو کہ کافِر جِنّ ہو تا ہے اور وہ ہر وقت ساتھ رہنے کی وجہ سے اس طرح کی باتیں  دیکھتا رہتا ہے۔([27])

کنکریوں کا علم کیسے ہوا؟

حَجاج بن یوسف کے پاس ایک ایسے شخص کو پیش کیا گیا جس کی طرف جادو کی نسبت کی گئی تھی۔ حَجاج نے اس سے پوچھا:کیا تم جادوگر ہو؟اس نے کہا:نہیں۔ تو حجاج نے کچھ کنکریاں لیں اور ان کو گننے کے بعد ( مٹھی بند کر لی اور)پوچھا:میرے ہاتھ میں  کتنی کنکریاں  ہیں؟ اس نے کہا:اتنی اور اتنی۔حجاج نے کنکریاں پھینک دیں، پھر ایک دوسری مٹھی بھری اور انہیں شمار نہ کیا،پھر پوچھا:میرے ہاتھ میں کتنی کنکریاں ہیں؟اس نے کہا:میں نہیں جانتا۔حجاج بولا:تجھے پہلی بار تعداد کیسے معلوم ہوئی اور دوسری بار معلوم کیوں  نہ ہوئی ؟ وہ کہنے لگا:ان کی تعداد آپ جانتے تھے لہٰذا آپ کے وسواس (وسوسہ ڈالنے والے)کو بھی ان کا علم ہوگیا، پھر آپ کے وسواس نے میرے وسواس کو بتا دیا اور دوسری مٹھی کی تعداد آپ کو نہیں  معلوم تھی لہٰذا آپ کے وسواس کو بھی اس کا علم نہ ہوا، اس لئے اس نے میرے وسواس کو خبر نہیں  دی لہٰذا مجھے بھی اس کا علم نہ ہو سکا۔([28])

ہمزاد کون ہوتا ہے؟

اعلیٰ حضرترحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہمزاد از قسم شیاطین ہے،وہ شیطان کہ ہر وقت آدمی کے ساتھ رہتا ہے وہ مطلقاً کافر ملعونِ ابَدی ہے سوا اس کے جو حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں  حاضر تھا وہ برکتِ صحبتِ اقدس  سے مسلمان ہو گیا۔([29])جیسا کہ ایک روایت میں ہے:تم میں کوئی ایسا نہیں کہ جس کے ساتھ ہمزاد جِنّ نہ ہو۔لوگوں  نے عرض کی:اے اللہ کے رسول!کیا  آپ کے ساتھ بھی ہے؟ ارشاد فرمایا:ہاں۔میرے ساتھ بھی ہے لیکن اللہ پاک نے میری مدد فرمائی  تو وہ مسلمان ہوگیا لہٰذا وہ مجھے سوائے بھلائی کے کچھ نہیں  کہتا۔([30])مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ہر عاقل بالغ انسان کے ساتھ وسوسہ دلانے کے لیے ایک شیطان اور اِلہام کے لیے ایک فرشتہ ہر وقت رہتا ہے۔جب کوئی انسان کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی ابلیس کے ایک شیطان پیدا ہوتا ہے جسے فارسی میں ہمزاد عربی میں وسواس کہتے ہیں۔ظاہر یہ ہے کہ ابلیس کے ہر ہر آن سیکڑوں بچے پیدا ہوتے رہتے ہیں، مطابقِ تعدادِ اولادِ انسان جیسے مچھلی، ناگن سانپ بیک وقت ہزار ہا انڈے دیتی ہے۔طاغوتی جراثیم ہر آن بچے دیتے رہتے ہیں۔([31])

بزرگوں کی سواری آنے کی حقیقت:

فی زمانہ عوام کی اکثریت اس جہالت میں  مبتلا ہے کہ وہ عاملوں  کے ذریعے جنا ت سے آئندہ کے احوال معلوم کرتے ہیں، اسی طرح بعض مرد اور عورتیں  بزرگوں  کی سواری آنے کا دعویٰ کرتے ہیں  اور لوگ عقیدت میں ان سے اپنے معاملات کے بارے میں پوچھتے اور ان کی بتائی ہوئی باتوں  کو یقین کی حد تک سچا تصوّر کر لیتے ہیں۔یاد رکھئے!جنا ت سے غیب کی بات پوچھنی حماقت اور اَشد حرام ہے  اور ان کی دی ہوئی خبر پر یقین رکھنا کفر ہے۔([32])

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:اگر غیب کی بات ان سے دریافت کرنی (پوچھنی)ہو جیسے بہت لوگ حاضرات کر کے موکلاں جن سے پوچھتے ہیں:فلاں مقدمہ میں  کیا ہوگا؟ فلاں  کام کا انجام کیا ہو گا؟یہ حرام ہے اور کہانت کا شعبہ بلکہ اس سے بدتر۔زمانۂ کہانت میں جن آسمانوں تک جاتے اور ملائکہ(فرشتوں)کی باتیں سنا کرتے، ان کو جو احکام پہنچنے ہوتے اور وہ آپس میں  تذکرہ کرتے(تو)یہ چوری سے سن آتے اور سچ میں دل سے جھوٹ ملا کر کاہنوں  سے کہہ دیتے، جتنی بات سچی تھی واقع ہوتی، زمانۂ اَقدس حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے اس کا دروازہ بند ہو گیا، آسمانوں پر پہرے بیٹھ گئے،اب جن کی طاقت نہیں کہ سننے جائیں، جو جاتا ہے ملائکہ(فرشتے)اس پر شِہاب مارتے ہیں  جس کا بیان سورۂ جن شریف میں  ہے،تو اب جن غیب سے نِرے جاہل ہیں، ان سے آئندہ کی بات پوچھنی عقلاً حماقت اور شرعاً حرام اور ان کی غیب دانی(غیب جاننے)کا اعتقاد (عقیدہ)ہو تو کفر۔([33])حضرت علامہ مفتی محمد وقارُ الدین قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:کسی مرد یا عورت پر کسی بزرگ کی سواری نہیں  آتی،یہ دعویٰ فریب ہے۔صرف جنّات کا اثر ہوتا ہے وہ بھی کسی کسی پر۔مگر ان جنّات سے سوال کرنا یا آئندہ کا حال معلوم کرنا نا جائز ہے۔ان سے سوال کرنا جو خود نہیں جانتے، عقل کے خلاف ہے۔([34])

شریر جنّات مختلف روپ میں  آ کر مسلمانوں  کو ستاتے ہیں۔ بلکہ بسا اوقات تو انسانی جسم میں  ظاہر ہو کر خود کو کسی بزرگ کے نام سے بھی منسوب کرتے ہیں اور پھر لوگوں کے سوالات کے الٹے سیدھے جوابات دیتے ہیں، بیماریوں  کا علاج بتاتے ہیں  وغیرہ، اسی کو فی زمانہ حاضری کا نام دیا جاتا ہے۔ چنانچہ ہمارے معاشرے میں  آج کل جگہ بہ جگہ حاضرات کا سلسلہ زوروں  پر ہے۔بعض مقامات پر مرد یا عورت کو حاضری اور پھر کسی بزرگ کی سواری آتی ہے یہاں تک کہ مَعاذَ اللہ غوث ِپاک رحمۃ اللہ علیہ کی سواری آنے کا بھی دعویٰ کیا جاتا ہے۔مثلاً حاضری میں  مبتلا عورت اب اس طرح ہم کلام ہوتی ہے کہ ہم غوثِ پاک ہیں، ہم سے پوچھو!کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ پھر مجمع میں سے لوگ سوالات کرتے ہیں([35])مثلاً ”بچپن میں کسی کو ٹائیفائیڈ ہو گیا تھا اور اس کے بچنے کی امید نہیں رہی تھی یا ڈاکٹر نے آپریشن کا کہا تھا مگر فلاں نے علاج کیا تو بغیر آپریشن کے ٹھیک ہو گیا تھا وغیرہ اور لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ بڑا پہنچا ہوا ہے۔یوں یہ لوگ اس جن کی باتوں میں آجاتے ہیں حالانکہ اس نے کوئی غیب کی بات نہیں بتائی ہوتی بلکہ ماضی کی ساری باتیں اس ہمزاد سے سن کر بتائی ہوتی ہیں۔مسئلہ مستقبل کی خبروں کا ہوتا ہے، لہٰذا آئندہ کی خبریں نہ پوچھی جائیں کہ فلاں کام ہو گا یا نہیں ہو گا ؟ مجھے فلاں جگہ نوکری ملے گی یا نہیں ملے گی؟ یا فلاں جگہ شادی کرنا چاہتا ہوں تو شادی ہو گی یا نہیں؟ میرا بچہ ٹھیک ہو گا یا نہیں ہو گا؟ وغیرہ وغیرہ۔یہ باتیں جنّات سے پوچھنے کی نہیں ہیں کہ اس میں ایمان کا خطرہ ہے کیونکہ اگر یہ عقیدہ رکھ کر پوچھا کہ جنّات غیب بتا سکتے ہیں تو پوچھنے والا کافر ہو جائے گا، مگر افسوس! فی زمانہ جگہ جگہ یہ کاروبار چل رہے ہیں۔اللہ  پاک مسلمانوں کو اس سے نجات عطا فرمائے۔([36])یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے کہ انسان کسی دوسرے انسان کے جسم میں  حلول نہیں  کرتا، ذرا سوچئے تو سہی!وہ بزرگانِ دین جنہوں  نے عمر بھر پردہ کی تعلیم دی اور اب بعدِ وفات کیسے ممکن ہے کہ وہی بزرگ بے پردہ عورتوں  کے جسم میں  داخل ہو کر تماشا دکھانے لگیں۔([37])

امیرِ اَہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ اپنا ایک واقعہ لکھتے ہیں: مجھے کسی نے بتایا کہ فلاں صاحب پر ایک بابا کی سُواری آتی ہے اور وہ بابا آپ کے بارے میں  بہت اچھی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، آپ بھی کبھی چلیے۔مگر علمائے اَہلِ سنت کی نَعلین کے صدقے مجھے ان حاضریوں کا راز اچھی طرح معلوم تھا۔خیر میں  وہاں  گیا۔بابا نے وہاں  بڑی رونق جما رکھی تھی۔خوب درود خوانی اور محفلِ میلاد کے سلسلے تھے، جس کی وجہ سے کمزور عقیدے کے لوگوں کی سمجھ میں  آ جاتا ہے کہ واقعی یہ کوئی بزرگ ہی ہیں جبھی تو نیکیاں کروا رہے ہیں۔وہ بابا کی حاضری کا وقت نہیں  تھا مگر مجھ پر چونکہ خصوصی نظرِ کرم تھی اس لئے جن صاحب پر سواری آتی تھی، وہ مجھے ایک الگ کمرے میں  لے گئے۔بابا کی تشریف آوری کا انداز بھی خوب تھا یعنی جن صاحب پر سواری آتی تھی انہوں  نے ایک دم اپنا بدن تھرکانا اور پھڑکانا شروع کر دیا۔چہرہ عجیب ڈراؤنا سا ہو گیا۔عجیب عجیب آوازیں  نکلنی شروع ہوئیں  کہ اگر کوئی کمزور دل کا آدمی ہو تو بابا  کی آمد کی تنہائی میں تجلیات دیکھ کر شاید چیخ مار کر بے ہوش ہو جائے یا سر پر پیر رکھ کر بھاگ کھڑا ہو۔خیر میں ہمت کر کے بیٹھا رہا۔جب بابا کی سواری مُسلّط ہو چکی تو بابا نے اپنا تعارف کچھ اس طرح کروایا کہ ہم بغداد شریف سے آتے ہیں اور جنابِ غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے قدموں میں ہمارا مزار ہے۔میں نے پوچھا: آپ انسان ہیں یا جِنّ؟تو کہا:بشر(انسان) انہوں  نے اپنے آپ کو عربی بزرگ ظاہر کیا لیکن حالت یہ تھی کہ دو تین با ر ایک عربی دعا پڑھی اور مجھے بھی پڑھنے کی تلقین فرمائی،دعا تو میں بھول گیا ہوں مگر یہ اچھی طرح یاد رہ گیا ہے کہ وہ اَغِثْنِی کو بار بار اَغْثِنِی کہتے تھے۔بہرحال اختتام پر میں نے ان کو دعوت دی کہ آپ ان صاحب کے ذریعے سے نہیں  تنہا کبھی تشریف لائیں  پھر با ت ہو گی۔تو انہوں نے مجھ سے وعدہ فرمایا، ہم آئیں گے۔ہم آئیں  گے۔میں  نے کہا:کب تشریف لائیں  گے؟ تو پھر وہ”ہم آئیں  گے،ہم آئیں گے“کہتے ہوئے تشریف لے گئے۔رخصت کا انداز بھی نرالا تھا یعنی ان صاحب نے کچھ جھٹکے کھائے اور پھر نارمل ہو گئے۔جب میں  کمرے سے باہر آیا تو مجھ سے لوگوں  نے رائے معلوم کی تو میں  نے عرض کر دی کہ یہ جِنّ تھا، جو جاہل اور جھوٹا تھا۔بہرحال جو مسلمان بزرگوں  کی سواری کے دعوے کرتے ہیں بعض اوقات بے قصور بھی ہوتے ہیں  کہ ان پر  جِنّ مسلط ہو جاتے ہیں اور وہ جِنّ بزرگ اور بابا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔تفسیر فتح العزیز میں ہے:منافق جنات اپنے آپ کو کسی بزرگ کے نام سے مشہور کرکے اپنی تعظیم و تکریم کرواتے اور اپنے پوشیدہ مکر و فریب سے لوگوں  کی خرابی کے درپے رہتے ہیں۔بعض مقامات پر بزرگ کی حاضری کا دعویٰ نہیں ہوتا بلکہ حاضرات میں  براہِ راست جِنّ ہی کلام کرتا ہے اور لوگ ان سے سوالات پوچھتے ہیں  اور جنات جوابات دیتے ہیں۔([38])



[1]…ابوداود،4/20،حدیث:3904ملتقطاً

[2]… ترمذی،1/186،حدیث:135 ملتقطاً

[3]… مجمع الزوائد،8/173،حدیث:13126

[4]… مراۃ المناجیح،1 /351ملخصاً

[5]… عمدۃ القاری،14/732

[6]… زواجر،2/216

[7]… بہار شریعت،2/1037، حصہ:19

[8]… عمدۃ القاری،14/732

[9]… زواجر،2/216ماخوذاً

[10]… معالم السنن،3/ 275

[11]… عمدۃ القاری،14/732

[12]… احیاء العلوم،2/473

[13]… زواجر،2/216

[14]… مراۃ المناجیح،2/130

[15]… مراٰۃ المناجیح،6/267

[16]… احیاء العلوم،2/115

[17]… معجم کبیر، 22/69،حدیث:169

[18]… مسلم،ص944،رقم:5821

[19]… مرقاة المفاتیح،8/362، تحت الحدیث:4595

[20]… ترمذی،1/ 186،حدیث:135

[21]… فتاویٰ رضویہ،21/ 155

[22]… مراۃ المناجیح،6/268

[23]… بخاری،3/254،حدیث:4701

[24]… مسلم،ص 944،حدیث:5817

[25]… مولد رسول اللہ و رضاعہ لابن کثیر،ص23،22ملخصاً

[26]… تفسیر خازن،3 /97

[27]… قومِ جنات اور امیرِ اہلِ سنت،ص111

[28]… لقط المرجان، ص133

[29]… فتاویٰ رضویہ،21 / 216

[30]… مسلم، ص1158،حدیث:7108

[31]… مراۃ المناجیح،1/83

[32]… تفسیر صراط الجنان، 8/129

[33]… فتاویٰ افریقہ،ص 177 ، 178

[34]… وقار الفتاوی، 1/177

[35]… قوم ِجنات اور امیرِ اہلِ سنت،ص106

[36]… کیا جنات غیب جانتے ہیں،ص2

[37]… قوم ِجنات اور امیرِ اہلِ سنت،ص107

[38]… قومِ جنات اور امیرِ اہلِ سنت، ص107تا109 ملتقطاً


Share